نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: مصر میں حکومتی پریشانیاں

  1. #1
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,217 پیغامات میں 1,589 اظہار تشکر

    مصر میں حکومتی پریشانیاں

    [align=center][size=xx-large]جلسے میں شریک جج نے برادر جج کو زمین پر پٹخ دیا
    مرسی کے خلاف ججوں کا احتجاج باہمی جنگ و جدل کا میدان بن گیا
    [/size][/align]

    [align=center][/align]


    مصر میں ججوں کی یونین کی جنرل کونسل کے ہفتے کے روز منعقدہ غیر معمولی اجلاس کے موقع پر شرکاء اس وقت حیرت کی تصویر بن گئے کہ جب اجلاس میں شرکت کے لئے آنے والے ایک جج نے دوسرے برادر جج کو زمین پر پٹخ دیا۔

    صورتحال دیکھ کر دوسرے جج صاحبان نے بیچ بچاؤ کرایا، تاہم اس موقع پر باہم دست و گربیان ججوں کی بلند آواز اس ہال تک جا پہنچی جہاں یونین کے صدر جسٹس احمد الزند خطاب کر رہے تھے۔ انہیں شور شرابے کے باعث تھوڑی دیر کو اپنا خطاب روکنا پڑا۔

    العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق اجلاس میں جسٹس الزند کے خطاب پر پروگرام میں شریک جج نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو اس پر جلسے میں شریک ایک دوسرے جج نے اول الذکر کو تنقید سے روکا، بات بڑھتے بڑھتے گالم گلوچ اور پھر تھپڑوں اور مکوں تک جا پہنچی۔ اسی دوران نسبتاً فربے جج نے فریق مخالف کو زمین پر پٹخ ڈالا۔

    ادھر ججوں کی یونین نے اجلاس کے اختتام پر منظور کی جانے والی قرارداد میں صدر مرسی پر زور دیا گیا ہے کہ اختیارات میں اضافے کے لیے جاری کیے جانے والے صدارتی فرمان واپس لئے جائیں کیونکہ یہ عدلیہ کی آزادی پر غیر معمولی حملہ ہے۔ ہفتے کے روز مصر میں ججوں نے صدر مرسی کی جانب سے اختیارت حاصل کرنے کے صدراتی حکم کو تنقید کا نشانے بناتے ہوئے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ ہڑتال کے دوران عدالتیں اور استغاثہ کے وکلا احتجاجاً کام نہیں کریں گے۔

    جس وقت ججوں کا اجلاس جاری تھا اس وقت باہر جمع مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ مصر کی اعلیٰ عدلیہ نے بھی ہفتے کے روز صدر مرسی کی جانب سے اختیارت حاصل کرنے کے صدراتی حکم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

    یاد رہے کہ صدراتی حکم نامے میں عدالت کو آئین ساز اسمبلی کو ختم کرنے کے اختیارات پر قدغن لگائی گئی ہے۔ یاد رہے کہ مصر کی آئین ساز اسمبلی ملک کے لیے نیا آئین بنا رہی ہے۔

    تازہ ترین اطلاعات کے مطابق

    سابق بدعنوانوں کے احتساب کے لیے فرمان ضروری تھا
    صدارتی حکم نامے عارضی ہیں، مخالفین مذاکرات کریں: مرسی


    مصر کے صدر محمد مرسی نے اپنے جاری کردہ حکم ناموں سے ملک میں پیدا ہونے والے بحران کو فرو کرنے کا اشارہ دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے فرامین عارضی نوعیت کے ہیں اور وہ سیاسی قوتوں کے ساتھ مذاکرات چاہتے ہیں۔

    انھوں نے یہ بات اتوار کو ایوان صدر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہی ہے۔ اس کے مطابق ''صدر مرسی سابق حکومت اور عبوری دور کے جرائم اور بدعنوانیوں میں ملوث عہدے داروں اور اہلکاروں کا احتساب چاہتے ہیں''۔

    صدارتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ''سابق حکومت اور عبوری دور میں بدعنوانیوں کے علاوہ دوسرے جرائم کے ذمے داروں کے مواخذے کے لیے یہ اعلامیہ ضروری تھا''۔

    درایں اثناء مصر کے سرکاری ٹی وی نے اطلاع دی ہے کہ وزیر انصاف احمد مکی نے ملک کی انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان پیدا ہونے والے بحران کے خاتمے کے لیے مصالحتی کوششیں شروع کر دی ہیں۔

    یہ پہلا موقع ہے کہ صدر مرسی کی جانب سے اپنے فیصلوں اور احکامات کو کسی عدالتی نظرثانی سے ماورا قرار دینے کے لیے فرمان کے اجراء سے پیدا ہونے والے بحران کے حل کے لیے کوششں شروع کی گئی ہے۔

    سرکاری ٹی وی نے بتایا ہے کہ وزیر انصاف محمد مکی نے قاہرہ میں سپریم کورٹ کے ہیڈکوارٹرز میں ایک اجلاس طلب کیا ہے۔ واضح رہے کہ وزیر موصوف یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کے صدر مرسی کے جاری کردہ حکم نامے کے بارے میں کچھ تحفظات ہیں۔

    اس اجلاس کے چند گھنٹے کے بعد مصر کی سپریم جوڈیشل کونسل نے جج صاحبان سے کہا تھا کہ وہ دوبارہ اپنا عدالتی کام شروع کر دیں۔ ججوں کے کلب نے گذشتہ روز صدارتی فرمان کو عدلیہ کی آزادی پر حملہ قرار دیتے ہوئے ہڑتال کر دی تھی۔

    مصری صدر نے جمعرات کو جاری کردہ فرامین میں سے ایک میں کہا تھا کہ ''صدر نے عہدہ سنبھالنے کے بعد جو بھی فیصلے کیے، قوانین اور اعلامیے منظور کیے، انھیں عدلیہ سمیت کوئی بھی اتھارٹی منسوخ نہیں کر سکتی اور نہ ان کے خلاف اپیل کی جا سکتی ہے''۔

    انھوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ''مصر کی دستور ساز اسمبلی اور پارلیمان کے ایوان بالا شوریٰ کونسل کو عدلیہ سمیت کوئی بھی اتھارٹی تحلیل نہیں کر سکتی''۔ اس صدارتی فرمان پر سب سے زیادہ تنقید کی جا رہی ہے اور اسے عدلیہ پر قدغنیں لگانے کے علاوہ ملک میں آمریت کی راہ ہموار کرنے کی جانب ایک قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس حکم نامے کے بعد صدر محمد مرسی کے مخالفین نے انھیں ''فرعونِ جدید'' کے خطاب سے نوازا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ مصر کے مطلق العنان اور سابق صدر حسنی مبارک سے بھی زیادہ بااختیار صدر بن گئے ہیں۔

  2. #2
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2012
    پيغامات
    5,446
    شکریہ
    138
    96 پیغامات میں 104 اظہار تشکر

    RE: مصر میں حکومتی پریشانیاں

    معلوماتی شئیرنگ کا شکریہ

متشابہہ موضوعات

  1. کلام کرتی نہیں بولتی بھی جاتی ہے
    By ایم-ایم in forum امجد اسلام امجد
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 07-29-2012, 12:01 PM
  2. کیوں طبیعت کہیں ٹھہرتی نہیں
    By ایم-ایم in forum احمد فراز
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 04-16-2012, 10:26 AM
  3. میں کہتا ہوں مجھے تم ہنستی گاتی اچھی لگتی ہو
    By ایم-ایم in forum فرحت عباس شاہ
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 04-16-2012, 09:31 AM
  4. وہ کہتی ہے کہ تم مجھے کو پکارا ہی نہیں
    By ایم-ایم in forum فرحت عباس شاہ
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 04-13-2012, 06:37 PM
  5. جوابات: 1
    آخری پيغام: 12-13-2010, 10:36 AM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University