صفحہ 3 از 33 اوليناولين 1234513 ... آخریآخری
نتائج کی نمائش 21 تا: 30 از: 330

موضوع: زیرک ؛ میری پسندیدہ شاعری

  1. #21
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    483
    شکریہ
    9
    64 پیغامات میں 88 اظہار تشکر

    RE: زیرک ؛ میری پسندیدہ شاعری

    [size=medium][align=center]
    ہر ایک چہرے پہ دل کو گُمان اُس کا تھا
    بسا نہ کوئی، یہ خالی مکان اُس کا تھا
    میں بے جہت ہی رہا اور بے مقام سا وہ
    ستارہ میرا، سمندر نشان اُس کا تھا
    میں اُس طلسم سے باہر کہاں تلک جاتا
    فضا کھلی تھی، مگر آسمان اُس کا تھا
    سلیقہ عشق میں جاں اپنی پیش کرنے کا
    جنہیں بھی آیا تھا ان کو ہی دھیان اُس کا تھا
    پھر اس کے بعد کوئی بات بھی ضروری نہ تھی
    مرے خلاف سہی، وہ بیان اُس کا تھا
    ہوا نے اب کے جلائے چراغ رستے میں
    کہ میری راہ میں عادلؔ مکان اُس کا تھا

    تاجدار عادلؔ[/align][/size]

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

  2. #22
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    483
    شکریہ
    9
    64 پیغامات میں 88 اظہار تشکر

    RE: زیرک ؛ میری پسندیدہ شاعری

    [size=medium][align=center]
    وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
    وہی وعدہ، یعنی نباہ کا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
    وہ جو لُطف مجھ پہ تھے پیشتر، وہ کرم کہ تھا مرے حال پر
    مجھے سب ہے یاد ذرا ذرا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
    وہ نئے گِلے، وہ شکایتیں، وہ مزے مزے کی حکایتیں
    وہ ہر ایک بات پہ رُوٹھنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
    کبھی بیٹھے سب میں جو رُوبرُو، تو اشارتوں ہی سے گُفتگو
    وہ بیان شوق کا برملا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
    ہوئے اتفاق سے گر بہم، تو وفا جتانے کو دم بہ دم
    گِلۂ ملامتِ اقربا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
    کوئی ایسی بات اگر ہوئی کہ تمہارے جی کو بُری لگی
    تو بیاں سے پہلے ہی بُھولنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
    کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی، کبھی ہم سے تم سے بھی راہ تھی
    کبھی ہم بھی تم بھی تھے آشنا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
    سُنو ذکر ہے کئی سال کا کہ کیا اِک آپ نے وعدہ تھا
    سو نِباہنے کا تو ذکر کیا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
    کہا میں نے بات وہ کوٹھے کی مِرے دل سے صاف اُتر گئی
    تَو کہا کہ جانے مِری بلا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
    وہ بِگڑنا وصل کی رات کا، وہ نہ ماننا کسی بات کا
    وہ نہیں نہیں کی ہر آن ادا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
    جسے آپ گِنتے تھے آشنا، جسے آپ کہتے تھے باوفا
    میں وہی ہوں مومنِؔ مبتلا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

    مومن خان مومنؔ[/align][/size]

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

  3. #23
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    RE: زیرک ؛ میری پسندیدہ شاعری

    ماشاءاللہ آپ کی پسند نکھرے نکھرے اور خوبصورت پھول ہیں ،
    بہت پسند آئی ، ماشاءاللہ کیا شاعرانہ ذوق پایا ہے آپ نے

  4. #24
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    483
    شکریہ
    9
    64 پیغامات میں 88 اظہار تشکر

    RE: زیرک ؛ میری پسندیدہ شاعری

    [size=medium][align=center]
    عشق کی مار بڑی دردیلی عشق میں جی نہ پھنسانا جی
    سب کچھ کرنا، عشق نہ کرنا، عشق سے جان بچانا جی
    وقت نہ دیکھے، عُمر نہ دیکھے، جب چاہے مجبُور کرے
    موت اور عشق کے آگے تو کوئی چلے نہ بہانہ جی
    عشق کی ٹھوکر موت کی ہِچکی دونوں کا ہے ایک اثر
    ایک کرے گھر گھر رُسوائی، ایک کرے افسانہ جی
    عشق کی نِعمت پِھر بھی یارو! ہر نِعمت پر بھاری ہے
    عشق کی ٹِیسیں دَین خُدا کی، عشق سے کیا گھبرانا جی
    عشق کی نظروں میں یکساں، کعبہ کیا، بُت خانہ کیا
    عشق میں دُنیا، عُقبہ کیا ہے، کیا اپنا، بیگانہ جی
    راہ تکے ہیں پی کے نگر کی، آگ پہ چل کر جانا ہے
    عشق ہے سیڑھی پی کے نگر کی جو چاہو تو نِبھانا جی
    طرزؔ! بہت دن جَھیل چکے تم دُنیا کی زنجیروں کو
    توڑ کے پنجرہ اب تو تمہیں ہے دیس پِیا کے جانا جی

    گنیش بہاری طرزؔ[/align][/size]

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

  5. #25
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    483
    شکریہ
    9
    64 پیغامات میں 88 اظہار تشکر

    RE: زیرک ؛ میری پسندیدہ شاعری

    [size=medium][align=center]
    مُجھے دے کے مے میرے ساقیا! میری تَشنگی کو ہوا نہ دے
    میری پیاس پر بھی تو کر نظر، مُجھے میکشی کی سزا نہ دے
    میرا ساتھ، اے میرے ہمسفر! نہیں چاہتا ہے تو جام دے
    مگر اِس طرح سرِ رِہگزر مُجھے ہر قدم پہ صدا نہ دے
    میرا غم نہ کر میرے چارہ گر! تیری چارہ جوئی بجا، مگر
    میرا درد ہے میری زندگی، مُجھے دردِ دل کی دوا نہ دے
    میں وہاں ہوں اب میرے ناصِحا! کہ جہاں خُوشی کا گُزر نہیں
    میرا غم حدوں سے گُزر گیا، مجھے اب خُوشی کی دُعا نہ دے
    وہ گِرائیں شوق سے بِجلیاں، یہ سِتم کرم ہیں، سِتم نہیں
    کہ وہ طرزؔ برقِ جفا نہیں، جو چمک کہ نُورِ وفا نہ دے

    گنیش بہاری طرزؔ[/align][/size]

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

  6. #26
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    483
    شکریہ
    9
    64 پیغامات میں 88 اظہار تشکر

    RE: زیرک ؛ میری پسندیدہ شاعری

    [size=medium][align=center]
    عُمر گُزری جس کا رَستہ دیکھتے
    آ بھی جاتا وہ تو ہم کیا دیکھتے
    کیسے کیسے موڑ آئے راہ میں
    ساتھ چلتے، تو تماشا دیکھتے
    قریہ، قریہ، جتنا آوارہ پِھرے
    گھر میں رہ لیتے تو دُنیا دیکھتے
    گر بہا آتے نہ دریاؤں میں ہم
    آج ان آنکھوں سے صحرا دیکھتے
    خود ہی رکھ آتے دِیا دیوار پر
    اور پھر اس کا بھڑکنا دیکھتے
    جب ہوئی تعمیرِ جسم و جاں تو لوگ
    ہاتھ کا مٹی میں کھونا دیکھتے
    دو قدم چل آتے اُس کے ساتھ ساتھ
    جس مسافر کو اکیلا دیکھتے
    اعتبار اُٹھ جاتا آپس کا جمالؔ
    لوگ اگر اُس کا بِچھڑنا دیکھتے

    جمالؔ احسانی[/align][/size]

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

  7. #27
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    483
    شکریہ
    9
    64 پیغامات میں 88 اظہار تشکر

    RE: زیرک ؛ میری پسندیدہ شاعری

    [size=medium][align=center]
    کیا بتائیں، فصلِ بے خوابی یہاں بوتا ہے کون
    جب در و دیوار جلتے ہوں تو پھر سوتا ہے کون
    تم تو کہتے تھے کہ سب قیدی رہائی پا گئے
    پھر پسِ* دیوارِ زِنداں رات بھر روتا ہے کون
    بس تِری بیچارگی ہم سے نہیں دیکھی گئی
    ورنہ ہاتھ آئی ہوئی دولت کو یوں کھوتا ہے کون
    کون یہ پاتال سے لے کر اُبھرتا ہے مجھے
    اتنی تہہ داری سے مجھ پر منکشف ہوتا ہے کون
    کوئی بے ترتیبئ کِردار کی حد ہے سلیمؔ
    داستاں کس کی ہے، زیبِ داستاں ہوتا ہے کون

    سلیمؔ کوثر
    [/align][/size]

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

  8. #28
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    483
    شکریہ
    9
    64 پیغامات میں 88 اظہار تشکر

    RE: زیرک ؛ میری پسندیدہ شاعری

    [size=medium][align=center]
    ہر نظر پیار تو ہر لب پہ ہنسی مانگتے ہیں
    ہم تو ہر مانگ ستاروں سے بھری مانگتے ہیں
    پھول تو خوب ہی لگتے ہیں جہاں چاہیں کِھلیں
    ہم تو سرحد بھی گلابوں سے لدی مانگتے ہیں
    ہم بھی کیا لوگ ہیں نفرت کے شجر بَو بَو کر
    آسمانوں سے محبت کی جَھڑی مانگتے ہیں
    ان کی رہ تکتی ہے تاریخ بھی بے چینی سے
    سَر بلندی کو جو نیزے کی اَنی مانگتے ہیں
    غیر اُڑنے کو بھی کرتے ہیں فضا تازہ تلاش
    ہم کہ رہنے کو بھی اِک اندھی گلی مانگتے ہیں
    سب کو سلطانئ جمہور کا دعویٰ ہے مگر
    اِختیارات بہ اندازِ شہی مانگے ہیں

    محمود شامؔ
    [/align][/size]

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

  9. #29
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    483
    شکریہ
    9
    64 پیغامات میں 88 اظہار تشکر

    RE: زیرک ؛ میری پسندیدہ شاعری

    [size=medium][align=center]
    دُکاندار

    یہ تاجرانِ دِین ہیں
    خُدا کے گھر مکِین ہیں
    ہر اِک خُدا کے گھر پہ اِن کو اپنا نام چاہیے
    خدا کے نام کے عِوَض کُل اِنتظام چاہیے
    ہر ایک چاہتا ہے یہ
    مرا خُدا خرید لو

    نہ کر سکے یہ تم اگر
    یہ تاجرانِ پیشہ ور
    کریں گے تم سے یوں خطاب
    انتقام چاہیے
    میری کتاب جو کہے
    وہ ہی نظام چاہیے

    خُدا کے جتنے رُوپ ہیں
    اِنہوں نے خُود بنائے ہیں
    ہر اِک خُدا میں صاحبو
    وہ ساری خُوبیاں ہیں جو
    اِنہیں بہت عزیز ہیں

    ہر اِک دُکان پر یہاں
    نیا خُدا سجا ہوا
    ہر اِک دُکاندار کی
    فقط یہی ہے اِلتجا
    مرا خُدا خرید لو

    خُدا کی بھی سُنے کوئی
    وہ کہہ رہا ہے بس یہی
    کہ صاحبو میں ایک ہوں
    مرے سِوا کوئی نہیں
    کسی کی بات مت سُنو
    مرا تو کوئی گھر نہیں
    دلوں میں بَس رہا ہوں میں
    ہر ایک پَل
    ہر ایک سانس
    تم میں جی رہا ہوں میں

    تم خُود نہ اپنی جان لو
    کہ تم ہی میری جان ہو
    جو تم نے جان وار دی
    تو میں کہاں بسُوں گا پِھر
    مرا تو کوئی گھر نہیں

    جو بیچتے ہیں اپنا گھر
    سجا کے نام پر مرے
    یہ نفس کے اسِیر ہیں
    یہ لوگ بے ضمِیر ہیں

    عدیلؔ زیدی[/align][/size]

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

  10. #30
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    483
    شکریہ
    9
    64 پیغامات میں 88 اظہار تشکر

    RE: زیرک ؛ میری پسندیدہ شاعری

    [size=medium][align=center]
    زندگی سے بڑی سزا ہی نہیں
    اور کیا جُرم ہے، پتا ہی نہیں
    سچ گھٹے یا بڑھے تو سچ نہ رہے
    جُھوٹ کی کوئی اِنتہا ہی نہیں
    اِتنے حصوں میں بَٹ گیا ہوں میں
    میرے حصے میں کچھ بچا ہی نہیں
    زندگی! موت تیری منزل ہے
    دُوسرا کوئی راستا ہی نہیں
    جس کے کارن فساد ہوتے ہیں
    اُس کا کوئی اتا پتا ہی نہیں
    اپنی رَچناؤں میں وہ زندہ ہے
    نُورؔ! سنسار سے گیا ہی نہیں

    کرِشن بہاری نُورؔ لکھنوی
    [/align][/size]

    ہم کو یہ کمال حاصل ہے، ہم لیموں نچوڑ لیتے ہیں

صفحہ 3 از 33 اوليناولين 1234513 ... آخریآخری

متشابہہ موضوعات

  1. میری اپنی پسند
    By ابوسفیان in forum میری شاعری
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 07-30-2012, 01:34 AM
  2. جوابات: 2
    آخری پيغام: 07-06-2012, 12:57 PM
  3. بےباک کی پسند
    By بےباک in forum میری پسندیدہ شاعری
    جوابات: 25
    آخری پيغام: 04-01-2012, 10:36 PM
  4. میری پسند
    By عبادت in forum میری پسندیدہ شاعری
    جوابات: 4
    آخری پيغام: 03-31-2012, 12:58 PM
  5. میری پسند
    By عبادت in forum میری پسندیدہ شاعری
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 03-31-2012, 12:52 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University