نتائج کی نمائش 1 تا: 9 از: 9

موضوع: 14 اگست کاطلوع ہوتا سورج

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    143
    شکریہ
    13
    15 پیغامات میں 23 اظہار تشکر

    14 اگست کاطلوع ہوتا سورج

    تحریر نذر حافی
    بات سیدھی سی ہے کہ مجھے ظالم لوگ درندوں کی طرح نوچ رہے تھے، میرے گھر میں آگ لگی ہوئی تھی، میری دینی روایات پامال ہورہی تھیں، میری عزت سرعام نیلام ہورہی تھی، میرے گلے میں جرائم کا طوق اور کاندھوں پر الزامات کا بوجھ تھا، میں دربدر مارا مارا پھر رہا تھا، میرا کوئی وطن اور کوئی ٹھکانا نہ تھا، میرے خون سے زیادہ گائے کا خون محترم تھا، میری جان سے زیادہ مال مویشی قیمتی تھے۔ میرا جرم میرا قصور یہ تھا کہ میں اِسلام کا نام لیتا تھا اور مسلمان کہلواتا تھا، لوگ میرے دین کا مذاق اڑاتے تھے، میری عبادت گاہوں کا تقدس پامال کرتے تھے ایسے میں نظیر اکبر آبادی اقبال، حالی اور محمد علی جناح جیسے لوگ میری مدد کو اُٹھے اُنہوں نے میرے زخم سہلائے، مجھے میری منزل کا پتا بتایا، میرے حوصلوں کو بلند کیا، اُنہوں نے مجھے یقین دلایا کہ میں ہی فرزند ِ اسلام ہوں ، میں ہی معمارِ بشریت ہوں اور میں ہی اللہ کے آخری دین کا حقیقی وارث ہوں۔
    چنانچہ میں اُٹھ کھڑا ہوا، میں نے ظالموں اور غاصبوں کے خلاف اعلان بغاوت کردیا، سامراجی طاقتوں کے سامنے سینہ سپر ہوگیا، میں نے اسلام کیلئے ایک آزاد اور خودمختار ریاست کا مطالبہ کردیا، میں ایک ایسے ملک کے خواب دیکھنے لگا جہاں اسلام ہی اسلام ہوگا، جہاں مواخاتِ مدینہ جیسی مواخات ہوگی، جہاں بزمِ رسالت جیسی مساوات ہوگی، جہاں مسندِ اقتدار پر دیندار لوگ جلوہ افروز ہوں گے، جہاں عدل و انصاف کا پرچم لہرائے گا، جہاں کالے اور گورے کی تمیز نہیں ہوگی، جہاں امیر اور غریب کا فرق نہیں ہوگا، جہاں مذہب کی مذہب سے دشمنی نہیں ہوگی، جہاں انسان کا انسان سے بیر نہیں ہوگا، جہاں جیلوں میں کوئی بے گناہ نہیں ہوگا، جہاں دیہاتوں میں کوئی جاہل نہیں ہوگا، جہاں شہروں میں کوئی فتنہ نہیں ہوگا، جہاں اداروں میں کوئی کرپشن نہیں ہوگی، جہاں پولیس رشوت نہیں لے گی، جہاں فوج عوام کو گولیاں نہیں مارے گی، جہاں عزّت و شرف کا معیار تقویٰ ہوگا، جہاں مارکیٹوں میں ذخیرہ اندوزی نہیں ہوگی اور جہاں دودھ میں پانی نہیں ملایا جائے گا
    میرا یہ خواب ہر غاصب کو ناگوار گزرا، میرا آزادی کا نعرہ ہر ظالم کو برا لگا، چنانچہ مجھے سامراجی شکنجوں میں کسا گیا، مجھے ٹارچر سیلوں میں زد و کوب کیا گیا، مجھے گلیوں اور بازاروں میں رسواءکیا گیا، مجھے مقدس عبادت گاہوں کے اندر خون میں نہلایا گیا، مجھے عزّت کی ضربیں لگائی گئیں، مجھے غیرت کے زخم لگائے گئے لیکن میں مسلسل اپنی منزل کی طرف بڑھتا ہی رہا، میری زبان پر صرف ایک ہی نعرہ تھا، ”لے کے رہیں گے پاکستان ۔ بن کے رہے گا پاکستان“ اور میرے دل میں صرف ایک ہی عشق موجزن تھا کہ ”پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ“۔
    میرے شہر جلے، میری عزّت و ناموس داغدار ہوئی، میری جائیدادیں تباہ ہوئیں، مجھے ہجرتیں کرنی پڑیں، میں نے آگ اور خون کا دریا پار کیا اور تب جاکر مجھے میر پیارا وطن پاکستان نصیب ہوا، تب جاکر 14اگست1947ءکا وہ حسین سورج طلوع ہوا کہ جس نے میری سسکیوں کو مسرتوں میں بدل دیا، جس نے میری آہوں کو خوشیوں میں تبدیل کردیا، جس نے میرے اشکوں کو نغموں میں ڈھال دیا، جس نے میرے خوابوں کو حقیقت میں اتار دیا، جس نے میرے جذبوں کو سچ کر دکھایا، جس نے میرے دعووں کو عملی کر دکھایا اب میں بہت خوش تھا اب میں اپنے زخموں کو بھول چکا تھا، اب میں ایک آزاد ملک کا آزاد شہری تھا، اب میں ایک باوقار قوم کا عزت مند فرت تھا، اب میں فخر اور اعتماد کے ساتھ سر اُٹھا کر چلتا تھا، لیکن لیکن مجھے یہ کیا معلوم تھا کہ اتنے دکھ سہنے کے بعد ملنے والی یہ خوشی بھی عارضی ہوگی مجھے کیا معلوم تھا کہ سامراجی پٹّھو اِس آزاد ملک پر بھی حکومت کریں گے، مجھے کہاں خبر تھی کہ اب مجھے غیر نہیں اپنے لوٹیں گے، اب مجھے دشمن نہیں دوست زخم لگائیں گے، اب مجھ پر برطانیہ کی نہیں اپنی فوج حکومت کرے گی، اب مجھے ہندو جرنیل نہیں مسلمان آفیسر گولیاں ماریں گے، اب میری عبادت گاہوں کے تقدّس کو سکھ نہیں ”نام نہاد مجاہدین“ پامال کریں گے، اب میرے قتل کے حکم نامے پر انگریز سرکار نہیں، پاکستان حکومت دستخط کیا کرے گی، اب میں غلام ہندوستان کے ٹارچر سیلوں میں نہیں آزاد پاکستان کے اذیّت کدوں میں کچلا جاوں گا، اب مجھے ہندو سینا نہیں بلکہ مسلمان ایجنسیاں اغواءکریں گی۔
    آئیے! اس سال یوم آزادی کے موقع پر ہم سب مل کر بیٹھیں اور مل کر سوچیں کہ وہ ”دو قومی نظریہ“ کہاں گیا جو ہماری اساس اور بنیاد تھا؟! وہ مائیں کہاں مر گئیں جو اقبال اور محمد علی جناح جیسے بیٹوں کو جنم دیتی تھیں؟! وہ سیاست دان کہاں کھو گئے جو پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کا نعرہ لگاتے تھے؟! وہ ادیب کہاں چلے گئے جو اکبر الہ آبادی کی طرح قوم کا درد رکھتے تھے؟! اسکولز، کالجز، یونیورسٹیز اور دینی مدارس کے وہ طالب علم اور استاد کہاں چلے گئے جنہوں نے پاکستان کی آزادی، خود مختاری اورنظریاتی و جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کرنی تھی؟!
    اس سال ۱۴ اگست کے طلوع ہوتے سورج کی آغوش میں بیٹھ کر میں بھی سوچتا ہوں اور آپ بھی سوچئے! ہم سب مل کر اسلام کے نام پر دہشت گردی، ہدیے کے نام پر رشوت، تفریح کے نام پر فحاشی، امن کے نام پر قتل و غارت، تعلیم کے نام پر جہالت اور جمہوریت کے نام پر آمریت کو کیسے روک سکتے ہیں، آئیے مل کر دودھ میں پانی ملانے والوں کو روکیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔
    nazarhaffi@yahoo.com

  2. #2
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    831
    شکریہ
    246
    110 پیغامات میں 168 اظہار تشکر

    RE: 14 اگست کاطلوع ہوتا سورج

    السلام علیکم ۔
    حافی صاحب آپ نے کوی گنجایش نہیں رہنے دی کہ میں کوی تبصرہ کروں آپ نے ایک مکمل تصویر دیکھا دی ہے
    اللہ ہمارے حال پر رحم فرماے آمین ثم آمین
    جزاک اللہ

  3. #3
    منتظم اعلی
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    456
    شکریہ
    1
    11 پیغامات میں 12 اظہار تشکر

    RE: 14 اگست کاطلوع ہوتا سورج

    جزاک اللہ آپ کے دل میں پاکستان کے لئے تڑپ صاف دکھائی دے رہی ہے ایسی ہی تڑپ ہر سچے پاکستانی کے دل میں ہے ان پاکستانیوں کے نہیں کہ جو برطانیہ و امریکہ کی شہریت کے بھی حامل ہیں بلکہ ان پاکستانیوں کے کہ جن کا جینا مرنا اسی ملک میں ہے۔
    مگر ہر کوئی آپ کی طرح الفاظ سے اپنے جذبات کا اظہار نہیں کر سکتا یہ خوبی کسی کسی کو ملتی ہے اللہ آپ کو سلامت رکھے۔۔۔۔ آمین

  4. #4
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,215 پیغامات میں 1,587 اظہار تشکر

    RE: 14 اگست کاطلوع ہوتا سورج

    محترم حافی صاحب ،
    آپ کی تحریر پڑھی ، دل کی گہرائیوں میں اترتی چلی گئی ،
    آپ ایسے ہی لکھتے رہیے ، ہمارا شعور جاگتا ہے ،
    جزاک اللہ خیر ۔۔۔۔
    مجھے کیا معلوم تھا کہ سامراجی پٹّھو اِس آزاد ملک پر بھی حکومت کریں گے، مجھے کہاں خبر تھی کہ اب مجھے غیر نہیں اپنے لوٹیں گے، اب مجھے دشمن نہیں دوست زخم لگائیں گے، اب مجھ پر برطانیہ کی نہیں اپنی فوج حکومت کرے گی، اب مجھے ہندو جرنیل نہیں مسلمان آفیسر گولیاں ماریں گے، اب میری عبادت گاہوں کے تقدّس کو سکھ نہیں ”نام نہاد مجاہدین“ پامال کریں گے، اب میرے قتل کے حکم نامے پر انگریز سرکار نہیں، پاکستان حکومت دستخط کیا کرے گی، اب میں غلام ہندوستان کے ٹارچر سیلوں میں نہیں آزاد پاکستان کے اذیّت کدوں میں کچلا جاوں گا، اب مجھے ہندو سینا نہیں بلکہ مسلمان ایجنسیاں اغواءکریں گی۔
    اللہ اکبر ، تلخ سچائی ، یا اللہ ہمیں ہدائت سے نواز ، اور ان مشکلات سے پاکستان کو نکال ۔۔۔۔آمین

  5. #5
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    143
    شکریہ
    13
    15 پیغامات میں 23 اظہار تشکر

    RE: 14 اگست کاطلوع ہوتا سورج

    خدا کا شکر ہے کہ اس فورم کی صورت میں مجھے کچھ باشعور دوستوں کی محفل میں اظہار جذبات کرنے کا موقع مل جاتاہے۔دوستو اگر ہم سب مل کر ظالم کو ظالم اور مظلوم کو مظلوم کہناشروع کردیں تو ہم ہی طاقت ہیں،ہم ہی میڈیاہیں اور ہم ہی اس ملک کے حقیقی وارث ہیں۔ ہمیں اپنے پیارے ملک کو سنوارنے کے لئے اپنے آپ کو اور اپنی اہمیت کو پہچاننا چاہیے،ہمیں اپنے وطن مین ہر طرف امن ،سکون ،خوشحالی اور محبت و اخوت کا پرچار کرنا چاہیے۔یقینا اگر ہم لوگ مخلص ہوکرزبان و قلم کے ذریعے اپنے وطن کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت شروع کردیں تو کسی ڈرون کی جرات نہیں کہ وہ بے گناہ پاکستانیوں پر حملہ کرے اور پھر کسی ماں کی کوکھ سے دہشت گرد جنم نہیں لے گا۔شرط یہ ہے کہ ہمارے ملک کے پڑھے لکھے لوگ اپس میں اتفاق و اتحاد نیز خلوص و بھائی چارے کا مظاہرہ کریں۔۔۔۔۔۔
    حوصلہ افزائی کرنے پر آپ تمام دوستوں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتاہوں۔

  6. #6
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,215 پیغامات میں 1,587 اظہار تشکر

    RE: 14 اگست کاطلوع ہوتا سورج

    جزاک اللہ ،
    یہ فورم اسی مقصد کے لیے بنایا ہے ، آپ یہ کام جاری رکھیں ، ہمیں بھی اپنے ساتھ پائیں گے ۔
    ہم نے تہیہ کر رکھا ہے کہ اس فورم سے پاکستان کا مطلب کیا ،لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہی سمجھا جائے گا ،اور اسلام اور پاکستان کے بارے ہم مخلص ہیں ،
    اس لیے اچھی تحریریں ہمیشہ مقبول رہی ہیں جس سے اجماع و اتفاق اُمت ہو ،
    [align=center]بہت خؤب ۔
    آپ نے بہت اچھی بات بیان فرمائی ، ، شکریہ اور جزاک اللہ



    [/align]

  7. #7
    ناظم
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,307
    شکریہ
    0
    50 پیغامات میں 68 اظہار تشکر

    RE: 14 اگست کاطلوع ہوتا سورج

    بھت خوب نزر حانی صاحب بھت عمدھ

    [size=x-large] ناراضگی ظاہر کرنا دل میں برائی رکھنے سے بہتر ہے[/size]

  8. #8
    ناظم اذان کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Jan 2011
    پيغامات
    1,898
    شکریہ
    138
    108 پیغامات میں 161 اظہار تشکر

    RE: 14 اگست کاطلوع ہوتا سورج

    [size=x-large]جزاک اللہ
    بہت ہی زبردست شئیرنگ ہے
    شکریہ جناب نذر حافی صاحب[/size]

  9. #9
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Feb 2012
    پيغامات
    128
    شکریہ
    1
    4 پیغامات میں 6 اظہار تشکر

    RE: 14 اگست کاطلوع ہوتا سورج

    مولا کریم ھماری سوہنی دھرتی اور اس کے تمام باسیوں کو سدا اپنی امان میں رکھے ، پاکستان زندہ و پائیندہ باد !! ،۔ آمین ثم آمین ۔

متشابہہ موضوعات

  1. جوابات: 7
    آخری پيغام: 12-17-2012, 12:10 AM
  2. جوابات: 0
    آخری پيغام: 04-05-2012, 09:36 AM
  3. اس بھرے شہر میں میری طرح رسوا ہوتا
    By تانیہ in forum متفرق شاعری
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 04-03-2012, 12:51 PM
  4. جوابات: 2
    آخری پيغام: 11-26-2011, 10:11 PM
  5. تیرے مست مست دو نین
    By تانیہ in forum عجیب و غریب تصاویر
    جوابات: 0
    آخری پيغام: 12-08-2010, 09:56 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University