نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: مجلس کاسب سے لذیذ گوشت..

  1. #1
    ناظم اذان کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Jan 2011
    پيغامات
    1,898
    شکریہ
    138
    108 پیغامات میں 161 اظہار تشکر

    مجلس کاسب سے لذیذ گوشت..

    [align=center]






    [size=xx-large]

    (وَلَا یَغتَب بَّعضُکُم بَعضاً اُيحِبُّ أَحَدُکُم أَن یَاکُلَ لَحمَ اخِیہِ مَیتاً فَکَرِہتُمُوہُ وَاتَّقُوا اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ تَوَّاب رَّحِيم )
    [/size]

    [size=x-large](سورة الحجرات 12)[/size]

    [size=xx-large]ترجمہ:[/size] اور تم میں سے بعض بعض کی غیبت نہ کرے ،کیا تم میں سے کوئی اس بات کو گوارہ کرے گا کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے‘ تمہیں تو گھن آئے گی۔ اللہ سے ڈروبیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔
    [size=xx-large]تشریح :[/size] زیرنظر آیت کریمہ میں اللہ پاک نے زبان کی آفات میں سے ایک خطرناک آفت غیبت سے منع کیا ہے ۔ غیبت کیا ہے ؟ ا یک مرتبہ نبي پاك صلى الله عليه وسلم نے اپنے اصحاب سے پوچھا: تم جانتے ہو غیبت کسے کہتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: تمہارا اپنے بھائی کا اس انداز میں ذکر کرنا جو اسے برا لگے، لوگوں نے پوچھا : اگرمیرے بھائی میں وہ عیب ہے جو میں بیان کررہاہوں تو؟ آپ نے فرمایا: اگراس کے اندر واقعتاًوہ عیب پایا جاتا ہے تب ہی توغیبت ہے ، اگراس کے اندر وہ عیب پایا ہی نہیں جاتا تب تویہ بہتان ہے“۔ (مسلم)
    مذکورہ آیت کریمہ میں اللہ پاک نے غیبت سے روکتے ہوئے اس کی قباحت اس انداز میں بیان کی ہے جس کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ،ایک ایسے انسان کا تصور جو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھا رہا ہو، مردارکاگوشت کھاناخودہی گھناونی بات ہے جس سے ہر انسانی طبیعت نفرت کرتی ہے ، پھر گوشت بھی کسی مردار جانور کا نہیں بلکہ انسان کا اور انسان بھی کوئی غیر نہیں بلکہ اپنا بھائی ، تصور کریں کہ کسی کاسگا بھائی اسکے سامنے مرا پڑا ہو اوروہ اس کے گوشت کو نوچ نوچ کرکھا رہا ہو ‘ دل دہلادینے والی مثال بیان کرکے اللہ تعالی نے اس جرم کی قباحت کی طرف اشارہ کیا ہے-
    لیکن صدحیف آج ہماری مجلسو ں کا سب سے لذیذ گوشت یہی سمجھا جاتا ہے ،مزے لے لے کر اپنے سگے اورمردہ بھائی کا گوشت نوچ نوچ کرکھاتے اور ڈکار لگاتے ہیں،ہمیں اس میں اتنا لطف ملتاہے کہ باربارکھانے کے باوجود طبیعت نہیں اکتاتی،منہ سے مردے کا خون ٹپک رہا ہوتا ہے ، گھناونی بدبو آرہی ہوتی ہے لیکن نشہ ہے کہ چھوٹے نہیں چھوٹتا ۔ العیاذ باللہ ۔ اورظاہر ہے جس کی دنیا میں ایسا ذائقہ دار گوشت کھانے کی عادت بن گئی ہو آخر آخرت میں اس سے کیونکرمحروم رکھا جائے گا لیکن وہاں تو کوئی انسان ملے گا نہیں کہ اس پر حملہ کرے ، اس لیے اپنا ہی چہرہ نوجتا پھرے گا- سنئے یہ حدیث:
    ”معراج کی شب میرا گذر ایک ایسی قوم سے ہوا جن کے ناخن تامبے کے تھے جن سے اپنے چہروں اور سینوں کو نوچ رہے تھے میں نے جبریل امین سے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں ؟ کہا: یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کا گوشت کھاتے اور ان کی غیبت کرتے تھے“۔(ابوداؤد)
    حضرت صفیہ رضى الله عنها پست قد تھیں ،ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضى الله عنها نے نبی اکرم صلى الله عليه وسلم سے کہہ دیاکہ صفیہ میں سے فلاں فلاں چیز آپ کے لیے کافی ہے۔( مراد قد کا چھوٹا ہونا ہے) نبی کریم نے فرمایا، لقد قلت کلمة لو مزجت بماءالبحر لمزحتہ۔ (ترمذی)"تم نے ایسا کلمہ کہا کہ اگر اسے دریا کے پانی میں ملادیا جائے تو اس کی حالت کو بدل دے"۔
    توآئیے آج ہی سے عہد کریں کہ ہم سب کسی صورت میں اپنے مردہ بھائی گا گوشت نہ کھائیں گے یعنی کسی کی غیبت ہرگز نہ کریں گے ۔ اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق دے ۔ آمین یا رب العالمین[/align]

  2. #2
    رکنِ خاص نگار کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2011
    پيغامات
    5,360
    شکریہ
    663
    357 پیغامات میں 424 اظہار تشکر

    RE: مجلس کاسب سے لذیذ گوشت..

    بہت ہی بہترین نصیحت ، بیشک ہم سب میں یہ عمل ایک معمول بن گیا
    جزاک اللہ
    بہت بہت شکریہ آپ کا

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University