نتائج کی نمائش 1 تا: 4 از: 4

موضوع: چھوٹی سی کہانی۔ ہلپ لائن جی کے نام

  1. #1
    معاون
    تاريخ شموليت
    Mar 2012
    پيغامات
    73
    شکریہ
    0
    1 پیغام میں 1 اظہار تشکر

    چھوٹی سی کہانی۔ ہلپ لائن جی کے نام

    آج جب وہ آلُو چنے کی چھابڑی سر پہ رکھے اپنی جھگی سے باہر نکلا تو اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔ اُس نے آنسؤں کے جھولے میں سے اُس بستے کی طرف دیکھا جو اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا۔ یہی بستہ ہی تو اسکے آنسؤں کا کارن تھا۔
    وہ چھوٹا سا دکاندار جب ویسی کی ویسی بھری ہوئی چھابڑی لے کے گھر واپس آیا تو اسکی ماں پریشان ہو گئی۔ اس سے پہلے وہ جب بھی گھر واپس آتا تو اُس کے سارے آلو چنے بکے ہوتے ۔ اس کی خالی چھابڑی ویکھ کے ماں بہت خوش ہوتی اور اس کو بہت پیار کر تی ۔ مگر آج پریشان تھی۔ اسی پریشانی میں اُس نے پوُچھا "بیٹا کیا بات ہے ، آج ویسے کی ویسے چھابڑی لے کے گھر آ گئے ہو ـ"
    اُس نے کوئی جواب نہ دیا ۔ وہ نگاہیں نیچی کیے کھڑا رہا ، جیسے اُس نے کوئی جُرم کیا ہو۔
    اُس کے شانوں میں بستہ دیکھ کے اُس کی ماں نے پُوچھا۔ "تُو یہ بستہ کہاں سے لایا ہے؟۔"
    اُس چھوٹے دُکاندار نے سمجھا کہ شاید اُس کی ماں اُس کے شانوں پہ لٹکا ہوا بستہ دیکھ کے خوش ہو رہی ہے ۔ اسی لیے اس نے اپنے ہونٹوں پہ مسکراہٹ لا کے جواب دیا۔
    "یہ بستہ میں نے وہ ساہمنے جو بڑی ساری کوٹھی ہے نا، وہاں سے اُٹھایا ہے۔ مجھے یہ بُہت اچھا لگا امی، کیا میں اس کو شانوں میں ڈال کر، اُس کوٹھی میں رہتے اپنی عمر کے بچوں جیسا لگتا ہوں نا ؟ کیا اب میرے کپڑےاُن جیسے خُوبصورت ہو جائیں گے ؟ کیا میں آلو چنے بیچنے چھوڑ دوں گا ؟۔" اُس نے یہ ساری باتیں ایک ہی سانس میں اس طرح کہہ دیں جیسے یہ سب باتیں مُدتوں سے اُس کے حلق میں پھنسی ہوئی ہوں اور کسی ایسے ہی ایک لمحے کی انتظار میں ہوں۔
    مگر اُس کی ماں نے یہ ساری باتیں جو کہ اُس کے چھوٹے سے ذہن کے سُفنے تھے، ایک ہی بات سے خاک میں ملا دیں ۔
    "مجھے نہیں پتا ان باتوں کا ، بس یہ بستہ تیرے پاس نہیں ہونا چاہیے ، جا اسے ابھی وہیں رکھ کے آ جہاں سے اُٹھایا ہے، اور ہاں یہ آلو چنے بیچ کے آ، ابھی دن کافی ہے بک جائیں گے، اگر تُو نے میری بات نہ مانی توتیری چمڑی اُڈھیڑ دُوں گی۔"
    یہ بات کہتے ہوئے اُس کی ماں کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ۔ مگر وہ تو ابھی بچہ تھا۔ ماں کے آنسؤں کو نہ سمجھ سکا۔ وہ آنسو جوکہ شبنم کے قطرے معلوم ہوتے تھے۔ اُس نے نگاہیں نیچی کیں اور سوچنے لگ گیا۔
    ماں کیا خبر کہ اس کا دل اس بستے کے لیے کیسے للچایا ہوا تھا، اُس وقت، جب وہ کوٹھی کے دروازے کے پاس سے گُزرنے لگتا تب اُس کے پیر آپنے آپ رُک جاتے ۔ اوہ آلو چنے کی چھابڑی زمین پہ رکھتا اور اندر وا لے دروازے کی طرف دیکھنے لگ جاتا۔ جب اس دروازے سے اس کی عمر کے بچے سوہنے سوہنے بستے گلے میں ڈال کے نکلتے تو اُس کی نظریں اُن پہ ٹَک جاتیں ۔ وہ سوچنے لگتا ۔
    ان جیسا بستہ میرے پاس کیوں نہیں؟ ۔ کیا میں ان جیسا نہیں؟ ۔ یہ بچے آلوچھولے کیوں نہیں بیچتے ؟، میں کیوں بیچتا ہوں؟ جب یہ کار میں بیٹھ کےتیزی سے میرے پاس سے گُذرتے ہیں، تب میری طرف دیکھتے کیوں نہیں؟۔
    اور پھر سوچتا۔ شاید ان کے پاس بستے ہیں اور میرے پاس آلوچنوں کی چھابڑی ۔ کیا یہ چھابڑی ان کو اچھی نہیں لگتی؟ ۔ میں یہ ساری باتیں ماں سے ضرور پُوچھوں گا۔ مگر جب وہ ماں سے پُوچھتا تو ماں اُس کو خاموش کرادیتی۔
    " یہ باتیں تیرے سوچنے کی نہیں۔ تُو اپنی دُکانداری کی طرف دھیان دیا کر۔ ـ
    ماں کا یہ جواب سُن کے چُپ تو وہ کر جاتا۔ مگر اس کی سوچوں پہ بندھ نہ باندھا جا سکتا۔
    ایک دن وہ کوٹھی کے ساہمنے کھڑا تھا ۔ چھابڑی اس کے پیروںمیں رکھی ہوئی تھی اور وہ ساہمنے دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اتنے میں وہ ہم عمر، بستے گلے میں ڈالے کمرے سے نکلے اور سیدھے باہر کے گیٹ کی طرف آگئے، شاید اُنہوں نے آج کار پہ نہیں جانا تھا۔ باہر آ کے نوکر کاانتظارکرنے لگے۔ اُن ہم عمروں کو اپنے نزدیک دیکھ کے اس کا دل دھڑکنے لگا۔ اس کا دل چاہتا تھاکہ وہ اُن سے پُوچھے کہ وہ یہ چھا بڑی لے لیں اور اک بستہ دے دیں ، بالکل اپنے بستے جیسا۔ سوہنا۔ مگر اس کے دل کی دھڑکن نے اس کو منع کر دیا۔ اتنے میں نوکر باہر آیا ، ان سے بستے پکڑے اور وہ سب سکول کیطرف چل پڑے۔ ااس کا دل کیاکہ وہ آج دل کھول کے روئے اور سارا دن روتاا رہے ۔ مگر کیسے ؟ اُس نے تو دُکانداری کرنی تھی ، عابد چوک کے موڑ پہ بیٹھ کے ۔
    اُس دِن وہ بہت خوش تھا، کیوں کہ وہ بستہ جسےوہ مدتّوں سے ترس رہا تھا ، وہ ساہمنے تھا ۔ وہ جب ہر روز کی طرح اُس کوٹھی کے گیٹ کے پاس آکے رکا ، اندر جھانکا ، دیکھا کہ وہاں کوئی نہیں اور بستہ دالان میں کُرسی پہ پڑا ہے ۔ اُس نے حوصلہ کر کے وہ بستہ اُٹھا لیا ۔ باہر آ کے اُس نے جلدی سے چھابڑی سر پہ رکھی ۔ بجائے عابد چو ک کی طرف جانے کے گھر واپس آگیا۔ آج وہ دُکانداری نہیں کرنا چاہتا تھا۔ کیوں کہ اُس نے سوچا کہ شاید اُسکی ماں اس بستے کو اس کے گلے میں دیکھ کے اٰس کی طرح ہی خوش ہوگی۔ وہ ماں سے کہے گا۔ ماں مجھے آج نئے کپڑے سلوا دے ۔ نئے کپڑوں کے ساتھ یہ بستہ بڑا ہی اچھالگے گا۔ اور اب میں آلو چنے نہیںبیچوں گا ۔ اب میں اچھے کپڑے پہن کے اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ کارمیں بیٹھ کے اسکول جاؤں گا۔
    مگر ماں کے پاس ایک ہی جواب تھا ۔ جو اسنے دل پے پتّھر رکھ کے سُن لیا ۔
    اگر تُواس کو اپنے ہاتھوں وہیں نہ رکھ کے آیا جہاں سے اُٹھایا تھا تو میں تیری چمڑی اُدھیڑ دوں گی۔ اور ہاں یہ چھابڑی بھی اُٹھا ،اور بیچ کے آ آلو چنے۔
    اُس نے چھابڑی سر پے رکھی بستہ ہاتھ میں پکڑا، اور جھُگی سے باہر آ گیا۔ اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اُسے ایسا محسوس ہو رہا تھا ،جیسے یہ آنسو اُس کی نا مکمل چھوٹی چھوٹی سوچوں کی قبریں ہوں ۔ جب اُس نے آگے قدم بڑہانے سے پہلے پیچھے مُڑ کے دیکھا ، تو جُھگی کے دروازے پہ اُس کی ماں کھڑی تھی، جس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تھے۔



    حنیف باوا

    اردو ترجمہ الکرم

  2. #2
    ناظم
    تاريخ شموليت
    Feb 2011
    پيغامات
    3,081
    شکریہ
    21
    91 پیغامات میں 134 اظہار تشکر

    RE: چھوٹی سی کہانی۔ ہلپ لائن جی کے نام

    بہت بہت شکریہ ۔ امیدہے اپ اس سلسلے کوجاری رکھیں گے۔

  3. #3
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,859
    شکریہ
    949
    877 پیغامات میں 1,102 اظہار تشکر

    RE: چھوٹی سی کہانی۔ ہلپ لائن جی کے نام


    ویری نائس شیئرنگ
    بہت شکریہ کہ آپ نے ایک اچھی کہانی ترجمہ کر کے ہم تک پہنچائی

  4. #4
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,134
    شکریہ
    2,100
    1,211 پیغامات میں 1,583 اظہار تشکر

    RE: چھوٹی سی کہانی۔ ہلپ لائن جی کے نام

    اب کام ہو گیا ، اصل میں پنجابی بولنے میں ہم روانی سے بولتے ہیں ، مگر ہم نے تعلیم چونکہ پنجابی میں حاصل نہیں کی ہوتی تو لفظوں کے توڑ جوڑ میں وقت لگتا ہے ، اور اردو کا مطالعہ چونکہ اکثر رہتا ہے اس لیے وہ روانی سے ہم پڑھ لیتے ہیں ،محترم الکرم صاحب آپ کا بہت بہت شکریہ ،
    آپ نے ہمیں سمجھانے میں کافی محنت کی ، جزاک اللہ

متشابہہ موضوعات

  1. جھوٹی کہانی
    By سقراط in forum ناول وکہانیاں
    جوابات: 5
    آخری پيغام: 11-19-2012, 10:12 PM
  2. ایک مسلمان کی چھوٹی سی نیکی نے پورا خاندان مسلمان کردیا
    By گلاب in forum کیسے راہِ ہدائت نصیب ہوئی
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 10-25-2012, 11:54 AM
  3. آؤ چھوٹی چھوٹی خوشیاں جمع کریں۔۔۔
    By تانیہ in forum طنز و مزاح
    جوابات: 3
    آخری پيغام: 05-05-2012, 01:00 PM
  4. مانو بلی چھوٹی سی
    By تانیہ in forum بچوں کا ادب
    جوابات: 9
    آخری پيغام: 01-01-2012, 06:46 AM
  5. چھوٹی سی منی
    By تانیہ in forum بچوں کا ادب
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 12-07-2011, 03:58 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University