صفحہ 1 از 5 123 ... آخریآخری
نتائج کی نمائش 1 تا: 10 از: 47

موضوع: صرف میرے ہو کر رہو

  1. #1
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,867
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    صرف میرے ہو کر رہو

    [size=medium][align=center]اپنی خاطر جگے ہو سوئے ہو
    اپنی خاطر ہنسے ہو روئے ہو
    کس لیے آج کھوئے کھوئے ہو
    تم نے آنسو بہت پیئے اپنے
    تم بہت سال رہ لیے اپنے
    اب مرے، صرف میرے ہو کر رہو
    حسن ہی حسن ہو ، ذہانت ہو
    عشق ہوں میں ، تو تم محبت ہو
    تم مری بس مری امانت ہو
    جی لیے، جس قدر جیے اپنے
    تم بہت سال رہ لیے اپنے
    اب مرے صرف مرے ہو کر رہو

    رہتے ہو رنج و غم کے گھیروں میں
    دکھ کے ، آسیب کے بسیروں میں
    کیسے چھوڑوں تمہیں اندھیروں میں
    تم کو دے دوں گا سب دیے اپنے
    تم بہت سال رہ لیے اپنے
    اب مرے ، صرف مرے ہو کر رہو

    اب مجھے اپنے درد سہنے دو
    دل کی ہر بات دل سے کہنے دو
    مری بانہوں میں خود کو بہنے دو
    مدتوں زخم خود سیے اپنے
    تم بہت سال رہ لیے اپنے
    اب مرے ، صرف مرے ہو کر رہو[/align]
    [/size]

  2. #2
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,867
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    RE: صرف میرے ہو کر رہو

    کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا
    زخم دل آپ کی نظروں سے گہرا نکلا

    توڑ کر دیکھ لیا آیئنہ دل تو نے
    تیری صورت کے سوا اور بتا کیا نکلا

    جب کبھی تجھ کو پکارا میری تنہائی نے
    بو اڑی پھول سے تصویر سے سایہ نکلا

    تشنگی جم گئی پتھر کی طرح ہونٹوں پر
    ڈوب کر بھی تیرے دریا سے میں پیاسا نکلا

    کیا بھلا مجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا
    زخم دل آپ کی نظروں سے گہرا نکلا

  3. #3
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,867
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    RE: صرف میرے ہو کر رہو

    شب ڈھلی چاند بھی نکلے تو سہی
    درد جو دل میں ہے چمکے تو سہی

    ہم وہیں پر بسا لیں خود کو
    وہ کبھی راہ میں روکے تو سہی

    مجھے تنہاءیوں کا خوف کیوں ہے
    وہ میرے پیار کو سمجھے تو سہی

    وہ قیامت ہو ،ستارہ ہوکہ دل
    کچھ نہ کچھ ہجر میں ٹوٹے تو سہی

    سب سے ہٹ کر منانا ہے اُسے
    ہم سے اک بار وہ روٹھے تو سہی

    اُس کی نفرت بھی محبت ہو گی
    میرے بارے میں وہ سوچے تو سہی

    دل اُسی وقت سنبھل جائے گا
    دل کا احوال وہ پوچھے تو سہی

    اُس کے قدموں میں بچھا دوں آنکھیں
    میری بستی سے وہ گزرے تو سہی

    میرا جسم آئینہ خانہ ٹھہرے
    میری جانب کبھی دیکھے تو سہی

    اُس کے سب جھوٹ بھی سچ ہیں محسن
    شرط اتنی ہے کہ، بولے تو سہی

  4. #4
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,867
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    RE: صرف میرے ہو کر رہو

    وہ تیری آنکھوں کے خواب سارے
    وہ باتیں ساری حساب سارے
    سوال سارے جواب سارے
    وہ خوشیاں ساری عذاب سارے
    نشہ تھا اک جو اتر گیا ہے

    کچھ تو ہے تُو بدل گیا ہے

    جو مجھ سے ملنے کی آرزو تھی
    جو مجھ کو پانے کی جستجو تھی
    ہوئی جو چاہت ابھی شروع تھی
    جو تیری آنکھوں میں روشنی تھی
    جو تیری باتوں کی راگنی تھی
    جو تیری سانسوں کی تازگی تھی
    جو تیرے لہجے میں چاشنی تھی

    وہ میٹھا سارا پگھل گیا ہے

    کچھ تو ہےتُو بدل گیا ہے

  5. #5
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,867
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    RE: صرف میرے ہو کر رہو

    منتظر کب سے تحیر ہے تیری تقریر کا
    بات کر تجھ پر گماں ہونے لگا تصویر کا

    رات کیا سوئے کہ باقی عمر کی نیند اُڑ گئی
    خواب کیا دیکھا کہ دھڑکا لگ گیا تعبیر کا

    جانے تو کس عالم میں بچھڑا ہے کہ تیرے بغیر
    آج تک ہر لفظ فریادی میری تحریر کا

    جس طرح بادِل کا سایہ پیاس بھڑکاتا رہے
    میں نے وہ عالم بھی دیکھا ہے تیری تصویر کا

    کس طرح پایا تجھے پھر کس طرح کھویا تجھے
    مجھ سا منکر بھی تو قائل ہو گیا تقدیر کا

    عشق میں سر پھوڑنا بھی کیا کہ یہ بے مہر لوگ
    جوئے خوں کو نام دیتے ہیں جوئے شِیر کا

    جس کو بھی چاہا اسے شدت سے چاہا ہے فراز
    سلسلہ ٹوٹا نہیں ہے درد کی زنجیر کا

  6. #6
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,867
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    RE: صرف میرے ہو کر رہو

    اک مدت کے بعد کل
    سر راہ ملی تھی اچانک
    دیکھ کر مجھ کو چونک سے گئی
    کہنے لگی ۔۔
    یہ تم ہی ھو
    کیا تھے تم کیا بن گئے
    اتنے بجھے بجھے سے تو نہ تھے تم
    تمہارا چہرہ تو رُخ روشن کی طرح تھا
    تمہاری باتیں شوخیوں سے بھرپور
    تمہاری آنکھوں میں چمک تھی
    اب کیوں سناٹے سے چھائے ھیں
    خاموشیوں کے پہرے ھیں
    نیند سے بھاری پلکیں بتاتی ھیں
    رتجگوں کے ڈیرے ھیں
    کیوں نیند تم سے روٹھی ھے
    کیوں تم اتنے سہمے سہمے سے ھو
    کس بات سے اتنے ڈرے ھو
    بتاؤ کیا غم ھے
    کیا دکھ ھے
    جو اندر ہی اندر تمہیں گھائل کررھا ھے
    میں ہنس پڑا
    نگاہیں نیچی کیئے بس اتنا ہی کہا
    "میں ایک پورے چاند کے گرہن کی زد میں ہوں۔"
    پھر اتنا کہہ کر پلٹ گیا

  7. #7
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,867
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    RE: صرف میرے ہو کر رہو

    ہمہ وقت رنج و ملال کیا جو گزر گیا سو گزر گیا
    اسے یاد کر کے نہ دل دکھا جو گزر گیا سو گزر گیا

    نہ گلہ کیا، نہ خفا ہوئے یونہی راستے میں فدا ہوئے
    نہ تو بے وفا نہ میں بے وفا ، جو گزر گیا سو گزر گیا

    وہ غزل کی اِک کتاب تھا وہ گلوں میں اِک گلاب تھا
    ذرا دیر کا کوئی خواب تھا، جو گزر گیا سو گزر گیا

    مجھے پت جھڑوں کی کہانیاں نہ سنا سنا کے اُداس کر
    تو خزاں کا پھول ہے مسکرا، جو گزر گیا سو گزر گیا

    وہ اُداس دُھوپ سمیٹ کر کہیں وادیوں میں اتر چکا
    اسے ا ب نہ دے میرے دل صدا ، جو گزر گیا سو گزر گیا

    یہ سفر بھی کتنا طویل ہے یہاں وقت کتنا قلیل ہے
    کہاں لوٹ کر کوئی آئے گا ،جو گزر گیا سو گزر گیا

    وہ وفائیں تھیں کہ جفائیں تھیں نہ یہ سوچ کس کی خطائیں تھیں
    وہ تیرا ہے اس کو گلے لگا، جوگزر گیا سو گزر گیا

    کوئی فرق شاہ گدا نہیں کہ یہاں کسی بقا نہیں
    یہ اُجاڑ محلوں کی سُن صدا ، جو گزر گیا سو گزر گیا

    تجھے اعتبار و یقین نہیں، نہیں دُنیا اتنی بُری نہیں
    نہ ملال کر میرے ساتھ آ، جو گزر گیا سو گزر گیا

  8. #8
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,867
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    RE: صرف میرے ہو کر رہو

    تم کو دیکھے ہوئے گزرے ہیں زمانے آؤ
    عمر رفتہ کا کوئ خواب دکھانے آؤ


    میں سرابوں میں بھٹکتا رہوں صحرا صحرا
    تم میری پیاس کو آئنہ دکھانے آؤ


    اجنبیت نے کئ داغ دئے ہیں دل کو
    آشنائ کا کوئ زخم لگانے آؤ


    ملنا چاہا تو کئے تم نے بہانے کیا کیا
    اب کسی روز نہ ملنے کے بہانے آؤ

  9. #9
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,867
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    RE: صرف میرے ہو کر رہو

    کہاں ہو تم چلے آؤ محبت کا تقاضا ہے
    غمِ دنیا سے گھبرا کے تمہیں دل نے پکارا ہے

    تمہاری بے رخی اک دن ہماری جان لے لے گی
    قسم تم کو ذرا سوچو کہ دستورِ وفا کیا ہے


    نجانے کس لیے دنیا کی نظریں پھر گئیں ہم سے
    تمہیں دیکھا، تمہیں چاہا، قصور اس کے سوا کیا ہے

    نہ ہے فریاد ہونٹوں پہ، نہ آنکھوں میں کوئی آنسو
    زمانے سے ملا جو غم اسے گیتوں میں ڈھالا ہے

  10. #10
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,867
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    RE: صرف میرے ہو کر رہو

    یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں

    جب آنکھ میں خواب دمکتے تھے
    جب دِل میں داغ چمکتے تھے
    جب پلکیں شہر کے رستوں میں
    اشکوں کا نوُر لُٹاتی تھیں
    جب سانسیں اُجلے چہروں کی
    تن من میں پھوُل سجاتی تھیں
    جب چاند کی رِم جھِم کرنوں سے
    سوچوں میں بھنور پڑ جاتے تھے
    جب ایک تلاطم رہتا تھا!

    اپنے بے انت خیالوں میں
    ہر عہد نبھانے کی قسمیں
    خط خون سے لکھنے کی رسمیں
    جب عام تھیں ہم دل والوں میں
    اب اپنے پھیکے ہونٹوں پر
    کچھ جلتے بجھتے لفظوں کے
    یاقُوت پگھلتے رہتے ہیں

    اَب اپنی گُم سُم آنکھوں میں
    کچھ دھول ہے بکھری یادوں کی
    کچھ گرد آلود سے موسم ہیں
    اَب دُھوپ اُگلتی سوچوں میں
    کچھ پیماں جلتے رہتے ہیں

    اب اپنے ویراں آنگن میں
    جتنی صُبحوں کی چاندی ہے
    جتنی شاموں کا سونا ہے
    اُس کو خاکستر ہونا ہے

    اب یہ باتیں رہنے دیجے
    جس عُمر میں قصّے پُنتے تھے
    اُس عُمر کا غم سہنے دیجے
    اَب اپنی اُجڑی آنکھوں میں
    جتنی روشن سی راتیں ہیں
    ُس عمر کی سب سوغاتیں ہیں

    جس عُمر کے خواب خیال ہوُئے
    وہ پچھلی عمر تھی بیت گئی
    وہ عمر بتائے سال ہوئے

    اَب اپنی دید کے رستے میں
    کچھ رنگ ہے گزرے لمحوں کا
    کچھ اشکوں کی باراتیں ہیں
    کچھ بھولے بسرے چہرے ہیں
    کچھ یادوں کی برساتیں ہیں

    یہ پچھلے عشق کی باتیں ہیں!

    محسن نقوی

صفحہ 1 از 5 123 ... آخریآخری

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University