صفحہ 2 از 33 اوليناولين 123412 ... آخریآخری
نتائج کی نمائش 11 تا: 20 از: 330

موضوع: زیرک ؛ میری پسندیدہ شاعری

  1. #11
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    483
    شکریہ
    9
    64 پیغامات میں 88 اظہار تشکر

    RE: زیرک ؛ میری پسندیدہ شاعری

    [size=medium][align=center]کوئی گماں بھی نہیں، درمیاں گماں ہے یہی
    اسی گماں کو بچا لوں، کہ درمیاں ہے یہی
    کبھی کبھی جو نہ آؤ نظر، تو سہہ لیں گے
    نظر سے دُور نہ ہونا، کہ امتحاں ہے یہی
    میں آسماں کا عجب کچھ لحاظ رکھتا ہوں
    جو اس زمین کو سہہ لے وہ آسماں ہے یہی
    یہ ایک لمحہ، جو دریافت کر لیا میں نے
    وصالِ جاں ہے یہی اور فراقِ جاں ہے یہی
    تم ان میں سے ہو جو یاں فتح مند ٹھیرے ہیں
    سنو! کہ وجۂ غمِ دل شکسگاں ہے یہی

    جونؔ ایلیا[/align][/size]

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

  2. #12
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    483
    شکریہ
    9
    64 پیغامات میں 88 اظہار تشکر

    RE: زیرک ؛ میری پسندیدہ شاعری

    [size=medium][align=center]
    میں خیال ہوں کِسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
    سرِ آئینہ مِرا عکس ہے، پسِ آئینہ کوئی اور ہے
    میں کِسی کے دستِ طلب میں ہوں نہ کسی کے حرفِ دعا میں ہوں
    میں نصیب ہوں کِسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے
    جو وہ لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا انہیں غور سے
    جنہیں راہ میں یہ خبر ملی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے
    مِری روشنی تِرے خد و خال سے مختلف تو نہیں مگر
    تو قریب آ تجھے دیکھ لوں تُو وہی ہے یا کوئی اور ہے
    تجھے دُشمنوں کی خبر نہ تھی، مجھے دوستوں کا پتہ نہیں
    تِری داستاں کوئی اور تھی، مِرا واقعہ کوئی اور ہے

    سلیمؔ کوثر[/align][/size]

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

  3. #13
    رکنِ خاص بےلگام کا اوتار
    تاريخ شموليت
    May 2012
    پيغامات
    11,245
    شکریہ
    2
    14 پیغامات میں 23 اظہار تشکر

    RE: زیرک ؛ میری پسندیدہ شاعری

    بہت اچھے جناب

  4. #14
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    483
    شکریہ
    9
    64 پیغامات میں 88 اظہار تشکر

    RE: زیرک ؛ میری پسندیدہ شاعری

    [size=medium][align=center]میں دوستی کے عجب موسموں میں رہتا ہوں
    کبھی دعاؤں، کبھی سازشوں میں رہتا ہوں
    جو تم ذرا سا بھی بدلے، تو جان لے لو گے
    میں کچھ دنوں سے عجب واہموں میں رہتا ہوں
    میں جس طرح سے کبھی دُشمنوں میں رہتا تھا
    اُسی طرح سے ابھی دوستوں میں رہتا ہوں
    قدم قدم پہ ہیں بکھرے ہوئے نقوش مرے
    میں تیرے شہر کے سب راستوں میں رہتا ہوں
    کیا ہے فیصلہ جب سے چراغ بننے کا
    میں اعتماد سے اب آندھیوں میں رہتا ہوں
    تمہارے بعد یہ دن تو گذر ہی جاتا ہے
    میں شب کو دیر تلک آنسوؤں میں رہتا ہوں

    عاطفؔ سعید[/align][/size]

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

  5. #15
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    483
    شکریہ
    9
    64 پیغامات میں 88 اظہار تشکر

    RE: زیرک ؛ میری پسندیدہ شاعری

    [size=medium][align=center]
    کدُورتوں کے درمیاں، عداوتوں کے درمیاں
    تمام دوست اجنبی ہیں، دوستوں کے درمیاں
    زمانہ میری داستاں پہ رو رہا ہے آج کیوں
    یہی تو کل سُنی گئی تھی، قہقہوں کے درمیاں
    ضمیرِ عصر میں کبھی، نوائے درد میں کبھی
    سخن سرا تو میں بھی ہوں، عداوتوں کے درمیاں
    شعورِ عصر ڈھونڈتا رہا ہے مُجھ کو، اور میں
    مگن ہوں عہدِ رفتگاں كى عظمتوں کے درمياں
    ابھی شکست کیا کہ رسمِ آخری اِک اور ہے
    پکارتی ہے زندگی، ہزیمتوں کے درمیاں
    ہزار بُردباریوں کے ساتھ، جِی رہے ہیں ہم
    مُحال تھا یہ کارِ زیست، وحشتوں کے درمیاں
    یہ سوچتے ہیں، کب تلک ضمیر کو بچائیں گے
    اگر یوں ہی جِیا کریں، ضرورتوں کے درمیاں

    پیرزادہ قاسم[/align][/size]

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

  6. #16
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    483
    شکریہ
    9
    64 پیغامات میں 88 اظہار تشکر

    RE: زیرک ؛ میری پسندیدہ شاعری

    [size=medium][align=center]یہ مُسکراتے تمام سائے، ہوئے پرائے تو کیا کرو گے
    ہوا نے جب بھی مرے بدن کے دِیے بُجھائے تو کیا کرو گے
    تمہاری خواہش پہ عمر بھر کی جُدائیاں بھی قبول کر لوں
    مگر بتاؤ ! بغیر میرے جو رہ نہ پائے تو کیا کرو گے
    وہ جن میں میرے عذاب تیرے، سراب اُبھرے یا خواب ڈُوبے
    وہ سارے لمحے تمہاری جانب پلٹ کے آئے تو کیا کرو گے
    بغیر در کے کسی بھی گھر میں گِھرے ہوئے ہو یہ فرض کر لو
    اور ایسے عالم میں مِل سکے نہ جو میری رائے تو کیا کرو گے
    ابھی تو میرے غلاف ہاتھوں میں مطمئن ہیں پہ بعد میرے
    جو آندھیوں میں چراغ اپنے یہ تھرتھرائے تو کیا کرو گے
    تمہاری آنکھوں میں عکس میرا اگر نہ ہو گا تو کیسا ہو گا
    سماعتوں کے شجر پہ پنچھی نہ چہچہائے تو کیا کرو گے
    کرو گے کیا جو مرے بدن سے دُھویں کی اِک دِن لکیر اُٹھی
    لکیر سے پھر ہزار چہرے نکل کے آئے تو کیا کرو گے
    وہ جن خیالوں میں رہ کے تم سے مری بھی پہچان کھو گئی ہے
    انہی خیالوں کے سب مسافر ہوئے پرائے تو کیا کرو گے
    یہ سوچتے ہو چلا گیا وہ تو، چھت پہ جاؤ گے کس لیے تم
    کہ اب کے ساون کی بارشوں میں جو سب نہائے تو کیا کرو گے
    ہے دسترس میں ابھی بھی طاہرؔ اُٹھا کے اب اس کو پی بھی ڈالو
    مشاہدوں میں ہی ہو گئی گر یہ ٹھنڈی چائے تو کیا کرو گے

    طاہرؔ عدیم[/align][/size]

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

  7. #17
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    483
    شکریہ
    9
    64 پیغامات میں 88 اظہار تشکر

    RE: زیرک ؛ میری پسندیدہ شاعری

    [size=medium][align=center]ہر ایک چہرے پہ دل کو گُمان اُس کا تھا
    بسا نہ کوئی، یہ خالی مکان اُس کا تھا
    میں بے جہت ہی رہا اور بے مقام سا وہ
    ستارہ میرا، سمندر نشان اُس کا تھا
    میں اُس طلسم سے باہر کہاں تلک جاتا
    فضا کُھلی تھی، مگر آسمان اُس کا تھا
    سلیقہ عشق میں، جاں اپنی پیش کرنے کا
    جنہیں بھی آیا تھا ان کو ہی دھیان اُس کا تھا
    پھر اس کے بعد کوئی بات بھی ضروری نہ تھی
    مرے خلاف سہی، وہ بیان اُس کا تھا
    ہوا نے اب کے جلائے چراغ رَستے میں
    کہ میری راہ میں عادلؔ! مکان اُس کا تھا

    تاجدار عادلؔ[/align][/size]

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

  8. #18
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    483
    شکریہ
    9
    64 پیغامات میں 88 اظہار تشکر

    RE: زیرک ؛ میری پسندیدہ شاعری

    [size=medium][align=center]
    يہ تو ميں کيونکر کہوں تيرے خريداروں ميں ہوں
    تُو سراپا ناز ہے، ميں ناز برداروں ميں ہوں
    وصل کيسا، تيرے ناديدہ خريداروں ميں ہوں
    واہ رے قسمت کہ اس پر بھی گُناہگاروں ميں ہوں
    ناتوانی سے ہے طاقت ناز اُٹھانے کی کہاں؟
    کہہ سکوں گا کيونکر کہ تيرے نازبرداروں ميں ہوں
    ہائے رے غفلت! نہيں ہے آج تک اتنی خبر
    کون ہے مطلوب، ميں کس کے طلبگاروں ميں ہوں
    دل، جگر، دونوں کی لاشيں ہجر ميں ہيں سامنے
    ميں کبھی اِس کے، کبھی اُس کے عزاداروں ميں ہوں
    وقتِ آرائش پہن کر طوق بولا، وہ حسِين
    اب وہ آزادی کہاں ہے، ميں بھی گرِفتاروں ميں ہوں
    آ چکا تھا رحم اس کو سُن کے ميری بے کسی
    درد ظالم بول اُٹھا، ميں اُس کے غمخواروں ميں ہوں
    پُھول ميں پُھولوں ميں ہوں، کانٹا کانٹوں ميں اميرؔ
    يار ميں ياروں ميں ہوں، عيّار، عيّاروں ميں ہوں

    اميرؔ مينائی[/align][/size]

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

  9. #19
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    483
    شکریہ
    9
    64 پیغامات میں 88 اظہار تشکر

    RE: زیرک ؛ میری پسندیدہ شاعری

    [size=medium][align=center]مستئ حال کبھی تھی کہ نہ تھی، بُھول گئے
    یاد اپنی کوئی حالت نہ رہی، بُھول گئے
    یُوں مُجھے بھیج کے تنہا سرِ بازارِ فریب
    کیا میرے دوست میری سادہ دلی بُھول گئے
    میں تو بے حِس ہوں، مُجھے درد کا احساس نہیں
    چارہ گر کیوں روشِ چارہ گری بُھول گئے؟
    اب میرے اشکِ محبت بھی نہیں آپ کو یاد
    آپ تو اپنے ہی دامن کی نمی بُھول گئے
    اب مُجھے کوئی دِلائے نہ محبت کا یقیں
    جو مُجھے بُھول نہ سکتے تھے وہی بُھول گئے
    اور کیا چاہتی ہے گردش ایام، کہ ہم
    اپنا گھر بُھول گئے، ان کی گلی بُھول گئے
    کیا کہیں کتنی ہی باتیں تھیں جو اب یاد نہیں
    کیا کریں ہم سے بڑی بُھول ہوئی، بُھول گئے

    جونؔ ایلیا[/align][/size]

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

  10. #20
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    483
    شکریہ
    9
    64 پیغامات میں 88 اظہار تشکر

    RE: زیرک ؛ میری پسندیدہ شاعری

    [size=medium][align=center]
    ہَوا کے رُخ پہ، رہِ اعتبار میں رکھا
    بس اِک چراغ کُوئے انتظار میں رکھا
    عجب طلسمِ تغافُل تھا جس نے دیر تلک
    مری اَنا کو بھی کُنج خُمار میں رکھا
    اُڑا دیے خس و خاشاکِ آرزو سرِ راہ
    بس ایک دِل کو ترے اِختیار میں رکھا
    فروغِ موسمِ گُل پیش تھا سو میں نے بھی
    خزاں کے زخم کو دشتِ بہار میں رکھا
    نجانے کون گھڑی تھی کہ اپنے ہاتھوں سے
    اُٹھا کے شیشۂِ جاں اِس غبار میں رکھا
    یہ کِس نے مثلِ مہ و مہر اپنی اپنی جگہ
    وصال و ہجر کو ان کے مدار میں رکھا
    لہو میں ڈولتی تنہائی کی طرح خاورؔ
    ترا خیال، دِلِ بے قرار میں رکھا

    ایوب خاورؔ[/align][/size]

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

صفحہ 2 از 33 اوليناولين 123412 ... آخریآخری

متشابہہ موضوعات

  1. میری اپنی پسند
    By ابوسفیان in forum میری شاعری
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 07-30-2012, 01:34 AM
  2. جوابات: 2
    آخری پيغام: 07-06-2012, 12:57 PM
  3. بےباک کی پسند
    By بےباک in forum میری پسندیدہ شاعری
    جوابات: 25
    آخری پيغام: 04-01-2012, 10:36 PM
  4. میری پسند
    By عبادت in forum میری پسندیدہ شاعری
    جوابات: 4
    آخری پيغام: 03-31-2012, 12:58 PM
  5. میری پسند
    By عبادت in forum میری پسندیدہ شاعری
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 03-31-2012, 12:52 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University