نتائج کی نمائش 1 تا: 8 از: 8

موضوع: رحمان بابا کا ایک خوبصورت شعر اردو ترجمہ کے ساتھ

  1. #1
    مبتدی
    تاريخ شموليت
    Mar 2012
    پيغامات
    19
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    رحمان بابا کا ایک خوبصورت شعر اردو ترجمہ کے ساتھ

    دَ کعبہ پہ بزرگے کہ میں شک نشتہ
    ولے خر بہ حجی نشی پہ طواف

    ترجمہ:
    کعبہ کی بزرگی میں مجھے کوئی شک نہیں لیکن گدھا طواف سے حاجی نہیں بن جاتا۔


    تشریح کیجئے :

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,205
    شکریہ
    2,192
    1,260 پیغامات میں 1,635 اظہار تشکر

    RE: رحمان بابا کا ایک خوبصورت شعر اردو ترجمہ کے ساتھ

    رحمٰن بابا کا اصل نام عبدالرحمٰن تھا اور وہ 1653ء کے لگ بھگ پشاور کے قریب مہمند قبیلے میں پیدا ہوئے اور ان کا انتقال 1715ء کے ارد گرد ہوا۔

    رحمٰن بابا نہ صرف پشتو زبان کے عظیم شاعرہیں بلکہ ان کا مقام پاکستان کے عظیم صوفی شعرا شاہ عبدالطیف بھٹائی، وغیرہ سے کسی لحاظ سے کم نہیں۔[align=center][size=xx-large]

    آدمیت سہ بہ دولت نہ دے رحمانہ
    بت کہ جوڑ شی د سرو زرو نہ انسان شہ

    ترجمہ:
    انسانیت دولت سے پیدا نہیں ہوتی اے رحمان
    بت سونے کا ہو توبھی انسان نہیں بن جاتا
    [/size][/align]
    ،،،،،،،،،
    کتنا خوبصورت کلام ہے رحمن بابا کا
    دیکھیں ذرا
    [align=center][size=xx-large]

    کرد گلونہ کڑہ چی سیمہ دی گلزار شی
    اغزی مہ کرہ پہ خپو کے بہ دے خار شی

    ترجمہ:
    پھولوں کی فصل اگاؤ کہ راستے گلزار ہو جائیں
    کانٹے مت بوؤ کہ پیروں میں چبھیں
    [/size][/align]

    دَ کعبہ پہ بزرگے کہ میں شک نشتہ
    ولے خر بہ حجی نشی پہ طواف

    ترجمہ:
    کعبہ کی بزرگی میں مجھے کوئی شک نہیں لیکن گدھا طواف سے حاجی نہیں بن جاتا۔
    آپ کا بہت بہت شکریہ ، آپ نے عظیم شاعر کا خوبصورت شعر لکھا ، جزاک اللہ

  3. #3
    مبتدی
    تاريخ شموليت
    Mar 2012
    پيغامات
    19
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    RE: رحمان بابا کا ایک خوبصورت شعر اردو ترجمہ کے ساتھ

    ماشاءاللہ آپ نے رحمان بابا کا تعارف اور شاعری بڑی ہی خوبصورت طور پر پیش کی۔ شکریہ۔

  4. #4
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Aug 2012
    پيغامات
    100
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    RE: رحمان بابا کا ایک خوبصورت شعر اردو ترجمہ کے ساتھ

    آپ سب نے رحمان بابا پہ کافی اچھی معلومات فراہم کی ہیں
    انشاءاللہ میں پشتو سلسلہ آگے بڑھانے کی کوشش کرونگا

  5. #5
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    143
    شکریہ
    13
    15 پیغامات میں 23 اظہار تشکر

    RE: رحمان بابا کا ایک خوبصورت شعر اردو ترجمہ کے ساتھ

    ماشا اللہ ۔۔۔۔۔۔۔کیا کہنے۔۔۔۔۔
    پھولوں کی فصل اگاؤ کہ راستے گلزار ہو جائیں
    کانٹے مت بوؤ کہ پیروں میں چبھیں

  6. #6
    مبتدی
    تاريخ شموليت
    Mar 2013
    پيغامات
    2
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    رحمان بابا کا ایک خوبصورت شعر اردو ترجمہ کے ساتھ

    اقتباس اصل پيغام ارسال کردہ از: عالی شان پيغام ديکھيے
    آپ سب نے رحمان بابا پہ کافی اچھی معلومات فراہم کی ہیں
    انشاءاللہ میں پشتو سلسلہ آگے بڑھانے کی کوشش کرونگا
    الله آپ کو زياده سی زياده حوصله عطا کری
    جوانی تجهـ کو نصيب هو
    نظر افغان

  7. #7
    معاون
    تاريخ شموليت
    Feb 2013
    پيغامات
    57
    شکریہ
    96
    16 پیغامات میں 27 اظہار تشکر

    رحمان بابا کا ایک خوبصورت شعر اردو ترجمہ کے ساتھ

    [size=xx-large] رحمان بابا کی صوفیانہ شاعری میں ہم جیسے نادانوں کے لئے بہت نصیحت ہے انکے اشعار آج بھی صدیاں گزرنے کے باوجودایسے معلوم ہوتے ہیں جیسےاج ھی کہے گئے ہوں آج کے حالات کے مطابق لگتے ہیں اچھے شاعروں کی پہچان یہی ھے کہ انکا کلام پرانا نہیں ہوتا ہے ہر مرتبہ پڑھنے پر نیا محسوس ھوتا ہے ایسے بزرگوں کے اشعار پڑھتے ہوئے اپنی شخصیت کو سامنے رکھ کر پڑھا کیجئیے اس سے آپکو بہت سے فوائد حاصل ہونگے اور آپ اپنی زندگی میں بہت سے امور میں رہنمائی حاصل کر سکیں گے انشآء اللہ تعالیٰ
    ([/size]ٹیکسٹ ماسٹر)

  8. #8
    رکنِ خاص نگار کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2011
    پيغامات
    5,360
    شکریہ
    663
    357 پیغامات میں 424 اظہار تشکر

    رحمان بابا کا ایک خوبصورت شعر اردو ترجمہ کے ساتھ

    [size=xx-large][align=center]رحمان بابا غزل •-[/align][/size]

    [size=xx-large][align=center]خوی که په دا شان وي دل ازار ستا
    څه ښادي به کاندي طلبګار ســــتا

    حيف چې اورېدی شي ليدی نشي
    حسن لطافت دې پريوار ستا

    بيا دوباره نه ګوري وبل ته
    هر چا چې ليدلی دې رخسار ستا

    خدای زده چې ته يار د کوم يوه يې
    هر طرف ياران دي صد هزار ستا

    ځای د پښو ايښودو مونده نشي
    هومره عاشقان دي په دربار ستا

    بل هسې نه وي که يې خدای کا
    ما غوندې خاکسار او هوادار ستا

    عشق له حسنه، حسن دی له عشقه
    ته نګار زما يې، زه نګار ستا

    ته زما مطلوب يې زه طالب يم
    ته زما طبيب يې زه بيمار ستا

    ته که تازه ګل د نوبهار يې
    زه يم عندليب په لاله زار ستا

    جور که جفا ده که ستم دی
    واړه مې منلي دي يکبار ستا

    جور په چا څوک په بها پيري
    زه يم د جورونو خريدار ستا

    يو تار که ضايع شي ستا د زلفو
    ځان به صدقه کړم تر هر تار ستا

    سل ازمايښتونه دې راوکړه
    حيف دی چې لا نشي اعتبار ستا

    تېر يم زه “رحمان ” له هره کاره
    اوس مې ملا تړلې ده په کار ستا [/align]
    [/size]

متشابہہ موضوعات

  1. آج کی حدیث مبارکہ ترجمہ و تشریح کے ساتھ
    By محمداشرف يوسف in forum حدیث شریف
    جوابات: 12
    آخری پيغام: 03-10-2013, 04:26 AM
  2. تصویر کہانی۔۔۔ہم ساتھ ساتھ ہیں
    By تانیہ in forum عجیب و غریب تصاویر
    جوابات: 3
    آخری پيغام: 01-31-2013, 10:25 PM
  3. وہ چہرہ ساتھ ساتھ رہا جو ملا نہیں
    By ایم-ایم in forum فرحت عباس شاہ
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 04-13-2012, 04:08 PM
  4. میرا ہاتھ ہے کسی ہاتھ میں
    By این اے ناصر in forum میری پسندیدہ شاعری
    جوابات: 4
    آخری پيغام: 05-13-2011, 12:42 AM
  5. نام کے ساتھ محمد یا احمد کا اضافہ
    By سرحدی in forum اسلامی خطبات
    جوابات: 4
    آخری پيغام: 02-04-2011, 05:18 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University