صفحہ 1 از 3 123 آخریآخری
نتائج کی نمائش 1 تا: 10 از: 21

موضوع: اسرائیل کی فلسطین پر وحشیانہ بمباری

  1. #1
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,199
    شکریہ
    2,184
    1,256 پیغامات میں 1,631 اظہار تشکر

    اسرائیل کی فلسطین پر وحشیانہ بمباری

    [align=center][/align]
    غزہ پر اسرائیلی حملوں کے چھٹے دن کے آغاز میں غزہ میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں دو فلسطینیوں کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جس سے مجموعی طور پر اب تک اکہتر افراد ہلا ک ہو چکے ہیں کن میں کئی کم سن بچے بھی شامل ہیں۔
    فلسطین کی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے تمام فلسطینی تنظیموں سے اکھٹے ہو کر ایک ہنگامی اجلاس میں جمع ہونے کی درخواست کی ہے۔ وہ فلسطین کی انتظامیہ کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
    خبر رساں ایجنسی اے پی نے مصری حکومت کے بعض ذرائع کی جانب سے خبر دی کہ اسرائیل کی جانب سے ایک اہلکار قاہرہ ایرپورٹ پر آئے جنہیں فوری طور پر بات چیت کے لیے لیجایا گیا۔
    اتوار کے روز چھبیس افراد ہلاک ہوئے جن میں سے الدالو خاندان کے چار بچوں سمیت گیارہ افراد شامل ہیں۔
    بی بی سی کے وائر ڈیویس نے بتایا کہ غزہ میں ڈاکٹروں کے مطابق پچھلے چار دنوں میں ہلاک ہونے والوں میں سے پچاس فیصد تک عام شہری ہیں۔
    مقامی ذرائع نے بی بی سی عربی سروس کو بتایا کہ غزہ شہر کے النصر علاقے میں ایک تین منزلہ عمارت پر حملے کے نتیجے میں دس فلسطینی ہلاک ہوئے جن میں تین خواتین اور چھ بچے شامل تھے۔
    تین فلسطینی شجاعیہ کے علاقے میں جبکہ جبلیہ کے علاقے میں ایک فلسطینی اپنی کار میں ہلاک ہوا۔
    صحافیوں کی عالمی تنظیم ’رپورٹرز ساں فرانٹئرز‘ یعنی سرحدوں کے بغیر رپورٹرز نے فوری طور پر مطالبہ کیا ہے کہ ان حملوں کو فوری بند کیا جائے۔
    اس تنظیم نے کہا کہ نو صحافی ایک حملے کی نتیجے میں زخمی ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ان کا کام متاثر ہوا۔
    اسرائیلی افواج کے مطابق انہوں نے غزہ میں عمارتوں پر لگے اینٹیناز کو نشانہ بنایا جن کی مدد سے ان کے مطابق حماس مبینہ طور پر اپنے جنگجوؤں سے رابطہ میں رہتا ہے۔
    اسرائیلی فوج نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان عمارتوں میں سے ایک میں غیر ملکی صحافیوں کی موجودگی سے آگاہ تھے اور وہ ان کا ہدف نہیں تھے۔
    گزشتہ روز فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ بحری جہازوں سے بھی میزائل داغے گئے جن کے نتیجے میں غزہ میں پچیس افراد کے ہلاک ہوئے۔
    فلسطینی علاقے سے اسرائیل پر راکٹ حملوں کا سلسلہ بھی جاری رہا مگر اس میں کافی کمی نظر آئی۔
    ’پلر آف ڈیفینس‘ نامی اسرائیلی کارروائی میں اب تک مجموعی طور پر اکہتر افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ حماس کی جانب سے اسرائیل پر راکٹ حملوں کے نتیجے میں تین اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔
    متحارب فریقین کے ذرائع نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں۔
    امریکی صدر براک اوباما نے اتوار کو کہا ہے کہ امریکہ اسرائیل کے اپنے تحفظ کے حق کی مکمل طور پر حمایت کرتا ہے۔
    تھائی لینڈ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’ہم اسرائیل کی اس معاملے میں مکمل حمایت کرتے ہیں کہ وہ اپنے شہریوں کے گھروں، کام کاج کی جگہوں اور لوگوں کی ہلاکت کا سبب بننے والے میزائلوں کے خلاف اپنا دفاع کرے اور ہم اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت جاری رکھیں گے‘۔
    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ بات بھی سچ ہے کہ ہم خطے کے تمام فریقوں کے ساتھ بڑے سرگرم ہوکر کام کررہے ہیں یہ دیکھنے کے لیے کیا ہم یہ میزائل حملے بند کراسکتے ہیں، اس طرح سے کہ خطے میں مزید تشدد نہ پھیلے‘۔
    سرائیلی وزیراعظم نے اتوار کو کابینہ کے اجلاس سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ اسرائیلی فوج کسی بھی کارروائی کے لیے تیار ہے۔’اسرائیلی ڈیفینس افواج اس آپریشن کے دائرۂ کار میں قابلِ ذکر اضافے کے لیے تیار ہیں‘۔
    اسرائیل نے حماس اور اسلامی جہاد کے ریڈیو سٹیشنز کی بندش بھی کر دی ہے۔
    ٹوئٹر پر شائع ہونے والے پیغام میں اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ انہوں نے صرف ایک انٹینا سمیت مخصوص سازوسامان کو نشانہ بنایا تاہم روسی ٹی وی نیٹ روک رشیا ٹوڈے کے مطابق حملے میں ان کے دفتر تباہ ہو گیا ہے۔
    حملے میں نشانہ بننے والی عمارتوں میں سے ایک حماس کے ٹی وی سٹیشن القدس کے علاوہ سکائی نیوز اور آئی ٹی این کے بھی زیرِاستعمال تھی۔ اسی عمارت میں ایک سال قبل تک بی بی سی کا دفتر بھی تھا۔
    غزہ میں طبی حکام کا کہنا ہے کہ پانچ روزہ اسرائیلی کارروائی میں اب تک گیارہ بچوں سمیت باون فلسطینیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ غزہ میں ہسپتال زخمیوں سے بھرے پڑے ہیں اور ان ہسپتالوں میں طبی سپلائی کم پڑ رہی ہے۔
    اتوار کو اسرائیل کے تجارتی صدر مقام سمجھے جانے والے شہر تل ابیب میں مسلسل چوتھے دن بھی راکٹ حملوں سے متنبہ کرنے والے سائرن بجائے جاتے رہے۔ اسرائیلی پولیس کے مطابق شہر پر داغے گئے دو راکٹ حفاظتی نظام کی مدد سے تباہ کیے گئے ہیں۔
    تاہم غزہ سے داغا گیا ایک راکٹ اشکیلون میں ایک رہائشی عمارت پر گرا جس سے متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔
    ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب کو بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا تھا کہ غزہ میں ایک درجن سے زیادہ دھماکے سنائی دیے۔ ان کے مطابق یہ میزائل جنگی بحری جہازوں سے فائر کیے گئے تھے۔
    اسرائیل کے وزیر داخلہ ایلی یشئی نے اسرائیلی اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا ہے ’آپریشن پلر آف ڈیفنس کا مقصد غزہ کو پتھر کے زمانے میں واپس بھیجنا ہے۔ اور پھر ہی اسرائیل میں اگلے چالیس سال تک سکون رہے گا۔‘[align=center]

    غزہ کے رہائشی یوسف اپنے اٹھارہ ماہ کے بچے ریاد کو دفن کرنے جا رہے ہیں۔[/align]

    بشکریہ بی بی سی ،

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,199
    شکریہ
    2,184
    1,256 پیغامات میں 1,631 اظہار تشکر

    RE: اسرائیل کی فلسطین پر وحشیانہ بمباری

    [align=center]


    [/align]

    ان شاءاللہ وہ وقت دور نہیں ، اس ظلم پر کب تک دنیا خاموش رہے گی ، ایک نہ ایک دن کوئی لیڈر اٹھے گا ،

  3. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Dec 2010
    مقام
    کراچی
    پيغامات
    393
    شکریہ
    65
    55 پیغامات میں 107 اظہار تشکر

    RE: اسرائیل کی فلسطین پر وحشیانہ بمباری

    [size=x-large] ملالہ کے لیے آسمان و زمین کو سر پر اٹھانے والے ’’تاشفین‘‘ صاحب نظر نہیں آرہے۔۔۔!!!![/size]

  4. #4
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Dec 2010
    مقام
    کراچی
    پيغامات
    393
    شکریہ
    65
    55 پیغامات میں 107 اظہار تشکر

    RE: اسرائیل کی فلسطین پر وحشیانہ بمباری

    [align=center][/align]
    [align=center]فلسطینی نہ جھکیں ہیں، نہ جھکیں گے'
    غزہ قتل عام کا اسرائیلی سے حساب لیا جائے گا: ایردوگان[/align]

    [align=center]

    [size=x-large] اللہ ان کافروں کو نیست و بابود کردے ان پر زمین کو اُلٹ دے یا اللہ ان بد بختوں کو نشان عبرت بنادے جو ان معصوم لوگوں پر ظلم کررہے ہیں۔ بہت دکھ ہورہا ہے ۔۔۔[/size][/align]

  5. #5
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2012
    پيغامات
    5,446
    شکریہ
    138
    96 پیغامات میں 104 اظہار تشکر

    RE: اسرائیل کی فلسطین پر وحشیانہ بمباری

    اب تک کی اطلاع کے مطابق کل شہادتیں چھیاسی ہو گئیں ہیں اور زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں گناہ زیادہ ہے۔اسرائیل کو کوئی روکنے والا نہیں کہ ان محصور بےگناہ اور نہتے (اسرائیل کے مقابلے میں وہ نہتے ہیں ) فلسطینیوں کے اوپر چھ دن سے ہوا سمندر اور زمین سے آگ برسا رہا ہے ،انسانیت کے علمبرداروں کو صرف تین اسرائیلیوں کی ہلاکت ہی نظر آتی ہے۔ان بے گناہوں کا خون ان شاء اللہ ضرور رنگ لائے گا۔حیرانگی کی بات ہے کہ اسلامی ممالک کے سر برہاہ خاموش ہیں شاید ان کے آقا امریکہ نے خاموش رہنے کے لئے کہا ہے۔

  6. #6
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Feb 2012
    پيغامات
    124
    شکریہ
    0
    25 پیغامات میں 27 اظہار تشکر

    RE: اسرائیل کی فلسطین پر وحشیانہ بمباری


    غزہ میں جاری تشدد - امریکی موقف

    محترم قارئين
    السلام عليکم

    امريکہ غزہ ميں جاری تشدد ميں معصوم اسرائیلی اور فلسطینی زندگيوں کے نقصان اور ضياع کی بھر پور مذمت کرتا ہے۔ امريکی حکومت اور تمام اعلی سطح حکام موجودہ تنازعہ پر جلد از جلد قابو پانے اور مسئلہ کا پر امن حل تلاش کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات لينے کی جاری کوششوں کی حمایت کر رہے ہیں-

    يہ قابل ذکرہے کہ صدر اوباما نے مصر کے صدر مورسی اور ترکی کے وزیر اعظم اردگان کے ساتھ کئی بار غزہ کے صورت حال پر گفتگو کرنے کيلۓ فون پر بات کی ہے۔ صدر اوباما نے مصر کے صدر کی طرف سے تنازعہ پر قابو پانے کيلۓ کی گئی کوششوں کو سراہا ہے اور انہيں اپنی کوششوں میں کامیاب ہو نے کيلۓ امید کا اظہار کیا ہے۔ صدر نے اسرائیلی اور فلسطینی شہریوں کی زندگیوں کے نقصان پر گہرے افسوس کا اظہار کیاہے،اور اس بات پر زور ديا ہے کہ تنازعہ کو جلد از جلد حل کريں اوراستحکام کو بحال کريں تاکہ زندگيوں کو لاحق مزيد نقصان کو روکا جاسکے۔ ان رہنماؤں نے آنے والے دنوں کے دوران اس تنازعہ کے مد ميں قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کا اظہار کيا۔

    یہ ذکرکرنا بہت ضروری ہے کہ امریکی انتظامیہ اور حکومت پچھلے دہائیوں سے تمام فريقين کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلۓ کوشش کرتی رہی ہيں۔ تاہم، یہ فلسطینی اور اسرائیلی حکام کی ہی ذمہ داری ہے کہ باہمی مسائل کا پرامن حل تلاش کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات لينے کی کوشش کريں۔

    آخر میں، ميں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ امریکی انتظامیہ کو غزہ میں حالیہ تشدد کے بارے میں کافی تشويش ہے ليکن يہ تبصرہ دينا نہايت غير ذمہ دارانہ ہے کہ امریکی حکومت دوسرے ممالک کے کارروائيوں کے لئے ذمہ دار ہے۔
    تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov
    www.state.gov
    https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu
    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

  7. #7
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,199
    شکریہ
    2,184
    1,256 پیغامات میں 1,631 اظہار تشکر

    RE: اسرائیل کی فلسطین پر وحشیانہ بمباری

    [align=center]
    [/align]

  8. #8
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Dec 2010
    مقام
    کراچی
    پيغامات
    393
    شکریہ
    65
    55 پیغامات میں 107 اظہار تشکر

    RE: اسرائیل کی فلسطین پر وحشیانہ بمباری

    اقتباس اصل پيغام ارسال کردہ از: tashfin28 پيغام ديکھيے

    غزہ میں جاری تشدد - امریکی موقف

    محترم قارئين
    السلام عليکم

    امريکہ غزہ ميں جاری تشدد ميں معصوم اسرائیلی اور فلسطینی زندگيوں کے نقصان اور ضياع کی بھر پور مذمت کرتا ہے۔ امريکی حکومت اور تمام اعلی سطح حکام موجودہ تنازعہ پر جلد از جلد قابو پانے اور مسئلہ کا پر امن حل تلاش کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات لينے کی جاری کوششوں کی حمایت کر رہے ہیں-

    يہ قابل ذکرہے کہ صدر اوباما نے مصر کے صدر مورسی اور ترکی کے وزیر اعظم اردگان کے ساتھ کئی بار غزہ کے صورت حال پر گفتگو کرنے کيلۓ فون پر بات کی ہے۔ صدر اوباما نے مصر کے صدر کی طرف سے تنازعہ پر قابو پانے کيلۓ کی گئی کوششوں کو سراہا ہے اور انہيں اپنی کوششوں میں کامیاب ہو نے کيلۓ امید کا اظہار کیا ہے۔ صدر نے اسرائیلی اور فلسطینی شہریوں کی زندگیوں کے نقصان پر گہرے افسوس کا اظہار کیاہے،اور اس بات پر زور ديا ہے کہ تنازعہ کو جلد از جلد حل کريں اوراستحکام کو بحال کريں تاکہ زندگيوں کو لاحق مزيد نقصان کو روکا جاسکے۔ ان رہنماؤں نے آنے والے دنوں کے دوران اس تنازعہ کے مد ميں قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کا اظہار کيا۔

    یہ ذکرکرنا بہت ضروری ہے کہ امریکی انتظامیہ اور حکومت پچھلے دہائیوں سے تمام فريقين کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلۓ کوشش کرتی رہی ہيں۔ تاہم، یہ فلسطینی اور اسرائیلی حکام کی ہی ذمہ داری ہے کہ باہمی مسائل کا پرامن حل تلاش کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات لينے کی کوشش کريں۔

    آخر میں، ميں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ امریکی انتظامیہ کو غزہ میں حالیہ تشدد کے بارے میں کافی تشويش ہے ليکن يہ تبصرہ دينا نہايت غير ذمہ دارانہ ہے کہ امریکی حکومت دوسرے ممالک کے کارروائيوں کے لئے ذمہ دار ہے۔
    تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov
    www.state.gov
    https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu
    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

    [size=x-large] جناب تاشفین صاحب!! اسرائیلی موجودہ اقدامات (بمباری، فوجی کارروائی، نہتے اور معصوم لوگوں پر آگ کی بارش) کیا ان سب کی امریکی حمایت اسرائیل کو حاصل نہیں ہے؟ کیا آپ کے صدر نے اسرائیلی اقدامات کی حمایت نہیں کی؟ تب ہی تو وہ کھل کر آگیا کہ اگر کوئی میری مخالفت کرے گا تو وہ امریکی مخالفت کرے گا، کیا ہوگیا ہے یار، کیوں حقیقت سے آنکھیں چرا رہے ہیں؟ محترم کبھی تو کہہ دیں کہ آپ کی پالیسیاں ہی ہیں جس نے دنیا کو دو حصوں میں تقسیم کرکے رکھ دیا ہے۔ یہ اختلاف آپ ہی لوگوں کو بویا ہوا ہے، جس میں طاقت کے نشے میں چور اور اپنی فوجی حیثیت کے گھمنڈ میں غرق اقوام کی حمایت میں آپ کی پالیسیاں کچھ اور جب کہ مظلوم اور نہتے عوام (مسلمانوں) کے لیے آپ کی پالیسیاں کچھ اور ہیں۔ یار میں تو سمجھ رہا تھا کہ آپ کی آنکھیں ان پھول جیسے بچوں کو دیکھ کر کچھ تو اشکبار ہوں گی، آپ کا دل ایک انسانیت کے جذبے کو محسوس کرتے ہوئے کچھ تو روئے گا۔۔ لیکن! افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس قدر دنیا پرستی میں لگ گئے ہیں کہ بس کیا کہیں۔۔۔۔۔۔!!!![/size]

  9. #9
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Feb 2012
    پيغامات
    124
    شکریہ
    0
    25 پیغامات میں 27 اظہار تشکر

    RE: اسرائیل کی فلسطین پر وحشیانہ بمباری



    غزہ ميں جاری تشدد اور امريکی موقف

    محترم قارئين
    السلام عليکم

    میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ امریکی حکومت خطے میں کسی بھی اسٹیک ہولڈر کیطرف سے انکی کسی بھی کارروائی کو کنٹرول نہیں کرتی ۔ مزید برآں، یہ بات قابل ذکر ہے کہ صدر اوباما نے کشیدگی کو کم کرنے کی ضرورت پر تمام فريقين پر زور ديا ہے اور امریکی وزیر خارجہ اس بحران کو حل کرنے ميں مدد کے لئے عنقريب خطے ميں جانی والی ہے۔

    ميں معزز قارئين کو ياد دلانا چاہتا ہوں کہ امريکی حکومت اور سینئر عہدیداروں نے کئی دہائیوں سے ان مسائل کے جامع حل کی طرف تعاون پر مبنی ایک سیاسی عمل کے لئے ہميشہ کوششيں کرتے رہے ہيں۔ اس مقصد کے حصول کيلۓ امريکی ظاہری عزم اورکی گئی کوششيں دنیا سے چھپے ہوۓ نہیں ہیں۔ تاہم امريکی حکومت اس بات پر پختہ يقين رکھتی ہے کہ يہ ذمہ داری فلسطینی اور اسرائیلی حکام کی ہی ہے کہ وہ باہمی مسائل کا پرامن حل تلاش کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات لينے کيلۓ کوشش کريں۔

    مزید برآں، مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں کی زندگیوں کو بہتر بنانے کيلۓ امریکی حکومت نے اقتصادی اور انسانی امداد میں اربوں ڈالر فراہم کيۓ ہيں۔ خطے میں ہمارے کۓ گۓ اقدامات فلسطین کے لوگوں کے ساتھ ہمارے طویل مدتی عزم کی حقیقی عکاسی کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ، امریکہ نے ہميشہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ان قراردادوں کی حمایت کرتے رہے ہيں جو لڑائی کے ادوار کے دوران فوری طور پر،پائیدار اور مکمل طور پر قابل احترام جنگ بندی کے لئے ایک جامع امن معاہدے کی حمایت کو يقينی بناتے ہيں۔

    تاشفين – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    digitaloutreach@state.gov
    www.state.gov
    https://twitter.com/#!/USDOSDOT_Urdu
    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

  10. #10
    رکنِ خاص سقراط کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,469
    شکریہ
    35
    149 پیغامات میں 217 اظہار تشکر

    RE: اسرائیل کی فلسطین پر وحشیانہ بمباری

    محترم تاشفین صاحب :
    یہ تبصرہ آپ دیکھ لیں ، یہ انڈیپینڈنٹ اخبار یو کے میں چھپا ہے ،

    http://www.independent.co.uk/news/wo...t-8334794.html

    اس کے چند الفاظ یہاں لکھتا ہوں آپ دیکھیے[align=left]
    An Egyptian official on Monday expressed frustration with the role played so far by the United States, which has made no attempt to publicly urge Israel to rein in its airstrikes.

    The United States has the most sway with Israel of any "country on earth," said the official, speaking on the condition of anonymity to discuss the ongoing negotiations. "The Israelis would not listen easily to any other voice."

    The Obama administration has pleaded for all sides to "de-escalate" but has criticized only Hamas. All high-level U.S. diplomacy has been conducted from afar, including phone calls Monday from Obama to Morsi and to Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu.

    International diplomatic efforts for a cease-fire intensified in Cairo, but the United States did not expressly back any plan.
    [/align]
    اب مزید دیکھیے ،

    جناب تاشفین صاحب ، اقوام متحدہ میں امریکا نےکل 79 دفعہ ویٹو کو استعمال کیا تھا،جس میں سے 40 دفعہ صرف اسرائیل کے دفاع کے لیے ویٹو استعمال کیا گیا تھا ،
    اور آخری دو ویٹو اس قرار داد ریزولوشن کے خلاف تھے کہ اسرائیل جو فلسطین میں سرزمین پر غیر قانونی کالونیاں بنا رہا تھا ،اور اس کو روکنے کے لیے یہ ریزولوشن پیش کیے گئے تھے ،
    یہ وکی پیڈیا کی رپورٹ ہے محترم ، آپ اسے دیکھیں ،
    [align=left]
    United States and the United Nations

    Ambassador Charles W. Yost cast the first U.S. veto in 1970, regarding a crisis in Rhodesia, and the U.S. cast a lone veto in 1972, to prevent a resolution relating to Israel. Since that time, it has become by far the most frequent user of the veto, mainly on resolutions criticising Israel; since 2002 the Negroponte doctrine has been applied for the use of a veto on resolutions relating to the ongoing Israel-Palestinian conflict. This has been a constant cause of friction between the General Assembly and the Security Council. On 18 February 2011, the Obama administration vetoed resolutions condemning Israeli settlements[/align].

صفحہ 1 از 3 123 آخریآخری

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University