السلام علیکم
---------------------------
یوم دفاع پاکستان مبارک ہو
----------------------------------------------------
6 ستمبر اور قوم کا جزبہ
----------------------------------------------
فخر حیات
------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
6ستمبر کی صبح بھارت اچانک پاکستان پر حملہ ہوا اور اس کا ارادہ تھا کہ صبح کا ناشتہ جم خانہ لاہور میں کرے موسلمانوں کے ہاتھوں بار بار رسوا ہو نے کے باوجود ہندو قوم کو کہ جس قوم سے وہ ٹکرا رہے ہیں وہ کٹ تو سکتی ہے جھک نہیں سکتی اس جنگ میں پاکستانی فوج نے اپنا کردار تو کیا ہی ہے جس کی مثال تاریخ عالم میں ڈھنونڈنے سے نہیں ملتی ۔ لیکن پاکستانی قوم کردار اپنی مثال آپ ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ جنگ صرف ہتھیا روں سے نہیں بلکہ جزبوں سے جیتی جاتی ہے ۔
اس وقت یہ جذبے پاکستانی قوم میں بیدار تھے ، 1965 کی جنگ میں شاہینوں کے شہر سرگودہا لوگوں نے ایک خوبصورت مثال قائیم کی ۔
سرگودہا ایر بیس کا کمانڈر بیان کرتا ہے کہ ایر بیس کی حفاظت کے لیے اضافی فوج آئی تھی ان کے لیے چارپایوں اور بستروں کی ضرورت پڑی سرگودہا کی ایک مسجد میں اعلان کیا گیا کہ فوجیوں کے لیے بستر اور چارپایوں کی ضرورت ہے میرے زہن میں تھا کہ کچھ بستر اور چارپایاں مل جائیں گی تو گزارہ کر لیں گے لیکن ،،،،، میں نے دیکھا کہ ایک ہی گھنٹے میں پی اے ایف انسانوں اور گاڑیوں سے بھر چکا ہے ، ہر ایک کے پاس نئے بستر اور نئی چارپایاں تھیں ہم نے ضرورت کے مطابق بستر اور چارپایاں لیں اور باقی لوگوں کو واپس جانے کے لیے کہا تو وہ غصے چارپایاں اور بستر پھینک کر ہم سے نہیں لینے تو ہم بھی نہیں لے کر جائیں گے یہیں پھینک دیں گے ،ان کا جذبہ اور خلوص دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور دل میں کہا اے میری قوم کے لوگو اگر آپ میں یہ جذبہ رہا تو کوئی آپ کو شکست نہیں دے سکتا ۔
انہی دنوں لاہور کی گلیوں میں ایک بھکاری بھیک مانگ رہا ہے لیکن روٹی آٹا نہیں لے رہا نقد پیسے مانگ رہا ہے لوگ اس کو لعن طعن کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آج ان نقد پیسوں کی وطن کو ضرورت ہے لیکن وہ کیسی کی نہیں سنتا شام کو وہ یہاں فوج نے امدادی کیمپ لگایا ہے وہان چلا جاتا ہے اور ساری ریز گاری وہاں جمع کروا دیتا ہے اور ایک طرف بیٹھ کر تھیلے سے سوکھی روٹی نکال کر پانی میں بگھو کر کھانے لگتا ہے ایک صحافی سارا منظر دیکھ رہا تھا اس صحافی نے پوچھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا سکے جمع کروا دیے اور خود سوکھی روٹی کھا رہا ہے بھکاری نے جواب دیا ان سکوں کی میرے وطن کو ضرورت ہے وطن سلامت رہا تو مجھے خوراک بھی ملتی رہے گی ۔
جب فوج کو خون کی ضرورت پڑی تو پاکستانی قوم نے عجیب و غریب مثال قائیم کی بلڈ بنک کے سامنے لوگوں کی لمبی قطاریں لگ گیں جب بلڈ بنک بھر گئے تو گھروں سے عارضی طور پر فریج منگوا کر محفوظ کی گیں قطار میں لگا ہوا ایک دبلا پتلا نوجوان بڑا پرجوش تھا کہ اپنے وطن کے کچھ کام آئے گا اپنی باری آنے پر اندر گیا اس کا وزن کیا گیا تو وزن کم تھا کم وزن اور کمزور جسم کی وجہ سے اس کا خون نہ لیا گیا تو اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے وہ باہر نکلا ایک دوکان سے دو کیلو کا باٹ مانگا دوکان دار نے پوچھا کہ باٹ کیا کرنا ہے اس نے حقیقت بتا دی دوکان دار نے باٹ دے دیا اس نے باٹ اپنے کپڑوں میں چھپا لیا اور دوبارہ لائین میں لگ گیا اب اس کا وزن پورا نکلا کیسی نے رش کی وجہ دھیان نہ دیا کہ یہ وہی کمزور نوجوان ہے خون دیا اور باٹ دوکان دار کو شکریے کے ساتھ واپس دیا اور چلا گیا ۔
چونڈہ سیالکوٹ کا محاز یہاں دوسری جنگ عظیم کے بعدٹینکوں کی سب سے بڑی لڑائی ہوئی تھی یہاں بھارت نے اپنے ٹنک جنگ میں جھونک دیے تھے اور بھارتی ٹینکوں کا قبرستان بن گیا تھا ۔ وہاں محاز پر جاتے ہوئے فوجیوں کو دو معصوم بچوں نے روک کر ایک مرغ دیا اور کہا ہمارے پاس دینے کے لیے اور کچھ نہیں ہے ہماری طرف سے یہ حقیر سہ نظرانہ قبول کر لیجے فوج کا کمانڈر ان کا بچوں کا جذبہ دیکھ کر آنکھوں میں آنسو اور ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے گاڑی سے نیچے اتر آئے اور بچوں سے کہا کہ میرے بچو ہمیں ان چیزوں کی ضرورت نہیں ہمیں آپ کی معصوم دعاؤں کی ضرورت ہے تاکہ ہم دشمن کو ناکوں چنے چبوا کر تمہاری معصومیت کی حفاطت کر سکیں ۔
ایسے لاکھوں واقیعیات ہیں کہاں کہاں ہماری فوج دشمن سے بہادری سے نہیں لڑی کہاں کہاں قوم نے فوج کا ساتھ نہیں دیا یہ وہ وقت تھا جب قوم متحد تھی یہ وہ وقت تھا جب گھر گھر سٹار پلس کے ڈرامے نہیں دیکھے جاتے تھے یہ وہ وقت تھا جب قوم فوج کے ساتھ کھڑی تھی ۔
آج یہ سب واقعات پڑھ کر سن کر جن کے دل میں آج بھی وطن کی محبت ہے ٹھنڈی آہیں بھرتے ہیں ورنہ سب کے لیے ایسا نہیں کچھ نام نہاد پاکستانیوں کو پاکستانی ایٹم پسند نہیں کچھ نام نہاد پاکستانیوں کو پاک بھارت تجارت پر پابنیاں پسند نہیں کیسی کو بھارتی ویزے کی ضرورت ہے اور تو اور کچھ نام نہاد پاکستانی فوج پر تنقید سے بھی باز نہیں آتے ۔
آج وطن عزیز پر درپردہ غیر مسلم ملک کا راج ہے اور ہم مسلمان ہو کر بھی بجاے اللہ کے اس غیر مسلم ملک کے سہارے تلاش کر رہے ہیں ۔
ہمارہ دین تو ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ ہنود و یہود و انصار ہمارے دوست نہیں ہو سکتے لیکن ہم یہ بھولے جا رہے ہیں کیا ہم ،،،،،،،،،،، واقع مسلمان ہیں
میری قوم کے لوگو آج کا دن ہمیں پھر پاکستان کی حفاظت کی یاد دلاتا ہے شہیدوں کا لہو پکار رہا ہے ہمیں آواز دے رہا ہے ہمیں بتا رہا ہے کہ ایک بار پھر قربانی دینے کا وقت آگیا ہے آیں آج پھر ایک متحد قوم بن جایں آیں آج پھر پاکستان کی حفاظت کا عہد کرتے ہیں ہم عہد کرتے ہیں کہ اس ملک کے لیے ہمیں جو بھی قربانیاں دینی پڑیں انشاءاللہ ہم دیں گے
پاک فوج زندہ باد پاکستان پایندہ باد
وسلام
نوٹ تمام نشان حیدر پانے والے شہیدوں کی تفصیل یہاں فورم میں موجود ہے پاکستانی ہیرو کی لڑی میں اس لیے مجھے دوباری لکھنے کی ضرورت نہیں پڑی جن بھایون نے پہلے ہی ان شہیدوں کا تفصیل سے زکر کیا ہے انکا شکر گزار ہوں ۔