نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: عید سے متعلق تحاریر کا مقابلہ

  1. #1
    منتظم اعلی
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    456
    شکریہ
    1
    11 پیغامات میں 12 اظہار تشکر

    عید سے متعلق تحاریر کا مقابلہ

    ہر رُکن کو ایک مراسلے کی اجازت ہو گی کوشش کریں کہ اچھی سے اچھی تحریر لگائیں تاکہ پڑھنے والوں کو بھی اس میں سے کچھ مل سکے اور آپ بھی مقابلہ جیت سکیں۔۔۔۔۔۔

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,134
    شکریہ
    2,100
    1,211 پیغامات میں 1,583 اظہار تشکر

    RE: عید سے متعلق تحاریر کا مقابلہ

    [align=center]بسم اللہ الرحمن الرحیم[/align]
    حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد گرامی ہے:
    [align=center]"عید فطر اس کے لئے ہے کہ جس کی نماز اور روزہ اللہ کی بارگاہ میں قبول اور منظور ہو، اور وہ دن جس دن مومن خدا کی نافرمانی نہ کرے وہ دن مومن کے
    لئے عید کا دن ہے۔"
    [/align]
    عید فطر نفس عمارہ پر کامیابی کے جشن منانے کا دن ہے اور پرہیزگاروں کی خوشی کا دن ہے۔ عیدالفطر خداوندعالم کی طرف سے روزہ داروں کے لئے ایک انعام ہے مسلمانوں کو چاہیئےکہ خوشی کے اس موقع پر اپنے تمام بھائیوں خاص طور پر فلسطینی، کشمیری ،شامی ۔ افغانی اور برما کے مسلمانوں اور پردیسیوں کو فراموش نہ کریں ۔ ان کے لیے بھی دعا کریں جن کے بچے جنگوں مین شہید ہو گئے ہیں ۔امت مسلمہ کے لیے خوب دعائیں مانگیں ۔
    [align=center]عید سعید فطر کی حقیقت اور ہماری ذمہ داریاں[/align]
    عید فطر مسلمانوں کی بڑی عیدوں میں سے ایک ہے جب روزہ دارمسلمان ماہ مبارک رمضان میں روزہ رکھ کر اللہ کی اطاعت کرتے ہیں اور خدا کے حکم کی خاطر بہت سے مباح کاموں سے پرہیز کرتے اور تیس دن تک حلال او مباح چیزوں کا کھانے پینے سے بھی حکم خدا کی خاطر پرہیز کرتے ہیں اور صرف اسی وقت کچھ کھاتے پیتے ہیں جب خدا نے کھانے پینے کی اجازت دی ہو جسکے پاداش میں پروردگار نے تیس دن پورے ہو جانے کے مسلمانوں کے لئے عید کا دن قرار دیا ہے چنانچہ ماہ شوال کا پہلا دن عید فطر کے نام سے جانا جاتا ہے شوال کے پہلے دن کو اس لئے عید فطر کہا گیا ہے کہ خود فطر و فطور کھانے پینے کے معنی میں ہے اور اسے کھانے پینے کو شروع کرنے کے معنی میں بھی بیان کیا گیا ہے علماء نے عید فطر کے معنی یوں بیان کیے ہیں کہ : آج کے دن کھانے پینے سے امساک کے حکم کو اٹھا لیا گیا ہے اور مومنین کو افطار کی اجازت دی گئی ہے بلکہ اس دن کا روزہ حرام ہے اسی لیے اس دن کو عید فطر کہا جاتا ہے ۔
    اس دن پوری دنیا کے مسلمان ماہ مبارک رمضان میں تیس دن تک خدا کے سفرہ رحمت پر حاضری کا شکرانہ ادا کرتے ہیں اور اجمتاعی جشن و سرور کی محفلیں سجا کر خدا کے حضور تشکر و امتنان کا ظہار کرتے ہیں کہ اس نے انہیں یہ موقع فراہم کیا کہ اپنے دسترخوان رحمت پر انہیں تیس دنوں تک مہمان بنایا چاند رات اور عید کے دن تمام مسلمان عبادتوں میں مشغول رہ کر مالک کی کرم نوازیوں کو یاد کرتے ہیں ۔

    عام طور پر شب عید کے سلسلہ میں وارد ہونے والی روایتوں کے بموجب دعائے ختم قرآن ، ، ماہ مبارک رمضان کے الوداع کی دعااور شب عید کے مخصوص اعمال کی انجام دہی کے ساتھ شب بیداری میں رات بسر ہوتی ہے
    صبح سویرے لوگ ایک دوسرے سے ملنے جاتے ہیں اور خود کو نماز عید کے لئے تیار کرتے ہیں اس دن غریبوں اور ناداروں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے اور ان کے لئے فطرہ نکالاجاتا ہے ۔

    [align=center]عید کے معنی :[/align]
    کلمہ عید اصل میں عاد ( عود ) سے لیا گیا ہے اور اسکے مختلف معانی بیان ہوئے ہیں ''بازگشت '' غم و اندوہ و مرض سے نجات'' وہ دن جو اپنے ساتھ ہر سال نئی خوشیاں لے کر آتا ہے

    عربوں کے نزدیک عید اس زمانہ کو کہا جاتا ہے جس میں شادی یا غم و اندوہ پلٹ آتے ہیں ابن عربی نے عید کو خوشیوں سے مخصوص جانا ہے

    قرآن میں کلمہ عید صرف ایک مرتبہ استعمال ہوا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے
    قالَ عیسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللَّہُمَّ رَبَّنا أَنْزِلْ عَلَیْنا مائِدَةً مِنَ السَّماء ِ تَکُونُ لَنا عیداً لِأَوَّلِنا وَ آخِرِنا وَ آیَةً مِنْکَ وَ ارْزُقْنا وَ أَنْتَ خَیْرُ الرَّازِقین
    ترجمہ : عیسی بن مریم علیہ السلام نے کہا خدایا پروردگار !ہمارے اوپر آسمان سے دستر خوان نازل کردے کہ ہمارے اول و آخر کے لئے عید ہوجائے اور تیری قدرت کی نشانی بن جائے اور ہمیں رزق دے کہ تو بہترین رزق دینے والا ہے ( مائدہ ١١٤)

    اس آیت کے ذیل میں مفسرین نے بیان کیا ہے کہ '' عید لغت میں بازگشت کے معنی میں ہے اسکا مادہ عود ہے لہذا وہ دن جس میں قوم کی مشکلات ختم ہو جاتی ہیں اور خوشیوں کی طرف اسکی بازگشت ہوتی ہے ایسے دن کو عید کہا جاتا ہے اسلامی عیدوں میں عید فطر کو اس لئے عید کہا گیا ہے کہ ماہ مبارک رمضان میں اطاعت پروردگار کے ذریعہ. انسان کی روح اپنی پاک فطرت کی طرف پلٹ جاتی ہے ۔ الہی دسترخوان کا نزول بھی چونکہ کامیابی و فلاح کی طرف ایک بازگشت ہے اس لئے جناب عیسی علیہ السلام نے اسے عید کا نام دیا ہے

    اگرچہ یہ دن ایک اجتماعی حیثیت کا حامل ہے اور اسلامی تہذیب کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن ایک مسلمان کے لئے ہر وہ دن عید ہے جس دن اس سے کوئی گناہ سرزد نہ ہوا ہو امام علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ''وکل یوم لا یعصی اللہ فیہ فھو یوم عید '' ہر وہ دن جب انسان خد کی معصیت نہ کرے عید ہے خود یہ حدیث بھی اس با ت کی طرف اشارہ ہے کہ عید کی حکمت یہی ہے کہ انسان اس لئے اس دن خوشی مناتا ہے کیونکہ وہ اپنی پاکیزہ فطرت کی طرف پلٹ جاتا ہے
    اگر کوئی شخص ماہ مبارک رمضان کے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اس سے استفادہ کرتا ہے اور اپنے گناہوں کو بخشوا کر اس منزل پر پہنچ جاتا ہے کہ پھر کبھی گناہ کی طرف نہیں جاتا ، ماہ مبارک رمضان کی برکتوں کے سایہ میں اپنے نفس پر اتنا کنٹرول کر لیتا ہے کہ اس کا نفس گناہ کی طرف مائل نہیں ہوتا تو حقیقت میں عید بھی اسی کی ہے ،اب اگر کوئی ایسا شخص عید کے دن اپنے گھر پر دسترخوان سجاتا ہے لوگوں کو دعوت دیتا ہے سوئیاں اور پکوان گھر میں پکواتا ہے تو یہ اسے زیب دیتا ہے کیونکہ واقعی عید اسی کی ہے وہ اس قابل ہے کہ جب اس نے اپنے نفس پر کنڑول کر لیا اور ماہ مبارک رمضان کی برکتوں سے خود کو اس قابل بنا لیا کہ وہ اس بالکل اس دن کی طرح ہو جائے جس طرح اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا تو اسے یہ حق ہے کہ سب کو بلائے خوشیاں منائے اور عید منائے ، لیکن اگر کسی شخص نے ماہ مبارک رمضان کے دسترخوان پر بیٹھنے کے باجود اللہ کی نافرمانی کی ہو اور اس کے بعد وہ نئے کپڑے ، پہنے خوشیاں منائے لوگوں کو گھر پر دعوت دے اور عید منائے تو یہ اس کا اپنا عمل ہے امیر المومنین علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اسے عید نہیں کہا جا سکتا ہے اس لئے کہ مولا کی نظر میں عید کا مطلب نئے کپڑے پہننا لوگوں سے ملنا اور سوئیاں و شیر خرما بنانا نہیں ہے بلکہ مولا کی نزدیک عید کا مطلب اپنے وجود گناہوں سے پاکیزہ بنانا ہے اب ہو سکتا ہے ایک وہ شخص جس کے پاس عید کے دن کھانے کے لئے کچھ نہ ہو نہ وہ کسی کی دعوت کر سکتا ہو نہ سوئیاں بنا سکتا ہو اور نہ لوگوں کو عیدی دے سکتا ہو لیکن اس کی عید ہو اس کے برخلاف ممکن ہے کوئی ایسا شخص ہو جو عید کے دن لاکھوں خرچ کر رہا ہو، ہزاروں مہمانوں کو بلا رہا ہو لوگوں کا اس کے یہاں عید ملن کے لئے تانتا بندھا ہو لیکن اس کی عید نہ ہو ۔

    ایک اور مقام پر آپ عید کے سلسلہ میں فرماتے ہیں : انما ھو عید لمن قبل اللہ صیامہ و شکر قیامہ و کل یوم لایعصی اللہ فیہ فھو یوم عید '' آج صرف اسی کی عید ہے خدا نے جس کے روزوں کو قبول کر لیا ہے اور جس نے اپنی عبادتوں کا شکر کیا ہے ہر وہ دن جب خدا کی نافرمانی نہ کی جائے عید ہے ۔
    عید فطر وہ دن ہے جسے خدا وند بزرگ و برتر جل جلالہ نے دیگر ایام کے درمیان منتخب کیا ہے اور اس دن کو اپنے بندوں کو انعام و اکرام سے نوازنے کا دن قرار دیا ہے خدا نے آج کے دن اپنے بندوں کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ اسکے خوان کرم پر بیٹھیں اور آداب بندگی کو بجا لائیں اسی سے امید باندھیں اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس سے معافی مانگیں اپنی حاجتوں کو اس سے بیان کریں اور اسی سے حاجت روائی کی امید رکھیں خدا نے بھی اپنے ان بندوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ جو بھی اس سے طلب کریں گے خدا قبول کرے گا اور ان کے حق میں ایسی کرم نوازی کرے گا کہ جس کے بارے میں انہیں گمان تک نہ ہوگا
    [align=center][size=xx-large]
    "پرور دگار! عید سعید فطر کو ہمارے لئے واقعی عید قرار دے

    ایسی عید جو ہمارے وجود کی بارگاہ الہی میں بازگشت کی نوید لے کر آئے

    وہ عید کے جس کے بعد ہم دوبارہ گناہوں کی طرف نہ پلٹیں

    پروردگار ! ہمیں عید سعید کی برکتوں کے سایہ میں اس قابل بنا کہ ہمارا آنے والا ہر دن عید قرار پائے ۔

    (آمین یا رب العالمین )"
    [/size][/align]

    [align=center][size=xx-large]اردو منظر کے سب ساتھیوں کو اور قارئین کو عید الفطر کی بہت بہت مبارک قبول ہو ،[/size][/align]

متشابہہ موضوعات

  1. تعلیمی مرکز جی کو خوش آمدید
    By تانیہ in forum خوش آمدید
    جوابات: 3
    آخری پيغام: 01-30-2013, 10:40 AM
  2. انسانی تعلقات اور نیاگرا آبشار
    By گلاب خان in forum اقوالِ زریں
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 05-05-2012, 10:48 AM
  3. تعلیمی رہنمائی کا فقدان
    By عبدالرزاق قادری in forum قلم و کالم
    جوابات: 0
    آخری پيغام: 04-15-2012, 05:15 AM
  4. معلومات تعمیر خانہ کعبہ
    By اذان in forum متفرق موضوعات
    جوابات: 3
    آخری پيغام: 03-10-2012, 02:34 PM
  5. دنیا و آخرت کی حاجات کے متعلق دعا
    By گلاب خان in forum حمد و نعت
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 12-06-2010, 11:06 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University