نتائج کی نمائش 1 تا: 3 از: 3

موضوع: غزوات ودیگر حالات حضرت علی مرتضیؓ

  1. #1
    ناظم
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,307
    شکریہ
    0
    50 پیغامات میں 68 اظہار تشکر

    غزوات ودیگر حالات حضرت علی مرتضیؓ

    [size=x-large]غزوہ ٔبدر
    سلسلۂ غزوات میں سب سے پہلا معرکہ غزوہ ٔبدر ہے، اس غزوہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تین سو تیرہ جان نثاروں کے ساتھ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے،آگے آگے دوسیاہ رنگ کے عَلم تھے، ان میں سے ایک حیدرکرار کے ہاتھ میں تھا، جب رزمگاہِ بدر کے قریب پہنچے تو سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ کو چند منتخب جان بازوں کے ساتھ غنیم کی نقل وحرکت کا پتہ چلانے کے لئے بھیجا،انہوں نے نہایت خوبی کے ساتھ یہ خدمت انجام دی اورمجاہدین نے مشرکین سے پہلے پہنچ کر اہم مقاموں پر قبضہ کرلیا،سترہویں رمضان جمعہ کے دن جنگ کی ابتداہوئی،قاعدہ کے موافق پہلے تنہا مقابلہ ہوا، سب سے پہلے قریش کی صف سے تین نامی بہادر نکل کر مسلمانوں سے مبازرطلب ہوئے، تین انصاریوں نے ان کی دعوت کو لبیک کہا اورآگے بڑھے،قریش کے بہادروں نے ان کا نام نسب پوچھا، جب یہ معلوم ہوا کہ دویثرب کے نوجوان ہیں تو ان کے ساتھ لڑنے سے انکار کردیااور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پکار کر کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے مقابلہ میں ہمارے ہمسر کے آدمی بھیجو،اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خاندان کے تین عزیزوں کے نام لئے، حمزہ ؓ، علی ؓ، اور عبیدہ ؓ تینوں اپنے حریفوں کے لئے میدان میں آئے، حضرت علی ؓ نے اپنے حریف ولید کو ایک ہی وار میں تہ تیغ کردیا، اس کے بعد جھپٹ کر عبیدہ ؓ کی مدد کی اوران کے حریف شیبہ کو بھی قتل کیا،مشرکین نے طیش میں آکر عام حملہ کردیا،یہ دیکھ کر مجاہدین بھی نعرۂ تکبیر کے ساتھ کفار کے نرغہ میں گھس گئے اور عام جنگ شروع ہوگئی،شیر خدانے صفیں کی صفیں الٹ دیں اور ذوالفقارحیدری نے بجلی کی طرح چمک چمک کر اعدائے اسلام کے خرمن ہستی کو جلادیا، مشرکین کے پاؤں اکھڑ گئے اور مسلمان مظفر ومنصوربے شمار مال غنیمت اورتقریبا ستر قیدیوں کے ساتھ مدینہ واپس آئے، مال غنیمت میں سے آ پ کو ایک زرہ ایک اونٹ اورایک تلوار ملی،
    (دیکھو سیرت ابن ہشام غزوہ بدر)

    حضرت فاطمہؓ سے نکاح
    اسی سال یعنی ؁ ۲ھ میں حضرت سرورِکائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دامادی کا شرف بخشا یعنی اپنی محبوب ترین صاحبزادی سیدۃ النساء حضرت فاطمہ زہرا ؓ سے نکاح کردیا۔
    حضرت فاطمہ ؓ سے عقد کی درخواست سب سے پہلے حضرت ابوبکر ؓ اوران کے بعد حضرت عمر ؓ نے کی تھی؛لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ جواب نہیں دیا، اس کے بعد حضرت علی ؓ نے خواہش کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا،تمہارے پاس مہراداکرنے کے لئے کچھ ہے؟ بولے ایک گھوڑے اورایک ذرہ کے سوا کچھ نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گھوڑا تو لڑائی کے لئے ہے البتہ ذرہ کو فروخت کردو، حضرت علی ؓ نے اس کو حضرت عثمان ؓ کے ہاتھ چارسو اسی درہم میں بیچا اور قیمت لاکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت بلال ؓ کو حکم دیا کہ بازار سے عطر اورخوشبو خرید لائیں اور خود نکاح پڑھایا اوردونوں میاں بیوی پر وضو کا پانی چھڑک کر خیر وبرکت کی دعادی۔
    (زرقانی ج ۲ : ۴)

    رخصتی
    نکاح کے تقریباً دس گیارہ ماہ بعد باقاعدہ رخصتی ہوئی، اس وقت تک حضرت علی ؓ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے، اس لئے جب رخصتی کا وقت آیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ایک مکان کرایہ پر لے لو؛چنانچہ حارث بن النعمان کا مکان ملا اورحضرت علی ؓ ملکہ جنت کو رخصت کراکے اس میں لے آئے۔
    ( اصابہ ج ۸ : ۱۵۸)

    جہیز
    حضرت سیدہ زہرا ؓ کو اپنے گھر سے جو جہیز ملا تھا اس کی کل کائنات یہ تھی،ایک پلنگ ،ایک بستر، ایک چادر، دوچکیاں اورایک مشکیزہ،عجیب اتفاق ہے کہ یہی چیزیں حضرت فاطمہ ؓ کی زندگی تک ان کی رفیق رہیں اورحضرت علی کرم اللہ وجہہ اس میں کوئی اضافہ نہ کرسکے۔
    دعوت ولیمہ
    حضرت علی ؓ کی زندگی نہایت فقیرانہ وزاہدانہ تھی،خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے تھے، ذاتی ملکیت میں صرف ایک اونٹ تھا جس کے ذریعہ سے اذخر(ایک قسم کی گھاس) کی تجارت کرکے دعوت ولیمہ کے لئے کچھ رقم جمع کرنے کا ارادہ تھا؛لیکن حضرت حمزہ ؓ نے حالت نشہ میں (اس وقت شراب حرام نہیں ہوئی تھی،بخاری میں مفصل واقعہ مذکور ہے) اس اونٹ کو ذبح کرکے کباب سیخ بنادیا، اس لئے اب اقلیم زہد کے تاجدار کے پاس اس رقم کے سوا جو ذرہ کی قیمت میں سے مہر ادا کرنے کے بعد بچ رہی تھی اور کچھ نہ تھی؛چنانچہ اسی سے دعوت ولیمہ کا سامان کیا جس میں کھجور،جو کی روٹی، پنیز اور ایک خاص قسم کا شوربہ تھا؛لیکن یہ اس زمانہ کے لحاظ سے پرتکلف ولیمہ تھا،حضرت اسماء ؓ کا بیان ہے کہ اس زمانہ میں اس سے بہتر ولیمہ نہیں ہوا۔
    (زرقانی ج۲ : ۸)

    غزوۂ احد
    ؁ ۳ ھ میں اُحد کا معرکہ پیش آیا، شوال ہفتہ کے دن لڑائی شروع ہوئی اورپہلے مسلمانوں نے قلت تعداد کے باجود غنیم کو بھگادیا؛لیکن عقب کے محافظ تیر اندازوں کا اپنی جگہ سے ہٹنا تھا کہ مشرکین پیچھے سے یکایک ٹوٹ پڑے، اس ناگہانی حملے سے مسلمانوں کے اوسان جاتے رہے، اسی حالت میں سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو چشم زخم پہنچا، دندانِ مبارک شہید ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک خندق میں گرپڑے،(بخاری باب غزوہ احد) مشرکین ادھر بڑھے ؛لیکن حضرت مصعب بن عمیر ؓ نے ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے سے روکا اور اسی میں لڑتے لڑتے شہید ہوئے، اس کے بعد حیدر کرار ؓ نے بڑھ کر علم سنبھالا اور بے جگری کے ساتھ دادِ شجاعت دی،مشرکین کے علمبردار، ابوسعدبن ابی طلحہ نے مقابلہ کے لئے للکارا، شیر خدانے بڑھ کر ایسا ہاتھ مارا کہ فرشِ خاک پرتڑپنے لگا اوربدحواسی کے عالم میں برہنہ ہوگیا، حضرت علی ؓ کو اس کی بدحواسی اور بے بسی پر رحم آگیا اورزندہ چھوڑکر واپس آئے۔
    مشرکین کا زور کم ہوا توحضرت علی چند صحابہ ؓ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پہاڑ پر لے گئے،حضرت فاطمہ ؓ نے زخم دھویا اورحضرت علی ؓ نے ڈھال میں پانی بھر بھر کر گرایا، اس سے خون بند نہ ہوا تو حضرت فاطمہ ؓ نے چٹائی جلا کر اس کی راکھ سے زخم کا منہ بند کیا۔
    بنونضیر
    غزوہ احد کے بعد ؁ ۴ھ میں بنو نضیر کو ان کی بدعہدی کے باعث جلاوطن کیا گیا،حضرت علی ؓ اس میں بھی پیش پیش تھے اور علم ان ہی کے ہاتھ میں تھا۔
    غزوۂ خندق
    ؁ ۵ھ میں غزوۂ خندق پیش آیا اس میں کفار کبھی کبھی خندق میں گھس گھس کر حملہ کرتے تھے، ایک دفعہ سواروں نے حملہ کیا، حضرت علی ؓ نے چند جان بازوں کے ساتھ بڑھ کر روکا ،سواروں کے سردار عمروبن عبدود نے کسی کو تنہا مقابلہ کی دعوت دی،حضرت علی ؓ نے اپنے کو پیش کیا، اس نے کہامیں تم کو قتل کرنا نہیں چاہتا، شیر خدانے کہا؛لیکن میں تم کو قتل کرنا چاہتا ہوں،وہ برہم ہوکر گھوڑے سے کود پڑا، اورمقابلہ میں آیا، تھوڑی دیر تک شجاعانہ مقابلہ کے بعد ذوالفقارحیدری نے اس کو واصل جہنم کیا، اس کا مقتول ہونا تھا کہ باقی سوار بھاگ کھڑے ہوئے،( سیرت ابن ہشام،۲/۹۸) کفار بہت دن تک خندق کا محاصرہ کئے رہے ؛لیکن بالآخر مسلمانوں کی اس پامردی اوراستقلال کے آگے ان کے پاؤں اکھڑ گئے اور یہ معرکہ بھی مجاہدین کرام کے ہاتھ رہا۔
    بنو قریظہ
    بنو قریظہ نے مسلمانوں سے معاہدہ کے باوجود ان کے مقابلہ میں قریش کا ساتھ دیا اور تمام قبائل عرب کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکادیاتھا، اس لئے غزوۂ خندق سے فراغت کے بعدآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف توجہ کی، اس مہم میں بھی علم حضرت علی ؓ کے ہاتھ میں تھا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد کے مطابق قلعہ پر قبضہ کرکے اس کے صحن میں عصر کی نماز اداکی۔
    بنو سعد کی سرکوبی
    ؁ ۶ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ بنو سعد یہود خیبر کی اعانت کے لئے مجتمع ہو رہے ہیں، اس لئے حضرت علی ؓ کو ایک سو کی جمعیت کے ساتھ ان کی سرکوبی پر مامور کیا،انہوں نے ماہِ شعبان میں حملہ کرکے بنو سعد کو منتشر کردیا اور پانچ سواونٹ اوردوہزار بکریاں مال غنیمت میں لائے۔
    صلح حدیبیہ
    اسی سال یعنی ؁ ۶ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقریباً چودہ ہزار صحابہ کرام ؓ کے ساتھ زیارت کعبہ کا ارادہ فرمایا،مقام حدیبیہ میں معلوم ہوا کہ مشرکین مکہ مزاحمت کریں گے،حضرت عثمان ؓ گفتگوکے لئے سفیر بنا کر بھیجے گئے، مشرکین نے ان کو روک لیا،یہاں یہ خبر مشہور ہوگئی کہ وہ شہید کردیئے گئے، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان ؓ کے انتقام کے لئے مسلمانوں سے بیعت لی،حضرت علی ؓ بھی اس بیعت میں شریک تھے،بعد کو جب یہ معلوم ہوا کہ شہادت کی خبر غلط تھی تو مسلمانوں کا جوش کسی قدر کم ہوا،اورطرفین نے مصالحت پر رضا مندی ظاہر کی،حضرت علی ؓ کو صلح نامہ لکھنے کا حکم ہوا،انہوں نے حسب دستور :ھذا اماقاضٰی علیہ محمد رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم )کی عبارت سے عہد نامہ کی ابتداء کی ،مشرکین نے ‘رسول اللہ ’’کے لفظ پر اعتراض کیا اگر ہم کو رسول اللہ ہونا تسلیم ہوتا تو پھر جھگڑاہی کیا تھا؟ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لفظ کو مٹادینے کا حکم دیا؛لیکن حضرت علی ؓ کی غیرت نے گوارہ نہ کیا اورعرض کیا،خداکی قسم! میں اس کو نہیں مٹا سکتا، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ست مبارک سے اس کو مٹادیا اس کے بعد معاہدہ صلح لکھا گیا اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زیارت کا ارادہ ملتوی کرکے مدینہ واپس تشریف لائے۔
    فتح خیبر
    ؁ ۷ھ میں خیبر پر فوج کشی ہوئی، یہاں یہودیوں کے بڑے بڑے مضبوط قلعے تھے جن کا مفتوح ہونا آسان نہ تھا، پہلے حضرت ابوبکر ؓ اور ان کے بعد حضرت عمر ؓ اس کی تسخیر پر مامور ہوئے ؛لیکن کامیابی نہ ہوئی،حضورسرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کل ایک ایسے بہادر کو علم دوں گا جو خدا اور رسول کا محبوب ہے اور خیبر کی فتح اسی کے ہاتھ سے مقدر ہے ،صبح ہوئی تو ہر شخص متمنی تھا کہ کاش اس فخر وشرف کا تاج اس کے سرپر ہوتا؛لیکن یہ دولت گرانمایہ حیدرکرار ؓ کے لئے مقدر ہوچکی تھی،صبح کو بڑے بڑے جاں نثار اپنے نام سننے کے منتظر تھے کہ دفعتاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی ؓ کا نام لیا،یہ آواز غیر متوقع تھی، کیونکہ حضرت علی ؓ آشوب چشم میں مبتلا تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بلاکر ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب لگایا جس سے یہ شکایت فوراً جاتی رہی۔
    (ایضاً کتاب المغازی غزوہ خیبر)

    مرحب
    اس کے بعد علم مرحمت فرمایا، حضرت علی ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں لڑکر ان کو مسلمان بنالوں؟ فرمایا نہیں؛بلکہ پہلے اسلام پیش کرواوران کو اسلام کے فرائض سے آگاہ کرو کیونکہ تمہاری کوششوں سے ایک شخص بھی مسلمان ہوگیا تو وہ تمہارے لئے بڑی سے بڑی نعمت سے بہتر ہے(ایضاً)لیکن یہودیوں کی قسمت میں اسلام کی عزت کے بجائے شکست ،ذلت اوررسوائی لکھی تھی،اس لئے انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا اوران کا معزز سردار مرحب بڑے جوش وخروش سے یہ رجز پڑھتا ہوانکلا۔
    قد علمت خیبر انی مرحب شاکی السلاح بطل مجرب
    خیبر مجھ کو جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں سطح پوش ہوں،بہادر ہوں،تجربہ کار ہوں
    اذالحروب اقبلت تلھب
    جب کہ لڑائی کی آگ بھڑکتی ہے
    فاتح خیبر اس متکبرانہ رجز کا جواب دیتے ہوئے بڑھا:
    اناالذی سمتنی امی حیدرہ کلیث غابات کریہ النظرہ
    میں وہ ہوں جس کا نام میری ماں نے حیدر رکھا ہے جھاڑی کے شیر کی طرح مہیب اورڈراؤنا
    اوفیھم بالصاع کیل السدرہ
    میں دشمنوں کو نہایت سرعت سے قتل کردیتا ہوں
    اور جھپٹ کر ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کردیا،(صحیح بخاری جلد ۲ : ۱۰۳ مطبوعہ مصر باب غزوہ ذی قرو) اس کے بعد حیدر کرار ؓ نے بڑھ کر حملہ کیا اورحیرت انگیز شجاعت کے ساتھ اس کو مسخر کرلیا۔
    مہم مکہ
    رمضان ؁ ۸ھ میں مکہ پر فوج کشی کی تیاریاں شروع ہوئیں، ابھی مجاہدین روانہ نہ ہوئے تھے، معلوم ہوا کہ ایک عورت غنیم کو یہاں کے تمام حالات سے مطلع کرنے کے لئے روانہ ہوگئی ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ، زبیر ؓ، اورمقداد ؓ کو اس کی گرفتاری پر مامور کیا، یہ تینوں تیز گھوڑوں پر سوار ہوکر اس کے تعاقب میں روانہ ہوگئے۔اورخاخ کے باغ میں گرفتار کرکے خط مانگا،پہلے اس عورت نےلا علمی ظاہر کی ؛لیکن جب ان لوگوں نے جامہ تلاشی کا ارادہ کیا تو اس نےخط حوالہ کردیا اوریہ لوگ خط لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب یہ خط پڑھا گیا تو معلوم ہوا کہ مشہور صحابی حضرت حاطب بن ابی بلتعہ نے مشرکین مکہ کے نام بھیجا تھا اور اس میں بعض مخفی حالات کی اطلاع تھی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حاتم بن ابی بلتعہ سے پوچھا یہ کیامعاملہ ہے؟ انہوں نے عرض کیا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرد جرم قراردینے سے قبل اصل حالات سن لیں، واقعہ یہ ہے کہ مجھ کو قریش سے کوئی نسبی تعلق نہیں ہے، صرف اس کا حلیف ہوں اور مکہ میں دوسرے مہاجرین کی قرابتیں ہیں جو فتح مکہ کے وقت ان کے اہل وعیال کی حفاظت کرتے،میں نے اس خیال سے کہ اگر کوئی نازک وقت آئے تو میرے بچے بے یارومددگار نہ رہ جائیں یہ خط لکھا تھا،حاشاوکلا اس سے مخبری یا اسلام کے ساتھ دشمنی مقصود نہ تھی ،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عذر کو قبول کیا اور لوگوں سے مخاطب ہوکر فرمایاکہ انہوں نے سچ بیان کیا ہے؛ لیکن حضرت عمر ؓ کی آتش غضب بھڑک چکی تھی انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اجازت دیجئے کہ اس منافق کی گردن اُڑادوں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بدری ہیں ،کیا تم کو معلوم نہیں کہ بدریوں کے تمام گناہ معاف ہیں۔’’
    ( بخاری کتاب المغازی باب غزوہ فتح)

    غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ۱۰/رمضان ؁ ۸ھ کو مدینہ روانہ ہوئے اورایک مرتبہ پھر اس محبوب سرزمین پر دس ہزار قدسیوں کے ساتھ فاتحانہ جاہ وجلال کے ساتھ داخل ہوئے،جہاں سے آٹھ سال پہلے بڑی بے کسی کے ساتھ مسلمان نکالے گئے تھے، ایک علم حضرت سعد بن عبادہ ؓ کے ہاتھ میں تھا اور وہ جوش کی حالت میں یہ رجز پڑھتے جاتے تھے۔
    الیوم یوم الملحۃ الیوم تستحل الکعبۃ ‘‘آج شدید جنگ کا دن ہے آج حرم میں خونریزی جائز ہے۔’’
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا توفرمایا،نہیں ایسا نہ کہوآج تو کعبہ کی عظمت کا دن ہے اورحضرت علی ؓ کو حکم ہوا کہ سعد بن عبادہ ؓ سے علم لے کر فوج کے ساتھ شہر میں داخل ہوں؛چنانچہ وہ کداء کی جانب سے مکہ میں داخل ہوئے( بخاری کتاب المغازی باب غزوہ فتح) اورمکہ بلاکسی خونریزی کے تسخیر ہوگیا اور وقت آگیا کہ خلیل بت شکن کی یادگارِ (خانہ کعبہ) کو بتوں کی آلائشوں سے پاک کیا جائے جس کے گرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے اس فریضہ کو ادا کیا اورخانۂ کعبہ کے گرد جس قدر بت تھے، سب کو لکڑی سے ٹھکراتے جاتے تھے اور یہ آیت تلاوت فرماتے جاتے تھے‘‘وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا’(بنی اسرائیل:۸۱)پھر خانۂ کعبہ کے اندر سے حضرت ابراہیم علیہ السلام واسماعیل علیہ السلام کی مورتیوں کو الگ کروایا اور تطہیر کعبہ کے بعد اندر داخل ہوئے،(ایضاً) لیکن چونکہ اس وحدت کدہ کا گوشہ گوشہ بتوں کی مورتیوں سے اٹا ہوا تھا اس لئے اس اہتمام کے باوجود تانبے کا سب سے بڑا بت باقی رہ گیا، یہ لوہے کی سلاخ میں پیوست کیا ہوا زمین پر نصب تھا اس لئے بہت بلندی پر تھا،پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ کے کندھوں پر چڑھ کر اس کے گرانے کی کوشش کی؛لیکن وہ جسم اطہر کا بارنہ سنبھال سکے،اس لئے حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو شانہ اقدس پر چڑھاکراس کے گرانے کا حکم دیا اورانہوں نے سلاخ سے اکھاڑکر حسب ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پاش پاش کرڈالا اورخانہ کعبہ کی کامل تطہیر ہوگئی۔( حاکم نے مستدرک میں اس واقعہ کو بہ تفصیل نقل کیا ہے؛لیکن فتح مکہ کے بجائے شب ہجرت کی طرف منسوب کیا ہے؛لیکن اس کے علاوہ دوسرے محدثین اورارباب سیر نے فتح مکہ میں لکھا ہے اور یہی صحیح اور قریب عقل ہے،ہجرت کی ایسی نازک رات میں جبکہ جان خطرہ میں تھی ایسے بڑے اور خطرناک کام کا انجام دینا بعید از قیاس ہے،دوسرے مکہ کی زندگی میں بت شکنی کا کوئی واقعہ نہیں ہے)
    ایک غلطی کی تلافی
    فتح مکہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خالد بن ولید کو بنوحذیمہ میں تبلیغ اسلام کے لئے روانہ فرمایا، انہوں نے توحید کی دعوت دی، بنوحذیمہ نے اسے قبول کیا؛لیکن اپنی بدویت اورجہالت کے باعث اس کو ادا نہ کرسکے اور اسلمنا یعنی ہم نے اسلام قبول کیا کے بجائے صبانا صبانا یعنی ہم بے دین ہوگئے کہنے لگے، حضرت خالد بن ولید ؓ نے ان کا منشا سمجھ کر سب کو قید کرلیا اوربہتوں کو قتل کرڈالا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو نہایت متاثر ہوئے اورحضرت علی ؓ کو اس غلطی کی تلافی کے لئے روانہ فرمایا،انہوں نے پہنچ کر تمام قیدیوں کو آزاد کرادیا اور مقتولین کے معاوضہ خوں بہادیا۔
    (فتح الباری ج۸ : ۴۶)

    غزوہ حنین
    فتح مکہ کے بعد اسی سال غزوہ حنین کا عظیم الشان معرکہ پیش آیا اور اس میں پہلے مسلمانوں کی فتح ہوئی؛لیکن جب وہ مال غنیمت لوٹنے میں مصروف ہوئے تو شکست خوردہ غنیم نے غافل پاکر پھر اچانک حملہ کردیا،مجاہدین اس ناگہانی مصیبت سے ایسے پریشان ہوئے کہ بارہ ہزار نفوس میں سے صرف چند ثابت قدم رہ سکے،ان میں ایک حضرت علی ؓ بھی تھے، آپ نہ صرف پامردی اوراستقلال کے ساتھ قائم رہے ؛بلکہ اپنی غیر معمولی شجاعت سے لڑائی کو سنبھال لیا اورغنیم کے امیر عسکر پر حملہ کرکے اس کا کام تمام کردیا اوردوسری طرف جو مجاہدین ثابت قدم رہ گئے تھے وہ اس بے جگری کے ساتھ لڑے کہ مسلمانوں کی ابتری اورپریشانی کے باوجود دشمن کو شکست ہوئی۔
    ( سیرت ابن ہشام ج۲ : ۲۶۷ ومستدرک حاکم ج ۳ : ۱۰۹)

    اہل بیت کی حفاظت
    ؁ ۹ھ میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک کا قصد فرمایا توحضرت علی ؓ کواہل بیت کی حفاظت کے لئے مدینہ میں رہنے کا حکم دیا،شیرخدا کو شرکتِ جہاد سے محرومی کا غم تو تھا،منافقین کی طعنہ زنی نے اوربھی رنجیدہ کردیا،سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال کا علم ہوا تو ان کا غم دورکرنے کے لئے فرمایا،علیؓ !کیا تم اسے پسند کروگے کہ میرے نزدیک تمہارا وہ رتبہ ہو جو ہارون کا موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک تھا۔"
    ( بخاری کتاب المناقب مناقب علی ؓ)

    تبلیغ فرمانِ رسول
    غزوہ تبوک سے واپسی کے بعد اسی سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو امیر حج بناکر روانہ فرمایا، اسی اثناء میں سورۂ برأت نازل ہوئی، لوگوں نے کہا کہ اگر یہ سورۃ ابوبکر ؓ کے ساتھ حج کے موقع پر لوگوں کو سنانے کے لئے بھیجی جاتی تو اچھا ہوتا، سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری طرف سے صرف میرے خاندان کا آدمی اس کی تبلیغ کرسکتا ہے؛چنانچہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو بلاکر حکم دیا کہ وہ مکہ جاکر اس سورۃ کو سنائیں اورعام اعلان کردیں کہ کوئی کافرجنت میں داخل نہ ہوگا اوراس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور نہ کوئی شخص برہنہ خانہ کعبہ کا طواف کرے اورجس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی عہدہے وہ مدتِ مہینہ تک باقی رہے گا۔
    ( سیرت ابن ہشام ج ۲ : ۳۴۲)

    مہم یمن اوراشاعتِ اسلام
    تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مہمیں روانہ فرمائیں ان میں یمن کی مہم پر حضرت خالد بن ولید ؓ مامور ہوئے، لیکن چھ مہینہ کی مسلسل جدوجہد کے باوجود اشاعت اسلام میں کامیاب نہ ہوسکے،اس لئے رمضان ۱۰ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ کو بلا کر یمن جانے کا حکم دیا، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ایک ایسی قوم میں بھیجا جاتا ہوں جس میں مجھ سے زیادہ معمر اورتجربہ کارلوگ موجود ہیں، ان لوگوں کے جھگڑوں کا فیصلہ کرنا میرے لئے نہایت دشوار ہوگا،’’حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعاء فرمائی‘‘ اے خدا اس کی زبان کوراست گو بنا اور ا س کے دل کو ہدایت کے نورسے منور کردے’’ اس کے بعد خود اپنے دستِ اقدس سے ان کے فرقِ مبارک پر عمامہ باندھا اورسیاہ علم دے کر یمن کی طرف روانہ فرمایا۔
    ( زرقانی، ۳ / ۱۲۲)

    حضرت علی ؓ کے یمن پہنچتے ہی یہاں کا رنگ بالکل بدل گیا،جولوگ خالد ؓ کی چھہ مہینہ کی سعی و کوشش سے بھی اسلام کی حقیقت کو نہیں سمجھے تھے وہ حضرت علی مرتضی ؓ کی صرف چند روزہ تعلیم وتلقین سے اسلام کے شیدائی ہوگئے اور قبیلہ ہمدان مسلمان ہوگیا۔( فتح الباری ج۸ : ۱۵۲)
    حجۃ الوداع میں شرکت
    اسی سال یعنی ؁ ۱۰ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری حج کیا، حضرت علی ؓ بھی یمن سے آکر اس یادگار حج میں شریک ہوئے۔
    صدمۂ جانکاہ
    حج سے واپسی کے بعد ابتدائے ماہ ربیع الاول ؁ ۱۱ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے، حضرت علی ؓ نےنہایت تندہی اورجانفشانی کے ساتھ تیمار داری اورخدمت گزاری کا فرض انجام دیا، ایک روز باہر آئے ،لوگوں نےپوچھا، اب حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا مزاج کیسا ہے؟ حضرت علی ؓ نے اطمینان ظاہرکیا، حضرت عباس ؓ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا، خدا کی قسم! میں موت کے وقت خاندان عبدالمطلب کے چہرے پہچانتا ہوں،آؤ چلو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کریں کہ ہمارے لئے خلافت کی وصیت کرجائیں، حضرت علی ؓ نے کہا، میں عرض نہیں کروں گا،اگر خدا کی قسم!آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کردیا تو پھر آئندہ کوئی امید باقی نہیں رہےگی،(صحیح بخاری باب مرض النبی صلی اللہ علیہ وسلم) دس روز کی مختصر علالت کے بعد ۱۲/ربیع الاول دوشنبہ کے دن دوپہر کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جان نثاروں کو اپنی مفارقت کا داغ دیا،حضرت علی ؓ چونکہ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ترین عزیز اورخاندان کے رکن رکین تھے، اس لئے غسل اورتجہیز وتکفین کے تمام مراسم انہی کے ہاتھ سے انجام پائے۔
    ( مستدرک حاکم ج ۳ : ۱۱۱)

    انصار ومہاجرین دروازے کے باہر کھڑے تھے، ایک روایت میں ہے کہ ایک انصاری کو بھی اس میں شرکت کا شرف حاصل ہوا۔
    خلیفۂ اول کی بیعت توقف کی وجہ
    سقیفۂ بنو ساعدہ کی مجلس نے حضرت ابوبکر صدیق کی خلافت پر اتفاق کیا اورتقریباً تمام اہل مدینہ نے بیعت کرلی، البتہ صحیح روایات کے مطابق صرف حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے چھہ مہینے تک دیر کی، لوگوں نے اس توقف کے عجیب وغریب وجوہ اختراع کرلئے ہیں ؛لیکن صحیح یہ ہے کہ حضرت فاطمہ ؓ کی سوگوار زندگی نے ان کو بالکل خانہ نشین بنادیا تھا اورتمام معاملات سے قطع تعلق کرکے وہ صرف ان کی تسلی ودلدہی اورقرآن شریف کے جمع کرنے میں مصروف تھے؛چنانچہ جب حضرت فاطمہ ؓ کا انتقال ہوگیا اس وقت انہوں نے خود حضرت ابوبکر ؓ سے ان کے فضل کا اعتراف کیا اوربیعت کرلی۔
    (بخاری غزوہ خیبر)

    سوا دو برس کی خلافت کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے وفات پائی اورحضرت عمرؓ مسند آرائے خلافت ہوئے، حضرت عمرؓ بڑی بڑی مہمات میں حضرت علی ؓ کے مشورے کے بغیر کام نہیں کرتے تھے اورحضرت علی ؓ بھی نہایت دوستانہ اورمخلصانہ مشورے دیتے تھے، نہاوند کے معرکہ میں ان کو سپہ سالار بھی بنانا چاہا تھا ؛لیکن انہوں نے منظور نہیں کیا، بیت المقدس گئے تو کاروبارِخلافت انہی کے ہاتھ دے کر گئے،(تاریخ ابن خلدون ج۲ : ۱۰۲ وطبری فتح المقدس)اتحاد ویگانگت کاعالم اخیر مرتبہ یہ تھا کہ باہم رشتہ مصاہرت قائم ہوگیا، یعنی حضرت علی ؓ کی صاحبزادی ام کلثوم ؓ حضرت عمر ؓ کے نکاح میں آئیں۔
    فاروق اعظم ؓ کے بعد حضرت عثمان ؓ کے عہد خلافت میں فتنہ و فساد شروع ہوا تو حضرت علی ؓ نے ان کو رفع کرنے کے لئے ان کو نہایت مخلصانہ مشورے دیے ،ایک دفعہ حضرت عثمان ؓ نے ان سے پوچھا کہ ملک میں موجودہ شورش وہنگامہ کی حقیقی وجہ اوراس کے رفع کرنے کی صورت کیاہے؟ انہوں نے نہایت خلوص اورآزادی سے ظاہر کردیا کہ موجودہ بے چینی تمام تر آپ کے عمال کے بے اعتدالیوں کا نتیجہ ہے،حضرت عثمان ؓ نے فرمایا کہ میں نے عمال کے انتخاب میں انہی صفات کو ملحوظ رکھا ہے جو فاروق اعظم ؓ کے پیش نظر تھے، پھر ان سے عام بیزاری کی وجہ سمجھ میں نہیں آتی؟ جناب علی مرتضی ؓ نے فرمایا ہاں! یہ صحیح ہے کہ حضرت عمرؓ نے سب کی نکیل اپنےہاتھ میں لے رکھی تھی اور گرفت ایسی سخت تھی کہ عرب کا سرکش سے سرکش اونٹ بھی بلبلااٹھا برخلاف اس کے آپ ضرورت سے زیادہ نرم دل ہیں، آپ کے عمال اس نرمی سے فائدہ اٹھا کر من مانی کارووائیاں کرتے ہیں اورآپ کو خبر بھی نہیں ہونے پاتی، رعایا سمجھتی ہے کہ عمال جو کچھ کرتے ہیں وہ سب دربارِ خلافت کے احکام کی تعمیل ہے، اس طرح تمام بے اعتدالیوں کا ہدف آپ کو بننا پڑا۔
    ( تاریخ طبری : ۲۹۳۸)

    سب سے آخر میں مصری وفد کا معاملہ پیش آیا،حضرت عثمان ؓ نے ان سے اصرار کیا کہ اپنی وساطت سےا س جھگڑے کا تصفیہ کرادیں اور انقلاب پسند جماعت کو راضی کرکے واپس کردیں، پہلے تو انہوں نے انکار کیا ؛لیکن پھر معاملہ کی اہمیت اورحضرت عثمان ؓ کے اصرار سے مجبور ہوکر درمیان میں پڑے اورحضرت عثمان ؓ سے اصلاحات کا وعدہ لیکر انقلاب پسندوں کو اپنی ذمہ داری پر واپس کردیا، مصری وفد کے ارکان ابھی راہ ہی میں تھے کہ ان کو سرکاری قاصد کی تلاشی سے ایک فرمان ہاتھ آیا جس میں حاکم مصر کو ہدایت کی گئی تھی کہ اس وفد کے تمام شرکاء کو تہ تیغ کردیا جائے،مصری اس غداری سے غضبناک ہوکر واپس آئے اورحضرت علی ؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ ایک طرف تو آپ نے ہم کو اصلاحات کا اطمینان دلا کر واپس کیا اور دوسری طرف سے دربارِ خلافت کا یہ غدار انہ فرمان جاری ہوا،حضر علی ؓ نے فرمان دیکھا تو تعجب ہوئے اورحضرت عثمان ؓ کے پاس جاکر اس کی حقیقت دریافت کی، انہوں نے اس سے حیرت کے ساتھ لا علمی ظاہر کی حضرت علی ؓ نے کہا مجھے بھی آپ سے ایسی توقع نہیں ہوسکتی تھی لیکن اب میں آئندہ کسی معاملہ میں نہ پڑوں گا؛چنانچہ اس کے بعد وہ بالکل عزلت نشین ہوگئے۔
    مصریوں نے جوش انتقام میں نہایت سختی کے ساتھ کاشانۂ خلافت کا محاصرہ کرلیا اورآخر میں یہاں تک شدت اختیار کی کہ آب ودانہ سے بھی محروم کردیا، حضرت علی ؓ کو معلوم ہوا تو عزلت گزینی اورخلوت نشینی کے باوجود محاصرہ کرنے والوں کے پاس تشریف لے گئے اورفرمایا کہ تم لوگوں نے جس قسم کا محاصرہ قائم کیا ہے وہ نہ صرف اسلام ؛بلکہ انسانیت کے بھی خلاف ہے، کفار بھی مسلمانوں کو قید کرلیتے ہیں توآب ودانہ سے محروم نہیں کرتے، اس شخص نے تمہارا کیا نقصان کیا ہے جو ایسی سختی روارکھتے ہو؟ محاصرین نے حضرت علی ؓ کی سفارش کی کچھ پرواہ نہ کی اور محاصرہ میں سہولت پیدا کرنے سے قطعی انکار کردیا حضرت علی ؓ غصہ میں اپنا عمامہ پھینک کر واپس چلے آئے۔
    ( ابن ثیر جلد ۳ : ۱۲۹)

    محاصرہ اگرچہ نہایت سخت تھا تاہم حضرت علی ؓ کو اس کا وہم بھی نہ تھا کہ یہ معاملہ اس قدر طول کھینچے گا کہ شہادت تک نوبت پہنچے گی،وہ سمجھے کہ جس طرح حقوق طلبی کے متواتر مظاہرے ہوتے رہے ہیں، یہ بھی اسی قسم کا ایک سخت مظاہرہ ہے،تاہم اپنے دونوں صاحبزادوں کواحتیاطاً حفاظت کے لئے بھیج دیا، جنہوں نے نہایت تندہی اور جانفشانی کے ساتھ مدافعت کی، یہاں تک کہ اسی کشمکش میں زخمی ہوئے ؛لیکن کثیر التعداد مفسدین کا روکنا آسان نہ تھا، وہ دوسری طرف سے دیوار پھاند کر اندر گھس آئے اور خلیفہ وقت کو شہید کرڈالا،حضرت علی ؓ کو معلوم ہوا تو اس سانحہ جانکاہ پرحددرجہ متاسف ہوئے اورجولوگ حفاظت پر مامور تھے،ان پر سخت ناراضگی ظاہرکی،حضرت امام حسن ؓ اورامام حسین ؓ کا مارا، محمد بن طلحہ ؓ اورعبداللہ بن زبیر ؓ کو برابھلا کہا کہ تم لوگوں کی موجود گی میں یہ واقعہ کس طرح پیش آیا۔[/size]

    [size=x-large] ناراضگی ظاہر کرنا دل میں برائی رکھنے سے بہتر ہے[/size]

  2. #2
    رکنِ خاص طارق راحیل کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Jan 2011
    پيغامات
    170
    شکریہ
    0
    5 پیغامات میں 7 اظہار تشکر

    RE: غزوات ودیگر حالات حضرت علی مرتضیؓ

    جزاک اللہ خیراً۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  3. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2012
    پيغامات
    5,446
    شکریہ
    138
    96 پیغامات میں 104 اظہار تشکر

    RE: غزوات ودیگر حالات حضرت علی مرتضیؓ

    جزاک اللہ

متشابہہ موضوعات

  1. غزوات نبویﷺ اور ان میں شریک صحابہ کرامؓ کی تعداد
    By محمداشرف يوسف in forum سیرت سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 02-22-2013, 06:38 AM
  2. غزوات ودیگر حالات حضرت عثمان غنیؓ
    By گلاب خان in forum صحابہ کرام اور صحابیات
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 11-03-2012, 03:27 PM
  3. غزوات ودیگر حالات
    By گلاب خان in forum صحابہ کرام اور صحابیات
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 11-03-2012, 02:03 PM
  4. غزوات ودیگر حالات حضرت عمر فاروقؓ
    By گلاب خان in forum متفرق موضوعات
    جوابات: 0
    آخری پيغام: 07-14-2012, 04:29 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University