نتائج کی نمائش 1 تا: 9 از: 9

موضوع: ان شاء اللہ اور انشاء اللہ میں فرق

  1. #1
    رکنِ خاص ابوسفیان کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2012
    پيغامات
    426
    شکریہ
    94
    14 پیغامات میں 19 اظہار تشکر

    ان شاء اللہ اور انشاء اللہ میں فرق

    [size=x-large][align=center]


    اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ ‘ان شاء اللہ’ کو ‘انشاء اللہ’ لکھتے ہیں جو کہ درست نہیں ہے.. ابنِ ہشام کی شذور الذہب میں آیا ہے کہ ‘انشاء’ کا مطلب ہے بنانا یا دریافت کرنا، ارشادِ باری تعالی ہے: ‘انا انشانہن انشاء’ یعنی ہم نے (ان عورتوں کو) بنایا ہے.. چنانچہ جب ہم ‘انشاء اللہ’ لکھتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ نعوذباللہ ہم نے خدا کو بنایا ہے..!؟

    درست لفظ ‘ان شاء اللہ’ ہے.. ارشادِ باری تعالی ہے: ‘وما تشاؤن الا ان یشاء اللہ’ … اور حضرت یوسف کی زبانی ارشاد فرمایا: ‘ستجدنی ان شاء اللہ من الصابرین’.

    امید ہے فرق واضح ہوگیا ہوگا..
    [/size]
    [/align]

  2. #2
    رکنِ خاص سقراط کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,469
    شکریہ
    35
    149 پیغامات میں 217 اظہار تشکر

    ان شاء اللہ اور انشاء اللہ میں فرق

    یہ بہت ضروری بات آپ نے بیان فرمائی
    مجھے بھی اسکا فرق آج پتہ لگا ہے
    جزاک اللہ بھائی

  3. #3
    معاون
    تاريخ شموليت
    Dec 2012
    پيغامات
    96
    شکریہ
    0
    5 پیغامات میں 5 اظہار تشکر

    ان شاء اللہ اور انشاء اللہ میں فرق

    [align=center]it's a very important issue and we've to pay attention for such an issue
    the correct word is that, Allah willing, and divided into three words in arabic
    if it divided into two words, it's not gonna be true

    cuz as the meaning of the word,Allah can be created by us which is absolutely wrong , since Allah almighty is the only creator and sole originator of the universe

    Allah blesses your brother about this important piece of information which everyone has to know it
    آپ کا بہت بہت شکریہ میرے بھائی کریم[/align]

  4. #4
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2012
    پيغامات
    5,446
    شکریہ
    138
    96 پیغامات میں 104 اظہار تشکر

    ان شاء اللہ اور انشاء اللہ میں فرق

    جزاک اللہ

  5. #5
    رکنِ خاص ابوسفیان کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2012
    پيغامات
    426
    شکریہ
    94
    14 پیغامات میں 19 اظہار تشکر

    ان شاء اللہ اور انشاء اللہ میں فرق


  6. #6
    رکنِ خاص نگار کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2011
    پيغامات
    5,360
    شکریہ
    663
    357 پیغامات میں 424 اظہار تشکر

    ان شاء اللہ اور انشاء اللہ میں فرق

    جزاک اللہ بھائی

  7. #7
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Dec 2010
    پيغامات
    104
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    ان شاء اللہ اور انشاء اللہ میں فرق

    جزاک اللہ

  8. #8
    رکنِ خاص ابوسفیان کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2012
    پيغامات
    426
    شکریہ
    94
    14 پیغامات میں 19 اظہار تشکر

    Arrow ان شاء اللہ اور انشاء اللہ میں فرق

    اقتباس اصل پيغام ارسال کردہ از: ابوسفیان پيغام ديکھيے
    [size=x-large][align=center]


    اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ ‘ان شاء اللہ’ کو ‘انشاء اللہ’ لکھتے ہیں جو کہ درست نہیں ہے.. ابنِ ہشام کی شذور الذہب میں آیا ہے کہ ‘انشاء’ کا مطلب ہے بنانا یا دریافت کرنا، ارشادِ باری تعالی ہے: ‘انا انشانہن انشاء’ یعنی ہم نے (ان عورتوں کو) بنایا ہے.. چنانچہ جب ہم ‘انشاء اللہ’ لکھتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ نعوذباللہ ہم نے خدا کو بنایا ہے..!؟

    درست لفظ ‘ان شاء اللہ’ ہے.. ارشادِ باری تعالی ہے: ‘وما تشاؤن الا ان یشاء اللہ’ … اور حضرت یوسف کی زبانی ارشاد فرمایا: ‘ستجدنی ان شاء اللہ من الصابرین’.

    امید ہے فرق واضح ہوگیا ہوگا..
    [/size]
    [/align]
    [align=center]

    ان شاء اللہ ملا کر لکھنا کیسا ہے؟

    ๑۩۩๑๑۩۩๑๑۩۩๑
    سوال پوچھنے والے کا نام: محمد مختار اشرفی مقام: کراچی ۔ پاکستان

    سوال نمبر 1312:
    السلام علیکم کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ انشاء اللہ ملا کر لکھنے سے معنی تبدیل ہو جاتے ہیں اگر تبدیل ہو جاتے ہیں تو کیا اس کو ملا کر لکھنا درست ہے یا نہیں* اگر درست نہیں*تو اس کا کیا حکم ہے؟ براہ کرم مدلل جواب عنایت فرما کر مشکور فرمائیں

    جواب:

    ان شاء اللہ ملا کر "انشاء اللہ" لکھنا غلط ہے، "ان" اور "شاء" دو الگ الگ حروف ہیں، لہذا انہیں الگ الگ ہی لکھا جائے گا۔ اکھٹے لکھنے کی صورت میں معنی بدل جاتا ہے۔

    ہر زبان کے کچھ قواعد ہوتے ہیں، قاعدہ ہے کہ ان اور شاء کو الگ رکھتے ہیں، یہ کتابت کا قاعدہ ہے، انشاء کا معنی ہے پیدا کرنا اور مصدر ہے، تخلیق کرنا۔ قرآن میں انشاکم، ینشئکم، کے الفاظ آئے ہیں، جن کا معنی ہے پیدا کرنا اور "ان" حروف شرط ہے اس کا معنی ہے، "اگر" ۔ "شاء" فعل ماضی ہے، اس کا معنی ہے اس نے چاہا۔ تو معنی ہوگا۔ اگر اس نے چاہا۔ انشاء مصدر کا معنی ہوا، پیدا کرنا۔ تو ایسا لکھنا غلط ہے، اس سے معنی بدل جاتے ہیں، جو جائز نہیں ہے۔

    اردو میں انشاء کا اپنا معنی ہے اور عربی میں اپنا۔ لہذا الگ الگ ہی لکھا جائے گا۔ اردو اور عربی کے کلمات کو آپس میں ملانا جائز نہیں۔ اس سے معنی بدل جاتا ہے۔

    واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

    مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

    تاریخ اشاعت: 2011-12-23

    ๑۩۩๑๑۩۩๑๑۩۩๑๑۩۩๑๑۩۩๑ ๑۩۩๑
    كتابة إن شاء الله أو إنشاء الله أيهما الصواب؟

    الثلاثاء 27 جمادي الآخر 1424 - 26-8-2003

    رقم الفتوى: 36567
    التصنيف: فنون الأدب
    ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
    السؤال
    منتشر في المنتديات أنك لا تكتب كلمة إن شاء الله بهذه الطريقة إنشاء لله لأن معنى كلمة إنشاء هو الخلق أو البناء فما أدري هل هذه المعلومة صحيحة أم إذا كانت صحيحه فيلزم تصدر بها فتوى رسمية لأن معظم الناس تكتبهاهكذا إنشالله ....
    ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
    الإجابــة
    الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه أما بعد:

    فإن لفظ: (إن شاء) في الاستثناء بكلمة: (إن شاء الله) يختلف عن لفظ (إنشاء) في الصورة والمعنى.
    أما الصورة، فإن الأول منهما عبارة عن كلمتين: أداة الشرط (إن)، وفعل الشرط (شاء). والثاني منهما كلمة واحدة.
    أما المعنى، فإن الأول منهما يؤتى به لتعليق أمر ما على مشيئة الله تعالى، والثاني منهما معناه الخلق كما ذكر السائل، فتبين بهذا أن الصحيح كتابتها (إن شاء الله)، وأنه من الخطأ الفادح كتابتها كلمة واحدة (إنشاء الله) فليتنبه.
    ولعل من المناسب أن نذكر بعضاً مما ورد بشأن هذه الكلمة، ومن ذلك:
    أولاً: توجيه الله تعالى لنبيه صلى الله عليه وسلم إلى هذا النوع من الأدب، وذلك في قوله سبحانه: وَلا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَلِكَ غَداً إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ [الكهف:23-24].
    قال الجصاص في كتابه أحكام القرآن عن هذا الاستثناء: فأعلمنا الله ذلك لنطلب نجاح الأمور عند الإخبار عنها في المستقبل بذكر الاستثناء الذي هو مشيئة الله.
    الثاني: ما رواه البخاري ومسلم عن أبي هريرة رضي الله عنه: عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: قال سليمان بن داود نبي الله: لأطوفنّ الليلة على سبعين امرأة كلهن تأتي بغلام يقاتل في سبيل الله، فقال صاحبه، أو الملك: قل إن شاء الله، فلم يقل ونسي، فلم تأت واحدة من نسائه، إلا واحدة، جاءت بشق غلام، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ولو قال: إن شاء الله لم يحنث، وكان دركاً له في حاجته.
    أي لحاقاً وتحقيقاً لحاجته ومبتغاه.
    قال الحافظ في الفتح: قال بعض السلف: نبه صلى الله عليه وسلم في هذا الحديث على آفة التمني، والإعراض عن التفويض، قال: ولذلك نسي الاستثناء ليمضي فيه القدر. انتهى
    والله أعلم.
    ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
    ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬

    الفرق بين ان شاء الله وانشاء الله

    ابدا بسم الله الرحمن الرحيم
    ربما يكون اغلبنا يعرف كلمة (ان شاء الله) تكتب بهذه الطريقه ولكن احيانا و بدون قصد تكتب (انشاء الله)
    ويجب علينا ان نعرف ما الفرق بين الكلمتين وما معناهما وايهما اصح
    ولقد جاء في المراجع ان معنى الفعل انشاء هو من انشأ - ينشئ اي ايجاد مثل قوله تعالى (انا انشأناهن انشاء ) اي اوجدناها ايجاد اي اننا لو كتبنا انشاء الله يعني اننا اوجدنا الله والله سبحانه وتعالى هو الذي اوجدنا
    اما الصحيح هو ان نكتب( ان شاء الله) ومعنى الفعل شاء(اراد)اي اننا كتبنا (بأرادة الله)
    مثل قوله تعالى (وما تشاؤون الا ان يشاء الله)
    اذا هناك فرق بين الفعل أنشئ اي اوجد والفعل شاء اي اراد
    اذا يجب علينا كتابة (ان شاء الله) وعدم كتابة (انشاء الله)

    ارجو الاهتمام بالموضوع

    مع تحيااااااااااااااااااااتى
    ▬▬▬▬▬▬▬▬
    ▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬▬
    [/align]

  9. #9
    معاون
    تاريخ شموليت
    Dec 2012
    پيغامات
    96
    شکریہ
    0
    5 پیغامات میں 5 اظہار تشکر

    ان شاء اللہ اور انشاء اللہ میں فرق

    اقتباس اصل پيغام ارسال کردہ از: Nozo Kawanozo پيغام ديکھيے
    [size=x-large][align=center] شكــرا لــكـ عــلى التــرجمـة أخـي الفـاضــل
    و نســأل اللـَّـهـ أن ينفعنــا بـمــا علمنــا ويعلمنــا مــا قــد ينفعنـا
    \=-\=-\=-\
    [/align]
    [/size]

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University