اسلام آباد (آن لائن،آئی این پی) عدالت عظمیٰ نے انسانی اعضا کی غیر قانونی خرید و فروخت کے بارے میں سماعت یکم اگست تک ملتوی کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ گردوں اور دیگر انسانی اعضا کی غیر قانونی خرید وفروخت کو روکنے کیلئے قواعد و ضوابط اور نئے رولز مرتب کریں، اب تک صوبوں میں انسانی اعضا کی خرید و فروخت کے حوالے سے کتنے واقعات سامنے آئے ہیں، ان کے مکمل اعداد و شمار عدالت کو فراہم کیے جائیں ۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیے کہ حکومت کو جب بھی اپنی مرضی کا قانون بنانا ہوتا ہے تو اس کے لیے کوئی وقت اور موقع نہیں دیکھا جاتا اور یہاں عام آدمی کا مسئلہ ہے تو کوئی قانون بنانے میں دلچسپی نہیں لے رہا، یہ ایک سماجی جرم ہے، گردے بک رہے ہیں، پورے پنجاب میں غیر قانونی طور پر گردوں کی خرید و فروخت کا کاروبار جاری ہے ،بہت سارے سچ کسی کو بھی اچھے نہیں لگتے،لوگ غربت اور مفلسی سے تنگ آکر گردے بیچ رہے ہیں، ہیومن رائٹ سیل میں روزانہ بہت کچھ آتا ہے، زمیندار اور وڈیرے پنجاب میں اس کاروبار میں مبینہ طور پر ملوث ہیں، گردوں کی فروخت ایک کاروبار بن چکا ہے، کوٹ مومن میں ایک پورا گائوں ہے جس کے ہر شخص نے اپنا ایک گردہ فروخت کررکھا ہے، آخر اس کاروبار کو کون روکے گا؟جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیے کہ عوام کے کاموں سے تو دلچسپی نہیں تاہم ایک گھنٹہ8 منٹ میں ایک بہت بڑا قانون بن گیا، سوا دو سال کا عرصہ گزر گیا کسی کو ذرا بھی پرواہ نہیں ۔ جسٹس خلجی عارف نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ غریب کو تو اس ملک میں مرنا ہی ہے ،حکومت نے تو صرف ایلیٹ کلاس کے تحفظ کا ذمہ لیا ہو اہے ،غریب کو سب مار رہے ہیں ،آخر یہ سب کچھ کب تک چلے گا ؟ظلم جب حد سے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے ۔ منگل کوچیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل 3رکنی بنچ نے مقدمہ کی سماعت شروع کی تو ڈی جی ہیلتھ اسلام آباد قاضی عبدالصبور عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے اسلام آباد اور وفاق کے زیر انتظام علاقوں کے لیے رولز مرتب کرلیے ہیں اور یہ ایک روز قبل مرتب کیے گئے ہیں ۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے مرتب کردہ رولز کو ابھی تک گزٹ کا حصہ کیوں نہیں بنایا؟ اس پر عدالت کو بتایا گیا کہ آئندہ چند روز میں ان رولز کو گزٹ کا حصہ بنا دیا جائے گا۔ حکومت پنجاب کی جانب سے خادم حسین فقیر نے عدالت کو بتایا کہ حکومت پنجاب رولز فراہم کررہی ہے۔ اس دوران ڈی جی ہیلتھ قاضی عبدالصبور نے عدالت کو مزید بتایا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد صحت کا محکمہ صوبوں کے پاس چلا گیا ہے، اب صوبوں کو اپنے رولز خود مرتب کرنے ہیں۔ اس پر عدالت نے چاروں صوبائی چیف سیکرٹریز کو ہدایت کی کہ یکم اگست تک تمام صوبائی حکومتیں وفاقی رولز کے مطابق نئے رولز مرتب کرکے رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔ عدالت نے رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے ریکارڈ کیاگیا بیان ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سرگودھا کی انکوائری رپورٹ کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ کوٹ مومن اور پنجاب کے کچھ اور علاقوں میں گردوں کی فروخت کا مذموم کاروبار جاری ہے اور راولپنڈی کے کڈنی اسپتال جس کا مالک ایک ریٹائرڈ کرنل ہے نے افتخار کڈنی سینٹر کے نام سے اسپتال بنارکھا ہے ،اس کا ایک ایجنٹ خالد ہے جو گاہک گھیر کر لاتا ہے، ایک لاکھ20 ہزار میں گردہ خریدا جاتا ہے ،ظفر اقبال نامی ایک شخص نے اس کاروبار کے خلاف ایک تنظیم بنائی ہوئی ہے جس کے تحت اس نے ایک سروے کرایا ہے جس سے پتا چلا ہے کہ4 سے 5ہزار خواتین اور بچے بھی اپنے گردے فروخت کرچکے ہیں اور یہ کاروبار اب بھی عروج پر ہے، مذکورہ اسپتال کی جانب سے ڈاکٹر اسلم خاکی پیش ہوئے اور انہوں نے عدالت سے کہا کہ اس اسپتال میں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ جس پر عدالت نے کہا کہ آپ اس حوالے سے بیان حلفی فائل کریں، اس دوران آر پی او اور ڈی پی او راولپنڈی اس اسپتال کا دورہ کر کے وہاں پر ہونے والے علاج کے حوالے سے ای ڈی ہیلتھ کی مدد سے رپورٹ تیار کرکے عدالت میں پیش کریں ۔ مزید سماعت یکم اگست تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔