نتائج کی نمائش 1 تا: 8 از: 8

موضوع: شیر

  1. #1
    رکنِ خاص سقراط کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,469
    شکریہ
    35
    149 پیغامات میں 217 اظہار تشکر

    شیر

    [align=center][/align]
    [size=xx-large][align=center]شیر.[/align][/size]

    شیر(mammals) بلی کی نسل Felidae سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہندی میں انہیں باگھ اور انگلش میں Tiger کہا جاتا ہے۔ اپنے مضبوط ، طاقتور اور شاندار جسم کی بدولت شیر بہترین شکاری ہوتے ہیں۔ شیر کو بطور علامت طاقتور، بہادر، ظالم اور سنگدل استعمال کیا جاتا ہے۔
    کرہ ارض پر یہ سب سے بھاری بلی ہے۔ شیر کا جسم چوڑا اور طاقتور ہوتا ہے۔ بالغ نر کا وزن تقریبا 200 سے 320 کلو گرام تک اور مادہ کا تقریباً 120 سے 180 کلو گرام تک ہوتا ہے۔جسم کی لمبائی 140 سے 280 سنٹی میٹر تک ہوتی ہے۔ ان کا رنگ زردی مائل ہوتا ہے اور اس میں بھوری یا سیاہ دھاریاں ہوتی ہیں۔ جبکہ سفید شیر کا رنگ سفید اور سیاہ دھاریاں ہوتی ہیں۔ ان میں دھاریوں کی تعداد تقریبا 100 کے لگ بھگ ہوتی ہے۔

    شیر بنگلہ دیش، بھوٹان، کمبوڈیا، ہندوستان، انڈونیشیا، میانمار، ملائیشیا، نیپال، شمالی کوریا، تھائی لینڈ، ویت نام اور روس کے مشرقی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔
    شیر بہت اچھے تیراک ہوتے ہیں۔ ان کے شکار کرنے کا طریق بالکل بلی کی طرح ہے۔ یہ چھپ کر شکار کرتے ہیں۔ ان کو 50 کلو تک وزن اٹھا کر 2 میٹر اونچی رکاوٹ کو پھاندتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ زیادہ تر شیر انسانوں کا شکار نہیں کرتے۔ ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے کہ شیر اپنی بھوک مٹانے کے لئے انسانوں کا شکار کریں۔

    [align=center][size=xx-large]شیر کا شکار[/size][/align]
    کوئی پابندی نہ ہونے کی وجہ سے شیر کی کھال (یا جلد) حاصل کرنے کے لئے اس کا 1990 تک بہت شکار کیا گیا۔ یہاں تک کہ یہ خطرہ لاحق ہو گیا کہ کہیں یہ نسل ہمیشہ کے لئے ختم ہی نہ ہوجائے۔ اب ان کے شکار پر پابندی ہے۔ چونکہ ان کی کھال کافی قیمتی ہوتی ہے اس لئے کچھ لوگ ان کی کھال حاصل کرنے کے لئے ان کا شکار کرتے ہیں۔ مہا راجے اور اکثر رؤسا ان کھالوں کو بھاری معاوضہ ادا کر کے خریدتے ہیں۔ ان کی پشت پناہی کی ہی وجہ سے اب تک ان جانوروں کا شکار جاری ہے۔ دنیا میں کل 6,000 کے لگ بھگ ہی شیر بچے ہیں۔ اگر ان کے شکار کا سلسلہ یونہی چلتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب یہ نسل دنیا سے بالکل غائب ہو جائے گی۔

    [align=center][size=xx-large]ببر (شیر)[/size][/align]
    ببر (شیر)(mammals) بلی کی نسل Felidae سے تعلق رکھتے ہیں۔ شیر کے بعد یہ دوسرے نمبر کی بڑی بلی جانی جاتی ہے۔ اس کو جنگل کا بادشاہ (راجہ) کہا جاتا ہے۔ خشکی کا سب سے بڑا جانور ہاتھی بھی اس کی شکار کی فہرست سے باہر نہیں آتا
    نر کو اس کے گردن کے گھنے بالوں کی وجہ سے آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے۔ نر کا وزن تقریبا 150 سے 225 کلو گرام اور مادہ کا وزن تقریبا 120 سے 150 کلوگرام کے درمیان ہوتا ہے۔ ببر کی عمر تقریبا 10 سے 14 سال کے درمیان ہوتی ہے جبکہ قید میں یہ 20 سال تک زندہ رہ سکتا ہے۔ یہ افریقا اور انڈیا کے کچھ علاقوں میں پایا جاتا ہے۔
    ببر کی تعداد میں بڑی تیزی سے گراوٹ آ رہی ہے اس بات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے 1990 ميں ان کی تعداد تقریبا 100،000 کے لگ بھگ تھی جو کی اب کم ہو کر صرف 16،000 سے 30،000 کے بیچ ہی رہ گئی ہے۔

    منقول از وکیپیڈیا

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے سقراط کا شکریہ ادا کیا:

    حسین (12-10-2014),تانیہ (12-15-2014)

  3. #2
    رکنِ خاص سقراط کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,469
    شکریہ
    35
    149 پیغامات میں 217 اظہار تشکر

    RE: شیر

    [align=center][size=xx-large]چیتا[/size][/align]
    [align=center][/align]
    چیتا (سنسکرت کے لفظ چترکا سے بنا ہے) بلی کی نسل(Felidae) سے تعلق رکھتا ہے۔ شکار کرتے وقت اس کا زیادہ تر انحصار رفتار پر ہوتا ہے جو کہ 120 کلو میٹر فی گھنٹہ یعنی 70 میل فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ رفتار کرۂ ارض پر اور کوئی جانور نہیں پا سکتا۔ چیتا 0 سے 100کلومیٹر کی رفتار صرف 3.5 سیکنڈ میں حاصل کر لیتا ہے۔
    چیتے کے جسم کا رنگ گلابی مائل اور کالے رنگ کے دھبے ہوتے ہیں۔ سر چھوٹا اور دم لمبی ہوتی ہے۔ دم کو بھاگتے وقت توازن balance برقرار رکھنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔ ایک بالغ چیتے کا وزن تقریباً 65 کلوگرام تک ہوتا ہے۔ اگر اس کو قید میں رکھا جائے تو اس کی نسل کے پھیلاؤ میں کچھ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    اس کی کھال کی خوبصورتی اور قیمتی ہونے کی وجہ سے اس کا غیر قانونی طور پر شکار کیا جاتا ہے۔ موجودہ پابندیوں اور سختیوں کی وجہ سے اس کے شکار میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ لیکن افریقہ میں غربت کی وجہ سے پھر بھی کچھ شکاری پکڑے جانے کا خطرہ مول لیتے ہوئے ان خوبصورت جانوروں کا شکار کرتے ہیں۔

  4. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے سقراط کا شکریہ ادا کیا:

    حسین (12-10-2014),تانیہ (12-15-2014)

  5. #3
    رکنِ خاص سقراط کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,469
    شکریہ
    35
    149 پیغامات میں 217 اظہار تشکر

    بلی

    [align=center][/align]

    [align=center][size=xx-large]بلی[/size][/align]

    بلی یا پالتو بلی، گوشت خور ممالیہ جانور ہے۔
    ایک اندازے کے مطابق، انسان نے بلی کو قریباً دس ہزار پہلے سدھائی یا پالتو بنایا۔ [1] بلی آج کے دور میں سب سے عام پالتو جانوروں میں سے ایک ہے۔ افریقی جنگلی بلیوں کی کئی اقسام کو پالتو بلی کے آباؤاجداد سمجھا جاتا ہے۔[2]
    بلیوں کو پہلے پہل شاید اس وجہ سے سدھایا گیا کہ یہ چوہے کھاتی تھیں اور آج تک یہ جہاں اناج محفوظ کیا جاتا ہے، اسی مقصد کے لیے پالی جاتی ہیں۔ بعد ازاں ان کو انسان کے دوست اور پالتو جانور کے طور پر بھی پالا جانے لگا۔
    پالتو بلیوں کے جسم پر لمبے یا چھوٹے بال ہو سکتے ہیں، جس کی بنیاد پر ان کی اقسام اور نسلوں کا تعین کیا جاتا ہے۔ وہ پالتو بلیاں جن کی نسل کا مخصوص تعین نہ ہو سکے انھیں عرف عام میں “چھوٹے بالوں والی پالتو“ اور “لمبے بالوں والی پالتو“ بلیوں کی نسل قرار دیا جاتا ہے۔
    لفظ “بلی“ اسی خاندان کے دوسرے جانوروں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ بلی کا خاندان یا گربہ خو جانوروں میں عموماً بڑی اور چھوٹی بلیاں شمار ہوتی ہیں۔ بڑی بلیاں جیسے ببر شیر، چیتا، تیندوا، باگ وغیرہ ہیں۔ چھوٹی بلیوں کی کئی اقسام ہیں جن میں زیادہ تر پالتو ہیں۔ بڑی بلیاں عموماً جنگلی ہوتی ہیں اور خطرناک ہو سکتی ہیں۔

    [size=xx-large][align=center]تاریخ[/align][/size]

    تمام معلوم تاریخ میں، بلیوں کو پالنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ چوہے کھاتی ہیں اور اس طرح اناج کو اس نقصان سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔
    قدیم مصری لوگ بلیوں کی پوجا بھی کرتے تھے اور ان کی لاشوں کو محفوظ کرتے تھے تا کہ انھیں ہمیشہ کے لیے حفاظت مل سکے۔ آج کے دور میں بلیاں پالتو جانوروں کے طور پر پالی جاتی ہیں، اس کے علاوہ بھی بلی انسانی آبادیوں میں آوارہ پائی جاتی ہے۔
    ترقی یافتہ ممالک میں بلیوں کو پالتو جانوروں کو پالنے کا رواج بہت زیادہ ہے اور ان کے لیے مخصوص خوراک تیار کرنے کے کاروبار کو ایک بڑی صنعت کی حیثیت حاصل ہے۔

  6. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے سقراط کا شکریہ ادا کیا:

    حسین (12-10-2014),تانیہ (12-15-2014)

  7. #4
    رکنِ خاص سقراط کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,469
    شکریہ
    35
    149 پیغامات میں 217 اظہار تشکر

    تیندوا

    [align=center][/align]
    [size=xx-large][align=center]تیندوا[/align][/size]

    چیتے سے مشابہت رکھنے والا یہ جانور بلی کی نسل(Felidae) سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کا شمار دنیا کی چار بڑی بلیوں میں سے ہوتا ہے۔ یہ وزن میں چیتے سے بھاری ہوتا ہے۔ اس کا سر چیتے سے قدرے بڑا ہوتا ہے۔ چیتے کے برعکس تیندوے کی کھال پر موجود دھبے درمیان سے خالی ہوتے ہیں۔

  8. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے سقراط کا شکریہ ادا کیا:

    حسین (12-10-2014),تانیہ (12-15-2014)

  9. #5
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,191
    شکریہ
    2,175
    1,249 پیغامات میں 1,624 اظہار تشکر

    RE: شیر

    جزاک اللہ ۔اچھی معلومات شئیر کی ہیں ،

  10. #6
    مبتدی
    تاريخ شموليت
    Dec 2014
    پيغامات
    24
    شکریہ
    47
    11 پیغامات میں 15 اظہار تشکر

    جواب: شیر

    بلیّوں کے خاندان میں شیر سب سے بڑا رکن ہے۔یہ 11فٹ لمبا اور 388کلو تک وزنی ہوتا ہے۔
    صرف ڈیرھ سو سال قبل پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شیر پائے جاتے تھے۔
    لیکن جنگلات کے خاتمے اور بے محابا شکار کی وجہ سے بیشتر ملکوں میں ان کا صفایا ہو گیا۔
    پاکستان میں آخری شیر 1906ء میں مارا گیا۔یوں وطن عزیز سے اس عجب آن بان رکھنے والے حیوان کا خاتمہ ہوا۔آج چند ہی ممالک میں شیر ملتے ہیں۔
    ان کی چھ اقسام ہیں:
    بنگال شیر(بھارت،بنگلہ دیش،نیپال اور بھوٹان)،
    ہند چینی شیر(مشرقی ایشائی ممالک)،
    ملائی شیر(ملائشیا)،
    سائبیرین شیر(سائبیریا)،
    جنوبی چینی شیر(چین)اور سماٹریائی شیر(سماٹرا)۔
    ان میں بہ لحاظ قد بنگال ٹائیگر سب سے بڑا ہے۔وہ دس تا گیارہ فٹ لمبا ہوتا ہے۔
    جبکہ وزن کے اعتبار سے سائبیرین شیر سرفہرست ہے۔وہ تین سو کلوسے زائد وزن رکھتا ہے۔
    سماٹریائی شیر تمام اقسام میں سب سے چھوٹا ہے۔جبکہ جنوبی چینی شیر کی بقا کو شدید ترین خطرہ لاحق ہے۔
    یہ شیرجنگلوں میں ناپید ہو چکا۔ چڑیا گھروں اور پارکوں میں صرف 65 تا 70جنوبی چینی شیر زندہ ہیں۔
    سماٹریائی شیر ساڑھے سات فٹ لمبا اور100تا 140کلو وزنی ہوتا ہے۔
    اس کے پست قامت ہونے کی بنیادی وجوہ یہ ہیں:
    اول اس کی جائے سکونت کارقبہ بہت محدود ہے۔دوم اسے بطور شکار چھوٹے جانور میسّر ہیں۔
    سو محدود جائے رہائش اور خوراک سے ہم آہنگ ہونے کی خاطر سماٹریائی شیر ہزاروں برس کے عمل میں قدرتاً چھوٹا ہو گیا تاکہ اپنا وجود قائم رکھ سکے۔
    اس شیر کی ایک اور ندرت یہ ہے کہ اپنے بدن پہ ایسی دھاریاں رکھتا ہے جو دیگر اقسام کی نسبت زیادہ قریب تر ہیں۔
    وجہ یہ کہ ان کی جائے سکونت میں لمبی گھاس بہ کثرت اگتی ہے۔سو قریبی پٹیوں کے باعث وہ چھپ کر گھاس سے گھل مل جاتے ہیں۔
    مذید براں یہی شیر تمام اقسام میں چہرے اور گردن پہ سب سے زیادہ بال رکھتا ہے۔سماٹریائی شیر پانی میں شکار کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتا ہے۔
    تیزرفتار تیراک ہے،لہذا شکار کتنی ہی تیزی سے تیرے،اس جا پکڑتا ہے۔دراصل قدرت نے شیروں کو پنجوں کی انگلیوں کے درمیان نرم و دبیز کھال دے رکھی ہے۔
    سو وہ اس کی مدد سے تیرنے کے قابل ہو گئے۔بالغ شیر مسلسل کئی کلومیٹر تیر سکتا ہے۔
    جائے رہائش کی تباہی کے علاوہ سماٹریائی شیروں کو لاحق سب سے بڑا خطرہ شکاری ہیں۔
    دراصل چینی،ویتنامی،کمبوڈین وغیرہ شیر کو دیاقامت قوت کا حامل حیوان سمجھتے ہیں۔
    چناں چہ ان کا اعتقاد ہے کہ شیر کے ہر حصہ ِجسم سے کسی نہ کسی بیماری کا علاج ممکن ہے۔
    سو مشرقی ایشیائی ممالک کے طبیب شیروں کے پنجے،دانت،چربی،پٹھے،آنکھو ں کے ڈھیلے،دم،مونچھیں،دماغ،اعض ائے تناسل
    حتی کہ پاخانہ تک مختلف ادویہ میں استعمال کرتے ہیں۔
    مثلاً پنجوں کا برادہ بدخوابی کی علاج کرنے والی ادویہ میں مستعمل ہے۔
    دانت بخار دور کرنے والی دواؤں کا حصہ بنتے ہیں۔
    ادویہ میں استعمال کے باعث چین،ویت نام،تھائی لینڈ وغیرہ میں شیروں کے اعضائے جسمانی کی بہت مانگ ہے۔
    مثلاً شیر کا صرف ایک دانت بیس ہزار روپے میں فروخت ہوتا ہے۔اسی طرح دیگر اعضا کی قیمت بھی ہزاروں روپے میں ہے۔
    یہی قیمتی اعضا پانے کی خاطر لالچی شکاری کسی نہ کسی چھپ کر طرح شیر کو مار ڈالتے ہیں۔
    انڈونیشی حکومت نے سماٹریائی شیروں کو تحفظ دینے کی خاطر ان کے علاقے قومی پارک میں بدل ڈالے ہیں۔
    اب قانوناً وہاںکوئی شیر کا شکار نہیں کر سکتا۔ہوس کے مارے شکاریوں کو پکڑنے کے لیے وہاں مسلح گارڈ تعینات ہیں۔
    اس اقدام سے شیروں کے غیرقانونی شکار میں خاطر خواہ کمی آچکی۔
    ٹی وی چینل’’اینیمل پلینٹ‘‘دنیا بھر میں مشہور ہے۔
    یہ ’’75ممالک‘‘میں دیکھا جاتا ہے۔دنیا بھر میں کروڑوں لوگ چینل کے پروگرام دیکھتے ہیں۔
    پچھلے سال اینیمل پلینٹ نے یہ سروے کرایا کہ لوگوں میں کون سا جانور سب سے زیادہ مقبول ہے۔
    اکثریت نے ’’شیر‘‘کو پسندیدہ ترین حیوان قرار دیا۔
    اس طاقتور اور ’’میجسٹک‘‘جانور کی خصوصیات :
    ٭نر شیروں کی ایک خوبی حیران کن ہے۔جب شکار کے گرد کئی شیر جمع ہو جائیں ،تو نر ایک طرف ہٹ کر ماداؤں اور بچوں کو پہلے کھانے کاموقع دیتے ہیں۔جبکہ کئی خود غرض انسانوں کے مانند ببر شیر پہلے اپنی پیٹ پوجا کرتے ،پھر بچوں اور شیرنیوں کو شکار تک آنے دیتے ہیں۔
    ٭شیر گھات لگا کر شکار پہ حملہ کرنا پسند کرتا ہے۔اسی لیے حملے سے قبل انجان انسان شیر کو دیکھ لے،تو عموماً وہ رفوچکر ہو جاتا ہے اوردھاوا نہیں بولتا۔بھارت کے جن علاقوں میں شیر بستے ہیں،وہاں آج بھی رواج ہے کہ دیہاتی سر کے پیچھے انسانی چہرے کا ماسک پہنتے ہیں…تاکہ شیر عقب سے حملہ نہ کر سکے۔
    ٭شیر بلی کی طرح خرخرا نہیں سکتا۔سو سکون یا خوشی ظاہر کرنے کے لیے وہ آنکھیں بند کر لیتا ہے۔چونکہ آنکھیں بند کر لینے کا مطلب خود کو حالات کے رحم وکرم پہ چھوڑنا ہے،یوں شیر دکھاتا ہے کہ اسے آپ سے کوئی خطرہ نہیں اور وہ محفوظ و شانت ہے۔
    ٭شیر آنکھ کی گول پتلی رکھتے ہیں۔جبکہ گھریلو بلیوں کی پتلی لمبوتری ہوتی ہے۔وجہ یہ کہ بلّی عموماً رات کو شکار کرتی ہے۔جبکہ شیر صبح یا شام کو دھاوا بولتے ہیں۔
    ٭بلّی کے برعکس شیر رات کو صاف طرح نہیں دیکھ سکتے۔تب بھی ان کی نظر انسان سے چھ گنا زیادہ قوی ہوتی ہے۔
    ٭ ہر شیر اپنے مخصوص جنگلی علاقے یا ریاست میں رہتا ہے۔اس ریاست کی سرحدیں درخت کھرچ کے یا نیز جگہ جگہ پیشاب کرنے سے متعین کی جاتی ہیں۔
    ٭…ببر شیر کی طرح شیر بھی دھاڑتے ہیں۔تاہم ببر شیر کے برعکس شیر جانور دیکھ کر نہیں دھاڑتا،یوں وہ دور دراز موجود شیروں سے رابطہ کرتا ہے۔
    ٭…انسان کے نشانات ِانگشت کی طرح ہر شیر کے بدن پر پٹیوں کا ڈیزائن بھی انفرادی و انوکھا ہوتا ہے۔
    ٭…شیر کے ماتھے پہ دھاریوں کا نشان چینی زبان میں بادشاہ کے لیے مخصوص لفظ سے بہت ملتا جلتا ہے۔اسی لیے چین میں تاریخی و ثقافتی طور پہ شیر کو شاہی جانور کی حیثیت حاصل رہی ہے۔
    ٭…بلّیوں کے مانند شیر بھی جلدپہ پٹیاں رکھتے ہیں۔لہٰذا ان کے سارے بال جھڑ جائیں،تب بھی پٹیاں نظر آتی ہیں۔
    ٭…شیرنی کے بچے پیداہونے کے بعد ایک ہفتے تک اندھے رہتے ہیں۔اسی عرصے میں تقریباً آدھے بچے کسی نہ کسی حادثے کا نشانہ بن کر چل بستے ہیں۔
    ٭…شیر مختصر فاصلے تک 60کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھاگ سکتا ہے۔نیز شیر 20 فٹ (6میٹر)طویل چھلانگ لگانے پہ قادر ہے۔
    ٭…شکار پھانسنے کے لیے قدرت نے شیر کو یہ صلاحیت بخشی ہے کہ وہ مختلف جانوروں کی بولیاں بول سکتا ہے۔
    ٭…شیر کے پنجے کا بھرپور وار اتنا طاقتور ہوتا ہے کہ ریچھ کی کمر پہ پڑے ،تو اسے توڑ ڈالتا ہے۔
    ٭…شیر کے لعابِ دہن میں جراثیم کش مادے پائے جاتے ہیں۔اسی لیے وہ کبھی زخمی ہو جائے، تو زخم چاٹتا رہتا ہے تاکہ اسے جراثیم سے پاک رکھ سکے۔
    کسی رکن کو کیسے " ٹیگ " کیا جا سکتا ہے ۔ عزیز امین صاحب کو ٹیگ کرنا چاہتا ہوں ۔

  11. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 3 اراکین نے حسین کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (12-11-2014),اوشو (12-10-2014),تانیہ (12-15-2014)

  12. #7
    ناظم اوشو کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2010
    پيغامات
    357
    شکریہ
    58
    46 پیغامات میں 79 اظہار تشکر

    جواب: شیر

    مفید اور معلوماتی مضمون ہے۔
    آپ عزیز امین جی کے صفحہ کوائف پر جا کر لنک چھوڑ آئیں۔
    ایک کتاب نظر سے گزری تھی شاید "حیاۃالحیوان" نام تھا۔ اس میں بھی شیر کے بارے میں کافی تفصیلی معلومات تھیں۔
    بہ لبم رسیدہ جانم ، تو بیا کہ زندہ مانم
    پس ازاں کہ من نمانم ، بہ چہ کار خواہی آمد

  13. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 4 اراکین نے اوشو کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (12-15-2014),حسین (12-11-2014),عزیزامین (12-14-2014),تانیہ (12-15-2014)

  14. #8
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,871
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    جواب: شیر

    زبردست تھریڈ ہے دلچسپ



آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University