نتائج کی نمائش 1 تا: 3 از: 3

موضوع: ایک دلچسپ خبر

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    831
    شکریہ
    246
    110 پیغامات میں 168 اظہار تشکر

    ایک دلچسپ خبر

    بھارت کی ریاست مدھیہ پردیش کے رتن پور گاؤں میں ایک خاتون نے شادی کے دو دن بعد ہی شوہر کا گھر محض اس لئے چھوڑ دیا کیونکہ وہاں بیت الخلا نہیں تھا۔
    بی اے سالِ دوئم کی طالبہ انیتا نعرے کی شادی شِورام نامی شخص سے ہوئی تھی لیکن دو دنوں کے بعد ہی وہ میکے چلی گئیں اور آٹھ دن بعد بیت الخلا بننے کے بعد ہی وہ واپس آئی۔
    بھارت
    انیتا کے اس اقدام پر سماجی بہبود کی تنظیم سُولابھ انٹرنیشنل نامی نے اسے پانچ لاکھ کی رقم دینے کا اعلان کیا ہے۔
    انیتا نے شِورام سے کہا تھا کہ وہ خاندان کے باقی لوگوں کی طرح حاجت کی لیے کُھلے کھیتوں میں نہیں جائے گی ’کیونکہ ایسا کرنا غلط بات ہے‘۔
    اس کا کہنا تھا کہ ’جب تک شِورام بیت الخلاء تیار نہیں کرواتے، وہ واپس نہیں آئے گی۔‘
    بائیس سالہ شِورام مزدوری کرکے گھر کا خرچ چلاتے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا کہ اپنی بیوی کی بات سن کر انہیں ایسا لگا کہ ان میں ایک نئی آگہی پیدا ہوئی ہے۔
    "اگر سارے بھارت میں لڑکیاں ایسا کرنے کا فیصلہ کر لیں تو لوگ بیت الخلاء بنوانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ لڑکیاں سُسرال سے ایسے نہیں جاتیں۔اِسے اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ انیتا کی ہمت تمام لوگوں کے لئے مثال ہے۔"
    بندیشور پاٹھک
    شِورام کہتے ہیں ’ہم بیت الخلاء بنانے کے بارے میں ہمیشہ سوچتے تھے لیکن روپے کی کمی کی وجہ سے ایسا نہیں کر سکے۔‘
    شِورام کے والد نہیں ہیں اور گھر کا خرچ مشکل سے چلتا ہے۔
    لیکن بیوی کے اس قدم کی وجہ سے شورام نے پنچائیت کا رخ کیا۔ انہیں پانچ سو ایک روپے دیے گئے۔ باقی کے دو ہزار روپے کا انتظام گھر سے کر کے انہوں نے ایک بیت الخلاء تعمیر کیا۔
    جلد ہی یہ کہانی قریبی دیہاتوں میں بھی پہنچ گئی اور دوسرے خاندانوں نے بھی بیت الخلاء بنوانا شروع کردیا۔
    انیتا کہتی ہیں کہ انہیں یہ بات معلوم تھی کہ شِورام کے گھر میں بیت الخلا نہیں ہے لیکن انہیں لگا تھا کہ شادی کے بعد شِورام اسے بنوا لیں گے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔
    انیتا کہتی ہیں ’بہو، بیٹیوں کو حاجت کے لیے باہر جانا اچھا نہیں لگتا۔‘
    شادی کے دو دن تو جیسے تیسے گزرے لیکن پھر انیتا سے سہا نہیں گیا اور انہوں نے شِورام سے براہ راست الفاظ میں کہہ دیا کہ جب تک بیت الخلا نہیں بنے گا اس وقت تک وہ گھر واپس نہیں آئے گی۔
    انیتا کے والد نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ انہیں امید تھی کہ پنچائیت والے بیت الخلا بنانے میں شِورام کی مدد کریں گے۔
    انیتا کہتی ہیں کہ ملنے والے پانچ لاکھ روپوں سے وہ غسل خانہ بنوائیں گی کیونکہ اس کے نہ ہونے سے انہیں نہانے میں کافی تکلیف ہوتی ہے۔
    ادھر سُولابھ انٹرنیشنل کے بندیشور پاٹھک نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کا ایک انوکھا معاملہ ہے جس میں کسی عورت نے ایسا قدم اٹھانے کی ہمت دکھائی۔
    وہ کہتے ہیں کہ ’اگر سارے بھارت میں لڑکیاں ایسا کرنے کا فیصلہ کر لیں تو لوگ بیت الخلاء بنوانے پر مجبور ہو جائیں گے۔ لڑکیاں سسرال سے ایسے نہیں جاتیں۔اِسے اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ انیتا کی ہمت تمام لوگوں کے لئے مثال ہے۔ ‘

  2. #2
    رکنِ خاص نگار کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2011
    پيغامات
    5,360
    شکریہ
    663
    357 پیغامات میں 424 اظہار تشکر

    RE: ایک دلچسپ خبر

    کم کھانا صحت کا خزانہ
    منفرد معلومات پہنچانے پر اپ کا بہت بہت شکریہ

  3. #3
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,873
    شکریہ
    949
    881 پیغامات میں 1,108 اظہار تشکر

    RE: ایک دلچسپ خبر

    تھینکس فار شیئرنگ

متشابہہ موضوعات

  1. دلچسپ معلومات
    By سقراط in forum عجیب و غریب تصاویر
    جوابات: 7
    آخری پيغام: 07-21-2014, 09:53 PM
  2. دلچسپ کتبے
    By سقراط in forum نثر نگاری
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 12-05-2012, 07:38 PM
  3. حیرت انگیز اور دلچسپ
    By ابوسفیان in forum آج کی خبر
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 09-11-2012, 06:10 PM
  4. جوابات: 1
    آخری پيغام: 01-02-2012, 02:26 PM
  5. دلچسپ و عجیب
    By تانیہ in forum جدید دنیا اور سائنس
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 11-30-2010, 09:45 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University