نتائج کی نمائش 1 تا: 7 از: 7

موضوع: نظریاتی یلغاراور دانشمند طبقہ

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    143
    شکریہ
    13
    15 پیغامات میں 23 اظہار تشکر

    نظریاتی یلغاراور دانشمند طبقہ

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    نذر حافی
    سادہ لوح لوگ آج کل بھی اس غلط فہمی میں مبتلانظرآتے ہیں کہ اگر کہیں پر آگ ،دھویں اور بارود کی گھن گرج سنائی دے تو وہاں جنگ لگی ہوئی ہے ورنہ امن ہی امن ہے۔جبکہ چالاک دشمن آگ ،دھویں اور بارود کی کالک میں اپنا منہ کالا کرنے کے بجائےامن کے سندیسے بھیج کر،محبّت کے نغمے گاکر ،امن و آشتی کی فلمیں بناکراور ثقافتی سیمینارز منعقد کرواکےمورچے مسمار کردیتاہے ،قلعے ڈھادیتاہے اور سادہ لوحوں کی گردنوں پر سوار ہوجاتاہے۔ اگرہم امن اور سکون چاہتے ہیں تو ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارا اصلی دشمن وہ نہیں جو جغرافیائی سرحدوں پر ہمیں گھورتاہے بلکہ ہمارا اصلی دشمن وہ ہے جو ہماری نظریاتی سرحدوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہاہے۔
    انسانوں کے درمیان ایک ایسا انسان دشمن طبقہ موجود ہے جو انسان کوصرف اور صرف ایک مشین کے پرزےکی مانندسمجھتاہے۔یہ طبقہ انسانوں کو مختلف گروہوں اور فرقوں میں تقسیم کرکے ان کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتاہے۔جب انسانی طاقت گرہوں،فرقوں اور اکائیوں میں تقسیم ہوجاتی ہے تو یہ لوگ انسانی وسائل اورحکومتی اداروں پر قبضہ کرکے انسانوں کی گردنوں پر سوار ہوجاتے ہیں۔
    یہ انسان دشمنوں کی نظریاتی یلغارہی ہے جس کے باعث آج انفارمیشن ٹیکنالوجی اور علم و شعور کے دور میں بھی انسان،انسان کے ہاتھوں پس رہاہے۔انسانی معاشرے میں کمزور اقوام پر طاقتور قوموں کا ظلم ،ناانصافی اور دھونس دھاندلی اس بات کا ثبوت ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ انسانی وسائل تو بڑھے ہیں لیکن مسائل کم نہیں ہوئے اور انسانی وسائل پر ماضی کی طرح آج بھی فرعونوں، ظالموں اور جابروں کا قبضہ ہے۔ ہم تاریخ عالم کا جتنا بھی مطالعہ کریں اور انسانی مسائل پر جتنی بھی تحقیق کریں، کتاب تاریخ میں جہاں جہاں انسان نظر آئے گا وہاں وہاں انسانی وسائل پر قابض فرعون ،شدّاد اور نمرود بھی نظر آئیں گے۔
    ہمیں سب سے پہلے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نظریہ کسے کہتے ہیں۔۔۔؟اس کی وضاحت کے لئے ہم مندرجہ ذیل دونکات کوبیان کرنا ضروری سمجھتے ہیں:
    ۱۔کسی بھی تحریک کی قوتِ متحرکہ کانام نظریہ ہے
    ۲۔معاشرے کے اجتماعی شعور کانام نظریہ ہے
    آپ معاشرے میں جیسا اجتماعی شعور پروان چڑھائیں گے ویسی ہی تحریک چلے گی۔پس ہر تحریک کے پیچھے ایک اجتماعی شعور موجود ہوتاہے جسے نظریہ کہاجاتاہے۔
    اسی طرح ہرنظریے کے پیچھے ایک خاص طبقہ سرگرمِ عمل ہوتاہے جو"دانشمند طبقہ"کہلاتاہے۔ یہ طبقہ ایک خاص قسم کے شعور کو پروان چڑھاتاہے۔جس معاشرے میں اجتماعی سطح پرمختلف قسم کے نظریات پروان چڑھ رہے ہوں وہاں پر مختلف نظریاتی طبقات جنم لیتے ہیں۔یہ نظریاتی طبقات رفتہ رفتہ عوام الناس کو اپنے اندر سمونا شروع کردیتے ہیں اور خود ایک نظریاتی طاقت کے طور پر ابھرنے لگتے ہیں۔ابھرتے ہوئے مختلف نظریاتی طبقات کے درمیان اس وقت نظریاتی جنگ شروع ہوجاتی ہے جب ایک طبقہ کسی ایک چیز کو "دیومالائی" حیثیت دے دیتاہے اور دوسرا طبقہ اس کی سرے سے نفی کرنے لگتاہے۔جب ایک معاشرے میں یہ صورتحال سامنے آجاتی ہے تو "اجتماعِ نقیضین" محال ہونے کے باعث ایک نظریاتی طبقہ دوسرے نظریاتی طبقے کو ختم کرنے پر تُل جاتاہے۔
    اس نظریاتی جنگ میں جیت کے لئے افرادی قوّت درکار ہوتی ہے،جسے حاصل کرنے کے لئے دانشمند "تولید نظریات"یا" افزائش نظریات"کاکام شروع کرتاہے۔تولید یا افزائش نظریات کے کام کے لئے اسے نظریاتی کارخانوں کی ضرورت پڑھتی ہے۔
    ان نظریاتی کارخانوں کی مختلف صورتیں ہیں جن میں سے چند ایک مندرجہ زیل ہیں۔
    شعروسخن،تحریروتقریر،فلم و ڈرامہ،آھنگ و موسیقی،اخبارو میگزین،ریڈیو اور ٹی وی،مدارس و سکول،میڈیا ومحافل۔۔۔
    ان نظریاتی کارخانوں کے ذریعےدانشمند مختلف شہکار تخلیق کرتے ہیں جن کے باعث عوام النّاس مختلف نظریات سے آشناہوتے ہیں اور انہیں اپناتے ہیں۔ایک اچھا شہکار تخلیق کرنے کے لئے ضروری ہے کہ دانشور اپنے ذوق اور استعداد کے مطابق اپنے لئےایک نظریاتی کارخانے کا انتخاب کرے اور پھر اسی نظریاتی کارخانے کے ذریعے اپنی نظریاتی مصنوعات کو معاشرتی سطح کے مطابق منظرِ عام پر لائے۔
    ظاہر ہے کہ نظریاتی مصنوعات جتنی معیاری اور نفیس ہونگی لوگ اتنے ہی زیادہ ان کی طرف مائل ہونگے اور جس نظریاتی مکتب کی طرف لوگ جتنے زیادہ مائل ہونگے ،وہ مکتب بھی اتنے ہی جلدی غلبہ حاصل کرے گا اور اگر وہ مکتب مفید اور سودمند ہواتو اس کے غلبے سے عوام النّاس کو بڑھے پیمانے پر فائدہ بھی پہنچے گا۔
    معیاری اور نفیس نیز ہردلعزیز نظریاتی مصنوعات تیار کرنے کے لئے ایک دانشمند کو کبھی بھی "سماجی سائنس" کے اصولوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔سماجی سائنس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ایک دانشمند جس علم پر عبور حاصل کرئے اسی میں فنّی مہارت بھی حاصل کرے اور اسی میں "افزائشِ نظریات "کاکام بھی انجام دے۔
    مثلاً اگر ایک شخص علمِ جغرافیہ میں عبور حاصل کرتاہے پھر فنِ خطابت بھی سیکھتاہے اورپھر بزمِ مشاعرہ میں جاکر داد لیناچاہتاہے تو وہ نہ صرف یہ کہ بزمِ مشاعرہ کے اصولوں کی خلاف ورزی کرےگا بلکہ اس نے جو علم حاصل کیاہے وہ بھی اس کے کچھ کام نہیں آئے گا اور اس کا فن بھی اس بزم میں کوئی رنگ نہیں لائے گا۔
    پس دانشمند یانظریاتی رہبرکے لئے ضروری ہے کہ وہ معاشرتی ذھن سازی کے لئے حسبِ ضرورت "علم "حاصل کرے اور اس علم کے مطابق فن حاصل کرے اور پھر اسی علم و فن سے لیس ہوکر معاشرے میں اپنی مصنوعات پیش کرے۔
    معاشرے میں "نظریاتی مصنوعات" پیش کرتے ہوئے دانشمند کو اس بات کا لحظہ بہ لحظہ خیال رکھناچاہیے کہ اس کی بنیاد اس کاعلم اور ہنر ہے اور یہ دونوں یعنی علم اور ہنر کسی ایک ملک ،قوم ،مذہب یا دین کی ملکیّت نہیں ہیں۔اسی طرح دانشمند بھی کسی ایک ملک ،قوم ،مذہب یا دین سے وابستہ تو ہوتاہے لیکن ان میں سے کسی کی ملکیّت نہیں ہوتا۔لہذا اسے تمام تر تعصّبات سے بالاتر ہوکر اپنے نظریاتی شہکاروں کے ذریعے پورے عالم بشریت کی خدمت کرنی چاہیے ۔
    اسے ایسا کرنے کے لئے ان تما م رجحانات ،نظریات اور افکار کی مخالفت مول لینی پڑےگی جو عالمِ بشریت کو مختلف اکائیوں ،فرقوں اور ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اپنے اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
    کسی بھی ملت کے نظریاتی عناصر اس کے نظریاتی جغرافیئے کا تعین کرتے ہیں۔نظریاتی عناصر سے ہماری مراد کسی بھی قوم کے بنیادی عقائد ہیں۔ مثلاً اگرایک قوم کا یہ نظریہ ہو کہ ملت مذہب سے تشکیل پاتی ہے تواس قوم کےنظریاتی عناصر اس کے مذہبی عقائد ہونگے۔یعنی اگر ہم یہ کہیں کہ مسلمان ایک ملت ہیں تو ملت ِ مسلمان کے مذہبی عناصر توحید و رسالت و غیرہ ہونگے۔اب جب یہ ملت اپنے نظریاتی جغرافیے کا تعیّن کرلے گی تو لازمی طور پر اسے ایک زمینی جغرافیے کی ضرورت پڑھے گی۔جب تک اس کا نظریاتی جغرافیہ محفوظ رہے گا یہ قوم ڈوب ڈوب کر ابھرتی رہے گی لیکن اگر اس کا نظریاتی جغرافیہ کھوگیا تو اس کا زمینی جغرافیہ بھی اپناوجود کھو دے گا۔
    چنانچہ سمجھدار قومیں اپنی توانائیاں زمینی جغرافیئے تبدیل کرنے کے بجائے فکریں تبدیل کرنے پر صرف کرتی ہیں۔چونکہ جہاں پر فکریں تبدیل ہوجائیں وہاں پر منٹوں میں جغرافیے خود بخود تبدیل ہوجاتے ہیں۔
    افکار میں تبدیلی لاکر جس طرح یمن کےمقداد،ایران کے سلمان،مدینے کے ایوب انصاری ،مکّے کے مہاجرین اور مدینے کے انصار کو آپس میں شیر وشکر کیا جاسکتاہے ،سب کو بھائی بھائی بنایاجاسکتاہے اسی طرح فکروں کو تبدیل کر کےخلافتِ عثمانیہ کا شیرازہ بکھیراجاسکتاہے،عظیم ہندوستان کو ناکوں چنے چبائے جاسکتے ہیں اور ایک پاکستان کے شکم سے کئی پاکستان جنم لے سکتے ہیں۔
    یہی وجہ ہے کہ دینِ اسلامی نے بھی نظریاتی جغرافیئے کو بہت اہمیّت دی ہے اور لوگوں پر زبردستی اپنے نظریات مسلط کرنے،ان کی جہالت سے فائدہ اٹھانے اور ان پر جبراً اپنی رائے ٹھونسنے کے بجائے انہیں تعقّل،تفکّر اور تدبّر کی طرف بلایاہے۔دینِ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو قطعاً اس امر کی اجازت نہیں دی کہ وہ مالِ غنیمت اور کشور کشائی کے لئے پرامن اور صلح پسند اقوام پر شب خون ماریں۔ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اسلام محض ایک نظریہ نہیں ہے بلکہ مجموعہ ءِ نظریات ہے۔اسلام انسان کے ہر شعبہ زندگی کے حوالے سے ایک جامع نظریہ رکھتاہے۔
    مثلا اسلام کے پاس اقتصادی،سیاسی،علمی،اخلاقی ،دشمن شناسی،دوست پروری الغرض ہر لحاظ سے ایک مکمل نظریہ موجود ہے۔آج امت مسلمہ کو ضرورت ہے کہ اس کے دانشمند اسلامی نظریات کی علمبرداری اور رہبری کریں۔اسلامی نظریات کو موجودہ دور میں صحیح رہبریت اور مدیریت کی ضرورت ہے۔
    بالکل ایسے ہی جیسے ظہور اسلام سے پہلے عربوں میں اور پوری دنیامیں پرستش کا نظریہ موجود تھا لیکن اس نظریے کو صحیح رہبری اور مدیریت کی ضرورت تھی،حضورِ اکرم ﷺ نے اس نظریے کی رہبری کی،اسی طرح سید جمال الدین افغانی سے پہلے بھی مسلمانوں میں "اسلامی تہذیب و تمدن"کانظریہ موجود تھا لیکن اس نظریے کی رہبری سید جمال الدین افغانی نے کی،ایسے ہی ایران میں اسلامی انقلاب سے پہلے بھی اسلامی حکومت اور وحدتِ اسلامی کا نظریہ موجود تھا،انقلاب اسلامی کے بانیوں نے آکر اس نظریے کی رہبری اور مدیریت کی۔اسی طرح مغربی تہذیب سے بیزاری کانظریہ پہلے سے موجود تھا لیکن علامہ اقبال نے اس نظریے کی رہبریت اور علمبرداری کی۔
    موجودہ دور میں پوی دنیا،خصوصا اسلامی دنیاغیر اسلامی نظریات کی زد پر ہے اورعالمِ بشریّت ظلم و ناانصافی اور جبر وتشدد کی چکی میں پس رہا ہے۔ایسے میں ضروری ہے کہ افرادِ معاشرہ پرتحقیق و تعلیم کے دروازے کھولے جائیں ،نیز ایسے دانشمندوں کی پرورش اور تربیّت کی جائے جوتمام تر تعصبات سے بالاتر ہوکر اسلامی تعلیمات و نظریات کی رہبری اور مدیریت کریں نیزاسلامی معارف کو پورے عالم بشریت کے سامنے بطریقِ احسن پیش کریں چونکہ مسلم دانشمندوں اور مفکرین کی نظریاتی کاوشوں کو منطرِ عام پر لائے بغیر شیطانی اور انسان دشمن نظریات کی یلغار کامقابلہ ممکن ہی نہیں۔
    عالم بشریت کو حالیہ انسان دشمن نظریات کی یلغار سے نجات دلانے کے لئے ضروری ہے کہ مختلف سیمینارز،پروگراموں اور نمائشوں کے ذریعےمسلم مفکرین اور دانشمندوں کی خدمات کو سراہاجائے،ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ان کے علمی و نظریاتی کارناموں کواقوام ِ عالم تک پہنچایاجائے۔
    nazarhaffi@yahoo.com

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,160
    شکریہ
    2,125
    1,233 پیغامات میں 1,605 اظہار تشکر

    RE: نظریاتی یلغاراور دانشمند طبقہ

    الکل ایسے ہی جیسے ظہور اسلام سے پہلے عربوں میں اور پوری دنیامیں پرستش کا نظریہ موجود تھا لیکن اس نظریے کو صحیح رہبری اور مدیریت کی ضرورت تھی،حضورِ اکرم ﷺ نے اس نظریے کی رہبری کی،اسی طرح سید جمال الدین افغانی سے پہلے بھی مسلمانوں میں "اسلامی تہذیب و تمدن"کانظریہ موجود تھا لیکن اس نظریے کی رہبری سید جمال الدین افغانی نے کی،ایسے ہی ایران میں اسلامی انقلاب سے پہلے بھی اسلامی حکومت اور وحدتِ اسلامی کا نظریہ موجود تھا،انقلاب اسلامی کے بانیوں نے آکر اس نظریے کی رہبری اور مدیریت کی۔اسی طرح مغربی تہذیب سے بیزاری کانظریہ پہلے سے موجود تھا لیکن علامہ اقبال نے اس نظریے کی رہبریت اور علمبرداری کی۔
    موجودہ دور میں پوی دنیا،خصوصا اسلامی دنیاغیر اسلامی نظریات کی زد پر ہے اورعالمِ بشریّت ظلم و ناانصافی اور جبر وتشدد کی چکی میں پس رہا ہے۔ایسے میں ضروری ہے کہ افرادِ معاشرہ پرتحقیق و تعلیم کے دروازے کھولے جائیں ،نیز ایسے دانشمندوں کی پرورش اور تربیّت کی جائے جوتمام تر تعصبات سے بالاتر ہوکر اسلامی تعلیمات و نظریات کی رہبری اور مدیریت کریں نیزاسلامی معارف کو پورے عالم بشریت کے سامنے بطریقِ احسن پیش کریں چونکہ مسلم دانشمندوں اور مفکرین کی نظریاتی کاوشوں کو منطرِ عام پر لائے بغیر شیطانی اور انسان دشمن نظریات کی یلغار کامقابلہ ممکن ہی نہیں۔
    عالم بشریت کو حالیہ انسان دشمن نظریات کی یلغار سے نجات دلانے کے لئے ضروری ہے کہ مختلف سیمینارز، پروگراموں اور نمائشوں کے ذریعےمسلم مفکرین اور دانشمندوں کی خدمات کو سراہا جائے،ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ان کے علمی و نظریاتی کارناموں کواقوام ِ عالم تک پہنچایاجائے۔
    محترم نذر حافی صاحب ، آپ کی باتیں زبردست اہمیت کی حامل ہیں ،
    براہ کرم آپ ادھر ضرور لکھتے رہا کریں ، تاکہ رھنما تحریروں سے سب استفادہ حاصل کریں ،
    جزاک اللہ

  3. #3
    رکنِ خاص سقراط کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,469
    شکریہ
    35
    149 پیغامات میں 217 اظہار تشکر

    RE: نظریاتی یلغاراور دانشمند طبقہ

    سادہ لوح لوگ آج کل بھی اس غلط فہمی میں مبتلانظرآتے ہیں کہ اگر کہیں پر آگ ،دھویں اور بارود کی گھن گرج سنائی دے تو وہاں جنگ لگی ہوئی ہے ورنہ امن ہی امن ہے۔جبکہ چالاک دشمن آگ ،دھویں اور بارود کی کالک میں اپنا منہ کالا کرنے کے بجائےامن کے سندیسے بھیج کر،محبّت کے نغمے گاکر ،امن و آشتی کی فلمیں بناکراور ثقافتی سیمینارز منعقد کرواکےمورچے مسمار کردیتاہے ،قلعے ڈھادیتاہے اور سادہ لوحوں کی گردنوں پر سوار ہوجاتاہے۔ اگرہم امن اور سکون چاہتے ہیں تو ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارا اصلی دشمن وہ نہیں جو جغرافیائی سرحدوں پر ہمیں گھورتاہے بلکہ ہمارا اصلی دشمن وہ ہے جو ہماری نظریاتی سرحدوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہاہے
    آپ کی تحریر میں یہ حصہ واقعی میں فکری ہے آپ کی تحریر جاندار اور انقلابی ہے اور آپ بھی مجھے انقلابی شخصیت ہی محسوس ہورہے ہیں آپ کی پوسٹ نے بڑا متاثر کیا جناب نذر صاحب اسی طرح لکھتے رہیں اچھا لگے گا
    شکریہ

  4. #4
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    831
    شکریہ
    246
    110 پیغامات میں 168 اظہار تشکر

    RE: نظریاتی یلغاراور دانشمند طبقہ

    السلام علیکم
    بہت بہت شکریہ جناب نزر صاحب

  5. #5
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2012
    پيغامات
    5,446
    شکریہ
    138
    96 پیغامات میں 104 اظہار تشکر

    RE: نظریاتی یلغاراور دانشمند طبقہ

    زبردست

  6. #6
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    143
    شکریہ
    13
    15 پیغامات میں 23 اظہار تشکر

    RE: نظریاتی یلغاراور دانشمند طبقہ

    اقتباس اصل پيغام ارسال کردہ از: بےباک پيغام ديکھيے
    الکل ایسے ہی جیسے ظہور اسلام سے پہلے عربوں میں اور پوری دنیامیں پرستش کا نظریہ موجود تھا لیکن اس نظریے کو صحیح رہبری اور مدیریت کی ضرورت تھی،حضورِ اکرم ﷺ نے اس نظریے کی رہبری کی،اسی طرح سید جمال الدین افغانی سے پہلے بھی مسلمانوں میں "اسلامی تہذیب و تمدن"کانظریہ موجود تھا لیکن اس نظریے کی رہبری سید جمال الدین افغانی نے کی،ایسے ہی ایران میں اسلامی انقلاب سے پہلے بھی اسلامی حکومت اور وحدتِ اسلامی کا نظریہ موجود تھا،انقلاب اسلامی کے بانیوں نے آکر اس نظریے کی رہبری اور مدیریت کی۔اسی طرح مغربی تہذیب سے بیزاری کانظریہ پہلے سے موجود تھا لیکن علامہ اقبال نے اس نظریے کی رہبریت اور علمبرداری کی۔
    موجودہ دور میں پوی دنیا،خصوصا اسلامی دنیاغیر اسلامی نظریات کی زد پر ہے اورعالمِ بشریّت ظلم و ناانصافی اور جبر وتشدد کی چکی میں پس رہا ہے۔ایسے میں ضروری ہے کہ افرادِ معاشرہ پرتحقیق و تعلیم کے دروازے کھولے جائیں ،نیز ایسے دانشمندوں کی پرورش اور تربیّت کی جائے جوتمام تر تعصبات سے بالاتر ہوکر اسلامی تعلیمات و نظریات کی رہبری اور مدیریت کریں نیزاسلامی معارف کو پورے عالم بشریت کے سامنے بطریقِ احسن پیش کریں چونکہ مسلم دانشمندوں اور مفکرین کی نظریاتی کاوشوں کو منطرِ عام پر لائے بغیر شیطانی اور انسان دشمن نظریات کی یلغار کامقابلہ ممکن ہی نہیں۔
    عالم بشریت کو حالیہ انسان دشمن نظریات کی یلغار سے نجات دلانے کے لئے ضروری ہے کہ مختلف سیمینارز، پروگراموں اور نمائشوں کے ذریعےمسلم مفکرین اور دانشمندوں کی خدمات کو سراہا جائے،ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور ان کے علمی و نظریاتی کارناموں کواقوام ِ عالم تک پہنچایاجائے۔
    محترم نذر حافی صاحب ، آپ کی باتیں زبردست اہمیت کی حامل ہیں ،
    براہ کرم آپ ادھر ضرور لکھتے رہا کریں ، تاکہ رھنما تحریروں سے سب استفادہ حاصل کریں ،
    جزاک اللہ

  7. #7
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    143
    شکریہ
    13
    15 پیغامات میں 23 اظہار تشکر

    RE: نظریاتی یلغاراور دانشمند طبقہ

    السلام علیکم۔۔۔۔
    مجھے یہ جان کر خوشی ہوءی کہ ابھی ہمارے درمیان ایسے لوگ موجود ہیں جو ان حساس موضوعات کو سمجھتے ہیں اور اپنے دین و ملک سے سچی مھبت رکحتے ہیں۔مجحے آپ کا یہ پلیٹ فارم شعوری و فکری حوالے سے بہت پسند ایاہے۔آپ دعاکریں کہ خداوند عالم علم و شعور کے اس سفر میں مجھے آپ کا ہمسفر بننے کی توفیق عطا فرماءے۔ آمین

متشابہہ موضوعات

  1. کلام کرتی نہیں بولتی بھی جاتی ہے
    By ایم-ایم in forum امجد اسلام امجد
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 07-29-2012, 12:01 PM
  2. میں کہتا ہوں مجھے تم ہنستی گاتی اچھی لگتی ہو
    By ایم-ایم in forum فرحت عباس شاہ
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 04-16-2012, 09:31 AM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University