صفحہ 1 از 3 123 آخریآخری
نتائج کی نمائش 1 تا: 10 از: 26

موضوع: راولپنڈی کے تاریخی مقامات

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    2,176
    شکریہ
    9
    120 پیغامات میں 149 اظہار تشکر

    راولپنڈی کے تاریخی مقامات

    پکا سرائے، گوجر خان، راولپنڈی
    [align=center]
    [/align]
    پاکستانی قوم، مادرِ وطن اور افواجِ پاکستان کےلیے جان بھی حاضر ہے
    لیکن مقتدر حلقوں میں موجود کرپٹ افراد کیلئے کوئی نرم گوشہ نہیں

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے مٹھے کریلے کا شکریہ ادا کیا:

    سیما (04-18-2013)

  3. #2
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    2,176
    شکریہ
    9
    120 پیغامات میں 149 اظہار تشکر

    RE: راولپنڈی کے تاریخی مقامات

    ٹیکسلا کے نزدیک ایک مندر
    [align=center][/align]

  4. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے مٹھے کریلے کا شکریہ ادا کیا:

    سیما (04-18-2013)

  5. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    2,176
    شکریہ
    9
    120 پیغامات میں 149 اظہار تشکر

    RE: راولپنڈی کے تاریخی مقامات

    مندر نزد پرانا قلعہ، راجہ بازار، راولپنڈی
    [align=center][/align]

  6. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے مٹھے کریلے کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (01-03-2015),سیما (04-18-2013)

  7. #4
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    2,176
    شکریہ
    9
    120 پیغامات میں 149 اظہار تشکر

    Re: راولپنڈی کے تاریخی مقامات

    مانکیالہ سٹوپہ، نزد روات، راولپنڈی


    مانکیالہ اسٹوپہ راولپنڈی سے جنوب کی طرف ستائیس کلو میٹر کے فاصلہ مانکیالہ گاؤں میں واقع ہے استوپہ ہونے کی بناء پر گاؤں کا نام توپ مانکیالہ کے نام سے معروف ہے یہ سٹوپہ اسلام آباد سے لاہور سفر کرتے ہوئےروات سے چھ کلومیٹر کے فاصلہ پرجی ٹی روڈ سے مشرق کی جانب نظر آتا ہے۔
    ایک کہانی کے مطابق مانکیالہ نام راجہ مان یا مانک کے نام سے منسوب ہے جو کہ اس گاؤں میں رہتا تھا اور اس نے اس کو بنوایا تھا۔ انیس سو تیس میں اس سے سونا، چاندی اور تانبا کے زیورات بھی دریافت کیے گئے ہیں۔اسٹوپہ کا منہ اوپر کی جانب کھلتا ہے جہاں سےیہ ایک کنواں نما نظر آتا ہے۔ اس کے اوپر سے گردو نواح کی آبادیاں خوبصورت منظر پیش کرتی ہیں۔ محکمہ آثار قدیمہ نےتوپ مانکیالہ کے چاروں طرف حفاظتی دیوار بنا دی ہے

  8. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے مٹھے کریلے کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (01-03-2015),سیما (04-18-2013)

  9. #5
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    2,176
    شکریہ
    9
    120 پیغامات میں 149 اظہار تشکر

    RE: راولپنڈی کے تاریخی مقامات

    سٹوپہ نزد ٹیکسلا، راولپنڈی
    [align=center][/align]

  10. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے مٹھے کریلے کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (01-03-2015),سیما (04-18-2013)

  11. #6
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    2,176
    شکریہ
    9
    120 پیغامات میں 149 اظہار تشکر

    Re: راولپنڈی کے تاریخی مقامات

    قلعہ روات










    راولپنڈی سے مشرق کی جانب سترہ کلومیٹر کے فاصلہ پر روات شاہی قلعہ واقع ہے جو سولہویں صدی کے اوائل میں تعمیر کیا گیا تھا. یہ گکھڑوں کے سربراہ سلطان سارنگ خان اور شیر شاہ سوری کے درمیان ایک جنگ کی یاد دلاتا ہے جو1546 ء میں اس مقام پر لڑی گئی۔
    قلعہ کا منظر
    قلعہ تقریبا مربع شکل میں ہے اور اس کے دو بڑے دروازے ہیں اور ایک مسجد کے تین بڑے کمرے گنبد کی شکل میں نظر آتے ہیں اور یہ تقریبا بہتر حالت میں ہے۔
    ایک گنبد کے ساتھ ایک چوکور عمارت ہے دیوار وں کے ساتھ ساتھ چھوٹے کمرے ہیں.اس کی فصیل کے ساتھ ساتھ بہت سے چھوٹے چھوٹے کمرے بنے ہوئے ہیں جو کہ دفاعی لحاظ سے اہمیت کے حامل ہیں قلعہ کے مرکز میں کئی قبریں ہیں. ان میں سے ایک سلطان سارنگ خان کی ہے۔ ان کے سولہ بیٹوں کی قبریں بھی ہیں جو 1540 میں یہاں جنگ کرتے ہوئے مارے گئے تھے ،۔ہمایوں کے دور کے دوران ، سلطان سارنگ خان نے زیادہ شہرت حاصل کی وہ اتنا طاقتور ہو گیا تھا کہ اس نے شیر شاہ سوری کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیاتھا ان کے اس انکار سے شیر شاہ سوری نے اس پر چڑھائی کر دی جس کے نتیجے میں وہ اور اس کے سولہ بیٹے مارے گئے تھے۔
    موجودہ حالت
    قیام پاکستان کے بعد قلعہ کو محکمہ اوقاف کی نگرانی میں دے دیا گیا اور اس کا نام شاہی قلعہ رکھ دیا گیا جس میں ایک مسجد بھی واقع ہے جو آج بھی آباد ہے اور قدیم دور کی یاد دلاتی ہے قلعے کے ارد گرد مضبوط فصیل ہے جو اسے بیرونی دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھنے کا زریعہ تھی مگر اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اس کے علاوہ اس کی دیواروں کو اہل روات نے بھی نقصان پہنچایا ہے انہوں نے گھروں کی تعمیر کے لیے اس کی دیواروں کو گرانا شروع کر دیا تھا اب حکومت نے اس کے ارد گرد دیواروں کے ساتھ تعمیرات پر پابندی لگا دی ہے اور قلعے کے دونوں اطراف میں خوبصورت لان بنا دیے گئے ہیں ۔ تاہم ان کی تعمیرات ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ۔
    بہترین سیاحتی مقام
    یہاں ملکی اور غیر ملکی سیاح آنا جانا رہتا ہے اور اگر حکومت زرا سی توجہ دے تو اس کو سیاحت کے لیے حوصلہ افزا مقام بنایا جا سکتا ہے اونچائی پر واقع ہونے کی وجہ سے دفاعی اعتبار سے بھی یہ قلعہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے یہاں سے اسلام آباد اور راولپنڈی اور ارد گردکے بڑے علاقے پر موثر کنٹرول حاصل کیا جا سکتا ہے تاہم اس تاریخی مقام پر حکومت کو توجہ دینی کی ضرورت ہے تاکہ آنیوالی نسلوں میں یہ وارثہ منتقل ہوسکے ۔
    قلعہ کے صدر دروازہ کے باہر لگے آہنی بورڈ پر تحریر
    روات عربی زبان کے لفظ ربات کی بگڑی ہوئی شکل ہے ربات کے لغوی معنی سرائے کے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ قلعہ درحقیقت ایک قدیم کاروان سرائے تھا جو کہ جرنیلی روڈ کے ساتھ مسافروں کی سہولت یا سرکاری اہلکاروں کے ٹھہرنے کیلئے بنائی گئی تھی اس کا فن تعمیر اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ یہ قلعہ نماسرائے پندرہویں صدی کے اوائل میں سلاطین دہلی کے زمانے میں تعمیر ہوتی تھی لیکن اس قلعے کو سلطان محمود غزنوی کے بیٹے مسعود کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے جس کا زمانہ 1036ء ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کے لشکر کے باغی سپاہیوں نے اسے اس قلعے میں گرفتار کیا اور بعد میں ٹیکسلا کے نزدیک گڑی کے قلعے میں لے جا کر قتل کردیا یہ قلعہ بعد میں گکھڑ قبیلے کے سردار سارنگ خان کے قبضے میں آیا جو کہ اپنے سولہ بیٹوں کے ساتھ شیر شاہ سوری کے ہاتھوں قتل ہوا اور اسی قلعے میں دفن کیا گیا۔
    موجودہ قلعہ فصیل اور دو دروازوں پر مشتمل ہے صدر دروازے کا رخ مشرق کی جانب ہے جبکہ عقبی دروازہ شمال کی طرف کھلتا ہے۔ فصیل کے اندر چاروں اطراف میں ہجرے بنے ہوئے ہیں۔ فصیل کے اندر دیگر تاریخی عمارتوں میں یاک ہشت پہلو مقبرہ ایک مسجد اور چند قبریں ہیں۔

  12. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے مٹھے کریلے کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (01-03-2015),سیما (04-18-2013)

  13. #7
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    2,176
    شکریہ
    9
    120 پیغامات میں 149 اظہار تشکر

    Re: راولپنڈی کے تاریخی مقامات

    قلعہ پھروالہ، نزد سہالہ















    پھروالہ قلعہ راولپنڈی سے مشرق کی جانب ستائیس کلو میٹر اور اسلام آباد ہائی وے سے سترہ کلومیٹر کے فاصلہ پر لہتراڑ روڈ چراہ گاؤں کے قریب تحصیل کہوٹہ میں واقع ہے یہ چار مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ قلعہ قدرتی طور پر ایک طرف کوہ ہمالیہ کی پہاڑی اور دوسری جانب دریائے سواں ہونے کی بناء پر محفوظ مقام پر واقع ہے۔ گکھڑوں کا یہ قلعہ پندرہویں صدی میں راجپوت گکھڑ قبیلہ کے حکمران ہاتھی خان نے بنوایا تھا۔ مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر نے پندرہ سو انیس عیسویں میں اسے فتح کیا بعد ازاں سکھوں نے اٹھارہ سو پچیس عیسویں میں اس پر قبضہ کر ڈالا۔ یہ قلعہ گکھڑوں کا دارالخلافہ بھی رہا ہے۔ اس قلعہ کے چھ دروازے ہیں جن کے نام لشکری، قلعہ، ہاتھی، باغ، زیارت اور بیگم دروازے ہیں۔ ہاتھی دروازہ شمال مشرق جبکہ بیگم دروازہ جنوب مغرب کی طرف کھلتا ہے جو کہ بری طرح تباہ ہوچکا ہے یہ دروازہ دریائے سواں سے نکلتے ہوئے پہلی اونچی چٹان پر واقع ہے۔

  14. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے مٹھے کریلے کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (01-03-2015),سیما (04-18-2013)

  15. #8
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    2,176
    شکریہ
    9
    120 پیغامات میں 149 اظہار تشکر

    RE: راولپنڈی کے تاریخی مقامات

    سنگھنی قلعہ، نزد بیول، کلر سیداں
    [align=center]



    [/align]

  16. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے مٹھے کریلے کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (01-03-2015),سیما (04-18-2013)

  17. #9
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    2,176
    شکریہ
    9
    120 پیغامات میں 149 اظہار تشکر

    RE: راولپنڈی کے تاریخی مقامات

    مندر نزد ساگری، راولپنڈی
    [align=center][/align]

  18. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے مٹھے کریلے کا شکریہ ادا کیا:

    سیما (04-18-2013)

  19. #10
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jul 2012
    پيغامات
    2,176
    شکریہ
    9
    120 پیغامات میں 149 اظہار تشکر

    RE: راولپنڈی کے تاریخی مقامات

    ٹیکسلا
    [align=center][/align]

  20. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے مٹھے کریلے کا شکریہ ادا کیا:

    سیما (04-18-2013)

صفحہ 1 از 3 123 آخریآخری

متشابہہ موضوعات

  1. وی وی آئی پی بکرا
    By مٹھے کریلے in forum مزاحیہ تصاویر
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 10-24-2012, 07:41 PM
  2. جڑواں شہر۔ راولپنڈی اور اسلام آباد
    By بےباک in forum مزاحیہ شاعری
    جوابات: 7
    آخری پيغام: 08-06-2012, 03:16 PM
  3. چکن کی ہانڈی
    By تانیہ in forum پکوان گھر
    جوابات: 0
    آخری پيغام: 05-23-2012, 09:43 PM
  4. سی ڈی یا ڈی وی ڈی کوبوٹ ایبل کیسے بنایا جاتا ہے
    By لاجواب in forum سیکھیں اور سکھائیں
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 04-12-2012, 06:07 AM
  5. کلام محسن نقوی
    By محمدمعروف in forum میری پسندیدہ شاعری
    جوابات: 3
    آخری پيغام: 07-04-2011, 02:29 AM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University