صفحہ 2 از 5 اوليناولين 1234 ... آخریآخری
نتائج کی نمائش 11 تا: 20 از: 47

موضوع: صرف میرے ہو کر رہو

  1. #11
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,869
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    RE: صرف میرے ہو کر رہو

    خواب میری پناہ ہیں

    بس میرا چلتا نہیں جب سختئی ایام پر
    فتح پا سکتا نہیں یورش آلام پر
    اپنے ان کے درمیاں دیوار چن دیتا ہوں میں
    اس جہان ظلم پر اک خواب بُن دیتا ہوں میں

    منیر نیازی

  2. #12
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,869
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    RE: صرف میرے ہو کر رہو

    فیض احمد فیض


    دلِ مسافر



    اداس مت ہو
    دلِ مسافر اداس مت ہو
    ہوا اگرچہ پھوار دامن میں بھر کے لائی ہے بےکلی کی
    فضا اگرچہ کسی خاموشی سے مضمحل ہے
    راہ میں کوئی نگاہ حدِنگاہ تک بے پناہ کھلی ہے
    دن سوالی ہے، رات کالی ہے
    شام روتی ہے
    من بھگوتی ہے
    آس بھی گرچہ بس خیالی ہے، بس خیالی ہے
    اداس مت ہو

    مگر تو پھر بھی اداس مت ہو
    اداس مت ہو
    اگرچہ لمحوں کے سرد پوروں پہ ہجر لکھا ہوا ہے برسوں
    اگرچہ وقتی خوشی کے سینے پہ مستقل درد مل گئی ہے دعا کی سرسوں
    اگرچہ احساس کی رگوں میں
    کوئی اندھیرا سا جم گیا ہے، خیال میں وقت تھم گیا ہے
    ابھی کوئی انتظار آنکھوں سے کم گیا ہے
    ستم گیا ہے نہ کوئی رنج و الم گیا ہے (نہ صبر کے سر سے خم گیا ہے)
    یہ سب تمہارے ہی پیرہن ہیں
    ابھی سے یوں بےلباس مت ہو
    دلِ مسافر
    اداس مت ہو

    ابھی تو آنکھوں میں آنسوؤں کی بہت جگہ ہے
    ابھی تو راتوں کے جنگلوں میں مسافتوں کی بہت جگہ ہے
    ابھی تو آہوں کے قافلے میں بہت نمی ہے
    ابھی تو ہر شے کی زندگی میں بہت کمی ہے
    ابھی سے یوں خودشناس مت ہو
    اداس مت ہو
    دلِ مسافر
    اداس مت ہو
    
    

  3. #13
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,869
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    RE: صرف میرے ہو کر رہو

    حسن کوزہ گر

    ن م راشد


    جہاں زاد، نیچے گلی میں ترے در کے آگے
    یہ میں سوختہ سر حسن کوزہ گر ھوں!
    تجھے صبح بازار میں بوڑھے عطّار یوسف
    کی دکّان پر میں نے دیکھا
    تو تیری نگاھوں میں وہ تابناکی
    تھی میں جس کی حسرت میں نو سال دیوانہ پھرتا رہا ھوں
    جہاں زاد، نو سال دیوانہ پھرتا رھا ھوں!
    یہ وہ دور تھا جس میں میں نے
    کبھی اپنے رنجور کوزوں کی جانب
    پلٹ کر نہ دیکھا ــــــــــ
    وہ کوزے مرے دست چابک کے پتلے
    گل و رنگ و روغن کی مخلوق بے جاں
    وہ سر گوشیوں میں یہ کہتے
    “حسن کوزہ گر اب کہاں ھے
    وہ ہم سے خود اپنے عمل سے
    خداوند بن کر خداؤں کے مانند ھے روئے گرداں!”
    جہاں زاد نو سال کا دور یوں مجھ پہ گزرا
    کہ جیسے کسی شہر مدفون پر وقت گزرے
    تغاروں میں مٹی
    کبھی جس کی خوشبو سے وارفتہ ھوتا تھا میں
    سنگ بستہ پڑی تھی
    صراحی و مینا و جام و سبو اور فانوس و گلداں
    مری ہیچ مایہ معیشت کے، اظہار فن کے سہارے
    شکستہ پڑے تھے

    میں خود، میں حسن کوزہ گر پا بہ گل خاک بر سر برھنہ
    سر چاک ژولیدہ مو، سر بزانو
    کسی غمزدہ دیوتا کی طرح واہمہ کے
    گل و لا سے خوابوں کے سیّال کوزے بناتا رہا تھا
    جہاں زاد، نو سال پہلے
    تو ناداں تھی لیکن تجھے یہ خبر تھی
    کہ میں نے، حسن کوزہ گر نے
    تری قاف کی سی افق تاب آنکھوں
    میں دیکھی ھے وہ تابناکی
    کہ جسے سے مرے جسم و جاں، ابرو مہتاب کا
    رھگزر بن گئے تھے
    جہاں زاد بغداد کی خواب گوں رات
    وہ رود دجلہ کا ساحل
    وہ کشتی وہ ملّاح کی بند آنکھیں
    کسی خستہ جاں رنج بر کوزہ گر کے لیے
    ایک ہی رات وہ کہربا تھی
    کہ جس سے ابھی تک ھے پیوست اسکا وجود
    اس کی جاں اس کا پیکر
    مگر ایک ہی رات کا ذوق دریا کی وہ لہر نکلا
    حسن کوزہ گر جس میں ڈوبا تو ابھرا نہیں ھے!
    جہاں زاد اس دور میں روز، ہر روز
    وہ سوختہ بخت آکر
    مجھے دیکھتی چاک پر پا بہ گل سر بزانو
    تو شانوں سے مجھ کو ہلاتی ــــــــــ
    (وہی چاک جو سالہا سال جینے کا تنہا سہارا رہا تھا!)
    وہ شانوں سے مجھ کو ہلاتی
    حسن کوزہ گر ھوش میں آ”
    حسن اپنے ویران گھر پر نظر کر
    یہ بچّوں کے تنّور کیونکر بھریں گے
    حسن، اے محبّت کے مارے
    محبّت امیروں کی بازی،
    “حسن، اپنے دیوار و در پر نظر کر
    مرے کان میں یہ نوائے حزیں یوں تھی جیسے
    کسی ڈوبتے شخص کو زیرگرداب کوئی پکارے!
    وہ اشکوں کے انبار پھولوں کے انبار تھے ہاں
    مگر میں حسن کوزہ گر شہر اوہام کے ان
    خرابوں کا مجذوب تھا جن
    میں کوئی صدا کوئی جنبش
    کسی مرغ پرّاں کا سایہ
    کسی زندگی کا نشاں تک نہیں تھا!

    جہاں زاد، میں آج تیری گلی میں
    یہاں رات کی سرد گوں تیرگی میں
    ترے در کے آگے کھڑا ھوں
    سرد مو پریشاں
    دریچے سے وہ قاف کی سی طلسمی نگاھیں
    مجھے آج پھر جھانکتی ھیں
    زمانہ، جہاں زاد وہ چاک ھے جس پہ مینا و جام و سبو
    اور فانوس و گلداں
    کے مانند بنتے بگڑتے ہیں انساں
    میں انساں ھوں لیکن
    یہ نو سال جو غم کے قالب میں گزرے!
    حسن کوزہ گر آج اک تودہ خاک ھے جس
    میں نم کا اثر تک نہیں ھے
    جہاں زاد بازار میں صبح عطّار یوسف
    کی دکّان پر تیری آنکھیں
    پھر اک بار کچھ کہہ گئی ہیں
    ان آنکھوں کی تابندہ شوخی
    سے اٹھی ھے پھر تودہ خاک میں نم کی ہلکی سی لرزش
    یہی شاید اس خاک کو گل بنا دے!

    تمنّا کی وسعت کی کس کو خبر ھے جہاں زاد لیکن
    تو چاھے تو بن جاؤں میں پھر
    وہی کوزہ گر جس کے کوزے
    تھے ھر کاخ و کو اور ھر شہر و قریہ کی نازش
    تھے جن سے امیر و گدا کے مساکن درخشاں

    تمنّا کی وسعت کی کس کو خبر ھے جہاں زاد لیکن
    تو چاھے تو میں پھر پلٹ جاؤں ان اپنے مہجور کوزوں کی جانب
    گل و لا کے سوکھے تغاروں کی جانب
    معیشت کے اظہار فن کے سہاروں کی جانب
    کہ میں اس گل و لا سے ، اس رنگ و روغن
    سے پھر وہ شرارے نکالوں کہ جن سے
    دلوں کے خرابے ھوں روشن!

  4. #14
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,869
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    RE: صرف میرے ہو کر رہو

    خواب اھورے سہی
    خواب اپنے تو ہیں
    دل میں آیا جو بھی، دل نے پایا سبھی
    نیند کے اُس طرف گو کہ کچھ بھی نہیں

    جب حقیقت کے رنگ راس آئے نہیں
    تو ہم نے سوچھا چلو نیند کے ساتھ سہی
    سو روز چلتے رہے خواب بُنتے رہے
    خواہشیں خود بخود ہاتھ آنے لگیں

    خوشبوئیں بِن کہے ساتھ آنے لگی
    جھلملاتے ہوئے سارے تارے حسین
    خود ہی جُھولی میں آکر چمکنے لگے
    رنگ نظروں کی چادر پہ ایسے چڑھے

    کہ پھول پلکوں پہ آ کر مہکنے لگے
    جو بھی دل کو لگا ہمسفر بن گیا
    نہ تڑپنا کوئی نہ جُدائی کوئی
    نہ زمانہ کوئی نہ خدائی کوئی

    آنکھ اگرچہ کُھلی ھاتھ ملتے ہوئے
    کچھ ہی پل کو سہی۔ہم خوش تو رہے
    لوگ ہنستے ہیں تو اُن کو ہنس لینے دو
    خواب اھورے سہی
    خواب اپنے تو ہیں

  5. #15
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,869
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    RE: صرف میرے ہو کر رہو

    محبت کا اک پہر

    یہ جو پلکوں پہ رم جھم ستاروں کا میلہ سا ہے
    یہ جو آنکھوں میں دُکھ سُکھ کے ساون کا ریلہ سا ہے
    یہ جو تیرے بنا ' کوئی اتنا اکیلا سا ہے
    زندگی تیری یادوں سے مہکا ہوا شہر ہے
    سب محبت اک پہر ہے

    ساحلوں پہ گھروندے بنائے تھے ہم نے ' تمہیں یاد ہے
    رنگ بارش میں کیسے اڑائے تھے ہم نے ' تمہیں یاد ہے
    راستوں میں دیئے سے جلائے تھے ہم نے ' تمہیں یاد ہے
    آئینے کس طرح سے سجائے تھے ہم نے ' تمہیں یاد ہے

    کوئی خوشبو کا جھونکا ادھر آنکلتا کہیں
    گُم ہے نیندوں کے صحرا میں خوشبو کارستہ کہیں
    ہر خوشی آتے جاتے ہوئے وقت کی لہر ہے
    سب محبت کا اک پہر ہے

    زندگی دھوپ چھاؤں کا ایک کھیل ہے بھیڑ چھٹتی نہیں
    اور اسی کھیل میں دن گزرتا نہیں ' رات کٹتی نہیں
    تم نہیں جانتے خواہشوں کی مسافت سمٹتی نہیں
    پیار کرتے ہوئے آدمی کی کبھی عمر گھٹتی نہیں

    دل کی دہلیز پہ عکس روشن تیرے نام سے
    رت جگےآئینوں میں کھلے ہیں کہیں شام سے
    اک دریا ہے چاروں طرف درمیاں بحر ہے
    سب محبت کا اک پہر ہے

  6. #16
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,869
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    RE: صرف میرے ہو کر رہو

    سندیسہ

    ہمارے پاؤں میں *******جو رستہ تھا
    رستے میں پیڑ تھے
    پیڑوں پر جتنی طائروں کی ٹولیاں ہم سے ملا کرتی تھیں
    اب وہ اڑٹے اڑتے تھک گئی ہیں
    وہ گھنی شاخیں جو ہم پہ سایہ کرتی تھیں
    وہ سب مرجھا گئی ہیں
    اسے کہنا
    لبوں پر لفظ ہیں
    لفظوں پر کوئی دستاں قصہ کہانی جو اسے اکثر سناتے تھے
    کسے جا کر سنایئں گے
    بتایئں گے کہ ہم محراب ابرو میں ستارے ٹانکنے والے
    درلب بوسہء اظہار کی دستک سے اکثر کھولنے والے
    کبھی بکھری ہوئی زلفوں میں*******ہم
    مہتاب کے گجرے بنا کر باندھنے والے
    چراغ اور آیئنے کے درمیاں کب سے سر ساحل
    کھڑے موجوں*******کو تکتے ہیں
    اسے کہنا
    اسے ہم یاد کرتے ہیں
    اسے کہنا ہم آکر خود اسے ملتے مگر مستقل بدلتے
    موسموں کے خون میں رنگین ہیں ہم
    ایسے بہت سے موسموں*******کے درمیاں تنہا کھڑے ہیں
    جانے کب بلاوا ہو! ہم میں آج بھی اک عمر کی
    ورافتگی اور وحشتوں کا رقص جاری ہے ،وہ بازی جو
    بساط دل پہ کھیلی تھی ابھی ہم نے جیتی ہے
    نہ ہاری ہے
    اسے کہنا
    کبھی ملنے چلا آئے
    اسے ہم یاد کرتے ہیں

  7. #17
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,869
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    RE: صرف میرے ہو کر رہو

    آج یہ سب کچھ نام تمھارے

    ساحل
    ریت
    سمندر
    لہریں
    بستی
    دوستی
    صحرا
    دریا
    خوشبو
    موسم
    پھول
    دریچے
    بادل
    سورج
    چاند
    ستارے
    آج یہ سب کچھ نام تمھارے
    خواب کی باتیں
    یاد کے قصے
    سوچ کے پہلو
    نیند کے لمحے
    درد کے آنسو
    چین کے نغمے
    اڑتے وقت کے بہتے دھارے
    روح کی آہٹ
    جسم کی جنبش
    خون کی گردش
    سانس کی لرزش
    آنکھ کا پانی
    چاہت کے یہ عنوان سارے
    آج یہ سب کچھ نام تمھارے

  8. #18
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,869
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    RE: صرف میرے ہو کر رہو

    کوئی ایک شخص تو یوں ملے کہ سکوں ملے
    کوئی ایک لفظ تو ایسا ہو کہ قرار ہو
    کہیں ایسی رت بھی ملے ہمیں جو بہار ہو
    کبھی ایسا وقت بھی آئے کہ ہمیں پیار ہو!

    کوئی ایک شخص تو یوں ملے ۔۔۔
    کہ چراغِ جاں اسے نور دے، اسے تاب دے، بنے کہکشاں
    کائی غم ہو جس كو كہا کریں غمِ جاوداں
    کوئی یوں قدم کو ملائے کہ بنے کارواں

    کوئی ایک شخص تو یوں ملے ۔۔۔ کہ قرار ہو
    میری راہِ گزرِ خیال میں کوئی پھول ہو
    میں سفر میں ہوں مرے پاؤں پہ کبھی دھول ہو
    مجھے شوق ہے مجھ سے بھی کبھی کوئی بھول ہو
    !غمِ ہجر ہو، شبِ تار ہو، بڑا طول ہو۔۔۔

    کوئی ایک شخص تو یوں ملے ۔۔۔ کہ قرار ہو
    کہ جو عکسِ ذات ہو، ہو بہو میرا آئینہ، میرے رو برو
    کوئی ربط کہ جس میں نا مَیں، نہ تُو
    !سرِ خامشی کوئی گفتگو ۔۔۔

    کوئی ایک شخص تو یوں ملے کہ سکوں ملے

  9. #19
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,869
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    RE: صرف میرے ہو کر رہو

    تيری آرزوں کے دوش پر
    تيری کيفِيت کے جام میں
    میں جو کِتنی صديوں سے قید ہوں
    تيرے نقش میں تيرے نام میں
    میرے زاِئچے میرے راستے
    میرے ليکھ کی یہ نِشانِياں
    تيری چاہ میں ہیں رکی ہوئی
    کبھی آنسوں کی قِطار میں
    کبھی پتھروں کے حِصار میں
    کبھی دشتِ ہجر کی رات میں
    کبھی بدنصيبی کی گھاٹ میں
    کئی رنگ دھوپ سے جل گئے
    کئی چاند شاخ سے ڈھل گئے
    کئی تُن سُلگ کے پگھل گئے
    تيری الفتوں کے قیام میں
    تيرے درد کے در و بام میں
    کوئی کب سے ثبتِ صليب ہے
    تيری کائنات کی رات میں
    تيرے اژدھام کی شام میں
    تُجھے کیا خبر تُجھے کیا پتا
    میرے خواب ميری کہانیاں میرے بے خبر تُجھے کیا پتا

  10. #20
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,869
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    RE: صرف میرے ہو کر رہو

    عید آنے کو ہے میں نے سوچا بہت
    پھول بھیجوں کہ مہکار بھیجوں اُسے
    چند کلیوں سے شبنم کے قطرے لئے
    اُس کے رخسار پر آنسوؤں کی طرح
    خوبصورت لگیں گے اُسے بھیج دوں
    پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اُس کے عارض کہاں گُل کی پتّیاں کہاں
    اُس کے آنسو کہاں شبنم کے قطرے کہاں
    پھر یہ سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کچھ چاند کی چاندنی اور ستاروں کی روشنی بھی ساتھ ہو
    مانگ کر چھین کر جس طرح بھی ہو ممکن اُسے بھیج دوں
    پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اُس کی آنکھیں کہاں چاند تارے کہاں
    پھر یہ سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تھوڑا سا نورِ سحر
    میں سحر سے چُرا کر اُسے بھیج دوں
    پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نور اُس کا کہاں نور صبح کا کہاں
    پھر یہ سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گھٹاؤں کو ہی بھیج دوں
    اُس کے آنگن میں اُتر کر رقص کرتی رہیں
    پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اُس کی زلفیں کہاں یہ گھٹائیں کہاں
    پھر یہ سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اِک مئے سے بھرا جام ہی بھیج دوں
    پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سارے عالم کے ہیں جتنے بھی میکدے
    اُس کی آنکھوں کی مستی ہی بانٹی گئی
    ساغر و مئے کہاں اُس کی آنکھیں کہاں
    اُس کے قابل مجھے کچھ بھی نہ لگا
    چاند تارے ہوا اور نہ ہی گھٹا
    میں اسی سوچ میں تھا پریشان بہت
    کہ کسی نے دی اِک نِدا اس طرح
    یاد کرکے اُسے جتنے آنسو گریں
    سب کو یکجا کرو اور اُسے بھیج دو۔.
    عید آنے کو ہے میں نے سوچا بہت
    پھول بھیجوں کہ مہکار بھیجوں اُسے
    چند کلیوں سے شبنم کے قطرے لئے
    اُس کے رخسار پر آنسوؤں کی طرح
    خوبصورت لگیں گے اُسے بھیج دوں
    پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اُس کے عارض کہاں گُل کی پتّیاں کہاں
    اُس کے آنسو کہاں شبنم کے قطرے کہاں
    پھر یہ سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کچھ چاند کی چاندنی اور ستاروں کی روشنی بھی ساتھ ہو
    مانگ کر چھین کر جس طرح بھی ہو ممکن اُسے بھیج دوں
    پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اُس کی آنکھیں کہاں چاند تارے کہاں
    پھر یہ سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تھوڑا سا نورِ سحر
    میں سحر سے چُرا کر اُسے بھیج دوں
    پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نور اُس کا کہاں نور صبح کا کہاں
    پھر یہ سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گھٹاؤں کو ہی بھیج دوں
    اُس کے آنگن میں اُتر کر رقص کرتی رہیں
    پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اُس کی زلفیں کہاں یہ گھٹائیں کہاں
    پھر یہ سوچا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اِک مئے سے بھرا جام ہی بھیج دوں
    پھر یہ سوچا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سارے عالم کے ہیں جتنے بھی میکدے
    اُس کی آنکھوں کی مستی ہی بانٹی گئی
    ساغر و مئے کہاں اُس کی آنکھیں کہاں
    اُس کے قابل مجھے کچھ بھی نہ لگا
    چاند تارے ہوا اور نہ ہی گھٹا
    میں اسی سوچ میں تھا پریشان بہت
    کہ کسی نے دی اِک نِدا اس طرح
    یاد کرکے اُسے جتنے آنسو گریں
    سب کو یکجا کرو اور اُسے بھیج دو۔

صفحہ 2 از 5 اوليناولين 1234 ... آخریآخری

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University