شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان رحم والا ہے
اسلام علیکم
رسول کریم ﷺ نے فرمایا: بخدا مجھے تمہارے فقرو غربت سے کوئی خوف نہیں ، مجھے تمہارے بارے میں یہ خوف ہے کہ دنیا تمہارے لئے کشادہ کر دی جائے گی؛ جس طرح ان لوگوں کے لئے کشادہ کر دی گی جو تم سے پہلے گزرے ہیں: پھر تم ایک ودسرے کے ساتھ دنیا سے زیادہ سے زیادہ جمع کرنے میں مقابلہ کرنے لگو گے: جس طرح وہ کیا کرتے تھے ۔ اور یہ مال اور دولت کی کثرت تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل کر دے گی۔ جس طرح تم سے پہلے لوگوں کو اس نے غافل کر دیا تھا۔
( امام بخاری و امام مسلم نے حضرت عامر بن عوف سے روایت کیا ہے)
امام طبرانی عوف بن مالک الاشجعی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے عوف بن مالک سے پو چھا اے عوف جب یہ امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی تمہارا کیا حال ہو گا:انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ یہ کب واقع ہو گا۔سرور عالم ﷺ نے اس وقت کی چند نشانیاں بیان فرمائیں جن میں سے اہم پیش خدمت ہیں
جس وقت اموال فئی کو اقربا ء پروری کا ذریعہ بنایا جائے گا۔ اور زکوة کو جرمانہ سمجھا جائے گا۔ اور امانت کو غنیمت سمجھا جائے گا۔ لوگ دین میں تفقہ حاصل کریں گے لیکن ان کے پیش نظر اللہ کی رضا نہ ہو گی۔
جب آدمی اپنی بیوی کی اطاعت کرے گا اوراپنی ماں کا نافرمان ہو گا اور اپنے باپ کو دور بھگا دے گا اور جب امت کےآخری لوگ سابقین اولین پر لعنت بھیجنے لگیں گے۔
قبیلہ کا سردار وہ ہو گا جو سب سے زیادہ فاسق ہو گا۔ قوم کا رہبر ذلیل ترین شخص ہو گا۔ کسی شخص کی عزت اس لئے نہیں کی جائے گی کہ وہ عزت کے لائق ہے بلکہ اس کے شر سے بچنے کے لئے کی جائے گی
سرور عالم ﷺ نے فرمایا: جس راستہ پر میں ہوں اور میرے صحابہ ہوں گے اس راستہ پر چلنے والا فرقہ نجات یافتہ ہو گااورجنت کا مستحق ہو گا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دوزخیوں کی دو قسمیں ایسی ہیں جن کو میں نے نہیں دیکھا یعنی میرے زمانے میں وہ ظاہر نہیں ہوئے: ایک قسم ان لوگوں کی ہے جن کے ہاتھوں میں گائے کی دم کی طرح درے ہوں گےجس سے وہ لوگوں کو ماریں گے۔دوسرا گروہ ان عورتوں کا ہو گا جنہوں نے لباس پہنا ہو گا پھر بھی وہ ننگی ہوں گی۔ناز نخرے سے کبھی ادھر جھکیں گی کبھی ادھر۔ ان کے سروں کے بالوں کا گچھا ہو گا جو بختی اونٹ کی کوہان سے مشابہت رکھتا ہو گا۔
(ضیاالنبی ﷺ )