انکار منکر
نذر حافی
nazarhaffi@yahoo.com
بازوق لوگوں کی ادبی تسکین کے لئے ایک تحریر
زندگی کا بوجھ الفاظ کے کاندھوں پہ ڈال کر حالات کے صحرا میں،سماج کی گاڑی کے آگے قلم کو جوت کر میں درد کی مہار کہاں تک کھینچتا۔میں اپنے جسم کے سارے پُرزے نیلام بھی کر دیتا تو ظل الہی کے قرض ادا نہ کر پاتا۔شہر بھر نے میرے وجود سے میرے وجود سے منہ پھییر لیا تھا،لوگ آخر کب تک ایک ہی طرح کا گوشت کھاتے۔
بازار کے سب سے بلند پر میری لاش جھول رہی ہے۔لوگ ایک ایک کر کے مینار سے نیچے اتر رہے ہیں۔میں اپنی پتھرائی ہوئی آنکھوں سے لوگوں کو مسلسل اترتے ہوئے دیکھے جا رہا ہوں۔نیچے شہر کی گلیوں میں لوگ کیڑوں ،مکوڑوں کی طرح رینگ رہے ہیں۔صبح سویرے یہ لوگ رزق کی تلاش میں اپنے گھروں سے نکل آتے ہیں،ایک دوسرے کی کھال کھینچ کھینچ کر اور خون کو چاٹ چاٹ کر شام ہوتے ہی تھکے ہارے ہوئے واپس اپنے گھروں میں گھس جاتے ہیں۔
میں کتنے مہینوں سے یہ منظر مسلسل دیکھتا رہا۔پھر جون کی گرمی نے میرےجسم پر بچے کُھچے گوشت کو جُھلسا کر خشک تنے کی طرح ہوا کے رخ پر جھولتی رہی۔اسی طرح دنوں پر دن گزرتے رہے اور دسمبر کی سردیاں شروع ہو گئی۔دسمبر میں میری لاش سردی سے سکڑنے لگی پھر ایک دن میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ میرا سارا وجود برف سے ڈھک چکا تھا اور میرے بدن کی خشک ہڈیاں سفید مر مریں پتھر کی طرح چمک رہی تھیں ۔پھر اگلے روز میں نے علی الصبح اپنے وجود پر نگاہ ڈالنا چاہی تو محسوس ہوا کہ میری آنکھیں بھی برف تلے دب چکی ہیں۔مدتوں برفباری ہوتی رہی اور میں یہ سوچتا رہاکہ اب تک تو
میرے اوپر برف کا "کے۔ٹو"تعمیرہو چکا ہو گا۔میں برف تلے دبے دبے کئی مہینوں تک یہی سوچتا رہا کہ ایک دن مجھے اپنے پاوں کی جانب سے گرمی محسوس ہوئی۔پھر یہ گرمی بڑھتے ،بڑھتے میرے سینے اور گلے تک آ پہنچی۔پھر ایک صبح کو میرے جسم سے برف پگھل چکی تھی،میری آنکھوں کے گڑھوں میں روشنی پہنچ چکی تھی۔میرے وجود کی ہڈیوں میں جگہ ،جگہ گھاس پھوس اور سبزہ اُگ آیا تھا۔مینار سے لیکر شہر کے درودیوار تک ہر چیز پر بہار آئی ہوئی تھی،ہر طرف پرندے چہچہا رہے تھے،پانی رس رہا تھا،سورج چمک رہا تھا،سبزہ اُگ رہا تھا،ہر طرف خوشبو ہی خوشبو،پھول ہی پھول اور بہار ہی بہار تھی۔میں نے ذرا دائیں بائیں نگاہ دوڑائی تو دھک سے رہ گیا۔میرے ہر طرف ان گنت بلند و بالا مینار تھے۔ان میں سے ہر انسان عظمتِ انساں کا شہکار تھا اور ہر مینارپر ایک انوکھی صلیب گاڑی گئی تھی۔کہیں پر انتظار کی صلیب ،کہیں پر سچ کی صلیب،کہیں پر وعدہ وفائی کی صلیب اور کہیں پر ایثار وفا کی صلیب، اس طرح کی بے شمار صلیبیں تھیں جن پر بےشمار لوگ جھول رہے تھے۔یہ ساری مصلوب لاشیں مسخ ہو چکی تھیں۔ان کی آنکھوں کے گڑھوں میں فاختاوں نے اپنے گھونسلے بنا لیے تھے۔اُن کی کھوپڑیوں میں چڑیوں نے بسیرا کر لیا تھا۔ان کی ہڈیوں میں گھاس پھوس اور دیمک نے جگہ بنا رکھّی تھی۔
میں اپنے ارد گرد اتنی لاشوں کو دیکھ کر خوشی سے چیخ اُٹھا۔ارے تم لوگ کب سے آ کر میرے ارد گرد بس گئے ہو۔۔۔خوش آمدید۔۔۔میری آواز کے بلند ہوتے ہی سورج ایک مینار کی اوٹ میں چھپ کر غروب ہوگیا۔ساری رات میری آواز بازار کے درودیوار سے ٹکراتی رہی اور میناروں میں گونجتی رہی۔لوگ کیڑوں مکوڑوں کی طرح اپنے اپنے بلوں میں گھس کر سو گئے۔میناروں پر مصلوب لاشیں ساکت ہو گئی۔ہر طرف سناٹا ہی سناٹا اور اس سناٹے میں صرف میری آواز کی گردش۔۔۔ پھر اعلی الصبح موذن اذان دینے لگا،مندر کی گھنٹیاں بجنے لگیں اور پرندوں کی مناجات کا شور میری آواز پر غالب آنے لگا۔میناروں پر ساکت لاشیں حرکت کرنے لگی اور گھروں میں دبکے ہوئے لوگ ایک ایک کر کے باہر نکلنے لگے۔پھر کچھ دیر میں ایک مینار کی اوٹ سے سورج مغرب سے طلوع ہونے لگا۔
میں حیران رہ گیا،"سورج مغرب سے طلوع ہو رہا ہے"ابھی میری خود کلامی جاری ہی تھی کہ میناروں پر مصلوب لاشیں بول پڑیں۔میں ایک ایک لاش کو غور سے تکنے لگا۔ان میں سے کوئی پُر اسرار طور پر مرا ہوا تھا،کسی نے خود کشی کی ہوئی تھی،کسی کو حکومت نے سزا موت دی تھی،کوئی اپنے دماغی امراض کی وجہ سے دم توڑ چکا تھا۔ان میں سے کوئِی قہقہے لگا رہا تھا،کوِِئی آہ وبکا کر رہا تھا،کوئی چپ چاپ دوسروں کو گھورے جا رہا تھا۔کوئی تالیا بجا رہا تھا۔ساری رات میں انہیں خوش آمدید کہتا رہا۔اب وہ سب مل کر مجھے خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ان کا کہا تھا کہ وہ مجھ سے پہلے یہیں پہ موجود تھے لیکن میں نہ انہیں دیکھ رہا تھا اور نہ سن رہا تھا۔
میں نے ان سے پوچھا کہ آج یہاں سورج مغرب سے کیوں نکلا ہے؟وہ بولے یہاں ہر روز سورج مغرب سے ہی نکلتا ہے لیکن تمہیں دیکھائی نہیں دے رہا تھا۔پھر ان سب نے بیک زباں ہو کر مجھ سے ایک سوال پوچھا۔صرف ایک سوال ۔۔۔وہ یہ کہ تم اس نگری میں کیسے آئے۔۔۔تم تو خود کُشی کو حرام سمجھتے تھے،تم تو دماغی مریضوں کے لیے جدید سہولتوں سے آراستہ ہسپتال تعمیر کروانے کے علمبردار تھے،تم تو قانون کی بالادستی کے لیے انسانوں کا بھرتہ بنانے کا احتیار حکمرانوں کو سونپنے کے حق میں تھے۔۔۔
میں ایک دم ٹھٹھک کر رہ گیا،میں اُنہیں کیا بتاتا کہ مجھے کیا ہوا۔میری زبان ندامت اور شرمندگی سے لڑ کھڑا رہی تھی،میرا بدن تھر،تھر کا نپ رہا تھا۔میں اپنی کرچی ،کرچی ہمّت کو سمیٹ کر آہستہ ،آہستہ بولا۔۔۔
میرے دوستو۔۔۔تم سچ کا زہر پینے میں مجھ پر سبقت لے گئے۔میں مجرم ہوں۔۔۔احساسات کا،جذبات کا،قلم کا،کاغذ کا، سماج کا،روایات کا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میں مجرم ہوں خدا اور رسول {ص}کا۔
دوستو۔۔۔میری فکر پر مادیت کی تہیں جمی ہوئی تھیں،میری سوچ پر مفاد کا متلاشی تھا۔
اے انسانی عظمت کے میناروں پر مصلوب دوستو۔۔۔ میں تمہارا بھی مجرم ہوں۔میں تمہاری صفوں میں گھُس کر اپنی شناخت کرواتا تھا اور پھر اس شناخت کو سماج کے چوراہے پہ نیلام کر دیتا تھا۔
میں ادیب تھا لیکن انسانیت کا خدمت گار نہ تھا ،میں شاعر تھا تھا لیکن بادشاہوں کا پرستار تھا،میں نثر نگار تھالیکن معاشرے کے جھوٹے بندنوں کا پجاری تھا۔
میں خود کُشی کو تو حرام لکھتا تھا لیکن وہ لوگ جو دوسروں کو خود کُشی کی منزل تک لے جاتے ہیں ان کے خلاف زبان نہیں کھولتا تھا،مین دماغی مریضوں کے لیےجدید سہولتوں سے آراستہ ہسپتالوں کی تعمیر کے حق میں تقریر یں تو کرتا تھا لیکن جو انسانوں کو دماغی مریض بناتے ہیں ان سے میری دوستیاں تھیں۔میں قانون کی بالادستی کے لیے انسانوں کا بھرتہ بنانے پر تو رضا مند تھالیکن جو انسانوں کو قانون سے کھیلنے پر مجبور کرتے ہیں۔میں ان کی شان میں قیصدے لکھتا تھا۔میں ہر روز ان جرائم کا ارتقاب کرتا،ہر روز میرا ضمیر مجھے اپنی گرفت میں لیکر ندامت کےتازیانے مارتا۔بلاخر ضمیر کے ہاتھوں میرے قلم کی باطن کی آنکھ کھلنا شروع ہو گئی اور فکر پر یہ مادیت کی تہیں جھڑنے لگیں اور میں یہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ میں الفاظ کے کاندھوں پر زندگی کا بوجھ لاد کر اور حالات کے صحرا میں سماج کی گاڑی کے آگے قلم کو جوت کر درد کی مہار کہاں تک کھینچوں گا۔پھر مجھے یہ احساس ہوا کہ اب میں اپنے وجود کے سارے پُرزے نیلام بھی کر دو ں تو ظلِ الہی کے قرضے نہیں اتار سکتا۔پھر میں نے دیکھا کے اب شہر بھر نے میری لاش سے منھ موڑ لیا ہے،لوگ آخر کب تک ایک ہی طرح کا گوشت کھاتے۔
مارکیٹ میں میری قیمت گر گئی تھی،توبہ کرنا میری مجبوری بن گئی تھی،بِا لاخر ایک شب میں نے نام ونمود کے بجائےگمنام ہونے کا فیصلہ کر لیا ،بادشاہوں کے قصیدوں کے بجائے غریبو ں کی سسکیوں کو پرونے کا عہد کر لیا،ظالموں سے دوستی کے بجائے مظلوموں کی حمایت کا تہیہ کر لیا۔میں نے آخر شب میں باطن کی سلسبیل سے سچ کے زہر کا جام پی کر سقراط کے ہاتھوں کا بوسہ لے لیا۔
صبح ہوتے ہی میرے لب و لہجے میں سچ کی تلخی گُھل گُھل کر الفاظ کا روپ دھار رہی تھی۔لوگ اپنے بلّوں سے مجھے کوستے ہوئے باہر نکلے،امیر شہر نے مجھے شہرسے نکال باہر کیا۔لوگوں نے مجھے دھکیل کر عظمتِ انسان کے ان بلند میناروں میں سے ایک پر گاڑھ دیا۔
مدتیں ہوئیں اب میں سارے سماج سے الگ تھلگ احساس کی صلیب پر جھول رہا ہوں اور کیڑوں مکوڑوں کی زندگی جی رہے ہیں۔