نتائج کی نمائش 1 تا: 3 از: 3

موضوع: فضائل ومناقب حضرت علی ؓ

  1. #1
    ناظم
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,307
    شکریہ
    0
    50 پیغامات میں 68 اظہار تشکر

    فضائل ومناقب حضرت علی ؓ

    [size=x-large]فضل وکمال
    حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو بچپن ہی سے درسگاہ نبوت میں تعلیم وتربیت حاصل کرنے کا موقع ملا جس کا سلسلہ ہمیشہ قائم رہا،مسند میں خود ان سے روایت ہے کہ میں روزانہ صبح کو معمولاً آپ کی خدمت میں حاضر ہواکرتا تھا،(کتاب الخراج : ۸۵) اورتقرب کا درجہ میرے سوا کسی اور کو خاص نہ تھا،(ایضاً : ۸۵)ایک روایت سے ثابت ہوتا ہے کہ رات دن میں دوبار اس قسم کا موقع ملتا تھا،(مسند جلد اول : ۱۴۶)اکثر سفر میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کا شرف حاصل ہوتا تھا اوراس سلسلہ میں سفر سے متعلق شرعی احکام سے واقف ہونے کا موقع ملتا تھا، ایک مرتبہ شریح بن ہانی نے حضرت عائشہ ؓ سے "مسح علی الخفین”کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے اس کے لئے حضرت علی ؓ کا نام بتایا اوراس کی وجہ یہ بیان کی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے،( ازالۃ الخفاء ج اول : ۸۳) شاہ ولی اللہ صاحب نے ازالۃ الخلفاء میں بارگاہ رسالت میں جناب امیر کے اس تقرب وتربیت کو ان کے فضائل کی اصلی بنیاد قراردیا ہے؛چنانچہ امام احمد بن حنبل ؒکی ایک روایت نقل کرکے جس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت علی ؓ کے جس قدر فضائل مذکور ہیں،کسی صحابی کے نہیں ہیں، اس کی تشریح یہ کی ہے:
    "عبد ضعیف گوید سبب ایں معنی اجتماع دوجہت است،درمرتضی ؓ یکے رسوخ اودرسوابق اسلامیہ ،دوم قرب قرابت اوبآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وآں جناب علیہ الصلوٰۃ والسلام اوصل ناس بارحام واعرف ناس بحقوق قرابت بودندباز چوں عنایت الہی مساعدت نمود، حضرت مرتضیٰ رادرکنارِ تربیت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم انداخت مرتبہ قرابت دربالاشدوکرامت دیگر درکار اوکردند ؓ بازچوں حضرت فاطمہ زہرا ؓ عقدااودادند مزید فضیلت بادیارشد"۔
    ( ایضاً ج۲ : ۲۲۰)

    آپ کے تقرب واختصاص کی بنا پر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے تھے،(مسند ج ا : ۸۳) بعض موقعوں پر قرآن مجید کی آیتوں کی تفسیر بھی فرماتے تھے،(ایضاً : ۸۵) چند مخصوص حدیثیں بھی قلمبند کرلی تھیں،(ایضاً : ۷۹) غرض حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ابتداہی سے علم و فضل کے گہوارہ میں تربیت پائی تھی اس لئے صحابہ کرام میں آپ غیر معمولی تجربہ اورفضل وکمال کے مالک اور”انامدینۃ العلم وعلی بابھا"( میں علم کا گھر اور علی اس کا دروازہ ہیں) کے طغرائے خاص سے ممتاز ہوئے۔
    ( جامع ترمذی مناقب علی مرتضی ؓ میں ہے”انا دارالحکمۃ وعلی بابھا”لیکن امام ترمذی نے اس کو منکر کہا ہے،حاکم نے مستدرک ج ۳ : ۴۹۲، اس روایت کے متعلق متعدد راویوں کو جمع کیا ہے اور اس کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ؛لیکن امام ذہبی نے ان کے صحیح کہنے کو تسلیم نہیں کیا ہے)
    نوشت وخواند کی تعلیم آپ نے بچپن ہی میں حاصل کی تھی؛چنانچہ ظہور اسلام کے وقت جبکہ آپ کی عمر بہت کم تھی آپ لکھنا پڑھنا جانتے تھے،(فتوح البلدان بلاذری : ۴۷۷) اسی لئے ابتداء ہی سے بعض دوسرے صحابہ کی طرح آپ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تحریری کام انجام دیتے تھے؛چنانچہ کاتبان وحی میں آپ کا بھی نام ہے،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو مکاتیب وفرامین لکھے جاتے تھے ان میں بعض آپ کے دست مبارک کے لکھے ہوئے تھے؛چنانچہ حدیبیہ کا صلح نامہ آپ ہی نے لکھا تھا۔
    تفسیر اور علوم القرآن
    اسلام کے علوم ومعارف کا اصل سرچشمہ قرآن پاک ہے،حضرت علی مرتضیٰ ؓ اس سرچشمہ سے پوری طرح سیراب اوران صحابہ میں تھے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں نہ صرف پورا قرآن زبانی یاد کرلیا تھا ؛بلکہ اس کی ایک ایک آیت کے معنی اورشان نزول سے واقف تھے، ابن سعد میں ہے کہ ایک موقع پر خود آپ نے اس کا اظہار فرمایا کہ میں ہر آیت کے متعلق بتاسکتا ہوں کہ یہ کہاں اورکیوں اورکس کے حق میں نازل ہوئی،( ابن سعد جرثانی قسم ثانی : ۱۰۱)چنانچہ حضرت علی ؓ کا شمار مفسرین کے اعلیٰ طبقہ میں ہے اور صحابہ میں حضرت ابن عباس ؓ کے سوا اس کمال میں آپ کا کوئی شریک نہیں ہے؛چنانچہ ان تمام تفسیروں میں فن کا مدار روایتوں پر ہے،مثلاً ابن جریر طبری ،ابن ابی حاتم، ابن کثیروغیرہ میں بکثرت آپ کی روایت سے آیات کی تفسریں منقول ہیں،ابن سعد میں ہے کہ آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے چھ مہینے تک جو گوشہ نشینی اختیار کی اس میں آپ نے قرآن مجید کی تمام سورتوں کو نزول کی ترتیب سے مرتب کیا تھا، ابن ندیم نےکتاب الفہر ست میں سورتوں کی اس ترتیب کو نقل کیا ہے۔
    قرآن پاک سے اجتہاد اورمسائل کے استنباط میں آپ کو یدطولیٰ حاصل تھا چنانچہ تحکیم کے مسئلہ میں خوارج نے اعتراض کیا کہ فیصلہ کا حق خدا کے سوا اورکسی کو حاصل نہیں ان الحکم الا للہ، تو آپ نے قرآن کے تمام حفاظ اوراس کے عالموں کو جمع کرکے فرمایا کہ میاں بیوی میں جب اختلاف رائے ہو تو اللہ تعالی حکم بنانے کی اجازت دے وان خفتم شقاق بینھما فابعثواحکما من اھلہ وحکما من اھلھا(النساء:۳۵)، اورامت محمدیہ میں جب اختلاف رائے ہوجائے تو حکم بنانا ناجائز ہو؟ کیا تمام امت محمدیہ کی حیثیت ایک مرد اور ایک عورت سے بھی خدا کی نگاہ میں کم ہے۔
    (مسند ابن حنبل ج اول : ۸۶)

    علم ناسخ اورمنسوخ میں آپ کو کمال حاصل تھا اوراس کو آپ بڑی اہمیت دیتے تھے اورجن لوگوں کو اس میں درک نہ ہوتا، ان کو درس وعظ سے روک دیتے تھے؛چنانچہ کوفہ میں جامع مسجد میں جو شخص وعظ وتذکیر کرنا چاہتا تھا، اس سے پہلے آپ دریافت فرماتے تھے کہ تم کو ناسخ و منسوخ کا بھی علم ہے، اگر وہ نفی میں جواب دیتا تو اس کو زجر وتوبیخ فرماتے تھے اور درس ووعظ کی اجازت نہ دیتے۔
    آیات کی تفسیر و تاویل کے متعلق آپ سے اس کثرت سے روایتیں ہیں کہ اگر ان کا استقصا کیا جائے توایک ضخیم کتاب تیار ہوجائے اسی لئے یہاں ان کو نقل کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ۔
    بعض لوگوں کا خیال تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی ؓ کو ان ظاہری علوم کے علاوہ کچھ خاص باتیں اوربھی بتائی ہیں، ان کے شاگردوں نے ان سے پوچھا کہ کیا قرآن کے سوا کچھ اوربھی آپ کے پاس ہے؟فرمایا قسم ہے اس کی جو دانہ کو پھاڑ کر درخت اُگاتا ہے اورجو جان کو (جسم کے اندر)پیداکرتا ہے،قرآن کے سوا میرے پاس کچھ اورنہیں ؛لیکن قرآن کے سمجھنے کی قوت(فہم) یہ دولت خدا جس کو چاہے دے،(صحیح بخاری کتاب الدیات حنبل ج اول : ۷۹، ۱۰۰)ان کے علاوہ چند حدیثیں میرے پاس ہیں، اس موقع میں حضرت علی ؓ نے جو قسم کھائی ہے اس میں بھی ایک خاص نکتہ ہے یعنی قرآن کی آیتوں کی مثال تخم اورجسم کی ہے اور اس کے معنی ومقصود کی مثال درخت کی ہے جو اس تخم سے پیدا ہوتا ہے اورجان کی ہے جو جسم میں پوشیدہ رہتی ہے،یعنی جس طرح ایک چھوٹے سے تخم نے اتنا بڑا عظیم الشان درخت پیدا ہوجاتا ہے جو درحقیقت اس کے اندر مخفی تھا اور روح سے جو جسم میں چھپی رہتی ہے، تمام اعمال انسانی کا ظہور ہوتا ہے، اسی طرح قرآن پاک کے الفاظ سے جو بمنزلہ جسم کے ہیں ،معنی ومطالب نکلتے ہیں۔
    علم حدیث
    جناب مرتضیٰ ؓ بچپن سے لے کر وفاتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم تک تیس سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ورفاقت میں بسر کئے،اس لئے حضرت ابوبکر ؓ کو چھوڑ کر اسلام کے احکام وفرائض اورارشادات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے عالم آپ ہی تھے،پھر تمام اکابر صحابہ ؓ میں وفاتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے زیادہ آپ نے عمر پائی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تقریبا تیس برس تک ارشادات وافادات کی مسند پر جلوہ گر رہے، خلفائے ثلاثہ کے عہد میں بھی یہ خدمت آپ ہی کے سپرد رہی، ان کے بعد خود آپ کے زمانہ خلافت میں بھی یہ فیض بدستور جاری رہا اس لئے تمام خلفاء میں احادیث کی روایت کا زمانہ آپ کو سب سے زیادہ ملا، اسی لئے خلفائے سابقین کے مقابلہ میں آپ کی روایتوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے؛لیکن احادیث کی روایت میں آپ بھی اپنے پیشتر خلفاء اوراکابر صحابہ کی طرح محتاط اور متشدد تھے، اس لئے دوسرے کثیر الروایۃ صحابہ کے مقابلہ میں آپ کی روایتیں بہت کم ہیں؛چنانچہ آپ سے کل ۵۸۶ حدیثیں مروی ہیں جن میں سے بیس حدیثوں پر بخاری ومسلم دونوں کا اتفاق ہے اور ۹ حدیثیں صرف بخاری میں ہیں مسلم میں نہیں ہیں اوردس حدیثیں مسلم میں ہیں بخاری میں نہیں ہیں، غرض صحیحین میں آپ کی کل ۳۹ حدیثیں ہیں۔
    آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ اپنے رفقاء اورہمعصروں میں حضرت ابوبکر ؓ، حضرت عمر ؓ، حضرت مقداد بن الاسود ؓ اپنی حرم محترم حضرت فاطمہ زہرا ؓ سے روایتیں کی ہیں، آپ کی عترت مطہرہ اوراولاد امجاد میں حضرت حسن ؓ، حضرت حسین ؓ ،محمد بن حنفیہ، عمر، فاطمہ (صاحبزادے اورصاحبزادیاں)محمد بن عمر بن علی، علی بن حسین بن علی ؓ(پوتے) عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب(بھتیجے) جعدہ بن ہبیرہ مخزوی(بھانجے)عام اصحاب میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ،براء بن عازب ؓ، ابوہریرہ ؓ، ابو سعید خدری ؓ، بشیر بن شحیم غفاری ؓ، زید بن ارقم ؓ، سفینہ مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، صہیب رومی ؓ، ابن عباس ؓ، ابن عمر ؓ، ابن زبیر ؓ،عمرو بن حریث ؓ ، نزال بن سبرہ ؓ، ہلال ؓ، جابر بن سمرہ ؓ ،جابر بن عبداللہ ؓ، ابو حجیفہ ؓ،ابوامامہ ؓ، ابولیلیٰ انصاری ؓ، ابوموسی رسی ؓ، مسعود بن حکم زرقی ؓ، ابوالطفیل ؓ، عامرین واثلہ ،عبید اللہ بن ابی رافع(کاتب) اورام موسیٰ ؓ(جاریہ)۔
    تابعین میں زربن جیش، زید بن وہب، ابوالاسود وئلی ،حارث بن سوید التمیمی،حارث بن عبداللہ الاعور، حرملہ مولیٰ بن زید ؓ، ابوساسان حفین بن منذرالرقاشی ،جحیہ بن عبداللہ الکندی، ربعی بن حرابش، شریح بن ہانی، شریح بن النعمان الصائدی، ابووائل شقیق بن سلمہ، شیث بن ربیعی، سوید بن غفلہ،عاصم بن ضمرہ،عامر بن شراحیل الشعبی، عبداللہ بن سلمہ مرادی، عبداللہ بن شداد بن الہاد، عبداللہ بن شقیق، عبداللہ بن معقل بن مقرن، عبد خیر بن یزید المرانی، عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ،عبیدہ سلیمانی ،علقمہ بن قیس النخعی، عمیر بن سعید النخعی، قیس بن عباد البصری، مالک بن اوس بن حدثان، مروان بن حکم اموی، مطرف بن عبداللہ ابن شخیر، نافع بن جبیربن مطعم، ہانی بن ہانی ،یزید بن شریک التمیمی ،ابوبردہ بن ابی الموسیٰ الاشعری،ابوحیہ وادعی، ابوالخلیل الحضرمی، ابو صالح الحضرمی، ابو الصالح الحنفی، ابوعبدالرحمن السلمی، ابو عبیدہ مولی ابن ازہرا، ابوالہیاج الاسدی وغیرہ(یہ فہرست تہذیب التہذیب سے منقول ہے) نے آپ سے فیض پایا ہے۔
    حضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے حضرت علی مرتضیٰ ؓ کی تمام حدیثوں پر ایک اجمالی نظر ڈالی ہے اس میں وہ لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حلیہ اقدس، آپ کی نماز ومناجات ودعاونوافل کے متعلق سب سے زیادہ روایتیں حضرت علی ؓ ہی سے ہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہر وقت رفاقت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں رہتے تھے اور ان کو عبادتوں سے خاص شغف تھا۔
    (ازالۃ الخفاء : ۲۵۵)

    احادیث کو قلمبند کرنے کا شرف جن چند صحابہ کو حاصل ہے ان میں حضرت علی مرتضیٰ ؓ بھی داخل ہیں، فہم قرآن کےسلسلہ میں جو روایت اوپرگزری ہے اس میں چند حدیثوں کا ذکر ہے،یہ وہی ہیں جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سن کر آپ نے ایک لمبے کاغذ پر لکھ لیا تھا، یہ تحریر لپٹی ہوئی آپ کی تلوار کی نیام میں لٹکی رہتی تھی، اس کا نام آپ نے صحیفہ رکھا تھا،اس صحیفہ کا ذکر حدیث کی کتابوں میں آتا ہے،یہ حدیثیں چند فقہی احکام سے متعلق تھیں۔
    (صحیح بخاری کتاب العلم باب کتاتہ العلم ج ۲ وکتاب الاعتصام ومسند ابن حنبل ج ۱ : ۷۰۹)

    فقہہ واجتہاد
    حضرت علی مرتضیٰ ؓ کو فقہ واجتہاد میں بھی کامل دستگاہ حاصل تھی، ؛بلکہ علم واطلاع کی وسعت سے دیکھا جائے تو آپ کی مستحضرانہ قوت سب سے اعلی ماننی پڑے گی، بڑے بڑے صحابہ یہاں تک کہ حضرت عمرؓ اورحضرت عائشہ ؓ کو بھی کبھی کبھی حضرت علی ؓ کے فضل وکمال کا ممنون ہونا پڑتا تھا۔
    فقہ واجتہاد کے لئے کتاب وسنت کے علم کے ساتھ سرعت فہم، دقیقہ سنجی، انتقال ذہنی کی بڑی ضرورت ہے اورحضر ت علی مرتضیٰ ؓ کو یہ کمالات خداداد حاصل تھے،مشکل سے مشکل اورپیچیدہ سے پیچیدہ مسائل کی تہہ تک آپ کی نکتہ رس نگاہ آسانی سے پہنچ جاتی تھی، شاہ ولی اللہ صاحب نے ازالۃ الخفاء میں آپ کی طباعی اورانتقال ذہنی کے بہت سے واقعات نقل کئے ہیں ؛لیکن ہم طوالت کے خوف سے ان کو نظر انداز کرتے ہیں، مثلاً ایک واقعہ یہ ہے:
    ایک مرتبہ حضرت عمر ؓ کے سامنے ایک مجنون زانیہ عورت پیش کی گئی، حضرت عمر ؓ نے اس پر حدجاری کرنے کا ارادہ کیا، حضرت علی ؓ نے فرمایا یہ ممکن نہیں کہ مجنون حدود شرعی سے مستثنیٰ ہیں، یہ سن کر حضر عمر ؓ اپنے ارادہ سے باز آگئے۔
    ( مسند ابن حنبل ج ۱ : ۱۴۰)

    ایک دفعہ حج کے موسم میں حضرت عثمان ؓ کے سامنے کسی نے شکار کا گوشت پکا کر پیش کیا، لوگوں نے احرام کی حالت میں اس کے کھانے کے جواز اورعدم جواز میں اختلاف کیا، حضرت عثمان ؓ اس کے جواز کے قائل تھے، انہوں نے کہا حالت احرام میں خود شکار کرکے کھانا منع ہے؛لیکن جب کسی دوسرے غیر محرم نے شکار کیاہے تو اس کے کھانے میں کیا حرج ہے؟دوسروں نے اس سے اختلاف کیا،حضرت عثمان ؓ نے دریافت کیا کہ اس مسئلہ میں قطعی فیصلہ کس سے معلوم ہوگا؟ لوگوں نے حضرت علی ؓ کا نام لیا؛چنانچہ انہوں نے ان سے جاکر دریافت کیا،حضرت علی ؓ نے فرمایا جن لوگوں کو یہ واقعہ یاد ہو وہ شہادت دیں کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام کی حالت میں تھے ،ایک گورخرشکار کرکے پیش کیا گیا تھا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہم لوگ تو احرام کی حالت میں ہیں یہ ان کو کھلادو جواحرام میں نہیں ہیں، حاضرین میں سے بارہ آدمیوں نے شہادت دی، اسی طرح آپ نے ایک دوسرے واقعہ کا ذکر کیا جس میں کسی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حالت احرام میں شتر مرغ کے انڈے پیش کئے تھے توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کھانے سے بھی احتراز فرمایا تھا، اس کی بھی کچھ لوگوں نے گواہی دی، یہ سن کر حضرت عثمان ؓ اور ان کے رفقاء نے اس کے کھانے سے پرہیز کیا۔(مسند امام ابی عبداللہ احمد بن حنبل ج ۱ : ۱۰۰ فقہاء میں یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے،بہت سے لوگ حضرت عثمان ؓ کے استدلال کو صحیح سمجھتے ہیں اوردیگراحادیث سے بھی اسکا ثبوت ملتا ہے، بہرحال حضرت علی ؓ کا فتویٰ زیادہ محتاطا نہ ہے اس لئے حضرت عثمان ؓ نے اس کو قبول کرلیا)
    ایک دفعہ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے کسی نے یہ مسئلہ پوچھا کہ ایک بار پاؤں دھونے کے بعد، کتنے دن تک موزوں پر مسح کرسکتے ہیں؟ فرمایا علی ؓ سے جاکردریافت کرو،ان کو معلوم ہوگا کیونکہ وہ سفر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا کرتے تھے؛چنانچہ وہ سائل حضرت علی مرتضیٰ ؓ کے پاس گیا، انہوں نے بتایا کہ مسافر تین دن تین رات تک اور مقیم ایک دن ایک رات تک
    ( مسند ابن حنبل ج۱ : ۹۶ وج ۶ : ۵۵)

    حضرت علی ؓ کے علم اوران کے اجتہادی قوت اوردقت نظر کا اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ ان کے حریف بھی دقیق اور مشکل مسائل میں ان کی طرف رجوع کرنے کے لئے مجبور ہوتے تھے؛چنانچہ ایک دفعہ امیر معاویہ ؓ نے لکھ کر دریافت کیا کہ خنثی مشکل کی وراثت کی کیا صورت ہے؟ یعنی وہ مرد قرار دیا جائے یا عورت؟ حضرت علی ؓ نے فرمایا خدا کا شکر ہے کہ ہمارے دشمن بھی علم دین میں ہمارے محتاج ہیں،پھر جواب دیا کہ پیشاب گاہ سے اندازہ کرنا چاہئے کہ وہ مرد ہے یا عورت؟
    (تاریخ الخلفاء بحوالہ سنن سعد بن منصور مسند ہشیم)

    فقہی مسائل میں حضرت علی ؓ کی وسعتِ نظر کی ایک وجہ یہ تھی ہے کہ آپ جو بات نہیں جانتے تھے اس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کرتے تھے بعض ایسے مسائل جو شرم وحیا اوراپنے رشتہ کی نزاکت کے باعث خود براہ راست نہیں پوچھ سکتے تھے اس کو کسی دوسرے کے ذریعہ سے پوچھوالیتے تھے؛چنانچہ مذی کا ناقص وضو ہونا آپ نے اسی طرح بالواسطہ دریافت کرایا تھا۔
    حضرت علی ؓ اپنے علم وکمال کی بناء پر متعدد مسائل میں عام صحابہ سے مختلف رائے رکھتے تھے،خصوصا ًحضرت عثمان ؓ سے بعض خاص مسائل میں زیادہ اختلاف تھا مثلاً حضرت عثمان حج تمتع کو جائز نہیں سمجھتے تھے اورفرماتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں یہ صرف لڑائی اوربے امنی کی وجہ سے جائز تھا، اب وہ حالت نہیں ہے اس لئے اب جائز نہیں ہے،حضرت علی رضی اللہ اوردوسرے صحابہ ہر حال میں جائز سمجھتے تھے، اسی طرح حالت احرام میں نکاح اورحالت عدت میں عورت کی وراثت وغیرہ کے مسائل میں بھی اختلاف تھا۔
    حضرت علی رضی مرتضیٰ ؓ گوتمام عمر مدینہ منورہ میں رہے ؛لیکن آپ کی خلافت کا زمانہ تمام تر کوفہ میں گزرا اوراحکام اورمقدمات کے فیصلے کا زیادہ موقع نہیں پیش آیا اس لئے آپ کے مسائل واجتہادات کی زیادہ تراشاعت عراق میں ہوئی، اسی بنا پر حنفی فقہ کی بنیاد حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے بعد حضرت علی مرتضیٰ ؓ کے ہی فیصلوں پر ہے۔
    قضااورفیصلے
    حضرت مرتضیٰ ان ہی خصوصیات کی بنا پر مقدمات کے فیصلوں اورقضا کے لئے نہایت موزوں تھے اور اس کو صحابہ عام طورسے تسلیم کرتے تھے،حضرت عمرؓ فرمایاکرتے تھے کہ"اقضانا علی واقرأنا ابی"یعنی ہم میں مقدمات کے فیصلے کے لئے سب سے موزوں علی ہیں اور سب سے بڑے قاری ابی ہیں"
    (طبقات ابن سعد ج ۲ قسم ۲ : ۱۰۲)

    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہرشناس نگاہ نے حضرت علی ؓ کی اس استعداد وقابلیت کا پہلے ہی اندازہ کرلیا تھا اورآپ کی زبان فیض ترجمان سے حضرت علی ؓ کو”اقضاھم علی”کی سند مل چکی تھی اورضرورت کے اوقات میں قضا کی خدمت آپ کے سپرد فرماتے تھے؛چنانچہ جب اہل یمن نے اسلام قبول کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کے عہدہ قضاء کے لئے آپ کو منتخب فرمایا، حضرت علی ؓ نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں نئے نئے مقدمات پیش ہوں گے اورمجھے قضا کا تجربہ اورعلم نہیں، فرمایا کہ اللہ تعالی تمہاری زبان کو راہِ راست اور تمہارے دل کو ثبات واستقلال بخشے گا،حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد مقدمات کے فیصلہ میں تذبذب نہ ہوا۔
    (مسند ابن حنبل ج اول : ۸۳ وحاکم ج ۳ : ۱۳۵)

    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو قضاء اورفصل مقدمات کے بعض اصول بھی تعلیم فرمائے؛چنانچہ ایک مرتبہ فرمایا”علی !جب تم دو آدمیوں کا جھگڑا چکا نے لگو تو صرف ایک آدمی کا بیان سن کا فیصلہ نہ کرو، اس وقت تک اپنے فیصلے کو روکو جب تک دوسرے کا بیان بھی نہ سن لو۔
    (مسند ابن حنبل ج اول : ۹۶،۱۴۳)

    مقدمات میں علم یقین کے لئے اہل مقدمہ اورگواہوں سے جرح اوران سے سوالات کرنا بھی آپ کے اصول قضا میں داخل تھا، ایک مرتبہ ایک عورت نے آپ کی عدالت میں اپنی نسبت جرم زنا کا اعتراف کیا، آپ نے اس سےپے درپے متعدد سوالات کئے ،جب وہ آخر تک اپنے بیان پر قائم رہی تو اس وقت سزا کا حکم دیا،( ایضاً : ۱۴۰)اسی طرح لوگوں نے ایک شخص کو چوری کے الزام میں پکڑ کر پیش کیا اور دو گواہ بھی پیش کردیئے آپ نے گواہوں کو دہمکی دی کہ اگر تمہاری گواہی جھوٹی نکلی تو میں یہ سزادوں گا اوریہ کروں گا اوروہ کروں گا،اس کے بعد کسی دوسرے کام میں مصروف ہوگئے، اس سے فراغت کے بعد دیکھا کہ دونوں گواہ موقع پاکر چل دیے،آپ نے ملزم کو بے قصور پاکر چھوڑدیا۔
    (تاریخ الخلفاء بحوالہ مصنف ابن ابی شیبہ)

    یمن میں آپ نے دو عجیب وغریب مقدمات کا فیصلہ کیا،یمن نیا نیا مسلمان ہوا تھا پرانی باتیں بھی تازہ تھیں،ایک عورت کا مقدمہ پیش ہوا، جس سے ایک ماہ کے اندر تین مرد خلوت کرچکے،نوماہ بعد اس کے لڑکا ہوا، اب یہ نزاع ہوئی کہ وہ لڑکا کس کا قراردیاجائے، ہر ایک نے اس کے باپ ہونے کا دعویٰ کیا،حضرت علی ؓ نے یہ فیصلہ کیا کہ اس لڑکے کی دیت کے تین حصے کئے،پھر قرعہ ڈالا جس کے نام قرعہ نکلا، اس کے حوالہ کیا اوربقیہ دونوں کو دیت کے تین حصوں میں سے دوحصے اس سے لیکر دلوادیئے،گویا غلام کے مسئلہ پر اس کو قیاس کیا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حضرت علی ؓ کا یہ فیصلہ سنا توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا۔
    ( مستدرک حاکم ج ۳ : ۱۳۵)

    دوسرا واقعہ یہ پیش آیا کہ چند لوگوں نے شیر پھنسانے کے لئے کنواں کھودا تھا شیر اس میں گرگیا، چند اشخاس ہنسی مذاق میں ایک دوسرے کو دھکیل رہے تھے کہ اتفاق سے ایک کا پیر پھسلا اور وہ اس کنوئیں میں گرا، اس نے اپنی جان بچانے کے لئے بدحواسی میں دوسرے کی کمر پکڑلی وہ بھی سنبھل نہ سکا اورگرتے گرتے اس نے تیسرے کی کمر تھام لی، تیسرے نے چوتھے کو پکڑلیا،غرض چاروں اس میں گرپڑے اورشیرنے چاروں کو مارڈالا،ان مقتولین کے ورثاء باہم آمادہ جنگ ہوئے،حضرت علی ؓ نے ان کو اس ہنگامہ و فساد سے روکا اورفرمایا کہ ایک رسول کی موجودگی میں یہ فتنہ وفساد مناسب نہیں، میں فیصلہ کرتا ہوں، اگر وہ پسند نہ ہو تو دربارِ رسالت میں جا کر تم اپنا مقدمہ پیش کرسکتے ہو،لوگوں نے رضا مندی ظاہرکی، آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ جن لوگوں نے یہ کنواں کھودا،ان کے قبیلوں سے ان مقتولین کے خون بہا کی رقم اس طرح وصول کی جائے کہ ایک پوری، ایک ایک تہائی، ،ایک ایک چوتھائی اورایک آدھی ،پہلے مقتول کے ورثاء کو ایک چوتھائی خوں بہا،دوسرے کو ثلث تیسرے کو نصف اورچوتھے کو پوراخوں بہادلایا۔
    لوگ اس بظاہر عجیب وغریب فیصلہ سے راضی نہ ہوئے اورحجۃ الوداع کے موقع پر حاضر ہوکر اس فیصلہ کا مرافعہ(اپیل) عدالت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں پیش کیا،آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فیصلہ کو برقراررکھا۔
    (مسند ابن حنبل ج اول : ۷۷)

    روایت میں مذکور نہیں کہ یہ فیصلہ کس اصول پر کیا گیا تھا،صرف پہلے شخص کے متعلق اتنا ہے کہ اس کو چوتھائی اس لئے ملا کہ فورا ًاوپر سے گراتھا، ہمارا خیال ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ ؓ اس فیصلہ میں اس اصول کو پیش نظر رکھا ہے کہ یہ حادثے بالقصد قتل اوراتفاقی قتل کے درمیان ہیں، غرض قصد اورعدم قصد کے بیچ کی شکل ہے،اس لئے عدم قصد واتفاق اورقصد وارادہ ان دونوں میں اس کا حصہ جس مقتول میں زیادہ ہے اتنا ہی اس کو کم وبیش دلایا گیا،اس کے بعد وراثت کا اصول پیش نظر رہا، چونکہ یہ معاملہ چار آدمیوں کا تھا اس لئے کم سے کم رقم ایک چوتھائی مقرر کی،اس کے نکل جانے کے بعد تین آدمی رہ گئے تو اس کو تہائیوں پر تقسیم کرکے تیسرا حصہ یعنی ایک تہائی اس کو دلادیا، باقی دو بچے تو دوحصے کرکے نصف تیسرے کا مقرر کیا۔
    اب غور کیجئے کہ اصل جرم ان لوگوں کا تھا جنہوں نے آبادی کے قریب کنواں کھود کر شیر پھنسانے کی غلطی کی تھی، اس لئےکسی متعین قاتل نہ ہونے کے سبب سے قسامت کے اصول سے خوں بہا کو ان کے کھودنے والوں اوران کے ہم قبیلوں پر عائد کیا، پہلا شخص گو اتفاقاً گرا مگر ایک دوسرے کو دکھیلنے کے نتیجہ کو بھی اس میں دخل تھا اس لئے پہلے شخص کے گرنے میں اتفاق کا زیادہ اورقصد کا بہت کم دخل تھا اس لئےوہ خوں بہا کاکم سے کم مستحق ٹھہرا،یعنی ایک چوتھائی پہلے نے دوسرے کو گویا بالقصد کھینچا،مگر غایت بدحواسی میں اس کو اپنے فعل کے نتیجہ کے سوچنے سمجھنے کا موقع نہیں ملا، اس لئے پہلے کے مقابلہ میں اس میں اتفاق کا عنصر کم اورقصد کا کچھ زیادہ ہے، اس لئے وہ تہائی کا مستحق ہوا، دوسرے کو پہلے نتائج کو دیکھ کر اپنے فعل کے نتیجہ کے سوچنے سمجھنے کا موقع زیادہ ملا اس لئے اس میں اتفاق کے مقابلہ میں قصد کا عنصر زیادہ تھا اس لئے اس کو نصف دلایا گیا،تیسرے نے چوتھے کو کھینچا حالانکہ وہ سب سے دور تھا اورگذشتہ نتائج کو تیسرے نے خوب غور سے دیکھ لیا تھا، اس لئے وہ تمام تر قصد وارادہ سے گرایا گیا، نیز یہ کہ اس نے اپنے اپنے رفقاء کی طرح کسی اورکے گرانے کا جرم بھی نہیں کیا اس لئے وہ پوری دیت کا مستحق تھا۔
    (واللہ اعلم)

    ایک اور مقدمہ کا اس سے بھی زیادہ دلچسپ فیصلہ آپ نے فرمایا، دو شخص (غالباًمسافر) تھے، ایک کے پاس تین روٹیاں تھیں اور دوسرے کے پاس پانچ روٹیاں تھیں ،دونوں مل کر ایک ساتھ کھانے کو بیٹھے تھے کہ اتنے میں ایک تیسرا مسافر بھی آگیا،وہ بھی کھانے میں شریک ہوا، کھانے سے جب فراغت ہوئی تو اس نے آٹھ درہم اپنے حصہ کی روٹیوں کی قیمت دے دی اور آگے بڑھ گیا، جس شخص کی پانچ روٹیاں تھیں اس نے سیدھا حساب یہ کیا کہ اپنی پانچ روٹیوں کی قیمت پانچ درہم لی اور دوسرے کو ان کی تین روٹیوں کی قیمت تین درہم دینے چاہے،مگر وہ اس پر راضی نہ ہوا اورنصف کا مطالبہ کیا، یہ معاملہ عدالت مرتضوی میں پیش ہوا،آپ نے دوسرے کو نصیحت فرمائی کہ تمہارا رفیق جو فیصلہ کررہا ہے اس کو قبول کرلو اس میں زیادہ تمہارا نفع ہے؛لیکن اس نے کہا کہ حق تو یہ ہے کہ تم کو صرف ایک درہم اورتمہارے رفیق کو سات درہم ملنے چاہیے، اس عجیب فیصلہ سے وہ متحیر ہوگیا، آپ نے فرمایا کہ تم تین آدمی تھے، تمہاری تین روٹیاں تھیں اور تمہارے رفیق کی پانچ، تم دونوں نے برابر کھائیں اور ایک تیسرے کو بھی برابر کا حصہ دیا، تمہاری تین روٹیوں کے حصے تین جگہ کئے جائیں تو ۹ ٹکڑے ہوتے ہیں، تم اپنے ۹ ٹکڑوں اوراس کے پندرہ ٹکڑوں کو جمع کرو تو ۲۴ ٹکڑے ہوتےہیں، تینوں میں سے ہر ایک نے برابرٹکڑے کھائے اورایک تیسرے مسافر کو دیا اورتمہارے رفیق نے اپنےپندرہ ٹکڑوں میں سے آٹھ خود کھائے اور سات تیسرے کو دیئے، اس لئے آٹھ درہم میں سے ایک کے تم اورسات کا تمہارا رفیق مستحق ہے۔
    (تاریخ الخلفاء سیوطی بروایت زربن حیش)

    کبھی کبھی کوئی لغو مقدمہ پیش ہوتا تو آپ زندہ دلی کا ثبوت بھی دیتے تھے، ایک شخص نے ایک شخص کو یہ کہہ کر پیش کیا کہ اس نے خواب میں دیکھا ہے کہ اس نے میری ماں کی آبروریزی کی ہے، فرمایا ملزم کو دھوپ میں لے جاکر کھڑا کرو،اس کے سایہ کو سوکوڑے مارو۔
    (ایضاً بحوالہ مصنف ابن ابی شیبہ)

    حضرت علی مرتضیٰ ؓ کے فیصلے قانون کے نظائر کی حیثیت رکھتے تھے،اس لئے اہل علم نے ان کو تحریری صورت میں مدون کرلیا تھا مگر اس عہد میں اختلاف آراء اورفرقہ آرائی کا زمانہ شروع ہوچکا تھا اس لئے ان میں تحریف بھی ہونے لگی؛چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے سامنے جب ان کے فیصلوں کا تحریری مجموعہ پیش ہوا تواس میں کے ایک حصہ کو انہوں نے نقلی بتلایا اورفرمایا کہ عقل وہوش کی سلامتی کے ساتھ علی ؓ کبھی ایسا فیصلہ نہیں کرسکتے تھے۔
    ( مقدمہ صحیح مسلم)

    علم اسرار وحکم
    دنیا میں اہل حکمت اورمتکلمین کے دو گروہ ہیں ایک وہ جو اپنی عقل و فہم اور علم کی بنا پر ہر شرعی حکم کی جزئی مصلحتوں پر نگاہ رکھتا ہے اوراس کے اسرار وحکم کی تلاش میں رہتا ہے،دوسرا گروہ وہ ہے جو ایک ایک حکم کے جزئی مصالح سے دلچسپی نہیں رکھتا ؛بلکہ وہ کلی طورپر پوری شریعت پر ایک مبصرانہ نگاہ ڈال کر ایک کلی اصول طے کرلیتا ہے اور اللہ تعالی نے ان احکام میں جزئی مصلحتیں رکھی ہیں، ان کی تلاش اورجستجو کی ضرورت نہیں سمجھتا،صحابہ میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کا مذاق ِعلم پہلی قسم کا اورحضرت علی مرتضیٰ ؓ کا ذوق فکر دوسری قسم کا معلوم ہوتا ہے، ان کی نظر احکام کی نظری کیفیت پر اتنی نہیں پڑتی جتنی ان کی عملی کیفیت پر،اسی لئے کسی حکم کا انسان کی ظاہری عقل کے خلاف ہونا ان کے نزدیک چنداں اہم نہیں کہ انسانی عقل خود ناقص ہے، وہ کسی حکم شرعی کے لئے صحت اورصواب کا معیار نہیں بن سکتی۔
    صحیح بخاری کی تعلیقات میں ہے کہ ایک دفعہ حضرت علی مرتضی ؓ نے فرمایا:
    حدثو الناس بمایعرفون اتحبون ان یکذب اللہ ورسولہ
    (کتاب العلم)

    لوگوں سے وہی کہو جو سمجھ سکتے ہو،کیا تم یہ پسند کرتے ہوکہ خدایاخداکا رسول جھٹلایاجائے۔
    مقصود یہ ہے کہ اگران سے ایسی باتیں کی جائیں جو ان کے فہم سے بالاترہوں تو لامحالہ اپنی کوتاہ عقل سے وہ ان باتوں کو غلط سمجھیں گے اوراس طرح سے وہ نادانستگی میں خدااوررسول کی تکذیب کے جرم کے مرتکب ہوں گے، اس لیے لوگوں سے ان کی عقل کے موافق گفتگو کرنی چاہیے کہ ہر مصالح الہی ہر شخص کی سمجھ میں یکساں نہیں آسکتے ہیں۔
    احکام اورروایات کے الفاظ اگر متعدد معنوں کے متحمل ہوں تو آپ کا یہ فیصلہ ہے کہ ان میں سے وہی معنی صحیح ہوں گے جو رسالت اورنبوت کی شان کے شایان ہوں،مسندابن حنبل کے مطابق اس روایت کے اصل الفاظ یہ ہیں، آپ نے فرمایا:
    اذااحدثتم عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بحدیث فطنوابہ الذی ھوا ھدیٰ والذی ھواتقی والذی ھواھتا۔
    (: ۱۳۰)

    "جب تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو اس کے معنی وہ سمجھو جو زیادہ قرین ھدایت، زیادہ پرہیز گارانہ اورزیادہ بہتر ہوں"
    موزوں پر مسح کرنا سنت ہے؛لیکن یہ مسح نیچے تلوؤں پر نہیں ؛بلکہ اوپر پاؤں پر کیا جاتا ہے،حضرت علی ؓ فرماتےہیں جیسا کہ سنن ابی داؤد میں ہے:
    لوکان الدین باالرای لکان باطن المقدین احق بالمسح من ظاھر ھما وقد مسح النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی اظھر خفیہ۔
    (باب کیف المسح)

    "اگر دینی مسائل کا انحصار محض رائے پرہوتا تو تلوے اوپر کے پاؤں سے زیادہ مسح کے مستحق ہوتے ؛لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے موزوں کی پشت پاپر مسح فرمایا۔"
    حضرت علی مرتضی کا مقصود یہ ہے کہ چلنے کی وجہ سے اگر گردوغبار کے دورکرنے اورصفائی کی غرض سے یہ مسح ہوتا تو نیچے کے تلوؤں پر مسح ہوتا ؛لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نیچے نہیں اوپر مسح فرمایا، اس لیے احکام الہی کے مصالح کی تعیین میں محض ظاہری عقل و رائے کو دخل نہیں ہے۔
    یہی روایت مسند ابن حنبل (جلداول ص ۱۱۴) میں اس طرح ہے کہ آپ نے فرمایا کہ اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسح کرتے ہوئے نہ دیکھتا تو سمجھتا کہ نیچے مسح کرنا اوپر کرنے سے زیادہ بہتر ہے،یعنی ظاہر قیاس کا مقتضیٰ یہی تھا،مگر حکم الہی محض ظاہری قیاس پر مبنی نہیں۔
    تصوف
    اس بیان سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ حضرت علی مرتضی ؓ کو اسرارِ شریعت پر عبورنہ تھا ؛بلکہ ان کا مسلک یہ تھا کہ عوام کے لیے یہ موزوں نہیں ہیں اور یہ بالکل سچ ہے کہ اس سے عوام کے طبائع میں احکام الہی کی اتباع اورپیروی کے بجائے عدم عمل کے لیے حیلہ سازی اورفلسفیانہ بہانہ جوئی پیدا ہوتی ہے،خواص اس فرق کو سمجھتے ہیں اس لیے ان ہی کے لیے یہ علم موزوں ہے؛چنانچہ تصوف جو مذہب کی جان، شریعت کی روح اورجو خاصانِ امت کا حصہ ہے حضرت علی ؓ نے اس کے حقائق و معارف بہت خوبی سے بیان کیے ہیں۔
    تصوف کے اکثر سلسلے سینۂ مرتضی ؓ پر جاکر ختم ہوتے ہیں،حضرت جنید رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے کہ "اصول اورآزمائش وامتحان میں ہمارے شیخ الشیوخ علی مرتضی ہیں، شاہ ولی اللہ صاحب نے ازالۃ الخفاء میں لکھا ہے کہ خلافت سے پہلے حضرت ممدوح کو اس میں بے حد انہماک تھا،مگر خلافت کے بعد اس کی مصروفیت نے ان کو اس فن کی تفصیل بیان کرنے کی فرصت نہ دی۔
    (ازالۃ الخفاء : ۲۷۴)

    محدثین کے اصولِ روایت کے مطابق حضرت علی مرتضی ؓ کے یہ صوفیانہ اقوال پایۂ صحت کو نہیں پہنچتے اورنہ سلسلہ صحبت کی کڑیاں ثابت ہوتی ہیں کہ یہ اکثر سلسلے حضرت حسن بصری ؓ پر جاکر تمام ہوتے ہیں، ان کو حضرت علی مرتضیٰ ؓ کا فیض اورصحبت یافتہ سمجھا جاتا ہے،مگر حضرت حسن بصری ؓ کی صحبت اورتعلیم محدثین کی روایتوں سے ثابت نہیں ہوتی ؛بلکہ امام ترمذی نے تو اس سے بھی انکار کیا ہے کہ انہوں نے بلاواسطہ حضرت علی ؓ سے کچھ سنا بھی ہے،بہرحال اتنا بالاتفاق ثابت ہے کہ انہوں نے حضرت علی مرتضی ٰ ؓ کو خلافت سے پہلے مدینہ میں دیکھا تھا اوران کے دیدار سے مشرف تھے، اوراس وقت ان کی عمر غالبا ۱۴،۱۵ برس کی تھی۔
    تقریر وخطابت
    تقریر وخطابت میں حضرت علی مرتضی ؓ کو خداداد ملکہ حاصل تھا اور مشکل سے مشکل مسائل پر بڑے بڑے مجمعوں میں فی البدیہہ تقریر فرماتے تھے،تقریریں نہایت خطیبانہ مدلل اورمؤثر ہوتی تھیں،؁ ۳۳۹ھ میں جب امیر معاویہ ؓ نے مدافعت کے بجائے جارحانہ طریق عمل اختیار کیا تو جمعہ کے روز اپنی جماعت کو ابھارنے کے لیے جو خطبہ دیا تھا،اس سے زورتقریر اورحسن خطابی کا اندازہ ہوگا۔
    أما بعد، فإن الجهاد باب من أبواب الجنة، من تركه ألبسه الله الذلة وشمله بالصغار، وسيم الخسف وسيل الضيم، وإني قد دعوتكم إلى جهاد هؤلاء القوم ليلا ونهارا وسرا وجهارا، وقلت لكم، اغزوهم قبل أن يغزوكم، فما غزي قوم في عقر دارهم إلا ذلوا واجترأ عليهم عدوهم، هذا أخو بني عامر قد ورد الأنبار، وقتل ابن حسان البكري، وأزال مسالحكم عن مواضعها، وقتل منكم رجالا صالحين، وقد بلغني انهم كانوا يدخلون بيت المرأة المسلمة والأخرى المعاهدة فينزع حجلها من رجلها، وقلائدها من عنقها، وقد انصرفوا موفورين، ما كلم رجل منهم كلما، فلو أن أحدا مات من هذا أسفا ما كان عندي ملوما، بل كان جديرا، يا عجبا من أمر يميت القلوب، ويجتلب الهم ويسعر الأحزان من اجتماع القوم على باطلهم، وتفرقكم عن حقكم، فبعدا لكم وسحقا، قد صرتم غرضا، ترمون ولا ترمون، ويغار عليكم ولا تغيرون، ويعصى الله فترضون، إذا قلت لكم سيروا في الشتاء قلتمكيف نغزو في هذا القر والصر وإن قلت لكم سيروا في الصيف قلتم حتى ينصرم عنا حمارة القيظ، وكل هذا فرار من الموت، فإذا كنتم من الحر والقر تفرون فأنتم والله من السيف أفر، والذي نفسي بيده، ما من ذلك تهربون، ولكن من السيف تحيدون، يا أشباه الرجال ولا رجال، ويا أحلام الأطفال وعقول ربات الحجال، أما والله لوددت أن الله أخرجني من بين أظهركم وقبضني إلى رحمته من بينكم، ووددت أن لم أركم ولم أعرفكم، فقد والله ملأتم صدري غيظا، وجرعتموني الأمرين أنفاسا، وأفسدتم على رأيي بالعصيان والخذلان
    "حمدونعت کے بعد،جہادجنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے جس نے اس کو چھوڑا،خدااس کو ذلت کا لباس پہناتاہے، اوررسوائی کو شاملِ حال کرتا ہے اورذلت کا مزہ چکھایا جاتا ہے اوردشمنوں کی دست درازی میں گرفتار ہوتا ہے،میں نے تم کو شب وروز اعلانیہ اورپوشیدہ،ان لوگوں سے لڑنے کی دعوت دی اورمیں نے کہا کہ اس سے پہلے کہ وہ حملہ کریں میں حملہ کروں،کوئی قوم جس پر اس کے گھر میں آخر حملہ کیا جائے وہ ذلیل ورسوا ہوتی ہے اس کا دشمن اس پر جری ہوتا ہے،دیکھو کہ عامری نے انبار میں آکر ابن حسان بکری کو قتل کردیا، تمہارے مورچوں کو اپنی جگہ سے ہٹا دیا ،تمہاری فوج کے چند نیکوکار بہادروں کو قتل کرڈالا اورمجھے یہ خبر معلوم ہوئی ہے کہ وہ مسلمان اورذمی عورتوں کے گھروں میں گھسنے اوران کے پاؤں سے ان کے پازیب،ان کے گلے سے ان کے ہار اتارلیے، ایک قوم کا باطل پر اجتماع اورتمہارا امرحق سے برگشتہ ہونا کس قدر تعجب انگیز ہے جو دلوں کو مردہ کرتا ہے اورغم ورنج کو بڑھاتا ہے، تمہارے لیے دوری وہلاکت ہو تم نشانہ بن گئے ہو اور تم پر تیر برسایا جاتا ہے ؛لیکن تم خود تیر نہیں چلا سکتے تم پر غارت گری کی جاتی ہے؛لیکن تم غارت گری نہیں کرتے، خداکی نافرمانی کی جاتی ہے اورتم اس کو پسند کرتے ہو، جب تم سے کہتا ہوں کہ موسم سرما میں فوج کشی کرو تم کہتے ہوکہ اس قدر سردی اورپالے میں کس طرح لڑسکتے ہیں اور اگر کہتا ہوں کہ موسم گرما میں چلو تو کہتے ہوکہ گرمی کی شدت کم ہوجائے تب، حالانکہ یہ سب موت سے بھاگنے کا حیلہ ہے،پس تم گرمی سردی سے بھاگتے ہو تو خدا کی قسم! تلوار سے اوربھی بھاگو گے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اس سے نہیں بھاگتے ؛بلکہ تلوار سے جان چراتے ہو،اے مرد نہیں؛بلکہ مرد کی تصویرو! اوراے بچوں اورعورتوں کی سی عقل اورسمجھ رکھنے والو، خداکی قسم میں پسند کرتا ہوں کہ خدا تمہاری جماعت سے مجھے نکال لے جائے اور (موت دے کر) اپنے رحمت نصیب کرے،میری تمنا تھی کہ تم سے جان پہچان نہ ہوتی،خدا کی قسم! تم نے میرا سینہ غیظ وغضب سے بھردیا ہے، تم نے مجھے وہ تلخیوں کے گھونٹ پلائے ہیں اورعصیان ونافرمانی کرکے میری رائے کو برباد کردیا ہے۔"
    آپ کے طرفداروں کے دل اگرچہ پثر مردہ ہوچکے تھے اورقوائے عمل نے جواب دیدیا تھا تاہم اس پر جوش اورولولہ انگیز تقریرنے تھوڑی دیر کے لیے ہلچل پیداکردی اورہرطرف سے پرجوش صداؤں نے لبیک کہا۔
    شریف رضی نے حضرت علی ؓ کے تمام خطبوں کو”نہج البلاغۃ”کے نام سے چار جلدوں میں جمع کردیا ہے اوران پر اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے صحیح لکھا ہے کہ ان خطبوں نے ہزاروں اورلاکھوں آدمیوں کو فصیح و بلیغ مقرر بنادیا؛لیکن نہج البلاغۃ کے تمام خطبوں کا صحیح ہونا ایک مشتبہ امر ہے، کیونکہ ان میں ایسے اصلاحات وخیالات بھی ہیں جو تیسری صدی میں یونانی فلسفہ کے ترجمہ کے بعد سے عربی رائج ہوئے ہیں اور ان میں حضرت علی ؓ کی زبان سے ایسی باتیں بھی ہیں جن کو کوئی صاحب ایمان ان کی طرف منسوب نہیں کرسکتا۔
    شاعری
    جناب مرتضیٰ ؓ کی طرف بہت سے اشعار بھی منسوب ہیں جن میں سے دو، چار احادیث صحیحہ میں بھی مذکور ہیں،مثلاً آپ کا وہ رجز یہ شعر جو معرکۂ خیبر میں آپ نے پڑھا تھا:
    انا الذی سمتنی امی حیدرۃ کلیث غابات کریہ المنظرۃ
    لیکن بہت سے جعلی اشعار بناکر آپ کی طرف منسوب کردیے گئے ہیں؛بلکہ ایک پورا دیوان دیوانِ علی ؓ کے نام سے موجود ہے جس کو افسوس ہے کہ طلباء اورعلماء نہایت شوق سے پڑھتے پڑھاتے ہیں،حالانکہ اس کی زبان اس لائق بھی نہیں کہ کسی عربی شاعر کی طرف منسوب کی جائے،چہ جائیکہ الفصح الفصحاء حضرت علی کرم اللہ وجہہ الشریف کی طرف،حاکم نے مستدرک میں حضرت فاطمۃ زہرا ؓ کے مرثیہ میں آپ کی زبان مبارک سے دوشعر نقل کیے ہیں۔
    علم نحو کی ایجاد
    علم نحو کی بنیاد خاص حضرت علی ؓ کے دست مبارک سے رکھی گئی ہے،ایک دفعہ ایک شخص کو قرآن شریف غلط پڑھتے سنا، اس سے خیال پیدا ہوا کہ کوئی ایسا قاعدہ بنادیا جائے جس سے اعراب میں غلطی واقع نہ ہوسکے؛چنانچہ ابوالاسودوئلی کو چند قواعد کلیہ بتاکر اس فن کی تدوین پر مامور کیا،(فہرست ابن ندیم) اس طرح علم نحو کے ابتدائی اصول بھی آپ ہی کی طرف منسوب ہیں۔[/size]

    [size=x-large] ناراضگی ظاہر کرنا دل میں برائی رکھنے سے بہتر ہے[/size]

  2. #2
    رکنِ خاص طارق راحیل کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Jan 2011
    پيغامات
    170
    شکریہ
    0
    5 پیغامات میں 7 اظہار تشکر

    RE: فضائل ومناقب حضرت علی ؓ

    جزاک اللہ خیراً۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  3. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2012
    پيغامات
    5,446
    شکریہ
    138
    96 پیغامات میں 104 اظہار تشکر

    RE: فضائل ومناقب حضرت علی ؓ

    جزاک اللہ

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University