صفحہ 1 از 2 12 آخریآخری
نتائج کی نمائش 1 تا: 10 از: 18

موضوع: حمام کا مالک ۔ ملک ریاض

  1. #1
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,171
    شکریہ
    2,134
    1,241 پیغامات میں 1,615 اظہار تشکر

    حمام کا مالک ۔ ملک ریاض

    [align=center]
    [/align]
    ایکسپریس نیوز 10 جون 2012

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,171
    شکریہ
    2,134
    1,241 پیغامات میں 1,615 اظہار تشکر

    RE: حمام کا مالک ۔ ملک ریاض

    [align=center]



    [/align]

  3. #3
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,171
    شکریہ
    2,134
    1,241 پیغامات میں 1,615 اظہار تشکر

    RE: حمام کا مالک ۔ ملک ریاض

    [align=center][/align]

  4. #4
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,171
    شکریہ
    2,134
    1,241 پیغامات میں 1,615 اظہار تشکر

    RE: حمام کا مالک ۔ ملک ریاض

    [align=center]
    [/align]

  5. #5
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,171
    شکریہ
    2,134
    1,241 پیغامات میں 1,615 اظہار تشکر

    RE: حمام کا مالک ۔ ملک ریاض

    [align=center]
    [/align]

  6. #6
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,171
    شکریہ
    2,134
    1,241 پیغامات میں 1,615 اظہار تشکر

    RE: حمام کا مالک ۔ ملک ریاض

    [size=xx-large][align=center]
    جسٹس افتخار اور ایک نئی یلغار (1)...نقش خیال…عرفان صدیقی
    [/align][/size]
    مصحفی کے اس طرحدار شعر کی خوبصورتی مجھے اکسا رہی ہے ورنہ میں جانتا ہوں کہ کدورتوں اور نفرتوں سے بہری اس بے ذوق جنگ کا اس شعر سے کوئی ناتا نہیں۔ چلی بھی جا جرس غنچہ کی صدا پہ نسیم کہیں تو قافلہ نوبہار ٹھہرے گا باد نسیم کا غنچوں کے چٹکنے کی دلربا آواز کے تعاقب میں چلتے چلے جانا، چلتے چلے جانا کہ کہیں تو رنگ و خوشبو سے لدی اس بہار تازہ کا قافلہ رکے گا اور لمبے ہجر کی ماری لطیف ہوا لذت وصل سے ہمکنار ہوگی، کیا اچھوتا خیال ہے اور کس عمدگی سے ادا ہوا ہے۔ ایک تازہ یلغار کی زد میں آئی عدلیہ، بعض دلوں کی چمنیوں سے اٹھتا بغض و کدورت کا دھواں اور بعض خزاں رسیدہ چہروں پر یکایک کھل اٹھنے والی بشاشت سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سب کچھ وہی نہیں جو دکھائی دے رہا ہے، کہانی کے پس پردہ بھی ایک کہانی موجود ہے۔ اس کہانی کے مشاق اور ہنر مند کردار بھیس بدلنے کی زبردست صلاحیت رکھتے ہیں لیکن بدلتے موسموں کے تیور ایسے ہیں کہ اپنے چہرے پر کئی چہرے چڑھا لینے کی قدرت رکھنے والے فنکار بھی اپنی شناخت کو چھپا نہ پائیں گے۔ بہر رنگے کہ خواہی جامہ می پوش من انداز قدت رامی شناسم تو چاہے جس بھی رنگ کی پوشاک پہن لے اور جو بھی بھیس بنا لے، میں تجھے تیرے قد و قامت کے انداز سے پہچان جاتا ہوں۔ سو شاید چہرے بے نقاب ہونے کی رت آگئی ہے۔ جرس غنچہ کی صدا پہ سفر کرتی باد نسیم کو قافلہ نو بہار کی کوئی منزل ملے نہ ملے، اسلام آباد کے سٹیج کا یہ تازہ ناٹک بہرحال لکھے گئے سکرپٹ تک محدود نہیں رہے گا۔ بظاہر کہانی اس قدر ہے کہ بحریہ ٹاؤن کے مالک، ملک ریاض حسین نے اپنے درجنوں مقدمات سے نجات پانے یا اپنے من پسند فیصلے حاصل کرنے کے لئے پاکستان کے چیف جسٹس عزت مآب افتخار محمد چودھری پر بھی وہی نسخہ آزمانے کی کوشش کی جو وہ راولپنڈی اور گردو نواح کے پٹواریوں، گرداوروں اور تحصیل داروں پر آزماتے رہے ہیں۔ فائل کو پہئے لگانے، کی حکمت عملی سے ملک صاحب نے کبھی انکار نہیں کیا۔ وہ نجی محفلوں میں ہی نہیں، ٹی وی پروگراموں میں بھی عملیت پسندی کے اس فلسفے کا کھلا اظہار کرتے رہے ہیں۔ ان کی اس بات میں خاصا وزن بھی ہے۔ کرپشن سے لت پت اس ملک میں جہاں پٹواریوں سے سیکریٹریوں اور وزراء یا شاید ان سے بھی ذرا اوپر کی سطح تک، چھوٹے بڑے دہانوں والی شارک مچھلیاں اپنے بھیانک جبڑے کھولے جھپٹ رہی ہوں، بحریہ ٹاؤن جیسے منصوبے کو صاف شفاف طریقے سے آگے بڑھانا آسمان میں تھگلی لگانے کے مترادف ہے۔ یہاں تو فٹ پاتھ پر ریڑھی لگانے اور گلی کی نکڑ پر کھوکھا چلانے والے کو بھی کوچہ و بازار کے ارباب اختیار کی مٹھی گرم کرنا پڑتی ہے۔ سو ملک صاحب نے جو کچھ پایا، بنایا اور کمایا، سب زمینی حقائق کے گہرے شعور اور ان کی عملیت پسندی کا ثمر ہے۔ درجنوں مقدمات سے زچ، بحریہ ٹاؤن نے برسوں پہ محیط اپنی آزمودہ اور کامیاب حکمت کار کے تحت جسٹس افتخارمحمد چوہدری کے قلعے میں نقب لگانے کے لئے ان کے صاحبزادے ارسلان افتخار کوشیشے میں اتارا۔ بعد کی کہانی کے خاصے اجزاء منظر عام پر آچکے ہیں۔ خلاصئہ کلام یہ ہے کہ مبینہ طور پر ارسلان افتخار پر کم و بیش بتیس کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی گئی۔ کوئی فائدہ حاصل نہ ہوا تو پیمانہ چھلک گیا۔ جس پر ملک صاحب نے اس سرمایہ کاری کے شواہد بعض صحافیوں اور اعتزاز احسن کو دکھائے۔ سنڈے ٹائمز کی کرسٹینا لیمب کو بھی یہ سٹوری دی گئی۔ پہلی سوچ یہ تھی کہ یہ دھماکہ عین اس دن ہو جس دن جسٹس افتخار محمد چوہدری ایک بڑا عالمی اعزاز وصول کرنے لندن میں موجود ہوں لیکن کسی وجہ سے یہ منصوبہ ترک کردیا گیا۔ چیف جسٹس نے میڈیا کی سرگوشیاں سنتے ہی معاملے کا سویو موٹونوٹس لیا اور پھر ضابطہ اخلاق کی پاسداری کرتے ہوئے خود بینچ سے الگ ہوگئے۔ امکان ہے کہ اب نسبتاً بڑا بینچ اس مقدمے کی سماعت کرے گا اور اہل پاکستان کو توقع ہے کہ عدلیہ اپنی عزت و حرمت کا پرچم سربلند رکھتے ہوئے قانون و انصاف کے تقاضوں پہ کوئی آنچ نہیں آنے دے گی۔ لیکن سوالات کا ایک جنگل ہے کہ پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ کہانی الجھی ہوئی ہے اور بقول افتخار عارف کہانی آپ الجھی ہے کہ الجھائی گئی ہے یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشا ختم ہوگا تماشا ختم ہونے میں ابھی کچھ دیر لگے گی۔ لوگ کہتے ہیں، کیا ارسلان کو ایک منصوبے کے تحت جال میں پھانسا گیا؟ اس پہ نوازشات کی بارش کی گئی۔ ہر ایک چیز کا ریکارڈ رکھا گیا۔ یہاں تک کہ وڈیو فلمز بنائی گئیں۔ اتنی محنت مشقت اور سرمایہ کاری اس لئے نہیں ہوسکتی کہ فلم ریلیز کئے بغیر کسی ڈبے میں بند کردی جائے۔ جڑا ہوا سوال یہ پوچھا جاتا ہے کہ کیا ارسلان افتخار اتنا ہی سادہ و معصوم تھا کہ نوازشات کی اس برسات میں جل تھل ہوتا رہا اور اسے کچھ اندازہ نہ ہو پایا کہ بحریہ ٹاؤن اس پر اس قدر مہربان کیوں ہو گیا ہے؟ آج کل تو جب کوئی آدمی دونوں ہاتھوں سے مسکراتے ہوئے ذرا جھک کر مصافحہ کرے تو ماتھا ٹھنکتا ہے کہ ضرور اسے کوئی کام ہے۔ ارسلان افتخار کیوں نہ بھانپ سکا کہ نوازش ہائے بے جا کا سبب کیا ہے؟ پھر ایک نئے سوال کی کونپل پھوٹتی ہے کہ جب ارسلان کی نااہلی عیاں ہوگئی تھی اور وہ بحریہ ٹاؤن کو کسی طرح کا کوئی ریلیف دینے میں کامیاب نہیں ہوسکا تھا بلکہ چار درجن کے لگ بھگ تمام مقدمات کے فیصلے بحریہ ٹاؤن کے خلاف آئے تو ارسلان پر سرمایہ کاری کا سلسلہ کیوں جاری رہا؟ پاؤ بھر دودھ نہ دینے والی بانجھ بھینس کی کھرلی میں کئی برس تک لذیز چارہ کیوں ڈالا جاتا رہا؟ ملک صاحب خود بھی کہتے ہیں اور پاکستانی قوم بھی یہ سمجھتی ہے کہ عزت مآب چیف جسٹس کا اس کھیل سے دور کا واسطہ بھی نہ تھا لیکن پھر یہ چبھتا ہوا سوال کہ ایک زیرک اور جہاں دیدہ شخص اپنے بیٹے کے طور اطوار سے اس قدر بے خبر اور لا تعلق کیسے رہا؟ ہماری تہذیب و معاشرت میں تو والدین بچوں کی آنکھوں میں جھانک کر، ان کے دلوں کی دھڑکنیں تک پڑھ لیتے ہیں۔ پھر یہ سوال کہ اگر ارسلان افتخار کے لئے ایک جال بنا گیا تو کیا ملک ریاض حسین یہ جال بننے والے گروہ میں شامل ہیں؟ اگر شامل ہیں تو ان کا مفاد کیا ہے؟ پاکستان کا سب سے موثر اور سب سے مقتدر کاروباری ہوتے ہوئے، ایک عظیم الشان بزنس رکھنے والا شخص کیوں چاہے گا کہ وہ اپنی ذات اور اپنے کاروبار کو ایک بڑے خطرے سے دوچار کرتے ہوئے اس طرح کی مہم جوئی کا آلہ کار بنے؟ کاروباری لوگ بنیادی طور پر حکمت کے ساتھ راستہ تراشنے والے مصلحت کیش ہوتے ہیں۔ بارودی سرنگیں بچھانا اور دھماکے کرنا ان کی فطرت میں نہیں ہوتا۔ ملک ریاض حسین کی تو پوری زندگی اس فلسفے سے عبارت رہی ہے؟ تو کیا ارسلان کی طرح ملک صاحب بھی کسی جال میں آگئے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر یہ سوال کہ ملک ریاض حسین جیسے ہنر کار اور بحریہ ٹاؤن جیسا مثالی جہان نو آباد کرنے والے بہترین منصوبہ ساز نے جس کے لئے 32 کروڑ روپے کا کڑوا گھونٹ بھر کر سب کچھ بھول جانا کوئی مشکل کام نہ تھا۔ اپنی ذات اپنے خاندان اور اپنے اربوں کھربوں کے کاروبار کو داؤ پر کیوں لگادیا؟ اور پھر سب سے بڑا سوال کہ کیا پس پردہ بیٹھے کچھ زخم خوردگان کے لئے افتخار محمدچوہدری اسی طرح ناقابل برداشت ہوگیا ہے جس طرح وہ روسیاہ ڈکٹیٹر کے لئے ہوگیا تھا؟ (جاری ہے)
    ۔۔۔۔۔۔
    [align=center][size=xx-large]
    جسٹس افتخار اور ایک نئی یلغار(2)...نقش خیال…عرفان صدیقی
    [/size][/align]
    ملک ریاض حسین ایک کشادہ دست اور فراخ دل انسان ہیں۔ غریبوں، مسکینوں، یتیموں، بیواؤں اور حاجت مندوں، کی بہت بڑی تعداد اُن کے سائبان خیر تلے پرورش پارہی ہے۔ سیاق و سباق سے قطع نظر، بحریہ ٹاؤن اُن کی انتظامی صلاحیتوں، اُن کے ذوق اور اُن کی ہنر مندی کا ایسا شاہکار ہے جس کی نظریں عالمی سطح پر بھی کم کم ہی ملتی ہیں۔ اُن کی فراخ دلی اور کشادہ دستی ہی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنے راستے کی رکاوٹیں دور کرنے اور کاروباری معاملات کو رواں رکھنے کے لئے سرکار کے ہر ادنیٰ و اعلیٰ اہلکار کو منہ مانگی قیمت دینے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ بڑے بڑے عہدوں پہ بیٹھے لوگ اُن کی اس کشادہ دستی سے فیض یاب ہوتے اور اُن کی راہوں کے کانٹے چنتے رہتے ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ملک صاحب کی مروت ان کی دست گیری کرتی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے دور ملازمت میں جاہ وجلال کی حشر سامانیاں دکھانے اور سمندروں میں ایک تلاطم سا اٹھا دینے والے بڑے بڑے فوجی افسران، آج بحریہ ٹاؤن کی شاداب چراگاہوں میں منہ مارہے ہیں۔ ملک صاحب دوستوں کے دوست ہیں لیکن دشمنوں سے دشمنی کرتے ہوئے بھی کبھی آپے سے باہر نہیں ہوتے۔ قربت، بے تکلفی یا راز ونیاز میں تھوڑے یا زیادہ فرق کے ساتھ تقریباً تمام قد آور سیاسی شخصیات سے ان کا میل جول ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی موسم بڑی تیزی سے بدلتے رہتے ہیں۔ لہٰذا وہ بہار اور خزاں کی ساری رُتوں سے رابطے قائم رکھتے ہیں۔ پاکستان میں ایک کامیاب کاروباری شخصیت کے لئے یہ سب کچھ ناگزیر ہے۔ سیاستدانوں اور مقتدر بیوروکریسی کے ساتھ اس تعلق کی بنیاد محبت نہیں، ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن بہت سے لوگوں کو محسوس ہوا کہ 2008ء میں پیپلزپارٹی کی حکومت بننے کے بعد ملک صاحب کسی طور صدر آصف علی زرداری کے بہت قریب آگئے بلکہ اُن کے حلقہٴ خاص کی سب سے نمایاں کرسی پہ جابیٹھے۔ اُن کا رشتہ و تعلق دوسرے سیاستدانوں بالخصوص میاں شہباز شریف اور کسی حد تک میاں نواز شریف سے بھی رہا لیکن عملاً وہ اپنا روایتی توازن قائم نہ رکھ سکے اور اُن کا پلڑا پوری طرح صدر آصف علی زرداری کی طرف جھک گیا۔ بلاشبہ وہ اس عہد کے بادشاہ گر بن گئے اور اسلام آباد میں اُن کا گھر نہ صرف قومی سیاست کی کارگاہ بلکہ ہواؤں کو مرضی کا رُخ دینے والی زور آور ایجنسیوں کی آماجگاہ بھی بن گیا۔ ملک صاحب غیرمحسوس طور پر ایک ایسے منطقے میں جانکلے جہاں اُنہیں مافوق الفطرت صلاحیتیں حاصل ہوگئیں۔ اب وہ پھونک سے کسی ہاتھی کو مکھی اور کسی مکھی کو ہاتھی بناسکتے تھے۔ اُنہیں اپنی اس نو دریافت قوت سے کھیلنے میں مزا آنے لگا۔ وہ کھیلتے رہے اور توازن بگڑتا چلا گیا۔ اس سارے عرصے میں شاید وہ بھول گئے کہ جادو نگریاں بڑی بے رحم ہوتی ہیں اور الہ دین کے چراغ والا جن، اپنے اہداف و مقاصد بھی رکھتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ لوگ ملک صاحب اور ارسلان افتخار کے معاملے کو دو افراد کے درمیان کاروباری تنازعہ یا لین دین کا مسئلہ نہیں سمجھتے۔ اگر یہ باور بھی کرلیا جائے کہ ملک صاحب نے اپنے کچھ کام نکالنے کے لئے ارسلان افتخار پر کروڑوں کی سرمایہ کاری کی تو بھی ملک صاحب کو جاننے والوں کے لئے یہ بات ناقابل یقین ہے کہ وہ ان نوازشات کی اتنی عمدگی کے ساتھ دستاویز بندی کریں گے۔ پیشہ ور لوگوں سے وڈیوز تیار کرائیں گے اور ایک ایسے وقت میں جب انتہائی اہم مقدمات عدالت کے روبرو ہیں، وہ ایک خاص پلان کے تحت برطانوی اور پاکستانی اخبار نویسوں کو ایسی خوفناک اسٹوری لیک کردیں گے۔ بیس کروڑ روپے ملک صاحب کی تجوری میں وہی حیثیت رکھتے ہیں جو اونٹ کے منہ میں زیرہ۔ وہ اس زخم کو بھلا کر اپنی افتاد طبع اور روایت کے مطابق کوئی نیا راستہ نکال سکتے تھے۔ جیسا کہ میں نے کل عرض کیا تھا، ”یہ بات بھی ہضم ہونے والی نہیں کہ ایک دھیلے کا کام نہ کراسکنے والے ارسلان پر، کئی برسوں پر محیط کروڑوں کی سرمایہ کاری کیوں کی جاتی رہی“۔ سو ملک صاحب کے حوالے سے تمام تر خوش گمانیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے بھی نہایت نوکیلے سوالوں کے جواب نہیں مل پارہے ہیں۔ جب واضح اور تسلی بخش جواب نہ ملیں تو بدگمانیاں اگتی ہیں، شکوک و شبہات سراٹھاتے ہیں، سازشوں کی فصل لہلہاتی ہے اور چوپال بھانت بھانت کی بولیوں سے چھلکنے لگتے ہیں۔ بلاشبہ جسٹس افتخار محمد چوہدری، کچھ دلوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتے ہیں۔ ایک تحریری معاہدے کے باوجود ایک سال تک مشرف کے عتاب کا نشانہ بننے اور آمریت کے قلعے پر پہلی کاری ضرب لگانے والے افتخار محمد چوہدری اور دیگر جج صاحبان کو بحال نہ کرنا اور ڈوگر عدلیہ سے دل لگا لینا، اس حکومت کی سوچ کی ترجمانی کررہا تھا۔ لانگ مارچ کے نتیجے میں 15/مارچ 2009ء کی شب، پچھلے پہر کی ڈوبتی ساعتوں میں ججوں کی بحالی کا اعلان، حکومت کا اختیاری فیصلہ نہ تھا۔ اُس نے آج تک اس عدلیہ کو کھلے دل سے تسلیم نہیں کیا۔ این آر او سے وزیراعظم کی سزا تک درجنوں فیصلے حکمرانوں کو پسند نہیں آ ئے۔ اور وہ عدلیہ سے جنگ آزما ہیں۔اسی دوران لاپتہ افراد کے حوالے سے چیف جسٹس کی حالیہ فعالیت بھی زور آور بارگاہوں پر یقیناً گراں گزری ہے۔ اڈیالہ جیل کے گیارہ قیدیوں کا معاملہ بھی کچھ قوتوں کو آسانی سے ہضم نہیں ہوا۔ کوئٹہ میں بیٹھ کر جناب چیف جسٹس نے یہاں تک کہہ دیا کہ بیشتر لاپتہ افراد کا کھرا ایف سی کی طرف جاتا ہے۔ یہ بھی پیش نظر رہے کہ پی پی پی کی مخلوط حکومت کے دائیں بائیں بیٹھے لوگ وہی ہیں جنہوں نے 12/مئی کا خونیں المیہ رقم کیا تھا اور جو افتخار چوہدری کے خلاف کیلوں جڑے ڈنڈوں والے جلوس نکالتے تھے۔ سو اختیار اور اقتدار کی بارگاہیں اسی طرح کی بو باس سے بھرگئی ہیں جو 9/مارچ2007ء کو راولپنڈی کے آرمی ہاؤس میں آبیٹھی تھی۔ تب ڈکٹیٹر بھول گیا تھا کہ تقدیریں قادر مطلق کے ہاتھ ہوتی ہیں اور آج تین برس سے بس گھولتی اور افتخار چوہدری کو کسی گرداب کی نذر کردینے کی آرزومند قوتیں سرگرم ہوگئی ہیں کہ بحریہ ٹاؤن اور ارسلان چوہدری کے معاملے کو کھینچ تان کر جسٹس افتخار محمد چوہدری تک لے جائیں اور اُس نئی عدلیہ کے قلعے کا وہ مرکزی ستون گرادیا جائے جس نے کرپٹ، بدعنوان اور بدنظم حکمرانوں اور خودسر قوتوں کو کسی حد تک لگام ڈال رکھی ہے۔ بحریہ ٹاؤن اور ارسلان چوہدری کا یہ معاملہ ان افتخار بیزار عناصر کے لئے ایک ”جواز“ بنتا جارہا ہے۔ پہلے وزیراعظم کے ایک مشیر باتدبیر، جو تب پرویز مشرف کی ہمنوائی میں جسٹس افتخار چوہدری پہ کوڑے برسارہے تھے، گویا ہوئے کہ افتخار چوہدری کو مستعفی ہوجانا چاہئے۔ پھر حامد میر کے کیپٹل ٹاک میں معقول بات کرنے والے ندیم افضل چن نے ملک صاحب کو اپنا آئیڈیل قرار دیتے ہوئے اسی نوع کا مطالبہ کیا۔ پھر پنجاب کے گورنر سردار لطیف کھوسہ نے یہی راگ الاپا۔ قومی اسمبلی میں، حج اسکینڈل کے شہرت یافتہ حضرت حامد سعید کاظمی نے یہی مطالبہ کرڈالا۔ راجہ ریاض نے بھی بقدر توفیق حصہ ڈال دیا۔ کیا یہ سارا کھیل اسی مطالبے کے لئے کھیلا گیا؟ اور کیا ملک ریاض حسین کو استعمال کرلیا گیا؟ ملک صاحب کا دعویٰ ہے کہ جب انہوں نے صدر زرداری کو اعتماد میں لیا تو صدر نے انہیں اس سے روکا۔ ہمارے پاس اس دعوے کی تردید یا تصدیق کا کوئی ذریعہ نہیں۔ اگر ملک صاحب کا یہ سارا مقدمہ، اُن کی ذاتی سوچ اور صرف اُن کے اپنے فیصلے پر منحصر ہے تو بھی پیپلزپارٹی کو افتخار بیزار حکمت عملی کے لئے بہانہ مل گیا ہے۔ اُردو کا محاورہ ہے ”بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا“۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ محض اتفاق یا خوش قسمتی سے کسی کی مراد بر آئے۔ پی پی پی مسلسل عدلیہ کی طرف جھپٹ رہی تھی۔ اب اس نے ایک بودا سا جواز تراش لیا ہے لیکن جس قادر مطلق نے،9/مارچ 2007ء کو، آرمی ہاؤس میں، کئی باوردی جرنیلوں کے نرغے میں آئے ہوئے افتخار چوہدری کو”حرف انکار“ کا حوصلہ دیا تھا، یقیناً وہ اب بھی اُسے تنہا نہ چھوڑے گا۔ ارسلان افتخار اور ملک ریاض کے ساتھ بلا رو و رعایت، دستور و قانون کے مطابق سلوک ہونا چاہیے۔ ہر ایک کو اپنے اپنے قصور کے مطابق سزا ملنی چاہیے لیکن وکلاء برادری اورسول سوسائٹی کو ایک بار پھر اپنا کردار بھی ادا کرنا چاہیے۔ اگر 9/مارچ 2007ء کی مکروہ تاریخ اپنے آپ کو دہرانے چلی ہے تو وکلاء اور سول سوسائٹی کو بھی اپنی تابندہ و درخشندہ تاریخ دہرانے کیلئے کمربستہ ہوجانا چاہئے۔ افتخار چوہدری کے خلاف تازہ یلغار اپنے اندر ایک طوفان سمیٹے ہوئے ہے۔ اُسے تنہا چھوڑ دینا، پاکستان کو منہ زور اور خونخوار عفریتوں کا جنگل بنادینے کے مترادف ہوگا۔

  7. #7
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,171
    شکریہ
    2,134
    1,241 پیغامات میں 1,615 اظہار تشکر

    RE: حمام کا مالک ۔ ملک ریاض

    [align=center]

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،،،

    [/align]

  8. #8
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,171
    شکریہ
    2,134
    1,241 پیغامات میں 1,615 اظہار تشکر

    RE: حمام کا مالک ۔ ملک ریاض

    [align=center][size=xx-large]عدلیہ کا ڈان ارسلان افتخار ہے ‘ ملک ریاض[/size][/align]

    [align=center][/align]
    چیف جسٹس بتائیں کہ رات کے اندھیرے میں مجھ سے کتنی ملاقاتیں ہوئی ہیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔
    احمد خلیل کی رہائشگاہ پر وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات ہوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیا ارسلان مجھے نہیں جانتا اور کیا ان ملاقاتوں میں موجود نہیں تھا؟ ۔۔۔۔۔۔۔
    بحریہ ٹان پروجیکٹ ڈبویا گیا تو ذمہ دار سپریم کورٹ ہو گی ۔۔۔
    ۔۔۔۔۔
    بحریہ ٹان کے سر براہ کا پریس کانفرنس سے خطاب ۔۔۔۔۔۔۔
    اسلام آباد ‘(اردو ویب نیوز) ارسلان افتخار کیس کے مرکزی کردار اور بحریہ ٹان کے سر براہ ملک ریاض نے کہا ہے کہ میں آج قرآن پاک لیکرآیا ہوں، آج کے بعد میں کوئی کاروبا رنہیں کرونگا،ہماراپروجیکٹ بھی ڈبویاگیاتوذمہ دارسپریم کورٹ ہوگی،اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران ملک ریاض نے چیف جسٹس آف پاکستان سے تین سوال کئے کہ رات کے اندھیرے میں کتنی ملاقاتیں ہوئی ہیں،کیا ارسلان مجھے نہیں جانتا اور کیا ان ملاقاتوں میں موجود نہیں تھا؟۔انہوں نے کہا کہ میں غریب آدمی تھا پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے آٹھ،آٹھ کلو میٹر پیدل چلتا تھا ،بیٹی کے علاج کیلئے بھی میرے پاس رقم نہیں تھی لیکن آج میرے پاس جو کچھ ہے وہ اللہ کی دین ہے اور میرے75فیصداثاثے فلاحی مقاصدکیلئے استعمال ہورہے ہیں۔میں بلیک میل ہوتارہاہوں،میری طرح اوربھی بزنس مین بلیک میل ہوتے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کی میں آج بھی عزت کرتا ہوں،میں نے اپنے کالموں میں ہمیشہ چیف جسٹس پاکستان کی حمایت کی ہے لیکن ارسلان افتخار “ڈان”ہے۔آج میں سپریم کورٹ انصاف خریدنے نہیں گیاتھا حقائق بیان کرنے گیا تھا ،انہوں نے کہا اگلے ہفتے مزید ایک پریس کانفرنس کروں گا جس میں مزید بم گراؤں گا۔ ملک ریاض نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کے بیٹے پر الزامات کی بارش کردی۔ انہوں نے قرآن ہاتھ میں لے کر چیف جسٹس سے پوچھا کہ وہ بتائیں رات کے اندھیرے میں ان سے کتنی ملاقاتیں کیں ۔ انہوں نے قرآن پاک کا نسخہ ہاتھ میں لے کر چیف جسٹس سے تین سوال کئے، ملک ریاض کا کہناتھا کہ چیف جسٹس بتائیں کہ رات کے اندھیرے میں چیف جسٹس سے ان کی کتنی ملاقاتیں ہوئیں۔ ملک ریاض کا کہنا تھا کہ ان ملاقاتوں میں ارسلان افتخار اور رجسٹرار سپریم کورٹ بھی موجود تھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ چیف جسٹس نے ارسلان کیس میں ثبوت دیکھنے سے کیوں انکار کیا۔ ملک ریاض نے بتایا کہ ان کے پارٹنر احمد خلیل کی رہائشگاہ پر وزیراعظم اور چیف جسٹس کی ملاقات ہوئی، جس میں سپریم کورٹ کے ایک اور جج بھی شریک تھے۔ ملک ریاض نے کہا کہ چیف جسٹس معصوم ہوں گے لیکن ارسلان افتخار معصوم نہیں، انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایف آئی اے کو کہا گیا کہ مجھے قتل کے مقدمے میں ملوث کیا جائے۔ ملک ریاض نے کہا کہ وہ انتہائی غریب آدمی تھے اپنی محنت سے کامیابی حاصل کی۔ تریسٹھ برس میں کبھی تھانے تک نہیں گیا۔ ملک ریاض کا کہنا تھا کہ پنجاب میں چوہدری نثار پیچھے پڑے ہیں تو ادھر یہ لوگ ،،،، ملک ریاض نے کہا کہ عدلیہ کا ڈان ارسلان افتخار ہے۔ ان کا کہناتھا کہ انہوں نے رشوت نہیں دی بلیک میل ہوئے ہیں، ملک ریاض نے کہا کہ انہیں جیل بھیج دیا جائے اور وہ مرنے کیلئے بھی تیار ہیں،ملک ریاض نے کہا کہ وقت آنے پر مزید اہم انکشافات کریں گے۔
    [align=center]http://www.youtube.com/watch?feature...&v=uJ0DvztGrLw[/align]

  9. #9
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,171
    شکریہ
    2,134
    1,241 پیغامات میں 1,615 اظہار تشکر

    RE: حمام کا مالک ۔ ملک ریاض

    [align=center][/align]

  10. #10
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,171
    شکریہ
    2,134
    1,241 پیغامات میں 1,615 اظہار تشکر

    RE: حمام کا مالک ۔ ملک ریاض

    [align=center][size=xx-large]ملک ریاض کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس[/size][/align]

    سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ ملک ریاض کی منگل کو کی جانے والی پریس کانفرنس پر انہیں توہینِ عدالت میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔

    نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ازخود نوٹس میں سپریم کورٹ کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ملک ریاض کی پریس کانفرنس میں عدلیہ اور ججوں کو نہ صرف سکینڈلائز کیا گیا بلکہ ان کا تمسخر بھی اڑایا گیا۔
    عدالت نے نوٹس میں کہا کہ کیوں نہ ان کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے۔

    سپریم کورٹ کے جج شاکر اللہ جان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بدھ کو اس از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

    اظہار وجوہ کا نوٹس آئین کے آرٹیکل 204 اور توہینِ عدالت ایکٹ کے سیکشن تین اور سپریم کورٹ رولز کے سیکشن سترہ کے تحت جاری کیا گیا۔

    جسٹس شاکر اللہ جان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ تشکیل دیا ہے۔ جو بدھ کو اس معاملے کی سماعت کرے گا۔

    عدالت نے ملک ریاض کو جمعرات کو عدالت میں پیش ہونے کو کہا ہے۔

    جسٹس شاکر اللہ جان چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بعد سپریم کورٹ کے سینیئر ترین جج ہیں۔

    ملک ریاض نے اپنی نیوز کانفرنس میں موقف اختیار کیا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدرے کو ارسلان افتخار کے ملک ریاض سے مالی فوائد حاصل کے کے معاملے کا پہلے سے علم تھاآ ان کا الزام تھا کہ ڈاکٹر ارسلان افتخار نے پوری سپریم کورٹ کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ تاہم بعد ازاں سپریم کورٹ کے رجسٹرار فقیر حسین نے اس بات کی تردید کر دی تھی۔

    پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے جمعہ کو سپریم کورٹ کا فُل کورٹ اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    سپریم کورٹ کے ذرائع کے مطابق اس اجلاس میں بحریہ ٹاؤن کے سابق سربراہ ملک ریاض کی پریس کانفرنس میں چیف جسٹس اور سپریم کورٹ پر عائد کیے گئے الزامات بھی زیرِ بحث آئیں گے۔

    بدھ کی صبح چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے جج صاحبان کا ایک غیر رسمی اجلاس منعقد ہوا ہے جس میں ملک ریاض کی پریس کانفرنس کا معاملہ زیرِ بحث آیا۔

    کلِک ملک ریاض کے الزامات، رجسٹرار سپریم کورٹ کی تردید

    کلِک ارسلان افتخار، ملک ریاض کی عدالت میں پیشی

    سپریم کورٹ کے ذرائع کے مطابق جج صاحبان نے اس پریس کانفرنس کی ویڈیو ریکارڈنگ طلب کی ہے اور فل کورٹ اجلاس میں اس کا جائزہ لیا جائے گا۔

    اس سے قبل سپریم کورٹ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ اس اجلاس میں سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور ماتحت عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کو فوری نمٹانے کے علاوہ انتظامی امور بھی زیر غور آئیں گے۔

    اُنہوں نے کہا کہ چونکہ عدالتوں میں سولہ جون سے گرمیوں کی چھٹیاں ہو رہی ہیں اس لیے ان امور کو نمٹانے کے لیے یہ اجلاس طلب کیا گیا ہے۔

صفحہ 1 از 2 12 آخریآخری

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University