نتائج کی نمائش 1 تا: 6 از: 6

موضوع: یوم تکبیر 28 مئی 1998 کی یاد میں

  1. #1
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,215 پیغامات میں 1,587 اظہار تشکر

    یوم تکبیر 28 مئی 1998 کی یاد میں

    [align=center]





    http://www.youtube.com/watch?feature...&v=CuKWJeAKx_Y[/align]
    [align=center][size=xx-large]28 مئی یوم تکبیر[/size][/align]
    میاں منیر احمد (جسارت)
    آج پوری قوم ایٹمی دھماکوں کی چودھویں سالگرہ منا رہی ہے، جسے پوری قوم یوم تکبیر کے نام سے مناتی اور یاد کرتی ہے اور حکومت کسی کی بھی ہو تاقیامت پوری قوم یہ دن فخر کے ساتھ مناتی رہے گی اگر چہ یہ قومی کارنامہ نواز شریف کے دور میں ہوا مگر اس کا صل کریڈٹ پوری قوم کو جاتا ہے جس نے متحد ہو کر حکومت پر دبائو بڑھایا اور تب حکومت عوامی حمایت سے یہ کام کرنے کے قابل ہوئی ایٹمی دھماکے کے وقت جنرل جہانگیر کرامت آرمی چیف تھے، رفیق تارڑ صدر پاکستان اور سرتاج عزیز وزیر خارجہ تھے، نواز شریف ایٹمی دھماکے کے لیے مشاورت میں مصروف تھے اور رائے عامہ کے دبائو میں کسی حد تک اپنا ذہن بنا چکے تھے، آرمی چیف کی کوئی رائے نہیں تھی، بلکہ وہ قرض معاف کرانے کی عالمی پیش کش کے ہامی تھے، سرتاج عزیز ایٹمی دھماکا نہیں چاہتے تھے، نواز شریف نے راجہ ظفر الحق سمیت اپنے متعدد وزراء کو سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک میں بھیجا، سعودی عرب نے کہا ایٹمی دھماکا کرو، جو چاہو گے ملے گا، پھر اس نے دو سال تک ہمیں مفت تیل فراہم کیا عالمی پابندیوں کے باعث حکومت نے سرکاری اعلان کیا تھا کہ ہمیں یہ تیل رعایتی نرخوں پر مل رہا ہے ۔پاشا نامی اس وقت کے اہم سرکاری افسر نے یہ قومی راز اقوام متحدہ کو دے کر وہاں اعلیٰ نوکری حاصل کی سرتاج عزیز مولانا فضل الرحمن سے ملنے گئے اور انہیں کہا کہ وہ ایٹمی دھماکے کے فیصلے کی حمایت نہ کریں بلکہ یہ کام رکوائیں ۔ اسی کشمکش میں حکومت نے فیصلہ کرلیا کہ ایٹمی دھماکا کیا جائے گا یہ بھارت کے دوسرے ایٹمی دھماکوں کا جواب تھا جس نے پہلا دھماکا 74میں کیا تھا یہ وہ وقت تھا کہ جب سقوط ڈھاکا کو تین سال ہوئے تھے اور پاکستانی قوم اس غم اور سوگ میں تھی مگر اس وقت پاکستان پر پیپلز پارٹی کے چیئر مین ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت تھی ۔ انہوں نے ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ہالینڈ سے پاکستان بلوایا اور انہیں یہ فرض سونپا کہ وہ پاکستان کو ایک ایٹمی قوت کا حامل ملک بنائیں ۔اس میدان میں پاکستان کام کرتا رہا اور بڑے بم کے آخری نٹ پیچ ضیاء دور میں کس لیے تھے مگر عالمی سطح پر سی ٹی بی ٹی اور این پی ٹی جیسے معاہدوں کے باعث ایٹمی دھماکا نہیں کر رہے تھے مگر بھارت نے 1998ء میں چوبیس سال کے بعد جب دوبارہ ایٹمی دھماکے کیے تو اس وقت اس خطہ میں صورت حال یہ تھی کہ ایک جانب کشمیر کی آزادی کی تحریک جوبن پر تھی اور دوسری جانب ملک میں مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی کے مابین ایک سخت سیاسی کشمکش جاری تھی پیپلز پارٹی اس وقت جی ڈی اے کے اتحاد میں شامل تھی، پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بے نظیر بھٹو نے حیدر آباد میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کے دوران اپنی چوڑیاں پھینکیں کہ اگر حکومت نے ایٹمی دھماکا نہیں کرنا تو چوڑیاں پہن لے۔ نواز شریف کی قیادت میں اس وقت کی حکومت قومی ا سمبلی میں دوتہائی کی نمایاں اکثریت کے ساتھ کام کر رہی تھی ملک کی اپوزیشن نے مطالبہ کیا کہ حکومت بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا جواب دے، ملک کی سول سوسائٹی اور میڈیا بھی اس مطالبے کی حمایت کر رہا تھا بلکہ ایک بڑے اخبار نویس نے کہا تھا کہ ’’اگر حکومت نے دھماکا نہ کیا تو عوام حکومت کا دھماکا کر دیں گے‘‘ وزیر اعظم نواز شریف نے دھماکا کرنے سے قبل اس وقت کی فوجی قیادت، سیاسی رہنمائوں، سول سوسائٹی اور میڈیا کے علاوہ اہم سفارتی حلقوں سے بھی مشاورت کی ۔ایک جانب مشاورت ہورہی تھی اور دوسری جانب بھارت کے دھماکوں کے جواب کی تیاریاں بھی جاری تھیں نواز شریف نے کابینہ کے ارکان اور اس وقت کے وزیر خارجہ سرتاج عزیز کو چین، سعودی عرب، کویت، بحرین، یو اے ای سمیت اپنے تمام دوستوں سے مشاورت کے لیے بھیجا۔ امریکا کے صدر بل کلنٹن اور برطانیہ کے وزیر اعظم جان میجر نے نواز شریف کو بار بار فون کیے اور بھارت کے جواب میں خاموش رہنے اور اس کے بدلے میں قرضوں کی معافی سمیت بہت سے مالی فائدوں کی یقین دہانی کرائی مگر کوئی بھی بھارت کے ایٹمی دھماکوں کی مذمت کرنے کوتیار نہیں تھا ممکن تھا اگر اقوام متحدہ اور بڑی عالمی طاقتیں بھارت کے اس عمل کی سختی سے مذمت کرتیں اور پابندیاں لگاتیں تو پاکستان بھی اس کا جواب نہ دیتا مگر اقوام عالم کے رویے سے مایوس ہو کر حکومت نے فیصلہ کرلیا کہ پاکستان اپنا فیصلہ خود کرے گا جس کے نتیجے میں حکومت نے ایٹمی سائنسدانوں کو تیار رہنے کا حکم دے دیا سائنس دانوں کی ایک ٹیم ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی سربراہی میں اسلام آباد سے کوئٹہ پہنچی جہاں سے چاغی روانہ ہوئی جہاں ایٹمی دھماکے کرنے تھے ‘بھارت کے دھماکوں کے ٹھیک 17 روز کے بعد چاغی نے رنگ بدلا، سمندر کی لہروں نے انگڑائی لی ، پھولوں، پتوں اور درختوں نے قومی گیت گائے، سرحدوں پر چوکس کھڑے سپاہیوں نے حوصلہ پکڑا اور وطن عزیز پاکستان کی انتہائی مقدس فضا اللہ اکبر سے گونج اٹھی اور پاکستان عالم اسلام کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا، اس لمحے نے اہل وطن کو ایک نئی زندگی دی، پاسپورٹ کو نئی طاقت بخشی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تحریک پاکستان کے گم نام ہیروز کو انمول خراج عقیدت پیش کیا 28مئی کی سہہ پہر کو وزیر اعظم نواز شریف نے قوم کے نام اپنے خطاب میں اعلان کیا کہ پاکستان نے بھارت نے ایٹمی دھماکوں کا جواب دے دیا ہے اور 5 دھماکے کیے ہیں یہ اعلان سنتے ہی خیبر سے کراچی تک لوگوں نے جشن منایا، مٹھائیاں تقسیم کی گئیں، لوگ فون کرکے اپنے پیاروں کو اطلاع کرتے رہے، نوجوانوں نے بھنگڑے ڈالے اور خوشیاں منائیں پوری پاکستانی قوم ایٹمی دھماکا کرنے پر خراج تحسین پیش کر رہی ہے اور یہ اعزاز نواز شریف کے پاس ہے اور رہے گا تاہم اصل اعزاز کی مستحق پاکستانی قوم ہے جس نے اس فیصلے کی مشکلات برداشت کیں اور سعودی عرب ہے جس نے مفت تیل فراہم کیا۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اردو منظر کے سب ممبران کی طرف سے اہل وطن کو یہ دن مبارک ہو ،یہ دن پاکستان کی حیات تصور کیا جاتا ہے ، جس طرح 1947 میں پاکستان آزاد ہوا تھا ، اسی طرح 28 مئی 1998 کو پاکستان ایٹمی طاقت بنا تھا ، یہ دونوں مواقع پاکستان کی تاریخ میں بے حد اہم ہیں ، اللہ وطن کو اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے ، کہ اس ذات باری تعالی نے ہماری حماقتیں اور دھوکوں کے باوجود ہم پر اپنا کرم کیا ، اے اللہ تعالی تیرے کرم اور مہربانیوں کی ہمارے ملک کو ضرورت ہے ، ہمیں ایک طاقت ور قوم بنا دے ، آمین

  2. #2
    رکنِ خاص نگار کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2011
    پيغامات
    5,360
    شکریہ
    663
    357 پیغامات میں 424 اظہار تشکر

    RE: یوم تکبیر 28 مئی 1998 کی یاد میں

    اپکا بہت بہت شکریہ

    اور میری طرف سے بھی سب کو یہ دن بہت بہت مبارک ہو

  3. #3
    رکنِ خاص بےلگام کا اوتار
    تاريخ شموليت
    May 2012
    پيغامات
    11,245
    شکریہ
    2
    14 پیغامات میں 23 اظہار تشکر

    RE: یوم تکبیر 28 مئی 1998 کی یاد میں


  4. #4
    ناظم سیما کا اوتار
    تاريخ شموليت
    May 2011
    پيغامات
    2,514
    شکریہ
    409
    125 پیغامات میں 159 اظہار تشکر

    RE: یوم تکبیر 28 مئی 1998 کی یاد میں

    السلام علیکم
    بہت بہت شکریہ انکل جی
    میری طرف سے بھی سب کو یہ دن بہت بہت مبارک ہو

  5. #5
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,862
    شکریہ
    949
    878 پیغامات میں 1,104 اظہار تشکر

    RE: یوم تکبیر 28 مئی 1998 کی یاد میں

    میری طرف سے بھی صارفین اردو منظر کو یوم تکبیر مبارک
    اللہ تعالی میرے پاک وطن میں ہمیشہ امن و امان رکھے اور اسکا ہر ہر گوشہ جنت کا گوشہ ہو ۔۔۔آمین

  6. #6
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    831
    شکریہ
    246
    110 پیغامات میں 168 اظہار تشکر

    RE: یوم تکبیر 28 مئی 1998 کی یاد میں

    السلام علیکم ۔
    میری طرف سے بھی ساری پاکستانی قوم بلکہ ساری مسلم قوم کو مبارک باد اللہ تعالی پاکستان کو اپنی امان میں رکھے آمین
    ثم آمین بہت بہت شکریہ بے باک بھای
    وسلام

متشابہہ موضوعات

  1. اپنا یوفون کا نمبر چیک کریں
    By ادریس چودھری in forum انفارمیشن ٹیکنالوجی
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 10-14-2012, 09:52 PM
  2. بس یونہی تنہا ہیں ہم
    By نگار in forum شعر و شاعری
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 09-19-2012, 07:48 PM
  3. یونہی اُمیددلاتے ہیں زمانے والے
    By این اے ناصر in forum میری پسندیدہ شاعری
    جوابات: 0
    آخری پيغام: 03-18-2011, 08:44 PM
  4. آپ بیوقوف ہیں ۔
    By تانیہ in forum لطیفے سنائیں
    جوابات: 0
    آخری پيغام: 12-22-2010, 12:03 AM
  5. یومِ عاشورہ : تاریخ کے آئینے میں
    By گلاب خان in forum متفرق موضوعات
    جوابات: 3
    آخری پيغام: 12-15-2010, 12:41 AM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University