حیات کے لیے انتہائی ضروری مادہ "پروٹوپلازم" ہے۔( ایک پیچیدہ مادہ ۔ خاص کر بے رنگ اور گاڑھے ۔ نیم رقیق قوام کا ۔ جسے حیات کی طبیعیائی اساس سمجھا جاتا ہے ۔نَخَرمایَہ ۔ مَادَّہ حَیَات ۔ پَروٹوپلَازم ۔ اِس کے بَغَیر کوئی جَاندَار بھی زِندَہ نَہیں رہ سَکتا ۔ یہ ہَر قِسَم کے جاندار میں پایا جاتا ہے۔ مادہ تولید مادہ حیات راجع پروٹوپلازم ۔مادہ تولید مادہ حیات ۔ پروٹوپلازم ۔ حیات کی طبعی بنیاد ۔ حیاتیاتی خلیہ کا زندہ مادہ )جدید سائنس دان اس کو بنا لینے سے قاصر ہیں۔ اس کی حقیقت اللہ ہی جانتا ہے۔ البتہ ان سائنس دانوں نے اس کے اجزائے ترکیبی کو جان لینے کا دعوٰی ضرور کیا ہے۔ لیکن اس کو بنانے کی ترکیب سے لا علم ہیں۔ بہت زیادہ ماہرین اس کے لیے تجربے کر چکے، لیکن ناکام رہے۔ اس سب کے بعد اکثر سائنس دان "ڈارون ازم" کو باطل قرار دیتے ہیں۔ اور ڈارون ازم کے حامی اس سوال کا جواب دینے سے معذور ہیں کہ اگر یہ تھیوری درست ہے تو اس زمین پر پہلا خلیہ یا پہلا پروٹوپلازم کہاں سے آیا؟ بلکہ بہت سارے سائنس دان تو یہ بھی کہ چکے ہیں کہ یہ کسی دوسرے سیارے وغیرہ سے آیا تھا۔ اگر موجودہ سائنس عاجز آ کر یہاں تک کہ چکی ہے تو وہ حضرت انسان کا کسی دوسرے سیارے سے تشریف لانا کیوں نہیں مان لیتے۔ ویسے بھی ہو سکتا ہے حضرت آدم علیہ السلام کے جسم مبارک کے لیے فرشتوں نے مٹی اسی زمین سے لی ہو۔ اس پر علماء حق روشنی ڈال سکتے ہیں۔ تو پھر اس قرآن کو سر خم تسلیم کر لینے میں رکاوٹ ہی کیا ہے جو آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے ادا ہو کر ہم تک پہنچا ہے۔ کیونکہ شہادت ہے کہ نبی پاک کے منہ مبارک سے کبھی جھوٹ ادا ہی نہیں ہوا۔
میری تحریر میں اگر کوئی غلطی ہو تو مطلع فرمائیں۔ اگر فائدہ ہوا تو شکریہ ادا کرنا مت بھولیے گا۔ اللہ عز و جل سب کو حق کی توفیق ارزانی فرمائے۔ آمین