یہ تو سب جانتے ہیں کہ دنیا میں غربت اور ناداری میں اضافہ ہورہا ہے اور دنیا کی آبادی بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے، جو دنیا کی پیداوار کے حساب سے تجاوز کررہی ہے۔ لین ماہرین اقتصادیات یہ بھی بتارہے ہیں کہ آج دنیا جس قدر دولت مند اور امیر ہے اس قدر پہلے کبھی نہیں تھی۔ لیکن اس امیر دنیا میں وسائل اور صلاحیتوں کو غربت کے خاتمہ اور غریبوں کی بہبود کے لئے استعمال نہیں کیاجارہا۔ ان ماہرین کے مطابق اس وقت دنیا کے پاس غربت کے خاتمہ کے لئے بے شمار وسائل اور صلاحیتیں موجود ہیں۔

1970ء سے لے کر اب تک دنیا کی آمدنی دوگنی ہوچکی ہے۔ لیکن اس کے باوجود دنیا کی آدھی آبادی غربت کا شکار ہے اور انہیں 3 ڈالر یومیہ فی کس سے بھی کم میں گزربسر کرنا پڑتی ہے۔ آبادی میں اضافے کی وجہ سے غریبوں اور غربت میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ اس وقت دنیا میں دولت کا ارتکاز چند قوموں اور چند لوگوں تک ہے جس کی وجہ سے عام آدمی کو وسائل میسر نہیں آتے۔ امیروں کی آمدنی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ غریب آبادی کی آمدنیمیں اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ امریکہ میں چند امراء کی آمدنی گزشتہ تین دہائیوں میں تین گنا ہوگئی ہے۔ اکثر ملکوں میں قومی آمدنیوں کا 20 فیصد حصہ چند سو لوگوں تک محدود رہتا ہے۔

معیشت میں نمو یا پیدواری اضافہ کا حساب فی کس کے طور پر لگایا جاتا ہے۔ دنیا کے جو غریب 3 ڈالر یا اس سے کم روزانہ میں گزر کرتے ہیں انہیں قومی آمدنی یا معاشی پیدوار میں اضافہ کا حصہ نہیں ملتا۔ ماہرین اقتصادیات نے متنبہ کیا ہے کہ یہ طریقہ کار دنیا کی بہت بڑی آبادی کو بنیادی ضرورتوں اور وسائل سے محروم کررہا ہے، جو نہ صرف یہ کہ ظالمانہ اور ناانصافی پر مبنی ہے بلکہ انتہائی خطرناک بھی ہے۔ حالانکہ یہ صورت حال بہتر نظام اور تقسیم کے منصفانہ طریقہ کار سے تبدیل کی جا سکتی ہے۔ اگر دنیا کی غریب آبادی کی فی کس آمدنی میں ایک سے تین ڈالر کا اضافہ ہوسکے تو اس سے وسیع پیمانے پر تبدیلیاں دیکھنے میں آسکتی ہیں۔

بعض ماہرین یہ قیاس کرتے رہے ہیں کہ امیر طبقے میں اضافہ کی وجہ سے دولت کو صنعتی اور تجارتی شعبہ کی ترقی کے لئے صرف کیا جاتا ہے اس طرح روزگار کے زیادہ مواقع پیدا ہوتے ہیں اور غربت میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اوسلو یونیورسٹی میں اس موضوع پر تحقیقات کی گئی ہیں۔ اس تحقیقاتی مرکز کے سربراہ کالے مون Kalle Moene کا کہنا ہے کہ یہ مؤقف درست ثابت نہیں ہوسکا ہے۔ دولت کے ارتکاز کے سبب غریبوں کو فائدہ نہیں ہوتا ہلکہ پیدوار میں اضافہ منافع کی صورت میں واپس امیر ترین لوگوں کی جیبوں میں چلا جاتاہے۔

اس کی مثال چین اور بھارت میں تلاش کی جاسکتی ہے۔ ان دونوں میں معاشی نمو میں مسلسل زبردست اضافہ ہوا ہے لیکن وہاں اس کے ساتھ ہی طبقاتی تقسیم میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اور بدحال لوگ غریب سے غریب تر اور دولتمند امیر سے امیر تر ہوتے جارہے ہیں۔ چین کا امیر طبقہ اپنے ملک کے اوسط غرباء کے مقابلے میں بے حد امیر ہے۔ اسی طرح بھارت میں بھی اقتصادی ترقی کی وجہ سے غریبوں کی تعداد میں کمی ہونے کی بجائے امیروں کی امارت میں اضافہ ہوا ہے۔ امراء کی دولت میں اضافے کے نتیجے میں وہ ان وسائل پر حاوی ہوجاتے ہیں جو دنیا کے غریبوں میں تقسیم ہوکر ان کی معاشی اور سماجی حالت میں تبدیلی لاسکتے ہیں۔ اسی وجہ سے خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ غریبوں کی آمدنی میں چوں کہ مہنگائی کی شرح سے اضافہ نہیں ہوتا اس لئے درحقیقت وہ مزید غربت کی طرف دھکیل دئے جاتے ہیں۔

کالے مون کا کہنا ہے کہ دنیا میں غربت کے خاتمے کے لئے وسیع اصلاحات کی ضرورت ہے۔ زرعی اصلاحات کے ذریعے زمین ہر اجرہ داری کم کرنے کی ضرورت ہے۔اسی طرح تعلیمی نظام میں میں اصلاحات کے ذریعے زیادہ لوگوں کو تعلیم فراہم کرنے کے اقدامات ضروری ہیں۔ اس صورت میں یہ باور کرنا درست نہیں کہ غربت میں کمی سے وسائل کم ہوجائیں گے۔ غربت کے خاتمے اور غریبوں کے حالات بہتر بنانے کے لئے اقدامات کے نتیجے میں دنیا کی پیداوار اور وسائل میں بھی اسی رفتار اور شرح سے اضافہ ہوگا۔

اوسلو یونیورسٹی میں دنیا اور اس کے وسائل کی تقسیم کے مرکز نے صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے 1975ء سے 2010ء کے درمیان دنیا کی اقتصادی ترقی اور غربت کی صورت حال پر تحقیق کی ہے۔ اس مرکز کے محققین کا کہنا ہے کہ 1975ء میں دنیا کے امیروں پر 5 فیصد ٹیکس لگاکر دنیا میں غربت ختم کی جاسکتی تھی۔ تاہم مستقبل میں بھی دنیا میں غربت کو امیروں پر محض 2 فیصد ٹیکس لگا کر ختم کیا جاسکتا ہے۔ اس جائزے سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں حرص اور طمع میں اضافہ ہواہے اور عام غریب آبادی کے مسائل ختم کرنے کے لئے احساس ذمہ داری موجود نہیں ہے۔