از طرف: سید انور محمود
[align=justify]

آج پاکستان میں بےشک جمہورت کے نام پر سیاستدانوں کی حکومت قایم ہے۔ مانا کہ کوئی جنرل اب حکم نہیں چلارہا ہے، مگر کیفیت یہ ہے کہ اس میں عوام کی قطی نمایندگی نہیں ہے، کہنے کو تو ووٹ عوام نے دیے تھے مگر کیسے؟ کہیں دھمکاکر اور کہیں روٹی کپڑا اور مکان کا خواب دیکھاکر، کہیں برادری کے نام پراور اکثر جاگیردار، وڈیرئے، خان اور سردار کو خوش کرنے کے لیے۔ اسمبلی میں کون بیٹھا جو صرف پاکستان کا پانچ فیصد طبقہ ہے، جاگیردار اور سرمایہ دار، دونوں عوام کا خون چوستے ہیں اور جمہوریت کے نام پر ملوکیت قایم رکھتے ہیں۔ زید آے یا بکر ان کے مفادات ایک جیسے ہوتے ہیں۔ آپ نے خلافت اور ملوکیت کے بارئے میں سنا یا پڑھا تو ضرور ہوگا۔ پاکستان میں تو کیا اب تو پورئے عالم اسلام میں کہیں بھی خلافت نہیں ہے بلکہ صرف ملوکیت ہے، کہیں بادشاہت اور کہیں جمہوریت کے نام پر، ملوکیت پاکستانی سیاست کا لازمی جز ہے پاکستانی جمہوریت اور سیاست ملوکیت پر مبنی ہے۔

جمہوریت کی تعریف: جمہوریت کا لفظ دویونانی الفاظ Demo یعنی ”عوام“ اور Kratos یعنی”حکومت“سے مل کربنا ہے، جمہوریت کے لغوی معنی”لوگوں کی حکمرانی“کے ہیں ۔ یونانی مفکرہیروڈوٹس کے مطابق ”جمہوریت ایک ایسی حکومت ہوتی ہے جس میں ریاست کے حاکمانہ اختیارات قانونی طور پر پورے معاشرے کو حاصل ہوتے ہیں“ اس کی تعریف یوں بھی ہوتی ہے کہ لوگوں کی ”اکثریت کی بات ماننا“ لیکن درحقیقت یہ ”اکثریت کی اطاعت“ کا نام ہے ۔ جمہوریت ایک رویے کا نام ہے کہ کچھ لوگ عوام کی بہتری کےلئے کام کریں اور وہ عوام کی نمانیدگی بھی کرتے ہوں، عوام نے ہی انکا انتخاب کیا ہو۔ سابق امریکی صدرابراہم لنکن نے جمہوریت کی تعریف یوں کی ہے کہ ”عوام کی حاکمیت،عوام کے ذریعے،عوام پر"، جمہورت کے چاہنے والے اس قول کو باربار دہراتے ہیں [پاکستان میں نہیں]۔

سیاست کی تعریف: سیاست سے مراد ایک ایسا عمل ہے جس سےمعاشرے کی معیشت ،عدل و انصاف اور آزادی کے اصولوں کو فراہم کرنا ہے ۔ سیاست ایک طریقۂ کار ہے جس کے ذریعے عوامی حلقوں کے مابین مسائل پر بحث یا کارروائی ہوتی ہے اور ریاستی فیصلے عوامی رائے عامہ کی مرضی کے مطابق کیئے جاتے ہیں۔ سياست كى تعريف یوں بھی كى جاسكتى ہے کہ "ايك معاشرے كے بڑے بڑے مسائل و مشكلات كے بارے ميں فيصلہ كرنا اور انكى تدبير كرنا اور اس معاشرے كى مشكلات كو رفع كرنے ، مختلف امور كو منظم كرنے، منصوبہ بندى اور اسكے اجرا كو شامل کرنا ہے"۔ انسانی زندگی کے مختلف تاریخی ادوار نے ثابت کیا ہے کہ انسانی معاشرے سے وابستہ امور کی تدبیر اور سیاست پر خاص توجہ رکھنا چاہیے- سیاست کے مقاصد :
اقتدار کے حصول کےلیے
حقوق کے حصول کے لئے
مذہبی اقدار کے تحفظ کے لئے
جمہوری روایات کے تحفظ کے لئے
سیاست کا پہلا بنیادی مقصد اقتدار کا حصول ہوتا ہے تاکہ عوام کو انکے حقوق ملتے رہیں، اپنے مذہبی اقدار کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور جمہوری روایات کے مطابق ملک کا نظم و نسق چلایا جائے۔ ہر انسانى معاشرے ميں ايك يا چند افراد سياسى اقتداركے حامل ہوتے ہيں اور اس كے اجتماعى امور كى تدبير اور اجتماعى زندگى كے مختلف امور كو انجام دينا ان كى ذمہ دارى ہوتى ہے-

ملوکیت کی تعریف: ملوکیت کے معنی ہیں شخصی حاکمیت، یعنی ایک ایسا نظام ہے جس میں ایک شخص طاقت کےزور پر اقتدار حاصل کرتا ہے ۔ عوام اس کو اپنا حکمراں تسلیم کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، اسکی مثال بادشاہت یا پاکستان میں آپ اسکو مارشل لا یا جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کی حکمرانی بھی کہہ سکتے ہیں، ملوکیت کے لیے چند باتیں ضروری ہیں :
حکمراں کی نامزدگی
حکمراں کا مرتبہ
حکمراں کے اختیارات
حکمراں کے جانشین کا تقرر
حکمراں طاقت کے زور پر حکومت کو حاصل کرتا ہے، اسکی حیثت مختار کل کی سی ہوتی ہے ۔ وہ اپنے ہر فیصلے کو نافذکرنے اور منوانے کو اپنا حق سمجھتا ہے، اور قانون کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتا ہے ۔ ملک کے وسائل پر اسکا مکمل کنٹرول ہوتاہے اور وہ اسکو اپنی مرضی سے استمال کرتا ہے- حکمراں کے فیصلے کو رد کرنے کا اختیارکسی کو نہیں ہوتا۔ حکمراں کا جانشین کون ہوگا اس کا فیصلہ بھی حکمراں ہی کرتا ہے۔ سب کے علم میں ہوتا ہے کہ کہ اگر حکمراں کسی وجہ سے سے حکمرانی نہ کرپائے یا اسکی موت ہوجائےتو اسکا جانشین ہی حکمراں بنے گا-

پاکستانی جمہوریت اور سیاست میں ملوکیت:
جیسا کہ پہلے کہا گیا ہے کہ جمہوریت ایک رویے کا نام ہے کہ کچھ لوگ عوام کی بہتری کےلئے کام کریں مگرپاکستانی حکمران اور سیاستدان جمہوریت کا رونا تو روتے ہیں، مگر جمہوریت سے انکی مراد حصول اقدار ہوتا ہے جس سے انکی ذاتی خود غرضیاں پوری ہوسکیں ۔ اول تو پاکستان کی سیاست کا زیادہ عرصہ فوجی حکمرانی میں گذراہ مگر جمہوری دور میں بھی سیاست سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے گھر کی باندی بنی ہوتی ہے جس میں غریب صرف جلسوں کی نفری بڑہانے، نعرے بازی کرنے اور ووٹ ڈالنے میں حصہ لیتا ہے، لیکن کسی غریب کا سیاست میں حصہ لینا ناممکن ہے۔ ہمارئے ملک میں جمہوریت سے عوام کا کوئی لینا دینا نہیں اگر جنرل کی غلامی سے جان چھوٹتی ہے تو جمہوریت کے نام پر چند برس بعد ووٹ ڈالکرآقا بدلنے کی اجازت ہوتی ہے، آقا بننے سی پہلے یہ سیاستدان عوام کو خوبصورت خواب دکھاتے ہیں لیکن آقا بنتے ہی انکو یاد بھی نہیں ہوتا کہ عوام سے انہوں نے کیا وعدہ کیا تھا، البتہ وہ دوبارہ جب عوام سے ووٹ مانگتے ہیں تو پھر وہی وعدہ کرتے ہیں جو پہلے کیا تھا، اسکی مثال پیپلز پارٹی کی یہ چوتھی حکومت ہے جو 1970 سے "روٹی کپڑا اور مکان" کا وعدہ کررہی ہے مگر آج پاکستان کےعوام اور خاص طو پر کراچی اور بلوچستان کے عوام روٹی کپڑا اور مکان کو بھول کر اپنی جان کی امان مانگ رہے ہیں۔ جمہوریت اور سیاست کے بارے میں پاکستان کے رہنماوں کی سوچ میں مکمل تضاد ہے ، اس لئے کہ ان لوگوں نے عوام کی بہتری، ترقی اور سرحدوں کی حفاظت کے بجائے اپنی سیاست کی بنیاد، مکاری، قتل و غارت گری، جاہ طلبی، ریاست اور وسعت طلبی، نیز محروم عوام کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے پر رکھی ہے ۔ یہ عوام دشمن غریبوں کو موت کے حوالے کرنے، انہیں علمی، فنی اور فکری افلاس کے حوالے کرنے کو اپنی سیاست کا محور سمجتے ہیں۔ یہ اپنے ہدف کو حاصل کرنے کے لئے ہر قسم کے وسیلہ کو استمال کرتے ہیں چاہے وہ وسیلہ دھوکہ اور فریب کاری ہی کیوں نہ ہو، حتیکہ یہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے مذہب کا استمال بھی بڑی بےدردی سے کرتےہیں۔ اس قسم کی سیاست کو یہ اپنی دانائی کہتے ہیں حالانکہ یہ دھوکے بازی کے علاوہ کچھ نہیں۔ پاکستانی سیاست میں جمہوریت کا اندازفکر ایک بھی سیاسی جماعت میں موجود نہیں، بلکہ ہر سیاسی رہنما نے اپنی اپنی جماعت میں ملوکیت قایئم کی ہوئی ہے، جیسا کہ پہلے کہا گیا کہ "ملوکیت کے معنی ہیں شخصی نظام" پاکستان میں ایک بھی ایسی سیاسی جماعت نہیں جس میں کبھی انتخابات ہوئے ہوں اور اگر کبھی ہوئے تو یہ صرف دکھاوہ ہوتا ہے۔ ان سیاسی پارٹیوں میں ملوکیت کا پورا پورا راج ہے۔ ہر پارٹی کے رہنما کی حیثت اپنی پارٹی میں مختار کل کی سی ہوتی ہے ۔ اسکا فیصلہ ہی آخری ہوتا ہے، کہنے کو ہر پارٹی میں مشاورتی کمیٹی ہوتی ہے مگر صرف دکھاوئے کیلیے۔ وہ پارٹی کو اپنی سوچ کے مطابق چلاتا ہے اور اگر کوئی اختلاف رائے کرئے تو اسکو پارٹی چھوڑنے پر مجبور کردیا جاتاہے، وہ ملوکیت کے بہت ہی اہم اصول کا پہلے دن ہی اعلان کرتا ہے کہ اس کے بعد اسکا جانشین کون ہوگا۔ پارٹی کو وہ ایک ذاتی کمپنی کے مالک کی طرح چلاتا ہے اور جانشین عام طور پر یا تو اُس رہنما کی بیوی یا اسکی اولاد ہوتی ہے ورنہ اسکے بہن بھائی میں سے کوئی۔ پاکستان بننے سے پہلے کے لیڈر مرحوم خان عبدالغفار خان نیشنل عوامی پارٹی کے قاید تھے، انکے جانشین انکے صابزادے خان عبدالولی خاں ہوئے، انکے بعد کچھ عرصے انکی بیگم نسیم ولی خان ہویں ، آجکل انکے صابزادے اسفندیار ولی خان پارٹی کے سربراہ ہیں، پارٹی کا نام بدل کر اب عوامی نیشنل پارٹی رکھ لیا ہے، مرحوم مفتی محمود جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ ہوا کرتے تھے ، آجکل انکے صابزادے مولانا فضل الرحمٰن پارٹی کے سربراہ ہیں۔ پاکستان تو مسلم لیگ نے مسلمانوں کے اتحاد سے بنایا تھا مگر مسلم لیگ میں اتحاد نہیں رہا اسلیے اس وقت سب سے زیادہ سیاسی جماعتوں میں مسلم لیگیں ہیں، البتہ آپکو مسلم لیگ کے ساتھ الف سے ے تک کے حروف ملیں گے، جیسے مسلم لیگ ن، اسکے سربراہ نوازشریف ہیں یہ جماعت انکو ضیاالحق کی طرف سے ملی تھی کیونکہ ہر عامر کے پیچھے ایک نام نہاد مسلم لیگ کا ہونا ضروری ہوتا ہے، اب یہ مسلم لیگ ن نواز شریف کی ذاتی کمپنی کی طرح سے ہے، 1999 میں جب مشرف نے انکو گرفتار کیا تو انکی بیگم جو ایک گھریلو خاتون ہیں وہ پارٹی کی سربراہی کرتی رہیں جبتک وہ نواز شریف کے ساتھ جدہ نہیں چلی گیں ۔ نواز شریف کے بھائی شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلی ہیں، دونوں بھائ اور انکی اولادیں پارٹی کو اپنی کمپنی کی طرح کامیابی سے چلارہے ہیں۔ مسلم لیگ ق دو بھائی یعنی چوہدری شجات اور چوہدری پرویز چلارہے ہیں، اب ان کی اولاد بھی شامل ہوگی ہے، یہ بھی پارٹی کو اپنی ملکیت کی طرح ہی چلارہے ہیں۔ مسلم لیگ ف یعنی فنکشنل کے سربراہ پیر پگارا تھے انکے بعد انکے صابزادے پير صبغت الله شاه راشدي مسلم لیگ ف کے سربراہ ہوگے۔ آجکل پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر منظور وٹونے بھی 1995 میں مسلم لیگ جناع بنائی تھی، اب اسکی ضرورت نہیں۔ عمران خان پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ ہیں، ان کی پارٹی کے اندر بھی کبھی انتخابات نہیں ہوتے، ابھی کوئی جانشین تو نہیں چنا مگر وہ بھی پارٹی کو اپنی ملکیت سمجھ کر چلارہے ہیں۔ مرحوم اکبر بگتی جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ تھے، آجکل انکے صابزادے طلال اکبر بگتی اسکے سربراہ ہیں۔ بلوچستان نيشنل پارٹی کے بانی مرحوم سردارعطااللہ خان مینگل تھے، آجکل انکے صابزادے سردار اختر مینگل اسکے سربراہ ہیں۔ جی ایم سید جیئے سندھ تحریک کے بانی تھے آجکل انکے پوتے سید جلال محمود شاہ قوم پرست جماعت سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سربراہ ہیں، پارٹی انتخابات کی انکو بھی ضرورت نہیں ہے۔ الطاف حسین پہلے مہاجر قومی مومنٹ اور حالیہ متحدہ قومی مومنٹ [ایم کیو ایم] کے بانی اور سربراہ ہیں، پارٹی کے انتخابات اس جماعت میں بھی نہیں ہوتے، الطاف حسین نے کسی کو جانشین تو مقرر نہیں کیا ہے، مگر ایم کیو ایم انکی مرضی سے چلتی ہے، انہوں نے ایک رابطہ کمیٹی بھی بنائی ہوئی ہے مگر آخری فیصلہ الطاف حسین ہی کا ہوتا ہے۔ الطاف حسین بھی ایم کیو ایم کو اپنی ذاتی کمپنی کی طرح ہی چلارہے ہیں- جماعت اسلامی کے بانی اور امیرمولانا مودودی نے اپنی خرابی صحت کی وجہ سے اپنی زندگی میں ہی جماعت اسلامی کے امیر کی حیثیت سے علیدگی اختیار کرلی تھی، انکی اولادوں میں سے کوئی بھی سیاسی منظر پر نہیں آیا، انکے بعد آجکل تیسرئے امیر جماعت اسلامی سید منور حسن ہیں، جمہوریت تو جماعت اسلامی میں بھی نہیں ہے مگر بظاہر یہ کسی کی ذاتی کمپنی بھی نہیں ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور چیرمین ذوالفقار علی بھٹو تھے انہوں نے پہلے اپنی پارٹی کے دو ممبران معراج محمدخان اور غلام مصطفی کھر کو اپنا جانشین بنایا مگرآگے چلکر ان دونوں کے بھٹو سے شدید اختلافات ہوگے، ہوا وہی جو ہونا تھا، ضیاالحق نے جب بھٹو کو گرفتار کیا اور بعد میں پھانسی دے دی بیگم نصرت بھٹو پارٹی کی سربراہ بن گیں، تھوڑے عرصے بعد بے نظیر بھٹو اپنی والدہ کی جگہ پارٹی کی سربراہ بن گیں، انکی ناگہانی موت کے بعد زرداری پارٹی کے سربراہ بن گے اور انہوں نے پہلے دن ہی اعلان کردیا تھا کہ پارٹی کا اگلا سربراہ بلاول ہوگا۔ ملوکیت کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوگی۔ پاکستان میں اسوقت کم و پیش دوسو کے قریب سیاسی پارٹیاں ہیں اور سب کا یہی حال ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناع نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ آگے چلکر پاکستان میں حقیقی جمہوریت اور اچھی سیاست کی جگہ ملوکیت ہوگی۔ یہ ملک جو جمہوری عمل کے نتیجے میں عمل میں آیا وہاں جمہوریت کا فقدان ہے- یہاں جب ایک جمہوری حکومت برسراقتدار ہوتی ہے اور عوام کی وہ درگت بنائی جاتی ہے کہ عوام جنرل کی آمد پر خوش ہوتے ہیں۔ جمہوریت کے علم بردارسب سے زیادہ ملوکیت کے رکھوالے ہوتے ہیں۔ ہمارے سیاسی رہنما سب سے زیادہ جاگیر دار طبقہ سے آتے ہیں، اور اپنی اغراض و مقاصد کو جمہوریت کا گلا گھونٹ کر پورا کرتے ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت اور مارشلا میں صرف وردی کا فرق ہے، ورنہ دونوں کا مقصد ملوکیت ہے۔ 2013 کے انتخاب جلد ہی ہونگے، ہمیں اگلے پانچ سال کے لیے آقا کا انتخاب کرنا ہے۔ دیکھتے ہیں ہمارے جاگیردار اور سرمایہ دار سیاسی لیڈر ہمیں کون کون سے خواب دکھاتے ہیں۔ اس ملک میں وہ ہی قیادت عوام کے لیے کچھ کرئے گی جو ملک کی وفادارہواور جسے عوام کا احساس ہو۔ ورنہ تو شورش کاشمیری نے کہا تھا:
[align=center]ہر رہنما کے لیے پرچم ہی کفن ہے - مل جائے وزارت یہی موقف ہے، یہی فن ہے
ہر دل میں سمائی ہو اپنی ہی لگن ہے - کچھ قوم سے مطلب ہے نہ کچھ فکر وطن ہے
کس جرم میں مینا و سبو بیچ رہے ہیں
رہزن ہیں شہیدوں کا لہو بیچ رہے ہیں
تولہ کی طرح کبھی ماشہ کی طرح - ہر چند گنہگار کے لاشے کی طرح
پانی کے کٹورے میں بتاشے کی طرح - جتنے بھی یہ لیڈر ہیں تماشے کی طرح
اب کس سے کہوں کون ہیں کیا ہیں؟
بازار میں بیٹھی ہوئی حیا کی طرح![/align]


__________________________________
اس مضمون کو پڑہنے کا شکریہ، اس پر تبصرہ ضرور کریں
[/align]