آنسو پانی کا وہ قطرہ ہے جو غم، تکلیف یا خوشی کی شدت میں یا پھر شدید کھانسی اور قہقہے کے وقت آنکھوں سے نکلے۔ آنسوﺅں کے بہنے کے عمل کو رونا بھی کہا جاتا ہے جبکہ رونے کے اس عمل کو بعض اوقات مگرمچھ کے آنسو بہانے سے بھی تشبیہ دی جاتی ہے۔ کسی کے دُکھ میں بناﺅٹی افسوس کرنے والے دھوکے باز کے رونے کو مگرمچھ کے آنسو بہانا کہتے ہیں۔ آنسو غم کے ہوں یا خوشی کے، پیاز کے ہوں یا مگرمچھ کے ایک جیسے ہی ہوتے ہیں البتہ مگرمچھ کے آنسو بہانے کیلئے نوٹنکی (ناٹک/ڈرامہ) کیا جاتا ہے جو اس فن میں ماہر ہو وہی کامیابی سے ایسے آنسو بہا سکتا ہے۔ مگرمچھ کے آنسوﺅں کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ اس جانور کا مختصر تعارف بھی ہو جائے ورنہ یہ نہ صرف مگرمچھ کے ساتھ زیادتی ہوگی بلکہ اس کی تاریخ بھی ادھوری رہ جائے گی۔ مگرمچھ سے مراد ایسا رینگنے والا جانور ہے جو پانی کے اندر اور پانی کے باہر رہتا ہے۔یہ جانور افریقہ، آسٹریلیا، ویسٹ انڈیز، پاکستان اور ہندوستان کے سوا دُنیا کے کسی اور خطے میں نہیں ملتا۔ مگرمچھ ہمیشہ گھات لگا کر حملہ کرتے ہیں یعنی یہ چھپ کر مچھلی یا دیگر زمینی جانوروں کا انتظار کرتے ہیں کہ وہ قریب آ جائیں اور قریب آتے ہی جھپٹ کر حملہ کرتے ہیں۔ ان میں استقلاب یعنی میٹابولزم کا عمل بہت سست ہوتا ہے اور لمبے عرصے تک خوراک کے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں۔
مگرمچھ کی نسل میں چند ایسے واقعات سینہ بہ سینہ چلے آ رہے ہیں کہ جس کی وجہ سے جب بھی وہ اپنا شکار پکڑتا ہے تو ساتھ ہی اس کے آنسو بھی نکل آتے ہیں۔ رونا تو اُس وقت چاہئے جب شکار ہاتھ سے نکل جائے لیکن مگرمچھ کا معاملہ کچھ مختلف ہے اور وہ ہمیشہ شکار کو اپنے دام میں لے کر ہی آنسو بہاتا ہے۔ یہ آنسو شکار کے مرنے کے غم میں بھی نہیں نکلتے بلکہ اسے یاد آ جاتا ہے کہ اس کے آباﺅ اجداد کتنے بیوقوف تھے۔ مگرمچھ شکار پکڑتے ہی اپنے بزرگوں کی عقل پر ماتم شروع کر دیتا ہے کیونکہ کسی نے اُسے بتا دیا تھا کہ بچپن میں ایک بندر اُس کے آباﺅ اجداد کو چکمہ دیتا آیا ہے۔ بندر کی مگرمچھ کے بزرگوں سے کافی گہری دوستی تھی۔ بندر چیری کے درخت پر رہتا تھا جہاں سے روز ایک مگرمچھ بھی گزرتا۔ بندر اُسے ڈھیر ساری چیریاں توڑ کر دیتا اور پھر آہستہ آہستہ دونوں میں گہری دوستی ہو گئی۔ مگرمچھ نے دل میں سوچا کہ جو بندر ہر روز چیریاں توڑ کر کھاتا ہو اُس کا کلیجہ کتنا میٹھا ہوگا۔

Your Ad Here
ایک دن اُس نے بندر کو بہانے سے اپنے ہاں دعوت پر بُلا لیا۔ بندر اُس کے ساتھ چل پڑا مگر عین بیچ دریا کے مگرمچھ نے بندر سے کہا کہ میں تیرا کلیجہ کھاﺅں گا۔ وہ ساری بات سمجھ گیااور مگرمچھ سے مخاطب ہوا کہ میرا کلیجہ تو درخت پر ہی ٹنگا رہ گیا۔ دوستی میں تو جان بھی حاضر ہے تُو پہلے بتا دیتا میں اپنا کلیجہ وہیں تمہارے حوالے کر دیتا۔ اب جلدی سے واپس مڑو تاکہ میں تمہیں اپنا کلیجہ دے سکوں۔ مگرمچھ بندر کو لے کر واپس ہوا۔ جیسے ہی دونوں منزل پر پہنچے تو بندر کلیجہ اُتارنے کے بہانے پھرتی سے درخت پر چڑھ کر اپنی جان بچانے میں کامیاب ہو گیا اور پھر مگرمچھ کو چڑانے لگا ”بیوقوف! کبھی کسی کا کلیجہ بھی پیڑ پر لٹکا رہتا ہے“ مگرمچھ کفِ افسوس ملتا رہ گیا کہ بندر تو مجھے دھوکہ دے گیا۔ آج بھی جب آپ جنگل میں جائیں تو آپ کو بندر کے ہنسنے کی آواز آئے گی جبکہ مگرمچھ نیچے دریا میں منہ کھولے بندر کا انتظار کر رہا ہوگا۔وہ دن اور آج کا دن مگرمچھ جب بھی شکار کرتا ہے تو ساتھ ہی اس کے آنسو بھی نکل آتے ہیں۔
صاف بات ہے کہ تالاب میں رہ کر مگرمچھ سے بیر نہیں لینا چاہئے لیکن سیانے کہتے ہیں کہ چاہے پانی میں رہیں یا خشکی میں دونوں صورتوں میں مگرمچھ کے مکر سے بچ کر رہنا چاہئے۔ مگرمچھ کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ اگر کوئی آدمی مادرزاد برہنہ پانی میں اُتر جائے تو یہ اُس پر حملہ آور نہیں ہوتا بشرطیکہ وہ آدمی مگرمچھ کو چھیڑنے کی کوشش نہ کرے مگر یہ خیال صرف جنتر منتر کی حد تک درست ہے اور حقیقت سے اس کا دور تک بھی واسطہ نہیں ہے۔ جہاں کہیں غم مشترک ہو جائیں تو پھر دو غمگین دل ایک دوسرے کا سہارا بننے کی سعی کیا ہی کرتے ہیں۔ ایک آدمی نے مگرمچھ کو دیکھا کہ وہ آنسو بہا رہا ہے۔ وہ کافی دیر تک یہ سوچتا رہا کہ شاید مگرمچھ کی بیوی یا پھر ممی ڈیڈی نے اسے ڈانٹا ہوگا۔ اس خیال کی دلیل کا محور اس کا اپنا خاندانی پس منظر تھا چنانچہ وہ آدمی سوئمنگ بھول کر مگرمچھ کے قریب گیا تاکہ اس کے آنسو پونچھ سکے۔ جب وہ مگرمچھ کے قریب پہنچا تو معاملہ ایسا ہوگیا کہ پھر اُس آدمی کے آنسو پونچھنے والا کوئی نہ تھا۔
اس واقعے کے بعد وہ شخص مگرمچھ کے آنسوﺅں سے اس قدر متاثر ہوا کہ بقول اُس کے اگر مگرمچھ کی روح اس کے جسم میں حلول ہو جائے تو وہ زبردست انداز میں مگرمچھ کے آنسو بہا کر متاثرین کی صفوں میں کھلبلی مچا سکتا ہے۔شاید تب سے ہی انسان بھی کسی کو بیوقوف بنانے کیلئے مگرمچھ کے آنسو بہانے کا ڈرامہ کرتا چلا آ رہا ہے۔ ایک عام آدمی بھی مگرمچھ سے معمولی سی ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد ایسے آنسو بہا کر ملک میں پانی کی کمی کو پورا کر سکتا ہے جبکہ بعض لوگ پیدائشی اس کام میں ماہر ہوتے ہیں اور جیسے ہی مگرمچھ کے آنسو بہانا شروع کرتے ہیں تو ہر طرف سیلاب کا سماں ہوتا ہے پھر مجبوراً حکومتوں کو بھی بیرون ممالک سے امداد کیلئے ”مگرمچھ کے آنسو“ بہانا پڑتے ہیں۔ سیاست اور اقتدار کیلئے بھی مگرمچھ کے آنسو بہائے جاتے ہیں اور جیسے ہی اقتدار ملتا ہے ساتھ ہی آنسو بہنا بھی رُک جاتے ہیں۔ جو سیاست داں اپوزیشن میں ہوں تو ملک کے حالات پر اُن کا دل ہمیشہ ”خون کے آنسو“ روتا ہے اور جو اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہوں وہ اپوزیشن کے اس رونے کو ”مگرمچھ کے آنسو“ بہانے سے تشبیہ دیتے ہیں۔
ہمارے ہاں کرپٹ سیاست دانوں کیلئے ”سیاسی مگرمچھ“ کی اصطلاح عام استعمال ہوتی ہے۔ ایسے مگرمچھ ہمیشہ کرپشن کے سمندر میں تیرتے رہتے ہیں جبکہ بہتی گنگا میں نہانا بھی ان ہی کے نصیب میں ہوتا ہے۔ یہ سیاسی مگرمچھ خود تو احتساب سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں البتہ ان کا نزلہ پوری قوم پر گر جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آنسو بہانے کی ایکٹنگ میں لڑکیوں کا کوئی ثانی نہیں لیکن چند ایک سیاسی لیڈروں نے اس کام میں لڑکیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ایسے لیڈر جس انداز میں مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہیں وہ ڈرامہ کم بلکہ ٹوپی ڈرامہ زیادہ ہوتا ہے۔ صرف سیاست داں ہی نہیں بلکہ کبھی کبھار بیویاں یا ضدی بچے بھی بات منوانے کیلئے مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہیں۔ بعض کے آنسو تو آنکھوں میں تیار کھڑے ہوتے ہیں اِدھر صرف کچھ کہنے کی دیر ہوتی ہے اُدھر ایک سیکنڈ میں ساون بادوں کی طرح برسنا شروع ہو جاتے ہیں اور سامنے والا پریشان ہو کر سوچتا ہے کہ میں نے کہہ کیا دیا ہے۔ رونا کوئی بُری بات نہیں، کم از کم دل کے غبار کو کم کرنے کیلئے نہ سہی آنکھوں کی دھلائی کیلئے ہی رو لینا چاہئے البتہ مگرمچھ کے آنسو بہانے سے اجتناب ضروری ہے۔