[size=x-large]خلافت مرتضوی پر ایک نظر
حضر ت علی کرم اللہ وجہہ کی خلافت کا پورا زمانہ خانہ جنگی اورشورش کی نذر ہوا اوراس پنجسالہ مدت میں آپ کو ایک لمحہ بھی سکون واطمینان کا نصیب نہ ہوا، اس لئے آپ کے زمانہ میں فتوحات کا دروازہ تقریباً بند ہوگیا، ملکی انتظام کی طرف بھی توجہ کرنے کی فرصت ان کو نہ مل سکی؛لیکن ان گوناں گوں مشکلات کے باوجود جناب مرتضیٰ ؓ کی زندگی عظیم الشان کارناموں سے مملوہے ؛لیکن ان کارماموں پر نظر پڑنے سے پہلے یہ امر قابل غور ہے کہ خلافت مرتضوی میں اس قدر افتراق اختلاف اورشروفساد کے اسباب کیا تھے؟ حضرت علی ؓ نے کس تحمل، استقلال اورسلامت روی کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا۔
حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے بعد جناب مرتضیٰ نے جس وقت مسند خلافت پر قدم رکھا ہے اس وقت نہ صرف دارالخلافہ ؛بلکہ تمام دنیائے اسلام پر آشوب تھی، حضرت عثمان ؓ کی شہادت کوئی معمولی واقعہ نہ تھا، اس نے مسلمانوں کے جذبہ غیض و غضب کو مشتعل کردیا،یہاں تک کہ جو لوگ آپ کے طرز حکومت کو ناپسند کرتے تھے انہوں نے بھی مفسدین کی اس جسارت کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا؛چنانچہ حضرت زبیر ؓ ،طلحہ ؓ اورخود ام المومنین حضرت عائشہ ؓ نے حضرت عثمان ؓ کی حکومت سے شاکی ہونے کے باوجود قصاص کا علم بلند کیا۔
دوسری طرف شام میں بنو امیہ امیر معاویہ ؓ کے زیر سیادت خلافت راشدہ کو اپنی سلطنت میں تبدیل کرنے کے خواب دیکھ رہے تھے،ان کے لئے اس سے زیادہ بہتر موقع کیا ہوسکتا تھا؛چنانچہ امیر معاویہ ؓ نے بغیر کسی تامل کے ہر ممکن ذریعہ سے تمام شام میں خلیفہ ثالث کے انتقام کا جوش پیدا کرکے حضرت علی ؓ کے خلاف ایک عظیم الشان قوت پیدا کرلی اورحسب ذیل وجہ کو آڑ بنا کر میدان میں اتر ے۔
۱۔حضرت علی ؓ نے مفسدین کے مقابلہ میں حضرت عثمان ؓ کو مدد نہیں دی۔
۲۔اپنی خلافت میں قاتلین عثمان ؓ سے قصاص نہیں لیا۔
۳۔محاصرہ کرنے والوں کو قوتِ بازو بنایا اوران کو بڑے بڑے عہدے دیئے۔
یہ وجوہ تمام جنگوں کی بناء قرارپائے ،اس لئے غورکرنا چاہئے کہ اس میں کہا ں تک صداقت ہے اورجناب مرتضیٰ ؓ کس حد تک اس میں معذور تھے،پہلا سبب یعنی مفسدین کے مقابلہ میں مددنہ دینے کا الزام صرف حضرت علی ؓ ہی پر نہیں ؛بلکہ حضرت طلحہ ؓ،زبیر ؓ، سعدوقاص ؓ اور تمام اہل مدینہ پر عائد ہوتا ہے،حقیقت یہ ہے کہ حضرت عثمان ؓ کو یہ منظور ہی نہ تھا کہ ان کے عہد میں خانہ جنگی کی ابتداہو؛چنانچہ انصار کرام بنو امیہ اوردوسرے وابستگان خلافت نے جب اپنے کو جاں نثاری کے لئے پیش کیا تو حضرت عثمان ؓ نے نہایت سختی کے ساتھ کشت وخون سے منع کردیا۔
جناب مرتضی ؓ نے اس باب میں جو کچھ کیا، ان کے لئے اس سے زیادہ ممکن نہ تھا؛چنانچہ پہلی مرتبہ آپ ہی نے مفسدین کو راضی کرکے واپس کیا تھا ؛لیکن جب دوسری مرتبہ وہ پھر لوٹے تو مروان کی غداری نے ان کی آتش غیظ و غضب کو اس قدر بھڑکا دیا تھا کہ کسی قسم کی سفارش کار گر نہیں ہوسکتی تھی، ام المومنین ام حبیبہ ؓ نے محاصرہ کی حالت میں عثمان ؓ کے پاس کھانے پینے کا کچھ سامان پہنچانا چاہا،تو مفسدین نے ان کا بھی پاس ولحاظ نہ کیا اور گستاخانہ مزاحمت کی اسی طرح حضرت علی ؓ نے سفارش کی کہ آب ودانہ کی بندش نہ کی جائے تو ان شوریدہ سروں نے نہایت سختی سے انکار کیا، حضرت علی ؓ کو اس کا اس قدر صدمہ ہوا کہ عمامہ پھینک کر اسی وقت واپس چلے آئے، (طبری : ۳۸۰) اورتمام معاملات سے قطع تعلق کرکے عزلت نشین ہوگئے، پھر یہ بھی ملحوظ رکھنا چاہئے کہ اگر حضرت عثمان ؓ محصور تھے تو دوسرے بڑے بڑے صحابہ ؓ بھی آزاد نہ تھے اور مفسدین نے ان لوگوں کی نقل وحرکت پر نہایت سخت نگرانی قائم کردی تھی؛چنانچہ ایک دفعہ حضرت امام حسن نے اپنے پدر گرامی سے عرض کیا کہ اگر آپ میری گذارش پر عمل کرکے محاصرہ کے وقت مدینہ چھوڑدیتے تو مطالبہ قصاص کا جھگڑا آپ کے سر نہ پڑتا،اس وقت جناب امیرنے یہی جواب دیاتھا کہ تمہیں کیا معلوم کہ میں اس وقت آزاد تھا یا مقید۔
البتہ قاتلوں کو سزادینے کا الزام ایک حد تک لائق بحث ہے، اصل یہ ہے کہ اگر قاتل سے مرادوہ اشخاص ہیں جنہوں نے براہ راست قتل میں حصہ لیا تو بے شک انہیں کیفر کردار تک پہنچانا حضرت علی ؓ کا فرض تھا ؛لیکن جیسا کہ پہلے گزرچکا ہے،پوری تفتیش وتحقیقات کے باوجود ان کا سراغ نہ ملا، اگر قاتل کا لفظ تمام محاصرہ کرنے والوں پر مشتمل ہے جیسا کہ امیر معاویہ ؓ وغیرہ کے مطالبہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایک شخص کے قصاص میں ہزاروں آدمیوں کا خون نہیں بہایا جاسکتا تھا اورنہ شریعت اس کی اجازت دیتی تھی، اس بڑی جماعت میں بعض صحابہ کرام اوربہت سے صلحائے روز گار بھی شامل تھے جن کا مطمع نظر صرف طلب اصلاح تھا، ان لوگوں کو قتل کردینا یا امیر معاویہ ؓ کے خنجر انتقام کے نیچے دے دینا صریحاً ظلم تھا۔
امر سوم یعنی محاصرہ کرنے والوں کو قوت بازو بنانے اوران کو بڑے بڑے عہدے دینے کا الزام ایک حد تک صحیح ہے ؛لیکن حضرت علی ؓ اس میں مجبور تھے،اس وقت دنیائے اسلام مین تین فرقے پیدا ہوگئے تھے، شیعۂ عثمان ؓ ، یعنی عثمانی فرقہ جو اعلانیہ جناب امیر ؓ کا مخالف اور اپنی ایک مستقل سلطنت قائم کرنے کا خواب دیکھ رہا تھا،دوسرا گروہ اکابر صحابہ ؓ کا تھا جو اگرچہ حضرت علی ؓ کو برحق سمجھتا تھا؛لیکن اپنے ورع وتقویٰ کے باعث خانہ جنگی میں حصہ لینا پسند نہیں کرتا تھا؛چنانچہ جب حضرت علی ؓ نے مدینہ سے کوفہ کا قصد کیا اور صحابہ کرام سے چلنے کے لئے کہا تو بہت سے محتاط صحابہ نے معذرت کی،حضرت سعد وقاص ؓ نے کہا‘‘مجھے ایسی تلوار دیجئے جو مسلم وکافر میں امتیاز رکھے، میں صرف اسی صورت میں جانبازی کے لئے حاضر ہوں’’ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے کہا، خدا کے لئے مجھے ایک ناپسندیدہ فعل کے لیےمجبورنہ کیجئے، حضرت محمدبن مسلمہ ؓ نے کہا کہ قبل اس کے کہ میری تلوار کسی مسلم کا خون گرائے اس زور سے اسے جبل احد پر پٹک ماروں گا وہ ٹکڑ ٹکڑے ہوجائے گی،حضرت اسامہ بن زید ؓ نے عرض کیا امیر المومنین !مجھے معاف کیجئے میں نے عہد کیا کہ کسی کلمہ گوکے خون سے اپنی تلوار رنگین نہ کروں گا، غرض یہ گروہ عملی اعانت سے قطعی کنارہ کش تھا،تیسرا گروہ شیعان علی ؓ کا تھا جس میں ایک بڑی جماعت ان لوگوں کی تھی جو یا تو خود محاصرہ میں شریک تھے یا وہ ان کے زیر اثر تھے، اس لئے جناب امیر خواہ مخواہ بے رخی کرکے اس بڑی جماعت کو قصداً اپنا دشمن نہیں بنا سکتے تھے، تاہم آپ نے ان لوگوں کو مقرب خاص بنایا جو درحقیقت اس کے اہل تھے،حضرت عماربن یاسر ؓ ایک بلندپایہ صحابی اورمقبول بارگاہ نبوت تھے،محمد بن ابی بکر ؓ خلیفہ اول کے صاحبزادے اورآغوش حیدر ؓ کے تربیت یافتہ تھے، اسی طرح اشترنخعی ایک صالح نیک سیرت اورجاں نثار تابعی تھے۔
غرض اسباب و علل جو بھی رہے ہوں اور ان کی حقیقت کچھ بھی ہو ؛لیکن یہ واقعہ کہ جناب مرتضیٰ کی مسند نشینی کے ساتھ ہی یکایک دنیائے اسلام میں افتراق واختلاف کی آگ بھڑک اُٹھی اورشیرازہ ملی اس طرح بکھر گیا کہ جناب مرتضی ؓ کی سعی اورجدوجہد کے باوجود پھر اوراق پریشاں کی شیرازہ بندی نہ ہوسکی اورروز بروز مشکلات میں اضافہ ہوتا گیا، اوراسلام کے سررشتہ نظام میں فرقہ آرائی اورجماعت بندی کی ایسی گرہ پڑ گئی جو قیامت تک کسی کے ناخن تدبیر سے حل نہیں ہوسکتی۔
اس میں شک نہیں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جب عنان خلافت ہاتھ میں لی تھی تو اس وقت دنیائے اسلام نہایت پر آشوب تھی ؛لیکن دونوں حالتوں میں بین فرق ہے،صدیق اکبرؓ کے سامنے گو مصائب کا طوفان امنڈ رہا تھا؛لیکن یہ کفر وارتدااوراسلام کا مقابلہ تھا، اس لئے سارے مسلمان اس کے مقابلہ میں متحد تھے، کل صحابہ ان کے معین ومددگار تھے ،پھر خود حریف طاقتوں میں ہوا وہوس اورباطل پرستی کی وجہ سے کوئی استقلال نہ تھا اس لئے ان کو زیر کرلینا نسبتاً آسان تھا،اس کے برخلاف جناب امیر کے مقابلہ میں جو لوگ تھے وہ نہ صرف مسلمان تھے ؛بلکہ ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب حرم حضرت عائشہ صدیقہ ؓ، آپ کے پھوبھی زاد اورہم زلف وحواری رسول حضرت زبیر بن العوام ؓ مبشر بالجنۃ صحابی اورغزوہ احد کے سپاہی جن کاآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت میں سارابدن چھلنی ہوگیا تھا اور اس صلہ میں انہیں بارگاہ نبوت سے خیر کا لقب ملا تھا،جیسے اکابر امت تھے ان کے علاوہ امیر معاویہ والی ٔشام جیسے مدبر تھے جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے قرابت داری کا بھی شرف حاصل تھا اور عمروبن العاص فاتح مصر جیسے سیاست دان تھے جن کی اسلام میں بڑی خدمات تھیں اوران میں سے ہر ایک اپنے کو برسرحق سمجھتاتھا ،ساتھ ہی ان کو ایسے جاں نثار ووفاشعار ملے تھے جن کی مثالیں شیعان علی ؓ میں کم تھیں اس لئے ان کے مقابلہ میں حضرت علی ؓ کا عہد برآہونا بہت دشوار تھا۔
حضرت علی ؓ کی سیاسی ناکامی کا ایک بڑا سبب یہ بھی تھاکہ وہ جس زہد واتقاء دینداری امانت،عدل وانصاف کے ساتھ حکومت کرنا چاہتے تھے اورلوگوں کو جس راستہ پر لے جانا چاہتے تھے زمانہ کے تغیر اورحالات کے انقلاب سے لوگوں کے قلوب میں اس کی صلاحیت باقی نہیں رہ گئی تھی، ایک طرف امیر معاویہ ؓ اپنے طرفداروں کے لئے بیت المال کا خزانہ لٹا رہے تھے، دوسری طرف حضرت علی ؓ ایک ایک خر مہرہ کا حساب لیتے تھے،یہی سبب تھا کہ حضرت علی ؓ کے طرفدار اوران کے بعض اعزہ تک دل برداشتہ ہو کر ان سے جدا ہوگئے تھے؛ لیکن بہر حال حق حق ہے اور باطل باطل،باطل کے مقابلہ میں حق کی شکست سے اس کی عظمت میں فرق نہیں آتا، اگر حضرت علی ؓ ایسا نہ کرتے اور سیاسی حیثیت سے وہ کامیاب بھی ہوجاتے تو زہد تقویٰ اوردیانت وامانت کی حیثیت میں وہ ناکام ہی ٹھہرتے، ان کی سیاسی ناکامی کا دوسرا سبب یہ بھی تھا کہ ان کے طرفداروں اورحامیوں میں پورا اتحاد خیال اورکامل خلوص نہ تھا، اس جماعت میں ایک بڑا طبقہ عبداللہ بن سبا کے پیروؤں کا تھا جس کا عقیدہ تھا کہ جناب مرتضٰی ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی ہیں پھر اس خیال نے یہاں تک ترقی کی کہ سبائی فرقہ کے لوگ حضرت علی ؓ کو انسان سے بالاترہستی ؛بلکہ بعض خدا تک کہنے لگے، حضرت علی ؓ نے ان لوگوں کو عبرت انگیز سزائیں دیں ؛لیکن جو وباء پھیل چکی تھی اس کا دورکرنا آسان نہ تھا، اس فرقہ نے مذہب کے علاوہ سیاسی حیثیت سے بھی مسلمانوں کو بڑا نقصان پہنچایا،واقعہ جمل میں ممکن تھا کہ صلح ہوجاتی ؛لیکن اسی جماعت نے پیش دستی کرکے جنگ شروع کردی۔
دوسری جماعت قراء اورحفاظ قرآن کی تھی جو ہرمعاملہ میں قرآن پاک کی لفظی پابندی چاہتی تھی، معنی اورمفہوم سے اس کو چنداں سروکار نہ تھا؛چنانچہ واقعہ تحکیم کے بعد یہی جماعت خارجی فرقہ کی صورت میں ظاہر ہوئی۔
حضرت علی ؓ کے حاشیہ نشینوں میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو درحقیقت جاں نثارووفا شعار تھے ؛لیکن معرکہ صفین میں کامل جدوجہد کے بعد درمقصود تک پہنچ کر غنیم کی چال سے محروم واپس آنا نہایت ہمت شکن واقعہ تھا، اس نے تمام جاں نثاروں کے حوصلے اورارادے پست کردئے تھے،غرض ان تمام مشکلات اورمجبوریوں کے باوجود جناب مرتضیٰ ؓ نے غیر معمولی ہمت واستقلال اورعدیم النظیر عزم وثبات کے ساتھ آخری لمحہ حیات تک ان مشکلات ومصائب کا مقابلہ کرکے دنیا کے سامنے بے نظیر تحمل وسلامت روی کا نمونہ پیش کیا اوراپنی ناکامی کے اسباب کا مشاہدہ کرنے کے باوجود دیانت داری اورشریعت سے سرموتجاوز کرنا پسند نہ فرمایا،اگر آپ تھوڑی سی دنیا داری سے کام لیتے تو کامیاب ہوجاتے ؛لیکن دین ضائع ہوجاتا جس کا بچانا ایک خلیفہ راشد اورجانشین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے پہلا معرکہ اصلی فرض تھا۔
ملکی نظم ونسق
حضرت علی رضی کرم اللہ وجہہ انتظام مملکت میں حضرت عمر ؓ کے نقش قدم پر چلنا چاہتے تھے اور اس زمانہ کے انتظامات میں کسی قسم کا تغیر کرنا پسند نہیں فرماتے تھے،ایک دفعہ نجران کے یہودیوں نے(جن کو فاروق اعظم ؓ نے حجاز سے جلاوطن کرکے نجران میں آبادکرایا تھا) نہایت لجاجت کے ساتھ درخواست کی کہ ان کو پھر اپنے قدیم وطن میں واپس آنے کی اجازت دی جائے، حضرت علی ؓ نے صاف انکار کردیا اور فرمایا کہ عمر ؓ سے زیادہ کون صحیح الرائے ہوسکتا ہے۔
( کتاب الخراج قاضی ابو یوسف ومصنف ابن ابی شیبہ کتاب الغزوات)

عمال کی نگرانی
ملکی نظم ونسق کے سلسلہ میں سب سے اہم کام عمال کی نگرانی ہے،حضرت علی ؓ نے اس کاخاص اہتمام مدنظر رکھا ،وہ جب کسی عامل کو مقرر کرتے تھے تو اس کو نہایت مفیداورگراں بہانصائح کرتے تھے،(کتاب الخراج : ۷۹) وقتا فوقتا عمال وحکام کے طرز عمل کی تحقیقات کرتے تھے، چنانچہ ایک مرتبہ جب حضرت کعب بن مالک ؓ کو اس خدمت پر مامور کیا تو یہ ہدایت فرمائی:
اخرت فی طائفۃ من اصحابک حتی تمر بارض السواد کورۃ فتسالھم عن عمالھم وتنظر فی سیرتھم
تم اپنے ساتھیوں کا ایک گروہ لے کر روانہ ہوجاؤ اور عراق کے ہر ضلع میں پھر و،عمال کی تحقیقات کرو اور ان کی روش پر غائر نظر ڈالو۔’’
عمال کے اسراف اورمالیات میں ان کی بدعنوانیوں کی سختی سے باز پرس فرماتے تھے،ایک دفعہ اردشیر کے عامل مصقلہ نے بیت المال سے قرض لے کر پانچسو لونڈی اورغلام خرید کر آزاد کئے،کچھ دنوں کے بعد حضرت علی ؓ نے سختی کےساتھ اس رقم کا مطالبہ کیا، مصقلہ نے کہا خدا کی قسم عثمان ؓ کے نزدیک اتنی رقم کا چھوڑدینا کوئی بات نہ تھی؛ لیکن یہ تو ایک ایک حبہ کا تقاضہ کرتےہیں اورناداری کے باعث مجبور ہوکر امیر معاویہ ؓ کی پناہ میں چلے گئے،جناب امیر کو معلوم ہوا تو فرمایا:
برحہ اللہ فعل فعل السید وفرفرار العبد وخان خیانۃ الفاجرا ماواللہ لوانہ اقام فعجز ماز دنا علی حبس فان وجدنا لہ شیئا اخذناہ وات لم نقتہ علی مال ترکناہ
خدا اس کا برا کرے اس نے کام تو سید کا کیا ؛لیکن غلام کی طرح بھاگا اورفاجر کی طرح خیانت کی خدا کی قسم اگر وہ مقیم ہوتا تو قید سے زیادہ اس کو سزادیتا اوراگر اس کے پاس کچھ ہوتا تو لیتا ورنہ معاف کردیتا۔’’
اس باز پرس سے آپ کے مخصوص اعزہ واقارب بھی مستثنیٰ نہ تھے، ایک مرتبہ آپ کے چچیرے بھائی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ عامل بصرہ نے بیت المال سے ایک بیش قرار رقم لی، حضرت علی ؓ نے چشم نمائی فرمائی تو جواب دیا کہ میں نے ابھی اپنا پورا حق نہیں لیا ہے؛ لیکن اس عذر کے باوجود وہ خائف ہوکر بصرہ سے مکہ چلے گئے۔
(ایضاً :۳۴۵۳)

صیغۂ محاصل
حضرت علی ؓ نے محاصل کے صیغہ میں خاص اصلاحات جاری کیں، آپ سے پہلے جنگل سے کسی قسم کا مالی فائدہ نہیں لیا جاتا تھا، آپ کے عہد میں جنگلات کو بھی محاصل ملکی کے ضمن میں داخل کیا گیا؛چنانچہ برص کے جنگل پر چار ہزار درہم مالگذاری تشخیص کی گئی۔( کتاب الخراج ص ۵۰)
عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں گھوڑے زکوٰۃ سے مستثنیٰ تھے؛لیکن عہد فاروقی میں جب عام طورسے اس کی تجارت ہونے لگی تو اس پر بھی زکوٰۃ مقرر کردی ،حضرت علی ؓ کے نزدیک تمدنی اورجنگی فوائد کے لحاظ سے گھوڑوں کی افزائش نسل میں سہولت بہم پہنچانا ضروری تھا اس لئے آپ نے اپنے زمانہ میں زکوٰۃ موقوف کردی،(کتاب الخراج : ۵۰) گو آپ محاصل ملکی وصول کرنے میں نہایت سخت تھے ؛لیکن اسی کےساتھ رعایا کی فلاح وبہبود کا بھی خاص خیال رکھا تھا؛چنانچہ معذور اورنادار آدمیوں کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں کی جاتی تھی۔
( ایضاً : ۴۴)

رعایا کی ساتھ شفقت
حضرت علی ؓ کا وجود رعایا کے لئے سایۂ رحمت تھا، بیت المال کے دروازے غرباء اورمساکین کے لئے کھلے ہوئے تھے اور اس میں جو رقم جمع ہوتی تھی نہایت فیاضی کے ساتھ مستحقین میں تقسیم کردی جاتی تھی،ذمیوں کے ساتھ بھی نہایت شفقت آمیز برتاؤ تھا،ایران میں مخفی سازشوں کے باعث بارہا بغاوتیں ہوئیں؛ لیکن حضرت علی ؓ نے ہمیشہ نہایت ترحم سےکام لیا،یہاں تک کہ ایرانی اس لطف وشفقت سے متاثر ہوکر کہتے تھے،خدا کی قسم! اس عربی نے نوشیرواں کی یاد تازہ کردی۔
فوجی انتظامات
حضرت علی ؓ خود ایک بڑے تجربہ کار جنگ آزما تھے اورجنگی امور میں آپ کو پوری بصیرت حاصل تھی، اس لئے اس سلسلہ میں آپ نے بہت سے انتظامات کئے؛چنانچہ شام کی سرحد پر نہایت کثرت کے ساتھ فوجی چوکیاں قائم کیں،۴۰ھ میں جب امیر معاویہ ؓ نے عراق پر عام یورش کی تو پہلے انہی سرحدی فوجوں نے ان کو آگے بڑھنے سے روکا،اسی طرح ایران میں مسلسل شورش اوربغاوت کے باعث بیت المال،عورتوں اوربچوں کی حفاظت کے لئے نہایت مستحکم قلعے بنوائے،اصطخر کا قلعہ حصن زیاد اسی سلسلہ میں بنا تھا، (طبری : ۳۴۵) جنگی تعمیر کے سلسلہ میں دریائے فرات کا پل بھی جو معرکہ صفین میں فوجی ضروریات کے خیال سے تعمیرکیاتھا لائق ذکر ہے۔
مذہبی خدمات
امام وقت کا سب سے اہم فرض مذہب کی اشاعت،تبلیغ اورخود مسلمانوں کی مذہبی تعلیم وتلقین ہے،حضرت علی ؓ عہد نبوت ہی سے ان خدمات میں ممتاز تھے؛چنانچہ یمن میں اسلام کی روشنی ان ہی کی کوشش سے پھیلی تھی،سورہ ٔبرأۃ نازل ہوئی تو اس کی تبلیغ واشاعت کی خدمت بھی ان ہی کے سپرد ہوئی۔
مسند خلافت پر قدم رکھنے کے بعد سے آخروقت تک گوخانہ جنگیوں نے فرصت نہ دی تاہم اس فرض سے بالکل غافل نہ تھے، ایران اورآرمینیہ میں بعض نو مسلم عیسائی مرتد ہوگئے تھے حضرت علی ؓ نے نہایت سختی کے ساتھ ان کی سرکوبی کی اور ان میں سے اکثر تائب ہو کر پھر دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔
خارجیوں کی سرکوبی اوران سبائیوں کو جو شدت غلو میں جناب مرتضیٰ ؓ کو خدا کہنے لگے تھے،سزادینے میں بھی دراصل مذہب کی ایک بڑی خدمت تھی۔
حضرت علی ؓ نے مسلمانوں کی اخلاقی نگرانی کا بھی نہایت سختی کے ساتھ خیال رکھا،مجرموں کو عبرت انگیز سزائیں دیں،جرم کی نوعیت کے لحاظ سے نئی سزائیں تجویز کیں جو ان سے پہلے اسلام میں رائج نہ تھیں، مثلاً زندہ جلانا،مکان مسمارکرادینا،چوری کے علاوہ دوسرے جرم میں بھی ہاتھ کاٹنا وغیرہ؛لیکن اس سے قیاس نہیں کرنا چا ہئے کہ حضر ت علی ؓ حدود کے اجر ا ءمیں کسی اصول کے پابند نہ تھے، زندہ جلادینے کی سزا صرف چند زندیقوں کو دی تھی؛ مگر جب حضرت ابن عباس ؓ نے آپ کو بتایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سزا کی ممانعت فرمائی ہے تو آپ نے اس فعل پر ندامت ظاہر کی،(ترمذی حدود مرتد) شراب نوشی کی سزا میں کوڑوں کی تعداد متعین نہ تھی،حضرت علی ؓ نے اس کے لئے اسی کوڑے تجویز کئے۔
(کتاب الخراج : ۹۹ اور سنن ابی داؤد کتاب الحدود)

درے مارنے والوں کو ہدایت تھی کہ چہرہ اورشرمگاہ کے علاوہ تمام جسم پر کوڑا مارسکتے ہیں، عورتوں کے لئے حکم تھا کہ ان کو بٹھا کر سزادیں اورکپڑے سے تمام جسم کو اس طرح چھپادیں کہ کوئی عضو بے ستر نہ ہونے پائے،اسی طرح رجم کی صورت میں ناف تک زمین میں گاڑ دینا چاہیے۔
(کتاب الخراج : ۹۸)

اقرار جرم کی حالت میں صرف ایک دفعہ کا اقرار کافی نہ سمجھتے تھے؛چنانچہ ایک مرتبہ ایک شخص نے حاضر ہوکر عرض کیا امیر المومنین! میں نے چوری کی ہے،حضرت علی ؓ نے غضب آلود نگاہ ڈال کراس کو واپس کردیا؛لیکن جب اس نے پھر مکرر حاضر ہوکر اقرار جرم کیا تو فرمایا اب تم نے اپنا جرم آپ ثابت کردیا اوراس وقت اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔
(ایضاً : ۱۰۳)

تنہا جرم کا ارادہ اوراس کے لئے اقدام بغیر جرم کئے ہوئے مجرم بنانے کے لئے کافی نہیں ہے؛چنانچہ ایک شخص نے ایک مکان میں نقب لگائی اورچوری کرنے سے قبل پکڑلیا گیا،حضرت علی ؓ کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے اس پر کسی قسم کی حدجاری نہیں کی،
(کتاب الخراج : ۱۰۴)

جو عورتیں ناجائز حمل سے حاملہ ہوتی تھیں، ان پر حد جاری کرنے کے لئے وضع حمل کا انتظار کیا جاتا تھا تاکہ بچہ کی جان کو نقصان نہ پہنچے، جس کا کوئی گناہ نہیں ہے۔
عام قیدیوں کو بیت المال سے کھانا دیا جاتا تھا ؛لیکن جو لوگ محض اپنے فسق وفجور کے باعث نظر بند کئے جاتے تھے، وہ اگر مالدار ہوتے تھے تو خود ان کے مال سے ان کے کھانے پینے کا انتظام کیا جاتا تھا، ورنہ بیت المال سے مقرر کردیا جاتا تھا۔
(ایضاً : ۱۰۰)

تعزیزی سزا
حضرت علی ؓ نے جو بعض غیر معمولی سزائیں تجویز کیں وہ دراصل تعزیزی سزائیں تھیں،حضرت عمرؓ نے بھی اس قسم کی سزائیں جاری کی تھیں؛چنانچہ ان کے عہد میں ایک شخص نے رمضان میں شراب پی تو اسی کوڑوں کے بجائے سوکوڑے لگوائے،کیونکہ اس نے بادہ نوشی کے ساتھ رمضان کی بھی بےحرمتی کی تھی۔[/size]