صفحہ 2 از 3 اوليناولين 123 آخریآخری
نتائج کی نمائش 11 تا: 20 از: 24

موضوع: مسلم ممالک کے کھانے

  1. #11
    رضاکار عزیزامین کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2011
    مقام
    canada ,edmoton,AB
    پيغامات
    154
    شکریہ
    22
    30 پیغامات میں 40 اظہار تشکر

    RE: مسلم ممالک کے کھانے

    جی ہاں دونوں ہی

  2. #12
    رضاکار عزیزامین کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2011
    مقام
    canada ,edmoton,AB
    پيغامات
    154
    شکریہ
    22
    30 پیغامات میں 40 اظہار تشکر

    RE: مسلم ممالک کے کھانے

    کب تک یہاں ہی شروع کر دیں؟

  3. #13
    رضاکار عزیزامین کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2011
    مقام
    canada ,edmoton,AB
    پيغامات
    154
    شکریہ
    22
    30 پیغامات میں 40 اظہار تشکر

    RE: مسلم ممالک کے کھانے

    شکریہ

  4. #14
    رضاکار عزیزامین کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2011
    مقام
    canada ,edmoton,AB
    پيغامات
    154
    شکریہ
    22
    30 پیغامات میں 40 اظہار تشکر

    RE: مسلم ممالک کے کھانے

    رات تو ہو گی ہے؟

  5. #15
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    831
    شکریہ
    246
    110 پیغامات میں 168 اظہار تشکر

    RE: مسلم ممالک کے کھانے

    السلام علیکم ۔
    یار عزیز یہ کیا بات ہوی خود ہی ایک ٹاپک شروع کرتے ہو خود کچھ نہیں لکھتے اگر انسان کا کوی شوق ہو تو انسان پہلے اس کے بارے میں معلومات لیتا ہے پھر ٹاپک شروع کرتا ہے آپ نے آج تک پرندوں کے بارے میں پوچھا لیکن کبھی خود کچھ نہیں بتایا کیسی بھی پرندے کے بارے میں اب کھانے کے بارے میں بھی دوسروں سے سننا چاہتے ہیں خود کچھ نہیں لکھ رہے حالنکہ میں نے خود کہا تھا کہ اچھا ٹاپک ہے اس پر سب لکھیں میں بھی بہت کچھ لکھ سکتا ہوں لیکن آپ بھی تو کچھ لکھیں ۔
    شکریہ وسلام

  6. #16
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,882
    شکریہ
    952
    881 پیغامات میں 1,108 اظہار تشکر

    RE: مسلم ممالک کے کھانے

    مسلم ممالک میں سب سے پہلے ہم اپنے پیارے وطن پاکستان کی بات کرینگے اور اسی کے کھانوں کے بارے بات چلے گی سب سے پہلے میری طرف سے اور جہاں تک اسکے پکوان کی بات ہے تو اسکے لیے الگ سے گوشہ خواتین میں بہت سے پاکستانی پکوان کی ریسیپیز شیئر کی گئی ہیں ۔۔۔وہاں ملاحظہ فرما سکتے ہیں فی الحال کچھ بات پاکستانی کھانوں کے بارے میں

    عام طور سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ پاکستانی کھانے مضر صحت ہوتے ہیں اس لئے اگر آپ تندرست وتوانا رہنا چاہتے ہیں اور طویل صحت سے بھرپور زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو پاکستانی طرز کے بنے ہوئے کھانوں سے پرہیز کرنا ضروری ہے۔ بھنے مرغ کی بجائے اُبلا گوشت نوش جان کرلیجئے یا بریانی کی بجائے بھاپ میں پکی سبزیاں کھائے۔ صحت اور غذا سے متعلق بحث اور جستجو ہمارے عہد کا سب سے اہم موضوع ہے۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں غیر متوازن اور غیر صحت مند غذا کے سبب ان بیماریوں کی تعداد میں بہت اضافے ہونا ہے جو جان لیوا ہوسکتی ہیں۔ ذیابیطس کے مریض شرح فیصد کے اعتبار سے پاکستان میں بے حد زیادہ ہیں۔ اس طرح قلبی امراض میں بھی تیزی سے اضافے دیکھنے میں آرہا ہے۔


    اگرچہ بہتر صحت کا انحصار محض صحت مند متوازن اور کم خوراک میں ہیں بلکہ اس کے لئے بہتر ماحول، آلودگی سے نجات، پرسکو ن فضا اور جسمانی ورزش بھی بے حد اہمیت رکھتی ہیں۔ لیکن غذاء چونکہ پاکستانی ثقافت اور سماجیت میں بنیادی حیثیت اختیار کرتی جارہی ہے اس لئے اس پر توجہ دینے کی ضرورت بھی شدت سے محسوس کی جاتی ہے۔

    [size=xx-large]غذائیت کی شرح[/size]

    زندگی میں ہم بعض غلطی فہمیوں کا شکار ہوسکتے ہیں۔ پاکستانی غذا کی بابت بھی عمومی رائے ایسی ہی غلطیوں کی بنیاد پر قائم ہوگیا ہے۔ یہ درست ہے کہ پاکستانی کھانوں میں گھی یا تیل کثرت سے استعمال ہوتا ہے لیکن مغربی غذاؤں میں بھی کریم، چاکلیٹ یا توانائی سے بھرپور دوسرے اجزاء وافر مقدار میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس لئے بنیادی فرق یہ نہیں ہے کہ کھانے کیسے تیار کیا جاتا ہے بلکہ اس بات پر غور ہونا چاہیے کہ کسی کھانے میں شامل کئے گئے اجزاء میں غذائیت کی شرح کیا ہے۔ اگر اس سلسلہ میں تھوڑی سی تحقیق وجستجو کرلی جائے تو پاکستانی کھانوں کے بارے میں بہت سے غلط فہمیاں دور ہوسکتی ہیں۔
    پاکستانی کھانوں کے بارے میں غیر صحت مند ہونے کا تاثر اس وجہ سے بھی قائم ہوا ہے کہ عام طور سے یہ سمجھ لیاگیا ہے کہ پاکستانی کھانوں کی غذائیت کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ بات اس حد تک تو درست ہے کہ کسی ادارے یا محقق نے پاکستانی کھانوں کا تجزیہ کرکے ان کی غذائیت اور افادیت کے بارے میں کوئی جائزہ تیار نہیں کیا ہے جبکہ ترقی یافتہ دُنیا میں اکثر کھانوں کے بارے میں معلومات فراہم کردی جاتی ہے کہ اس کی کتنی مقدار کھانوں سے کتنی غذائیت حاصل ہوتی ہے۔

    [size=xx-large]بنیادی اصول[/size]

    صحت مند غذا کے حوالے سے بنیادی اُصول یہ ہے کہ ایک انسان 24 گھنٹوں کے دوران ایک خاص مقدار میں کیلوریز کھاسکتا ہے۔ عام طور سے ایک اوسط بالغ آدمی کے لئے یہ تعداد 2500 کیلوریز ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص یہ اہتمام کرسکے کہ کس کھانے میں کتنی کیلوریز ہوتی ہے تو آسانی سے یہ حساب رکھا جاسکتا ہے کہ کون سا کھانا کتنی مقدار میں کھانے سے انسانی جسم کی ضرورت پوری ہوجاتی ہے اور اس سے وافر کھانے کی صورت میں جسم کو غیر ضروری توانائی مہیا ہوتی ہے جو وزن میں اضافے اور متعدد عارضوں کا سبب بنتی ہے۔

    اسی اُصول کو پیش رکھ کر مختلف پاکستانی کھانوں کی غذائیت کا چارٹ تیار کیا جائے۔ تاکہ عام شخص بھی یہ جان سکے کہ کس کھانے میں کتنی کیلوریز ہیں اور وہ ایک وقت میں کون سا کھانا کتنی مقدار میں نوش کرسکتا ہے۔ تاہم اس سلسلہ میں ہر شخص کو یہ زحمت ضرور کرنا ہوگی کہ وہ کھانے کی مقدار پر کنٹرول رکھیں۔ یعنی کھانا کھاتے وقت ہمیں یہ پتہ ہونا چاہئے کہ ہمارے کھانے کا وزن کتنا ہے اور بقدر کیلوریز اس کو کتنا ہونا چاہیے۔

    یہ بھی درست ہے کہ متوازن غذا کے لئے ضروری ہے کہ اس میں گوشت، سبزی، دالوں، فروٹ وغیرہ کا تناسب بھی درست ہو۔ کیوں کہ قدرت نے مختلف غذاؤں میں مختلف صلاحیتیں رکھی ہیں جو انسانی جسم کے لئے ضروری ہیں۔ مثلاً گوشت سے پروٹین میسر ہوتی ہے جبکہ دال اور اناج سے کاربوہائیڈریڈ جسم کو ملتے ہیں۔ متوازن غذا کے لئے دونوں اقسام کی اشیاء کا کھانا ضروری ہے۔ لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ کھانے کی مقدار پر کنٹرول کیا جائے۔ اگرچہ یہ ہمارے ثقافتی وسماجی رویے کے برعکس ہے لیکن جدید عہد میں صحت مند رہنے کے لئے ضروری ہے کہ کھانا وزن کرکے نوش کرنا شروع کیا جائے۔ اس اُصول کو اپنانے سے آپ ہر قسم کی خوراک لے سکتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی جسم کو فراہم ہونے والی کیلوریز کو بھی کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

    [size=xx-large]چارٹ[/size]

    کیلوریز کا جو چاٹ تیار کیا گیاہے اس میں اس بات کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ کہ ہر کھانے میں شامل کئے گئے اجزاء کا وزن اور ان میں شامل کیلوریز کا حساب لگا کر مختلف پاکستانی کھانوں میں فی 100 گرام کیلوریز کا حساب لگایا ہے۔ اب اس کی روشنی میں اگر آپ اپنی خوراک کو محدود کرلیں تو آپ کو جس قدر کیلوریز کی ضرورت ہے آپ اسی مقدار میں کھانا لیں گے۔

    اس سلسلہ میں یہ بات ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ ہر قسم کے کھانے میں کیلوریز یا توانائی ہوتی ہے۔ خواہ وہ گھر میں کیاگیا ناشتہ ہو یا کسی دوست کے ہاں نوش کیا جانے والا لنچ یا پھر دفتر میں میٹنگ کے دوران کی جانے والی چائے کافی، بسکٹ اور دیگر اسنیکس وغیرہ۔ ایک عام غلطی یہ کی جاتی ہے کہ ہم صبح دوپہر شام کھانے کا حساب تو کرلیتے ہیں لیکن ان تینوں اوقات کے علاوہ تناول کی جانے والی اشیاء کو نظرانداز کردیتے ہیں۔ بعض اوقات یہ چھوٹے موٹے اسنیکس ڈنر یا لنچ سے بھی زیادہ کیلوریز سے لبریز ہوتے ہیں۔

    عام اندازہ ہے کہ ایک شخص اپنی دن بھر کی کیلوریز کو دو ہزار تک محدود کرے تو اس کا وزن آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہوسکتا ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص دیگر قسم کی ورزش بھی کرتا ہے تو اسی حساب سے اس کی کیلوریز کا کوٹہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ لیکن یاد رہے ایک گھنٹہ ہلکی سے درمیانی نوعیت کی ورزش کے ذریعے آپ تین سے چار سو کیلوریز بھی ضائع کرپاتے ہیں۔ یعنی اگر آپ اوسط عمر، قد اور وزن کے عام شخص ہیں اور آپ روزانہ 2500 کیلوریز کی غذا لے سکتے ہیں تو ایک گھنٹہ ورزش کی صورت میں آپ ان میں 300 سے 400 کیلوریز پر مبنی غذا کا ہی اضافہ کرسکتے ہیں۔

  7. #17
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,882
    شکریہ
    952
    881 پیغامات میں 1,108 اظہار تشکر

    RE: مسلم ممالک کے کھانے

    باقی جہاں تک پکوان کی بات ہے تو اتنا تو ایک عام شخص بھی جانتا ہے کہ کوئی بھی ملک ہو وہاں موسم ، تہوار اور مواقع کی مناسبت سے مختلف پکوان بنائے و کھائے جاتے ہیں جیسے ہمارے ادھر پاکستان میں گرمی کے موسم میں سبزیوں کے مختلف پکوان سردیوں میں گوشت و آئلی قسم کے پکوان پکوڑے سموسے وغیرہ اور اسی طرح عیدین کے لیے مختلف پکوان اور شادی بیاہ میں مختلف پکوان بنائے جاتے ہیں اس بارے ایک لمبی سی ڈسکشن ہو سکتی ہے اور یہ ڈسکشن صرف اس بات پر محدود نہیں کہ پاکستان میں ایک موسم میں کیا پکوان بنتے ہیں بلکہ اگر زیادہ گہرائی میں جائیں تو آپ دیکھیں گے کہ ایک ہی ملک میں مختلف علاقوں کے حساب سے بھی مختلف پکوان بنتے ہیں ۔۔۔امید ہے کہ تمام ساتھی اس بارے اپنا علم شیئر کرینگے بشمول عزیز امین جی ۔۔۔۔بہت شکریہ
    اور ضروری نہیں کہ اپ پاکستان کے بارے ہی لکھیئے آپ جہاں رہتے ہو اور جس مسلم ملک کے پکوان کے بارے آپکے پاس علم ہو اپ شیئر کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔تو نیکسٹ کون؟

  8. #18
    رضاکار عزیزامین کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2011
    مقام
    canada ,edmoton,AB
    پيغامات
    154
    شکریہ
    22
    30 پیغامات میں 40 اظہار تشکر

    RE: مسلم ممالک کے کھانے

    زبردست تحریر ہے شکریہ ۔مجھے خوشی ہے کسی بھی فورم کے ایسے پہلے لاجواب سلسلے پر جو کے بحثیت مسلم ہمارا اخلاقی فرض تھا۔ انجم رشید صاحب کیا سیکھنا جرم ہے؟

  9. #19
    رضاکار عزیزامین کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2011
    مقام
    canada ,edmoton,AB
    پيغامات
    154
    شکریہ
    22
    30 پیغامات میں 40 اظہار تشکر

    RE: مسلم ممالک کے کھانے

    آگے والی پوسٹ نہیں کھل رہی

  10. #20
    رکنِ خاص بےلگام کا اوتار
    تاريخ شموليت
    May 2012
    پيغامات
    11,245
    شکریہ
    2
    14 پیغامات میں 23 اظہار تشکر

    RE: مسلم ممالک کے کھانے

    کوشش کرو جناب

صفحہ 2 از 3 اوليناولين 123 آخریآخری

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University