15 گھنٹے 40 منٹ پہلے شائع کی گئی
پہلی شاباش اس کی کہ وکی لیکس کے مطابق آپ نے جنرل مشرف کی ناکامیوں سے سبق سیکھا ہے۔ پاکستان کے اقتدار پر براہ راست قبضہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ یوں فوج کا وقار بحال کیا ہے۔ ہر آرمی چیف کی مانند آپ پر بھی حکومت کی باگیں اپنے ہاتھ میں لے لینے کے سنہری مواقع اور ضروری صلاحیت و طاقت کی کمی نہیں۔ لیکن آپ کے صبر اور حوصلے کو داد دینی چاہیے۔ اڑھائی برس گذر گئے ہیں۔ آپ کو ملازمت میں توسیع بھی مل چکی ہے۔ ایسے کوئی آثار نظر نہیں آتے کہ آ پ حد پار کرنے والے ہیں۔ اگرچہ وکی لیکس کے انکشافات سے ثابت ہو جاتا ہے کہ آپ ہی ملک کی طاقتور ترین اور مؤثر ترین شخصیت ہیں۔ دفاع اور خارجہ امور تو آپ کی مرضی کے مطابق طے ہوتے ہیں، ملکی معاملات پر بھی آپ کی گرفت کم نہیں، اب تک حکومت یا اپوزیشن میں شامل سرکردہ سیاستدانوں کے بارے میں آپ کی پسند و ناپسند بھی سامنے آ گئی ہے۔ یہ بہت اچھا ہوا۔ ان سب کو پہلے سے زیادہ محتاط ہونا پڑے گا ۔۔۔ دوسری شاباش اس بات کی کہ آپ نے اگرچہ خود کو سیاست سے لاتعلق رکھا ہے لیکن پس پردہ رہ کر امور حکومت پر اثر انداز ہونے کی روایت جو آپ کے پیشرو فوجی سربراہان نے قائم کی تھی اسے جاری و ساری رہنے دیا ہے۔ اس روایت کی پہلے پاکستانی کمانڈر انچیف کی حیثیت سے جنرل ایوب نے 1953ء میں آبیاری کی تھی، میجر جنرل سکندر مرزا کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے وہ اکتوبر 1958ء تک اقتدار کے پردوں کے پیچھے بیٹھ کر تاریں ہلاتے رہے پھر زیادہ ہی بیتاب ہو گئے، صبر کا پیمانہ لبریز ہوا مارشل لا لگا دیا۔ ان کے بعد جو بھی جرنیل ہمارا فوجی سربراہ بنا اس نے یا تو آئین مملکت توڑتے ہوئے حکومت سنبھال لی۔ اگر کسی سے ایسا نہ ہوا مثلاً مرزا اسلم بیگ، عبدالوحید کاکڑ اور جنرل جہانگیر کرامت اس نے آرمی چیف کی کرسی پر بیٹھ کر اپنے آپ کو اصل حکمران ثابت کرنے کی مساعی کی۔ وکی لیکس کے انکشافات سے معلوم ہوتا ہے یہ طرز عمل اب بھی جاری ہے، زندہ اور توانا لوگ اپنی روایات کو مرنے نہیں دیتے۔ اس شاندار روایت کے حامل افراد آئین کو پکڑ کر پھاڑ نہیں ڈالتے بلکہ خاموش حکمت عملی کے ساتھ اسے اپنی راہ میں مزاحم نہیں ہونے دیتے۔ ع
یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا
وکی لیکس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے پاکستان میں امریکی سفیر کے اثر و رسوخ کا کوئی عالم نہیں۔ اگرچہ یہ کوئی نئی بات نہیں، سفیر امریکہ متعین اسلام آباد کو ہمارے وطن کے اندر وائسرائے کا خطاب دیا جاتا ہے لیکن اب انکشاف ہوا ہے صدر مملکت سے لیکر آرمی چیف تک سب اسے اپنے اپنے ارادوں سے باخبر رکھتے ہیں، توثیق بھی حاصل کرتے ہیں۔ جناب زرداری نے اپنی جان کو خطرہ محسوس کیا تو ہمیشہ محترمہ کو جانشین مقرر کرنے کی اطلاع سفیر امریکہ کو دی، یہ بات جنرل کیانی کے علم میں آئی تو انہوں نے سفیر صاحبہ کو بتایا فریال تالپور اپنے بھائی سے بھی بہتر ہوں گی لیکن کیا اچھا ہو زرداری کو ہٹا کر صدارت کی کرسی پر اسفند یار ولی کو لا بٹھایا جائے۔ انہیں پیشکش بھی کی گئی لیکن عبدالغفار خاں کا پوتا چونکہ اپنے صوبے کو پختونخواہ کا نام دینے کے لئے آصف علی زرداری سے امید وابستہ کئے ہوئے تھا۔ اس لئے اکثریت نہ ہونے کا بہانہ لگا کر جناب جنرل کو غچہ دے گیا۔ سعودی حکمران خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ زرداری صاحب کو بدعنوان اور پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ خیال کرتے ہیں پاکستان کے عوام کی اکثریت کی رائے بھی اس سے مختلف نہیں۔ جنرل کیانی بھی انہیں پسند نہیں فرماتے۔ لیکن نواز شریف انہیں زرداری سے بھی زیادہ ناپسند ہیں۔ حالانکہ وکی لیکس میں اعتراف کیا گیا ہے پاکستان کے عوام کی 80 فیصد اکثریت کی نظروں میں اسی سیاسی رہنما کو پذیرائی حاصل ہے۔ وہ زرداری کی مانند بدعنوان (DIRTY) بھی نہیں سمجھے جاتے۔ البتہ ابوظہبی کے ولی عہد کے الفاظ میں خطرناک ہیں بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ نواز شریف کے خطرناک ہونے میں کوئی شبہ نہیں ایسا نہ ہوتا تو وہ 1998ء میں تمام تر عالمی دباؤ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایٹمی دھماکہ کر کے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر نہ بنا دیتے۔ یہ امر آج تک امریکہ کی آنکھوں میں کانٹا بن کر کھٹکتا ہے۔