نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: آخری فیصلے سے پہلے

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    143
    شکریہ
    13
    15 پیغامات میں 23 اظہار تشکر

    آخری فیصلے سے پہلے

    بسم اللہ الرحمن الرحیم
    سات سمندر خشک
    نذر حافی
    مجھے یوں محسوس ہواجیسےمیری ماں مجھے دور سے چمکاررہی ہو،پہاڑ سےنیچے اتر آو بیٹا ،یہ تمہارا اپنا گھر ہے،میرے دوست ،عزیزو اقارب سب مجھے سمجھارہےتھےکہ مٹی کے گھروندے سے پھسل جاو گئے،نیچے اپنے گھر کے آنگن میں اتر آو ۔
    مجھے ایسے لگا جیسےسب لوگ مجھ سے مخاطب ہیں کہ یہ دیکھو ،کتنا پیارا گھر ہے،باریک اور نفیس سونے کے تاروں سے بنا ہوا، دبیز ریشمی پردے ،تازہ ہوا کے سارے امکانات ،برقی قمقموں کی جگمگاہٹ۔۔۔میں جیسے ہی جھک کر دامن کوہ کی طرف دیکھتاہوں تو سرچکراجاتاہے،کھیت لہلہا رہے ہیں،دریابہہ رہاہے ،پرندوں کے غول،مندروں کے گنبد، مسجد وں کے مینار،شہرِ خموشاں کے کتبے، کیسا سماں بندھاہواہے اور میں اس میں مست ہوتاجارہاہوں،کھوتاجارہاہو ں۔
    اتنے میں میری ماں نے آگے بڑھ کر میری عینک اتار دی ۔۔۔ہوں۔۔۔ میں چونک کررہ گیا۔۔۔توکیایہ سب میری نظر کا دھوکہ تھا،میری عینک پر اسٹیکر لگے ہوئے تھے،میں نے حیرانگی سے ادھر ادھر دیکھا وہاں تو نہ کوئی گھر تھا نہ دریا نہ پتھر،نہ مسجد نہ مندر۔
    میں نے ایک جھٹکے کے ساتھ اپنی ماں کے ہاتھوں سے عینک چھین کر دوبارہ پہن لی،پھر وہی مناظر تھے اور وہی احساسات ،میں دل ہی دل میں انتظار کرنے لگا کہ ماں مجھ سے دوبارہ عینک کب چھینتی ہے لیکن اب کی بار ماں عینک چھیننا بھول گئی ہوجیسے۔
    میں نے بالاخرتھک کر خود ہی عینک اتار دی،ماں یہ لو عینک ،لیکن وہاں تو کوئی ماں نہیں تھی،میرے ذہن میں ہزار طرح کے وسواس ابھرنے لگے، اگر ماں یہاں نہیں ہے تو پھر مجھے کس نے جنم دیا؟اگر مجھے کسی نے جنم نہیں دیاتو پھر میرے ہاتھ کیوں ہیں؟اگر میرے ہاتھ نہیں ہیں تو پھر میرے ہاتھوں میں عینک کیوں ہے؟یہ کہہ کر میں نے اپنے لرزتے ہاتھوں کے ساتھ اپنے دامن کے پلو سے اپنی عینک کے شیشوں کو صاف کرنے کی کوشش کی تو وہاں تو کوئی شیشہ بھی نہیں تھا۔۔۔
    ہیں۔۔۔میں ٹھٹھک کر بُڑبُڑایا،عینک میں شیشے نہیں۔۔۔تو کیا۔۔۔؟ عینک بھی نہیں۔۔۔میرے ہاتھوں میں اگرعینک نہیں تو کیا میرے ہاتھ بھی نہیں؟ اگر میرےہاتھ بھی نہیں تو کیا میں بھی نہیں؟ اگرمیں بھی نہیں تو کیامیری ماں بھی نہیں؟اگر میری ماں بھی نہیں تو کیا اس نے میری عینک بھی نہیں اتاری تھی؟اگر اس نے میری عینک بھی نہیں اتاری تھی تو کیا میں نےوہ سارے مناظر۔۔۔ میرے دماغ میں سوالات کاپہیّہ الٹا چلنے لگا۔۔۔
    اگر اگر۔۔۔ہوں ہوں۔۔۔مگر مگر۔۔۔ہاں ہاں۔۔۔نہیں نہیں۔۔۔تو تو۔۔۔پھر پھر۔۔۔لیکن لیکن۔۔۔
    لیکن میں تو ہوں چونکہ میں سوچ رہاہوں،چاہے غلط ہی سوچوں،دیکھ رہاہوں چاہے غلط ہی دیکھوں۔لیکن اگر میں ہوں تو میری عینک کے شیشے کیوں نہیں؟میری عینک کیوں نہیں؟میرے ہاتھ کیوں نہیں؟میرا جسم کیوں نہیں؟میری ماں کیوں نہیں؟میرا گھر کیوں نہیں؟
    لیکن عینک کے شیشے تو میرے قدموں میں ٹوٹے ہوئے پڑے ہیں،ارےان پرتو کوئی اسٹیکر نہیں،اگر ان پر کوئی اسٹیکر نہیں تو پھر وہ پیارا گھر ، دبیز ریشمی پردے ،تازہ ہوا ،برقی قمقمیں،لہلہاتےکھیت ، پرندوں کے غول،مندروں کے گنبد، مسجد وں کے مینار،شہرِ خموشاں کے کتبے۔۔۔ وہ سب کچھ کیا تھا؟؟؟
    میں نے گھبراہٹ کے عالم میں گردن گھما کر ادھر ادھر دیکھا تو ایک مرتبہ پھر میرے پہلو میں وہی پیارا گھر ، دبیز ریشمی پردے ،تازہ ہوا ،برقی قمقمیں،لہلہاتےکھیت ، پرندوں کے غول،مندروں کے گنبد، مسجد وں کے مینار،شہرِ خموشاں کے کتبے۔۔۔ وہ سب کچھ موجود تھا۔۔۔
    لیکن اب کی بار تو میری آنکھوں پر کوئی عینک بھی نہیں تھی،میں نے پہاڑ کی چوٹی سے اپنے خوبصورت مکان کی چھت پر قدم رکھنے کی کوشش کی تو میرا گھر میرا بوجھ برداشت نہ کرسکا،میرے دیکھتے ہی دیکھتے،میرا خوبصورت گھر مینڈک کی طرح چپک کر زمین کے ساتھ لگ گیا اور میں خوف کے مارےبھاگ کر دوبارہ پہاڑ کے اوپر چڑھ گیا۔
    جو میرا بوجھ نہ اٹھا سکے اورمیرے بوجھ سے چپک جائے۔۔۔ وہ میرا گھر نہیں ہوسکتا۔۔۔پس یہ۔۔۔ یہ میرا گھر نہیں ہے یہ شاید مکڑی کا گھر ہے۔مکڑی کاگھر۔۔۔لیکن میراگھر کہاں ہے؟ پہاڑ تو گھر نہیں ہوتا۔۔۔یہ کیسی بے یقینی کی کیفیت ہے،نہ مراگھر ہے،نہ ماں ہے،نہ عینک ہے نہ شیشہ۔۔۔
    میں نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیاکہ مجھے بھاگ جانا چاہیے،پھر میرے اندر سے آواز آئی،کون بھاگے ؟میں بھاگوں،لیکن میرا تو وجود ہی نہیں،اچھا اگر میرا وجود نہیں توپھر سوچ کون رہاہے؟کوئی تو سوچ رہاہے ،چلوجو سوچ رہاہے وہی بھاگ جائے،بھاگ کر کہاں جائے؟ سات سمند ر پار، وہاں کیا ہوگا؟شاید وہاں کچھ بھی نہ ہو،جہاں کچھ بھی نہ ہو کیا وہاں جایا جاسکتاہے؟
    ہوں ہوں لیکن لیکن۔۔۔
    میرے سر میں ہزاروں سوالات گردش کر رہے تھے ،میں نے ایک کتری ہوئی کتاب کے صفحات میں چھپ جانے کی کو شش کی لیکن اس میں تو ایک بڑا سا لفظ "استعمار" لکھا ہوا تھا۔وہاں میرے گنجنے کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی۔
    میں واپس بھاگنے لگا تو لفظِ"استعمار"نے مجھے مسکرا کر اپنے پاس بلایا۔۔۔کہاں جارہے ہو؟اور تم جاو گئے بھی کہاں ؟ تمہارا تو نہ گھر ہے ،نہ شناخت۔۔۔ میں تم سے تمہاری شناخت،ذات اور گھر بار سب کچھ چھین چکا ہوں۔آو اور یہیں میرے حاشیئے میں بیٹھ جاو۔
    میں نے کہا نہیں نہیں میں کبھی بھی استعمار کا حاشیہ نشین نہیں بنوں گا،میں بھاگ کر سات سمندروں پار چلاجاوں گا۔یہ سن کر بوڑھے استعمار نے قہقہہ لگایا اور کھلکھلاتے ہوئے بولا۔۔۔میاں صاحبزادے تم آج تک استعمار کو سمجھے ہی نہیں۔۔۔کیا یہ سات سمندر تمہیں تمہاری کھوئی ہوئی شناخت واپس دیدیں گئے،نہیں ہرگز نہیں وہ بھی تمہیں ہڑپ کرنے کے لئے بےقرار ٹھاٹھیں مار رہے ہیں۔وہ بھی استعمار ہیں۔تم استعمار کو سمجھے ہی نہیں،آج تلک تمہیں کسی نے استعمار کا مطلب سمجھایا ہی نہیں۔تم سمجھتے ہو کہ استعمار کافر ہوتاہے،مغربی ہوتاہے اور غیراسلامی ہوتاہے۔۔۔
    جبکہ سیانے کہتے ہیں کہ جو بھی تمہیں آباد کرنے کے بہانے آئے اور تمہارے گھر پر قبضہ جمالے،تمہیں کمزور کرنے کے لئے اور تمہیں اپنے قبضے میں لانے کے لئے تمہیں اپنے ہی بھائیوں سے لڑوائے، وہی استعمار ہے۔۔۔
    تم خواہ مخواہ میرے خلاف نعرے لگاتے ہوجبکہ مجھ سے بھاگتے بھی ہو اورمیری گود میں پناہ بھی لیتے ہو۔۔۔یہہ کہتے کہتے بوڑھے استعمار کی سانس پھول گئی اور وہ کچھ دیر سکوت کے بعد دوبارہ بولا، میرا کوئی ایک رنگ نہیں کہ تم مجھے پہچان سکو،میں گرگٹ کی طرح رنگ اورگھڑی کی سوئیوں کی طرح مذہب بدلتاہوں اور کبھی کبھی تو بالکل بے مذہب ہوجاتاہوں۔ جواپنے بھولے بھالے بچوں کی طرح میرے خلاف چیختے اور چلاتے ہیں ان کی شناخت، ذات اور گھر کھوجایا کرتے ہیں،ان کا اپنے آپ سے،اپنے گھر اور اپنے وجود سے بھی اعتبار اٹھ جایاکرتاہے۔وہ اپنے ہی باطن سے اٹھنے والے سوالوں کا جواب نہیں دے سکتے اور ان کے اپنے ہی گھر اپنی تمام تر زیبائیوں اور رعنائیوں کے باوجودمکڑی کے جالوں کی مانند غیر محفوظ اورکمزور ہوتے ہیں۔
    میں نے یہ سنا تو کتاب کے کترے ہوئے کونے سےپانی کے قطرے کی مانندکھسک کر باہر نکل آیا لیکن باہر تو سات سمندر مجھے نگلنے کے لئے ٹھاٹھیں ماررہے تھے اور اندر برہنہ استعمار میری سادہ دلی پر قہقہے لگارہاتھا۔
    میں نے وہیں ٹھہرے ٹھہرے کچھ دیر سوچا کہ میری قبر استعمار کے حاشئیے میں ہونی چاہیے یا مجھے سمندری موجوں کا نوالہ بننا چاہیے؟
    پھر میں نے مرنے کے بجائے جینے کا سوچنا شروع کردیا،میں یہیں جیوں گا، کوئی دیو، اب مجھے ڈرانہیں سکتا اور کوئی سمندری طوفان میری دھرتی سے گزر نہیں سکتا،میں یہیں زندگی گزاروں گا،میری دھرتی میری ماں ہے،میراوطن میرا گھر ہے۔
    جیسے جیسے میرا زندہ رہنے کا عزم پختہ ہوتاگیا،زمین پر میرے پاوں جمتے گئے،میرا وجود کوہِ جودی کی مانند بلند ہوتاگیا،سمندروں کی چنگھاڑتی ہوئی لہریں ،خشک ہونے لگیں اور کتابِ استعمار کا ورق ورق خزاں کے پتوں کی مانندمیرے قدموں پر بکھرتا چلا گیا۔
    میں دشتِ خیال میں چیخا اور چلّا یا،اے میرے ہم جنسو!،اے اپنے اپ کو انسان کہنے والو!۔۔۔
    ہم اس وقت تک بزدل ، کمزور ،پسماندہ اور بے گھر ہیں جب تک ہم بے شعور ہیں۔اگر ہم عقل و شعور سے کام لیں تواب بھی لشکرِ استعمار کا شیرازہ بکھر سکتاہے اور آج بھی سات سمندر خشک ہوسکتے ہیں ۔
    nazarhaffi@yahoo.com

  2. #2
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    143
    شکریہ
    13
    15 پیغامات میں 23 اظہار تشکر

    RE: آخری فیصلے سے پہلے

    سات سمندر خشک

متشابہہ موضوعات

  1. فیصل محبوب فرام ملتان
    By فیصل محبوب in forum تعارف ۔ جان پہچان
    جوابات: 3
    آخری پيغام: 10-31-2012, 03:30 PM
  2. فیصل خان صاحب کو خوش آمدید
    By تانیہ in forum خوش آمدید
    جوابات: 6
    آخری پيغام: 10-04-2012, 10:50 AM
  3. رحمان ملک کے خلاف الیکش کمشر کا فیصلہ
    By انجم رشید in forum آج کی خبر
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 09-25-2012, 11:18 AM
  4. محمد فیصل صاحب کو خوش آمدید
    By تانیہ in forum خوش آمدید
    جوابات: 4
    آخری پيغام: 04-01-2012, 11:15 PM
  5. محترم فیصل علی صاحب کو خوش آمدید
    By تانیہ in forum خوش آمدید
    جوابات: 4
    آخری پيغام: 01-21-2012, 05:39 AM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University