نتائج کی نمائش 1 تا: 5 از: 5

موضوع: لسی

  1. #1
    رکنِ خاص سقراط کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,469
    شکریہ
    35
    149 پیغامات میں 216 اظہار تشکر

    لسی

    [size=x-large]دیہاتی بزرگوں کے حساب کتاب میں یہ بات آہی نہیں سکتی کہ کوئی شخص لسی پئے بغیر بھی گر میوں میں زندہ رہ سکتا ہے۔اگر ان کو یہ باور کرانے کی کوشش کی بھی جائے کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو لسی پئے بغیر زندہ رہ لیتے ہیں تو وہ فوراَ کہہ دیں گے اگر تم جھوٹ کو سچ منوانے پر بضد ہو تو تمہاری خاطر مان لیتے ہیں۔ اگر نرمی اور آہستگی سے یہ بات انکے ذہن میں ڈالنے میں کسی طرح کامیاب ہو بھی جائیں تو وہ ایسے لوگوں کی زندگیوں پر دیر تک ترس کھاتے رہیں گے جو لسی پئے بغیر زندہ رہ رہے ہیں۔لمبا سان لینے کے بعد کہیں گے اُف یہ بھی بھلا کوئی زندگی ہے۔لسی کی اِس اہمیت کے پیش نظر کئی لخت جگر تعلیم کے زیور سے آراستہ نہیں ہو سکتے۔

    اُن کا نظریہ ہے کہ اگر طالب علم دیسی گھی نہیں کھائے گا اور دودھ لسی نہیں پئے گا تو اُس کا دماغ پڑھائی پر خاک چلے گا۔ہمارے دیہاتی والدین کا خیال ہے کہ ایسی تعلیم کو آگ میں ڈالو جو دودھ،دہی، مکھن،دیسی گھی کا پراٹھا اور لسی چھڑوادے۔ان کا نظریہ کہ کالج کے باہر بھینس بندھی ہونا چاہیے اور ہر پیریڈ کے بعد بچے کو یا تو ایک گلاس دودھ ملنا چاہیے یا اس کے سر میں دھاریں ماری جانا چاہییں تاکہ اُس کے دماغ میں طاقت آئے۔ بعض دیہاتی والدین کا خیال ہے نو یاں پڑھائیاں تے شہراں دی چاہ نے بچے کالے شاہ کر دتے نوں۔اُنکے خیال میں رنگ کا سیاہ ہونا اور جسم پر گوشت کے کم ہو جانے کی وجہ شہری پڑھائیاں ہیں ۔جو والدین لسی اور تعلیم کو ایک ساتھ دیکھنا چاہتے ہیں ان کے بچوں کو عالم خواب سے بیدار کر کے پروفیسر صاحبان یہ یاد دلاتے ہیں کہ یہ پیریڈ اردو کاہے یا تاریخ کا۔اگر وہ آدھے پیریڈ میں بھی بیدار رہیں تو انہیں ذہین طلباء میں شمار کر لیا جاتا ہے۔ایسے تن پرور طلباء پیریڈ کے درمیان نیند پوری کرنا اچھی صحت کی علامت سمجھتے ہیں۔ دیہات میں ڈالڈا گھی کو گاؤں والے کُوندا کہتے ہیں۔ اور اس کے ا ستعمال کرنے والے کو گنہگار سمجھا تو نہیں جاتا لیکن قریب قریب اسی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور بے چارہ کہنے سے پہلے ایک آہ بھرتے ہیں۔ جس کے گھر میں دودھ دینے والی بھینس نہیں ہوتی لوگ اسے تسا (پیاسا) کہتے ہیںیعنی جس کے گھر میں دودھ نہیں ہوتا چاہے دوسری ہر نعمت موجود ہو لیکن اسے غرباء اور مساکین کی صف میں شامل کیا جاتا ہے۔جن بیماروں کا دُودھ اور لسی بند کر دی جائے اِن پر دوسرے لوگ ترس کھاتے ہیں کہ ایسے جینے سے تو مر جانا ہی بہتر ہے۔اس پر ہیز کو بد پرہیزی میں بدلنے کے لئے تیمار دار اہم رول ادا کرتے ہیں۔یہ کہتے ہوئے کہ یار اگر دودھ ،لسی پیتے مرنا لکھا ہے تو مرنے دو۔گھر والوں سے آنکھ بچا کر مریض کولسی پلا دینا خصوصی مروت ہوتی ہے اور مریض اس مروت کو ٹھکرانا کفر سمجھتا ہے۔

    پہلے پہل لوگ دیسی گھی اور لسی کو جسمانی مشقت کے ذریعے ا ستعمال میں لاتے تھے لیکن اب وہ پھکیوں کے ذریعے چار پائی پر پڑے پڑے اسے ہضم کرنے کی ترکیبیں سو چتے رہتے ہیں۔اسی لئے ریح ہوا ان کے قابو میں نہیں آتی۔بلڈ پریشر کے خوف سے دودھ، دہی ،گھی اور مکھن تو چھوڑنے کو تیار ہو جاتے ہیں لیکن جسمانی مشقت کو کمیوں والا کام سمجھتے ہیں۔ چاٹی کی لسی وہ مشروب ہے جس کی آس میں دیہاتی مرد و خواتین صبح سے شام تک کام کر تے ہیں۔جس وقت { XE “1″ }پٹھانوں نے اسے خشک کرنا شروع نہیں کیا تھا۔غریبوں کو بھی یہ نعمت میسر تھی لیکن اب لسی میں بھی انڈسٹری آگئی ہے۔لسی صرف ائیر کنڈیشن مشروب ہی نہیں اعلی قسم کا شیمپو بھی ہے۔خشکی اور سکری کے علاوہ دماغی تراوت کا بھی تریاق سمجھی جاتی ہے۔بزرگوں کا خیال ہے اس سے صبح نہا لینے سے سارا دن غصہ نہیں آتا۔ہم تو یہ جانتے ہیں لسی پینے کے بعد آنکھ اس وقت ہی کھلتی ہے جب مکھی ناک کے اندرونی خطوط کا جائزہ لے رہی ہو اور بار بار اڑانے کے باوجود اندر تک دھنس جائے۔ اب بھی بعض جگہوں کے لوگ چائے کومریضوں کا مشروب سمجھتے ہیں۔انکا نظریہ ہے کہ مسلسل چائے پینے سے بندہ بالکل ہی ڈسکو سا باؤ بن جاتا ہے یعنی اسکے جسم میں بس اتنی سی سکت ہی باقی رہ جاتی ہے جس سے قلم اور فائل اٹھا سکے۔
    [/size]

    ظہیر خان مصنف / آن لائن ایڈیٹر

  2. #2
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jan 2011
    پيغامات
    195
    شکریہ
    0
    1 پیغام میں 1 اظہار تشکر

    RE: لسی

    اسلام علیکم
    اب ایسی بات بھی نہیں دیہاتی لوگ بھی اب لسی کم ہی پیتے ہیں
    اب لسی کا زمانہ ختم ہو گا ہے بلکہ شہر اب عام ہوتا جا رہا ہے

  3. #3
    ناظم سیما کا اوتار
    تاريخ شموليت
    May 2011
    پيغامات
    2,514
    شکریہ
    409
    125 پیغامات میں 159 اظہار تشکر

    RE: لسی

    کہی یہ وہ لسی تو نھی ۔؟ اچھا میں اس لسی کی ترکیب لکھ لیتی ہوں

  4. #4
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    831
    شکریہ
    246
    110 پیغامات میں 168 اظہار تشکر

    RE: لسی

    السلام علیکم
    میں تو لسی کو ترس گیا ہوں پردیس میں صرف لیبیا میں لسی مل جاتی تھی جس کا زایقہ آج تک نہیں بھولا دیس میں ہوں لیکن شہر میں اب چاٹی کی لسی کہاں سے لاؤں

  5. #5
    ناظم سیما کا اوتار
    تاريخ شموليت
    May 2011
    پيغامات
    2,514
    شکریہ
    409
    125 پیغامات میں 159 اظہار تشکر

    RE: لسی

    وعلیکم السلام
    بھائی جیسے آم کی لسی بناتے ہین ۔ اپ چاٹی کی لسی بنا لو بلکل آسان ہے ۔ جیسے نمک والی اور سویٹ والی لسی ۔ آپ ویسے ہی چاٹی ڈال کر لسی بنا لو مگر میں نے یہ نام کبھی بھی نھی سنا یہ کوئی فروٹ ہے ۔ یا سبزی ؟

متشابہہ موضوعات

  1. تھوڑا سا طنز، تھوڑی سی ہنسی
    By تانیہ in forum مزاحیہ تصاویر
    جوابات: 20
    آخری پيغام: 08-23-2013, 04:23 AM
  2. کِسی ترنگ ، کسی سر خوشی میں رہتا تھا
    By ایم-ایم in forum امجد اسلام امجد
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 01-04-2013, 12:59 AM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University