نتائج کی نمائش 1 تا: 4 از: 4

موضوع: زن آٹے دارتھپڑ کی گونج

  1. #1
    رکنِ خاص ابوسفیان کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2012
    پيغامات
    426
    شکریہ
    94
    14 پیغامات میں 19 اظہار تشکر

    زن آٹے دارتھپڑ کی گونج


    ڈاکٹر ڈین کے منہ پر ایک زناٹے دار تھپڑ کی گونج کئی بار سنائی دی ۔ تھپڑ تو ایک بار ہی پڑا تھا ۔ مگر فلم کرما کئی بار دیکھی گئی ۔جیلر کو پلٹ کو ڈاکٹر ڈین کا دھمکانا کہ وہ اس تھپڑ کی گونج بھولے گا نہیں ۔ جیلر چاہتا بھی یہی تھا کہ وہ کبھی نہ بھول پائے ۔
    لیکن ہمیں گونج سے کبھی بھی سروکار نہیں رہا ۔مگر اس بات کا تجسس کبھی ختم نہیں ہوا ۔کہ یہ خاص قسم کی گونج کب اور کیونکر پیدا ہوتی ہے ۔کیونکہ گھونسوں سے کبھی ایسی آواز نکلتے دیکھی نہیں ۔سنا ہے کہ آٹا گوندھنے والی خاتون کا ہاتھ بہت بھاری ہو جاتا ہے ۔ شائد اسی بنا پر گونج دار تھپڑ کو ایسی عورت کے ہاتھ سے تعبیر کردیا گیا ہے ۔ زن (عورت) آٹے دار ۔

    اس نام کے سنتے ہی ایک واقعہ دماغ میں گرم روٹی کی طرح تازہ ہو جاتا ہے ۔جسے ہمارے ایک دوست نے کچھ یوں بیان کیا تھا ۔
    ان کا ایک کلاس فیلو کیمسٹری کی لیب میں ایک روز دوستوں سے ایسے کیمیکل کے بارے میں جانکاری مانگ رہا تھا ۔جو اس کی داہنی آنکھ کو بھی سرخ کر دے ۔بائیں آنکھ بس میں دوران سفر ایک زن آٹے دار تھپڑ کی وجہ سے پہلے ہی سرخ تھی ۔ گھر والوں کی تفتیشی نگاہوں سے بچنے کا صرف یہی ایک حل انہیں نظر آیا ۔ دوستوں نے افسوس کا اظہار تو کم ہی کیا ۔ البتہ مذاق زیادہ اڑایا گیا ۔
    موصوف ہمیشہ اپنی قمیض کی جیب میں ایک ایسی ڈائری رکھتے کہ جس میں روزانہ ادا کی گئی پنجگانہ نمازوں کی ادائیگی کے اوقات درج ہوتے ۔ چہرہ ان کا تراشی ہوئی داڑھی سے منور تھا ۔ایسے میں موصوف کے چہرے پہ زن آٹے دار تھپڑ کی لالی سمجھ سے بالا تر تھی ۔جو موصوف نے کچھ یوں بیان کی ۔
    ان ہی کے کالج کا ایک آوارہ لڑکا اکثر بسوں میں لڑکیوں سے مہذب انداز میں چھیڑ خانی کرتا ۔ بد قسمتی سے اس بار وہ مہذب انداز چھیڑ خانی موصوف کی بغل کے نیچےسے ہاتھ نکال کر آگے کھڑی لڑکی سے کرنے لگے ۔تو زن آٹے دار تھپڑ کے سامنے جو پہلا چہرہ آیا وہ موصوف کا تھا ۔سو وہ انہی پر جما دیا گیا ۔اور وہ سمجھ ہی نہیں پائے کہ ماجرا کیا ہوا ۔ اپنے پیچھے کھڑے مہربان کو پایا تو معاملہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی ۔مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی ۔پھر اس کے بعد وہ زندگی بھر بس کے پچھلے حصے میں ہی اپنا مقام بناتے رہے ۔ پچھلے دروازہ پر لٹک کر جانے کو بہتر جانتے اگلے دروازہ کے قریب جانے سے ۔
    شائد ڈر کے مارے مرد و خواتین کی نشستیں اور دروازے بس کی طرح آگے پیچھے ہو جاتے ۔شائد اسی لئے تو آٹا گوندھنے والی خواتین کو اسمبلی کی اہلیت کے قابل نہیں سمجھا جاتا ۔ کہیں ان کی گونج قوم کو سنائی نہ دے جائے ۔


    نوٹ : اس مضمون کو طنز و مزاح کے تناظر میں پڑھاجائے ۔

    رَّبِّ زِدْنِي عِلْمًا
    O my Lord! advance me in knowledge.

  2. #2
    رکنِ خاص سقراط کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,469
    شکریہ
    35
    149 پیغامات میں 216 اظہار تشکر

    زن آٹے دارتھپڑ کی گونج

    زبردست بہت خوب
    عنوان تو بڑا ہے زبردست رکھا ہے
    زن آٹے دار تھپڑ

  3. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jan 2011
    پيغامات
    195
    شکریہ
    0
    1 پیغام میں 1 اظہار تشکر

    زن آٹے دارتھپڑ کی گونج

    اسلام علیکم
    زبردست بہت خوب شکریہ

  4. #4
    رکنِ خاص ابوسفیان کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2012
    پيغامات
    426
    شکریہ
    94
    14 پیغامات میں 19 اظہار تشکر

    زن آٹے دارتھپڑ کی گونج


آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University