صفحہ 1 از 2 12 آخریآخری
نتائج کی نمائش 1 تا: 10 از: 17

موضوع: قاضی حسین احمد اور جماعت اسلامی کا اصل چہرہ

  1. #1
    رکنِ خاص سید انور محمود کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2012
    پيغامات
    754
    شکریہ
    198
    388 پیغامات میں 628 اظہار تشکر

    قاضی حسین احمد اور جماعت اسلامی کا اصل چہرہ

    از طرف: سید انور محمود

    تھوڑے دن قبل سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے اپنی خودساختہ بنائی ہوئی ملی یکجہتی کونسل کے بینر تلے ایک کانفرس منعقدکی، اس کانفرنس کے شرکا میں ایک سلیم صافی بھی تھے۔ سلیم صافی نے روزنامہ جنگ میں 27 نومبر کو "ملی یکجہتی کونسل یا شخصی سیاسی کونسل" کے نام سے ایک کالم تحریر کیا ہے جس میں قاضی حسین احمد اور جماعت اسلامی کا اصل چہرہ اجاگر کیا ہے۔
    -----------------
    http://jang.com.pk/jang/nov2012-dail...-2012/col2.htm
    [size=x-large]ملی یکجہتی کونسل یا شخصی سیاسی کونسل...جرگہ…سلیم صافی[/size]
    اسلام آباد کے فائیو اسٹار ہوٹل کے سب سے بڑے ہال میں یہ کانفرنس ملی یکجہتی کونسل کے بینر تلے منعقد ہو رہی تھی۔ ترکی‘ یو اے ای‘ مصر ‘ سوڈان‘ افغانستان اور کئی دیگر اسلامی ممالک سے بھی افراد مدعو کئے گئے تھے۔ ملک بھر سے دینی شخصیات اور دینی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی کانفرنس کے منتظمین کے خرچے پر مدعو کیا گیا تھا۔ نہ صرف مدعوئین کا بلکہ ان میں سے بعض کے ساتھ آئے ہوئے گھر کے افرادکا بھی اسی ہوٹل میں رہائش کا انتظام کیا گیا تھا۔ محترم قاضی حسین احمد بنیادی میزبان جبکہ محترم حافظ حسین احمد مہمانوں کے مہربان کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ اس کانفرنس کی آخری نشست میں آخری خطاب جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن کا رکھا گیا تھالیکن انہوں نے چونکہ کسی اور جگہ جانا تھا اس لئے ان کو پہلے دعوت خطاب دیا گیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے بڑی تفصیل سے آئندہ انتخابات میں کامیابی کے ممکنہ طریقوں پر روشنی ڈالی اور پھر باریک اشاروں کے ذریعے مولانا فضل الرحمن کی طرف سے ایم ایم اے کی بحالی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ میرے ساتھ میری میز پر کراچی سے تشریف لانے والے ایک بڑے علمی خانوادے کے چشم و چراغ بیٹھے تھے۔ کراچی کے حالات کی ابتری کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے میڈیا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور فرمایا کہ آپ لوگ کراچی پر قابض گروہوں سے ڈرتے ہو۔ جواباً عرض کیا کہ سچ ہے ہم میڈیا والے ڈرتے ہیں اور پورا سچ نہیں بو ل سکتے لیکن کم ازکم مسئلے کو اجاگر اور اس کا ذکر تو کرتے رہتے ہیں لیکن آپ اور آپ جیسے دینی رہنما تو سرے سے پاکستان کے مسائل کا ذکر ہی نہیں کرتے۔ ہم میڈیا والوں کی اکثریت تو مجھ جیسے گناہ گاروں پر مشتمل ہے لیکن آپ لوگ توشب و روز دنیا کی بے ثباتی کا درس دیتے اور شہادت کی تلقین کرتے رہتے ہیں پھر نہ جانے آپ لوگ موت سے اتنا کیوں ڈرتے ہو؟ آپ لوگ ہمیں بتاتے رہتے ہیں کہ آخرت میں سب سے پہلے انسان سے اس کے گھر اور پھر اس کے محلے کے بارے میں پوچھا جائے گا لیکن آپ کراچی میں رہتے ہیں تو کراچی کے بارے میں نہیں بولتے۔ محترم مولانا فضل الرحمن اورمحترم قاضی حسین احمد عسکریت پسندوں اور سیکورٹی فورسز کے زیرتسلط علاقوں میں رہتے ہیں تو وہ بولتے وقت ان دونوں کی حقیقت بیان کرنے سے گریز کرتے ہیں ۔ میرا اور ان کا یہ مکالمہ جاری تھا کہ محترم قاضی حسین احمد کا اختتامی خطاب شروع ہوا۔ ہم ان کی طرف متوجہ ہوئے ۔ اس کانفرنس کو کامیاب قرار دیتے ہوئے انہوں نے عالمی اسلامی تنظیموں کے درمیان رابطے کی ضرورت پر زور دیا اور مستقبل میں بھی اسی طرح کی کانفرنس کے انعقاد کا عزم کیا۔ پھر انہوں نے حسب روایت امریکہ کی خبر لی پھر عراق کا ذکر کیا پھر افغانستان کی باری آئی پھر ترکی اور مصر میں اسلام پسندوں کی کامیابیوں کی تفصیل بیان کی۔ اسی طرح سوڈان کا بھی خوب ذکر ہوا حتیٰ کہ انہوں نے بنگلہ دیش کا رونا بھی رویا اور فرمایا کہ کس طرح بنگلہ دیش کو ایک سیکولر اسٹیٹ بنانے کی سازش ہو رہی ہے لیکن ذکر نہیں ہوا تو پاکستان کا نہیں ہوا۔ میں اور میرے ساتھ میز پر تشریف فرما دیگر احباب انتظار کرتے رہے کہ اب محترم قاضی حسین احمد پاکستان کے حدود میں داخل ہوں گے لیکن افسوس کہ پاکستان میں قدم رکھے بغیر انہوں نے تقریر ختم کردی۔ انہوں نے کراچی کا ذکر کیا اور نہ بلوچستان کا ‘ دہشت گردی کے مسئلے کی طرف آئے اور نہ وزیرستان کی طرف ۔ خودکش حملوں کے بارے میں لب کشائی کی اور نہ فرقہ واریت کے بارے میں دو لفظ لبوں پر لائے۔ پوری تقریر میں پاکستانی سرحدوں سے باہر رہے اور پھر سرحدوں کے باہر سے ہی مہمانوں کا شکریہ ادا کرکے اجازت طلب کی ۔ میں نے اپنے ساتھ تشریف فرما کراچی کے مولانا صاحب کی طرف دیکھا اور پوچھا کہ کیا پاکستان میں کسی بھی جگہ کوئی بھی مسئلہ نہیں؟ وہ میرا اشارہ سمجھ گئے اور کہنے لگے کہ ہاں یہ المیہ تو ہے۔
    یقیناوہ مسلمان نہیں جو فلسطینیوں کے لئے نہ تڑپے ۔ ان کا دعویٰ اسلام جھوٹا ہے جو کشمیر‘ افغانستان‘ عراق اور برما کے مسلمانوں کے دکھ اور درد کو محسوس نہ کرے ۔ امریکہ اور اس کے حواری جو کچھ کررہے ہیں ان کی خبر لینا اور حسب استطاعت ان کی سازشوں سے عالم اسلام کو بچانا تقاضائے ایمان ہے لیکن کیا کراچی اور وزیرستان یا پشاور اور بلوچستان کے باسی مسلمان نہیں اور کیا اسلامی تعلیمات کی رو سے قیامت کے دن ہم سے زیادہ اپنے پاکستان کے بارے میں نہیں پوچھا جائے گا؟ محترم قاضی حسین احمد کا دعویٰ ہے کہ ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے اندر فرقہ واریت کے خاتمے اور مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لئے قائم کی گئی ہے ۔ اگر واقعی مقصد یہی ہے تو پھر اس کی مجلس میں فرقہ واریت کے مسئلے پر ہی بات ہونی چاہئے تھی پھر تو یہاں جہاد و قتال اور عسکریت پسندی کے موضوعات ہی زیربحث آنے چاہئے تھے ۔ ایسے عالم میں جبکہ اگلے روز محرم کا مہینہ شروع ہورہا تھا‘ بین المسالک ہم آہنگی ہی پر مباحثہ ہونا چاہئے تھا لیکن وہاں مسئلے کی تنقیح ہوئی اور نہ محرم کے دوران ملی یکجہتی کونسل متحرک نظر آئی۔ محرم ہی کے ایام میں ملی یکجہتی کونسل کے سربراہ کراچی‘ ڈی آئی خان‘ گلگت‘ جھنگ اور اسی نوع کے دیگر حساس مقامات کو چھوڑ کر مہمند ایجنسی کے دورے پر چل پڑے۔ وہاں ان کے قافلے پر خودکش حملہ ہوا اور اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ محفوظ رہے۔ اگلے دن اسلام آباد آئے اور یہاں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس میں انہوں نے اپنے اوپر حملے کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیا (نہ جانے زندگی سے بلا کی حد تک پیار کرنے اور موت سے ڈرنے والے امریکیوں میں خودکش کہاں سے پیدا ہوگئے ) اور محرم کے دوران امن و امان برقراررکھنے کے سلسلے میں کسی سرگرمی کے اعلان کی بجائے آٹھویں محرم کو فلسطین کے حق میں ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا۔ان کے اس اعلان نے دیگر جماعتوں کو تو کیا خود جماعت اسلامی کو بھی مخمصے میں ڈال دیا۔ وہ اعلان کے مطابق احتجاج نہ کرے تو بھی مسئلہ اور اگر کرے تو محرم کی وجہ سے سیکورٹی کا مسئلہ۔ یوں چند شہروں میں فلسطینیوں کے حق میں چند چھوٹے جلوس نکالے گئے اور بس۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ ملی یکجہتی کونسل ہے یا پھر شخصی سیاسی کونسل؟ محترم قاضی حسین احمد کے تحرک ‘ نیک جذبے اور انقلابیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا لیکن شاید وہ عمر کے اس حصے میں اپنے غیرمعمولی تجربے اور بے پناہ صلاحیتوں کا بے جا استعمال کرکے خواہ مخواہ اپنی زندگی کو خطرے اور جماعت اسلامی کو آزمائش سے دوچار کر رہے ہیں۔ جماعت کی امارت سے فراغت کے بعد خود اس عاجز نے بھی انہیں یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ فرقہ واریت کے خاتمے اور جہاد و قتال سے متعلق قومی سطح پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے دینی حلقوں کا ایک غیرسیاسی فورم قائم کرلیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی گزارش کی گئی تھی کہ اس کے لئے شرط اولین یہ ہے کہ وہ جماعت اسلامی کی رکنیت سے بھی اپنے آپ کو فارغ کردیں ۔ اب پہلے تو وہ ادارہ فکر وعمل کے فورم سے سرگرم عمل رہے اور جب مولانا فضل الرحمن نے جماعت اسلامی کے بغیر ایم ایم اے فعال کرنے کا ارادہ ظاہر کیا تو انہوں نے ملی یکجہتی کونسل کو زندہ کرنا ضروری سمجھا۔ دعویٰ تو ان کا یہ ہے کہ یہ غیرسیاسی فورم ہوگا لیکن وہاں یکجہتی تو کہیں نظر نہیں آتی‘ ہر طرف سیاست ہی سیاست نظر آتی ہے۔ وہاں ایک مسلک کا غلبہ نظر آتا ہے اور مخالف مسلک کے لوگوں کا کوئی وجود نہیں ۔جماعت اسلامی کی روایات کے مطابق امیر جماعت فراغت کے بعد مکمل طور پر لاتعلق ہوجاتے ہیں لیکن محترم قاضی صاحب کی بحیثیت رکن جماعت یہ فعالیت ان روایات کے منافی ہے اور بعض اوقات جماعت کی قیادت کے لئے پریشانیوں کا موجب بھی بن جاتی ہے۔ دوسری طرف جب وہ ملی یکجہتی کونسل کے فورم کو جماعت اسلامی کے سیاسی ایجنڈے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کی اصل روح بھی فوت ہو جاتی ہے ۔ سیاست تو ہر کوئی کرسکتا ہے لیکن قوم اور بالخصوص مذہبی حلقوں کی رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں۔ اگرمحترم قاضی صاحب جماعتی سیاست سے الگ ہوکر اپنے آپ کو مذہبی ہم آہنگی کے فروغ اور جہاد و قتال جیسے دینی احکامات کی تعبیر و تشریح پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے وقف کردیں تو یہ ملک اور دین دونوں کی بڑی خدمت ہوگی تاہم اگر قاضی صاحب دو کشتیوں پر سواری کی کوشش جاری رکھتے ہیں تو خاکم بدہن وہی انجام ہوگا جو دوکشتیوں کے سوار کا ہوا کرتا ہے۔انہیں جماعت اسلامی اور کونسل یا پھر سیاست اور یکجہتی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

    --------------------
    یقینا اس کالم کے پڑھنے کے بعد قاضی حسین احمد اور جماعت اسلامی کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے۔ یہ جماعت صرف پورے ملک میں انتشار پیدا کرتی ہے۔ اس کی سیاسی تاریخ یہ ہے کہ لوگ اس کو ووٹ دیناپسند نہیں کرتے، اقتدار میں یہ صرف ضیاالحق جیسوں کی بی ٹیم ہی ہوتی ہے۔

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,215 پیغامات میں 1,587 اظہار تشکر

    RE: قاضی حسین احمد اور جماعت اسلامی کا اصل چہرہ

    جناب سید انور محمود صاحب لگتا ہے آپ کو اسلامی جماعتوں سے چڑ ہو گئی ہے ،یا اسلامو فوبیا کا شکار ہیں ، یا جہاد کے نام سے آپ کو نفرت ہے ، اس لیے باقی سب حقیقتیں آپ کی آنکھ سے اوجھل ہو جاتی ہیں
    اس سے پہلے بھی آپ نے جماعت اسلامی ، مولانا مودودی مرحوم اور مولانا ابوالکلام آزاد مرحوم پر تنقید کی ،
    محترم اس ملک کے ساتھ یہی زیادتی بہت ہو رہی ھے ۔مسلمان نام کا ھے اور لیکن اس ملک کو سیکولر بنانے پر تلا ہوا ہے ،ہر بندہ اٹھتا ہے اور وہ اسلامی جماعتوں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتا ہے
    بڑے بڑے جغادری قسم کے سیکولر آئے اور پوری کوشش کر چکے کہ اس ملک سے اسلام کے نام لیوا نہ رہیں ،
    کوئی جماعت اسلامی کو گالی دے کر مزا اٹھاتا ہے اور کوئی ابوالکلام کو گالی دے کر دل کی بھڑاس نکالتا ہے اور کوئی دیگر اسلامی جماعتوں کو ،اور پھر کوئی جہاد کو اور پھر طالبان کو ،
    یہاں بھی کئی بندوں کو اتحاد بین المسلمین پر بے حد تکلیف ہو رہی ہے ، اور وہ یکجہتی کے بجائے چاھتے ہیں کہ مسلمان ایک جگہ نہ بیٹھیں ، اور سیاست سے ہمیشہ کے لیے دور ہو جائیں ،اگر وہ کچھ کام نہیں کر رہے تو بھی ان علماٴ کا اجتماع قتل و غارت کی اس فضاء میں امید کی ایک کرن تو ہے ،
    امریکا ،یورپ کے تعلیم یافتہ اور دیگر پّڑھے لکھے بندوں پر مغربی افکار اور ذرائع ابلاغ کا اثر ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی اصلیت بھی بھول جاتا ہے ، اور اس کو اسلام طرز کہن دکھائی دیتا ہے ،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جماعت اسلامی کے کار ھائے نمایاں دیکھیں ،
    [size=xx-large] کارہاےَ نمایاں[/size]

    جماعت اسلامی بر صغیر کی وہ پہلی جماعت ہے جس نے اسلام کو بطور جدید سیاسی نظام متعارف کرایا۔
    جماعت نے مسلمانان ہند کو دو قومی نظریہ کی بنیاد فراہم کی۔
    جماعت نے عقلیت اور مغربیت سے متاثر جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کو عقلی و علمی استدلال (Logic) کے ذریعے اسلام سے متاثر کیا۔ اور جدید مثائل کا حل اسلام کی روشنی میں پیش کیا۔
    جماعت نے لادین پاکستان بننے کی مخالفت کی۔
    تقسیم پاکستان کے وقت کارکنان جماعت اسلامی نے رضاکارانہ کاروائیوں میں بھرپور حصہ لے کر ثابت کیا کہ جماعت آنے والے مشکل وقتوں میں پاکستان کے لیے تن من دھن سے کام کرنے کی اہل ہے۔
    جماعت نے پاکستان بننے کے بعد اس کے اسلامی تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے جدوجہد کی۔ اور لادین (secular) حلقوں کو منہ کی کھانی پڑی۔
    پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ کے خواب کو تعبیر دینے اور قرارداد مقاصد میں ریاست کو اصولی طور پر اسلامی قرار دینے کے لیے عوام میں راےَعامہ ہموار کرکے تحریک چلائی اور اس میں کامیابی حاصل کی۔
    کارکنان و رہنماےَ جماعت نے قوم کی فکری رہنمائی کرتے ہوےَ شرعی طور پر ثابت کیا کہ قادیانی ختم نبوت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نفی کرنے کے باعث دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اس وقت قادیانی پاکستانی انتظامیہ میں کلیدی عہدوں پر فائز تھے نیز طبقہ اشرافیہ میں نمایاں حثیت کے حامل تھے۔ اس اثرورسوخ کو استعمال کرتے ہوےَ انہوں نے ابلاغ عامہ کے ذریعے جماعت کو بدنام اور فوجی عدالت کے ذریعے بانیَ جماعت کو تختہ دار پر چڑھانے کی کوشش بھی کی۔ الزام یہ لگایا کہ جماعت نے فرقہ وارانہ فسادات کراےَ۔ جبکہ جماعت ایسے کسی فساد میں شامل نہیں تھی۔ تشدد کے زیادہ تر واقعات کے ذمہ دار قادیانی اور حکومت وقت تھی جس نے قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دینے پر پس و پیش سے کام لیا۔ بانیَ جماعت تقریبا 3 سال پابند سلاسل رہے۔ انہیں اس دوران پیشکش کی گئی کہ ان کی پھانسی کی سزا ختم ہو سکتی ہے اگر وہ قادیانیوں کے متعلق اپنے موَقف سے دستبردار ہو جائیں مگر بانیَ جماعت نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ ملکی و عالمی دباوَ کے باعث حکومت نے پہلے سزاےَ موت کو عمر قید میں تبدیل کیا۔ بعد ازاں رہا کر دیا۔
    جماعت اسلامی نے 1958ء میں آمریت کی بھرپور مخالفت کی۔
    ایوبی دور آمریت میں حکومتی سر پرستی میں ایسا طبقہ سامنے آیا جس کا کہنا تھا کہ اسلام میں حدیث کی کوئی حیثیت نہیں حتیٰ کہ ایک جج نے حدیث کو سند ماننے سے انکار کر دیا۔ اس موقع پر بانیَ جماعت نے اسلام میں حدیث کی بنیادی حیثیت کو شرعی و عقلی دلائل سے ثابت کیا اور دونوں کو اسلامی قانون کا سرچشمہ قرار دیا۔ انہوں نے فتنہ انکارِ حدیث کے خلاف "ترجمان القرآن" کا "منصب رسالت نمبر" بھی شائع کیا۔
    ایوب خاں نے آمریت کو جمہوری چولہ پہنانے کے لیے صدارتی الیکشن کا ڈھونگ رچایا۔ اس وقت محترمہ فاطمہ جناح نے وطن عزیز کی خاطر الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور ملک کی جمہوریت پسند قوتوں کو جابر فوجی آمر کے خلاف مدد کے لیے پکارا تو جماعت نے وطن عزیز کو آمریت سے بچانے کی خاطر مادر ملت کا ساتھ دینے کا اصولی فیصلہ کیا۔
    6 جنوری 1964ء میں ایوب خان نے تنگ آکر جماعت اسلامی کو خلاف قانون قرار دے دیا اور نمایاں کارکنان جماعت اسلامی کو سید ابوالاعلی مودودی سمیت پابند سلاسل کر دیا۔ سید ابوالاعلی مودودی اور 65 رہنماےَ جماعت نے 9 ماہ تک ثابت قدمی سے قید کی صعوبتیں برداشت کیں۔
    1967ء میں عید کے چاند کے مسئلے پر شریعت کا مسئلہ بتانے کے جرم میں بانیَ جماعت کو پھر گرفتار کرلیا اور دو ماہ تک بنوں جیل میں رکھا گیا۔
    مشرقی پاکستان کے اشتراکی رہنما مولانا بھاشانی نے یکم جون 1970ء کو پورے ملک میں اشتراکی انقلاب برپا کرنے کے لیے اعلان کیا تب سید ابوالاعلی مودودی اور کارکنان جماعت نے پورے ملک میں عوام کو متحرک کیا اور 31 مئی 1970ء کو "یومِ شوکتِ اسلام" منایا اور سینکڑوں جلوس نکال کر مولانا بھاشانی کے اشتراکی انقلاب زمین بوس کر دیا۔
    1970ء کے انتخابات میں مجیب الرحمان وغیرہ نے علیدگی پسند تحریک کو اس کے عروج پر پہنچا دیا تھا۔ جماعت اسلامی وہ جماعت تھی جس نے سالمیت وطن کے لیے مشرقی و مغربی پاکستان میں اپنے نمائندے کھڑے کیے۔ جبکہ پیپلز پارٹی نے صرف مغربی پاکستان اور مجیب نے صرف مشرقی پاکستان میں اپنے نمائندے کھڑے کر کے پہلے ہی علیحدگی کا بیج بو دیا۔
    بھارت اور مجیب الرحمان نے باہمی گٹھ جوڑ کر کے پاکستان کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور مکتی باہنی بنائی۔ یحییٰ خان نے بغاوت کچلنے کے لیے فوج کو آپریشن کا حکم دیا۔ فوج میں دور انگریز کے وقت سے زیادہ پنجابی تھے جس کے باعث وہ بنگال کی سر زمین، ثقافت اور زبان سمجھنے سے قاصر تھے۔ کارکنان جماعت اسلامی مشرقی پاکستان نے سازش کو رفو کرنے اور اسلام کے قلعے کو سلامت رکھنے کے لیے پاک فوج کی بھرپور معاونت کی۔ جس میں جماعت کے بے شمار کارکن مکتی باہنی کے ہاتھوں وطن عزیز پر شہید ہوےَ بعد ازاں مغربی پاکستان میں "ادھر ہم ادھر تم" کا نعرہ لگانے والوں نے ازلی تعصب کے باعث جماعت کے کردار کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور خود بنگلہ دیش کو سرکاری طور پر قبول کر لیا۔
    1973ء کے آئین میں اسلامی دفعات اور دیگر رہنما اصول شامل کرانے کے لیے جماعت اسلامی نے بھرپور کردار ادا کیا۔
    قادیانیوں کے خلاف دیگر مذہبی جماعتوں کو ساتھ ملا کر بھر پور عوامی مہم چلائی اور قادیانیوں کو اقلیت قرار دلوایا۔
    نظام مصطفی کی تحریک چلائی۔ جس کو بعد ازاں ضیاءالحق نے جھوٹے وعدوں کی نظر کرتے ہوےَ سبو تاز کر دیا۔
    روس نے جب افغانستان پر حملہ کیا تو جماعت اسلامی نے امریکہ اور ضیاءالحق سے پہلے اس کی بھرپور مذمت کی اور مجاہدین کو فکری، اخلاقی اور مالی امداد فراہم کی۔ نیز پاکستان میں جہاد کی حمایت کے لیے راےَ عامہ کو ہموار کیا۔
    جہاد افغانستان میں بھرپور کردار ادا کیا اور وطن عزیز کی طرف بڑھتے ہوےَ "سرخ طوفان" واپس اس کے مرکز کی طرف دھکیل دیا۔
    مسئلہ کشمیر پر قوم کی رہنمائی کی۔
    اسلامی جمہوری اتحاد کے ذریعے وطن عزیز میں ایک بار پھر نظام مصطفی نافذ کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ مگر اتحاد میں شامل دیگر جماعتیں بعد ازاں انتخابی منشور پر عملدرامد پر تیار نہ ہوئی اور جماعت اسلامی کو اس اتحاد سے علیحدہ ہونا پڑا۔
    ملک کی دیگر اسلامی جماعتوں کو ساتھ ملا کر اسلامک فرنٹ بنایا تاکہ وطن عزیز میں اسلامی نظام کے نفاز کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جاسکے۔ ان انتخابات میں اسلامی فرنٹ ووٹ کے لحاظ سے تیسری بڑی جماعت ثابت ہوئی مگر اسلامک فرنٹ صرف دو یا تین نشستیں حاصل کر پائی۔

    وہاں پر جماعت پر یہ الزام بھی لگائے جاتے ہیں ،
    الزامات

    علمائے ہند اور مذہبی حلقوں نے جماعت کے قیام پر کڑی تنقید کی اور جماعت اسلامی کے قیام کو مسلمانوں میں ایک نیا فرقہ بنانے کی کوشش قرار دیا۔
    جماعت اسلامی کی اصطلاحات مثلا "امیر"، "بیت المال"، اور "جماعت اسلامی" کے نام وغیرہ پر شدید تنقید ہوئی۔ اسلامی اصطلاحات ہونے کے باعث نقاد نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ جماعت اسلامی صرف خود کو مسلمان سمجھتی ہے۔
    دو قومی نظریہ کی بنیاد فراہم کرنے کے باوجود اس وقت جماعت اسلامی نے پاکستان بننے کی مخالفت کی۔ اور خدشہ ظاہر کیا کہ اگر اس حالت میں پاکستان بنا تو مسلمانان ہند کو قربانیوں کے باوجود عملا ہندوَں اور لادین عناصر سے چھٹکارہ نہیں ملے گا۔ نیز جماعت اسلامی نے اسلام اور مسلمان کی قیادت کرنے والوں کی اسلامی قابلیت پر شک کا اظہار کیا[13]۔
    پاکستان کو ملا اسٹیٹ بنانے کی بھرپور کو شش کر کے اقلیتوں کے حقوق غصب کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
    جہاد کشمیر کی مخالفت کی۔
    قادیانیوں کے خلاف شر انگیز مواد شائع کر کے فرقہ وارانہ فساد کو بھڑکایا۔
    عورت کی حکمرانی کے خلاف اور اسلامی ہونے کے دعووَں کے باوجود انخابات میں جنرل ایوب کے خلاف مادر ملت فاطمہ جناح کا ساتھ دیا۔
    سقوط ڈھاکہ سے قبل مکتی باہنی اور مقامی علیحدگی پسند بنگالیوں کے خلاف افواج پاکستان کا ساتھ دیا۔ اور قتل و غارت میں حصہ لیا۔( مکنی باھنی کے مقابلے میں البدر اور الشمس نامی دو تنظمیں بنائیں جنہوں نے افواج پاکستان کا ہر موقع پر ساتھ دیا اور آج بھی جماعت اسلامی مشرقی پاکستان کے سربراہ پروفیسر غلام اعظم کو سرف اس لیے قید کیا ہوا ہے اور پھانسی کی سزا دینے کی تیاری ہو رہی کہ اس نے پاکستان کا ساتھ دیا اور افواج پاکستان کی مدد کی ،)
    افغانستان میں اسلامی تحریک کو منظم کرنے اور روس کی خلاف جہاد شروع کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
    مذہبی شدت پسندی کو ہوا دی۔
    جہاد کے لیے امریکہ سے امداد لیکر خردبرد کی۔ اور پاکستان میں کلاشنکوف ثقافت کو پروان چڑھایا۔
    حکومت کا حصہ بن کر ضیاءالحق کی آمریت کے دست و بازو بنے۔( جب پاکستان افغانستان میں روسیوں کے غلبے سے روکنے کے لیے اور روسی اشتراکی نظام کو پاکستان میں بڑھنے سے روک رھا تھا )
    تعلیمی اداروں میں شدت پسند کلچر کو پروان چڑھایا۔
    اسلام کے نام پر اسلامی جمہوری اتحاد بنا کر ملک میں مقبول قیادت کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔
    ماضی میں فاطمہ جناح کا ساتھ دینے کے باوجود، بے نظیر بھٹو کی مخالفت میں عورت کی حکمرانی کو حرام قرار دیا۔
    کشمیری مجاہدین کی پشت پناہی کرکے ہمسایہ ملک میں شر انگیزی کی۔
    اسلامک فرنٹ بنا کر دائیں بازو کی مسلم لیگ کا راستہ روکا جس کی وجہ سے بائیں بازو اور لادین طبقے کی ہر دل عزیز قا ئد بے نظیر بھٹو کو کامیابی نصیب ہوئی۔
    جماعت اسلامی جمہوریت میں حصہ لے کر کفر کے نظام کا حصہ بن چکی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ سب باتیں آزاد وکی پیڈیا سے ہیں ۔اس کا یہ حوالہ ہے ،
    جماعت اسلامی اور اس کا کردار

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    باقی قاضی صاحب نے جماعت کی صدارت سے علیحدگی اختیار کی ہے ،ان کے رکن ہونے پر صافی صاحب کو کیا مشکلات درپیش ہیں ،صافی صاحب کی بات پڑھ کر ہنسی آتی ہے ،کہ وہ صدارت سے رخصت ہوئے ہیں اور وہ جماعت کی رکنیت سے بھی علیحدگی اختیار کر لیں ،

    جماعت کی امارت سے فراغت کے بعد خود اس عاجز نے بھی انہیں یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ فرقہ واریت کے خاتمے اور جہاد و قتال سے متعلق قومی سطح پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے دینی حلقوں کا ایک غیرسیاسی فورم قائم کرلیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی گزارش کی گئی تھی کہ اس کے لئے شرط اولین یہ ہے کہ وہ جماعت اسلامی کی رکنیت سے بھی اپنے آپ کو فارغ کردیں
    سلیم صافی صاحب منجھے ہوئے اخباری صحافی ضرور ہو سکتے ہیں ، مگر کیا وہ اس ملک کے لیے اسلامی نظام کے لیے ایک داعی کا کام کر سکتے ہیں یا سیکولر قوتوں کو مہمیز دیں گے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یقینا اس کالم کے پڑھنے کے بعد قاضی حسین احمد اور جماعت اسلامی کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے۔ یہ جماعت صرف پورے ملک میں انتشار پیدا کرتی ہے۔ اس کی سیاسی تاریخ یہ ہے کہ لوگ اس کو ووٹ دیناپسند نہیں کرتے، اقتدار میں یہ صرف ضیاالحق جیسوں کی بی ٹیم ہی ہوتی ہے۔
    ، آپ کا تبصرہ پڑھ کر اندازہ ہو گیا ،کہ جماعت اسلامی سے کتنی کڑواہٹ محسوس ہو رہی ہے ،
    قاضی صاحب نےملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے فرقہ پرستوں کے لئے حوصلہ شکن کا پیغام دیا ، ہم آھنگی کے ذریعے سے محرم میں فسادات سے بچاؤ کے لیے متحد ہو کر ایک اہم پیغام دیا ،
    باقی آپ کی بات میں ذرا برابر بھی جان نہیں کہ جماعت اسلامی کو ووٹ نہیں ملتے ۔ اس ملک میں اسلام کو ووٹ دینے والے بہت ہیں ، 80 فیصد لوگ اسلامی نظام کا نفاذ چاھتے ہیں ، اسلامی ووٹ مختلف جگہ بٹا ہوا ہے ، اور اسلامی جماعتوں کو آپس میں متحد نہیں ہونے دیا جاتا ، اور ان میں انتشار پھیلایا جاتا ہے ، اور اس کام کے لیے سلیم صافی جیسے تبصرہ نگار اور بیوروکریٹ اور فوجی حکمران ہیں ، اور پھر ہمارا وہ طبقہ جو اپنے آپ کو تعلیم زیادہ ہونے سے اپنے آپ کو روشن خیال سمجھتا ہے اور اپنے آپ کو ہی عقل کُل سمجھنا شروع ہو جاتا ہے ، اور مزید ہمارے ملک کا جاگیرداری نظام سب سے بڑی رکاوٹ ہے ، اگر جماعت اسلامی کو کوئی ووٹ نہین دیتا تو کیا پاکستان کے حکمرانی کے ادوار میں کبھی اس ملک پر کسی بھی اسلامی پارٹی کی حکومت آئی ، بالکل ایسا نہیں ہوا ، اس کا قطعا یہ مطلب نہیں نکلتا کہ اس ملک کے لوگ اسلام کا نفاذ ہر گز نہین چاہتے ،یا وہ اسلام سے نفرت کرتے ہیں ، یا وہ دین سے دور ہیں ، جغادری دانشوروں کا نعرہ یہ رہا کہ ملا صرف مسجد کے محراب تک رہے ، اور اس ملک کو لادین ، روشن خیال اور سیکولر اور بےراہ رو طبقے کی حکمرانی کے لیے چھوڑ دیا جائے ، محترم ایسا وقت کبھی نہیں آئے گا ، ہر فرعون کے لیے کوئی نہ کوئی موسی ضرور پیدا ہوا ہے ،
    اسلامی جماعتوں کوحکمرانی سے دور رکھ کر سب نے دیکھ لیا کہ کیسی نسل پیدا ہو رہی ھے ، جس کو اپنے ماں باپ کا علم نہیں اور وہ وینا ملک جیسے ،کرینہ کپور ، فلمی کرداروں کو اپنا ھیرو مانتی ہے اور سارے ذرائع ابلاغ مل کر ان ہی کو بطور ہیرو پیش کرتے ہیں ، تو کیا آپ ان سے توقع کرتے ہیں کہ کہ ان سے محمد بن قاسم جیسے کردار پیدا ہوں گے ، اس معاشرے میں جو لاقانونی ، بے حیائی ، اور بے اعتمادی پیدا ہوئی ہے وہ انہی وجوھات کا نتیجہ ہے ،
    محترم اب جہاں تک جہاد کی بات ہے ، انگریزوں اور غیر مسلموں کو ایک ہی فکر کھائے جا رہی ہے کہ مسلمانوں میں جہاد کی روح ہی ختم کر دی جائے اس لیے کرائے کے صحافی اور جغادری قسم کے تبصرہ نگار کو چھوڑ دیا جاتا ہے کہ آپ کا یہ ھدف ہے ،کہ جہاد کو برا بھلا کہیں اور ساتھ یہ بھی کہیں کہ اس کی وجہ سے فساد پھیلا ھے اور کافی نام نہاد جہادی تنظمیں جن کی آبیاری دشمن طاقتوں نے کی ،یا ان جہادی تنظیموں میں ریمنڈ ڈیوس جیسے لوگوں کو شامل کرکے اور معصوم مسلمانوں اور لوگوں اور بچوں کو قتل کرا کر پھر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ ہیں وہ اسلامی اور جہادی تنظیمیں جنہوں نے قتل عام کیا ، لہذا جہاد حرام قرار دیں ،اور درسی کتب سے قرآن کی وہ آیات نکال دی جائیں ،جو جہاد کے متعلق ہیں ،نظام تعلیم میں وہ تبدیلیاں لائیں جائیں جس سے روشن خیال لوگ سامنے آئین اور ابھریں ۔
    اس کام کے لیے اس سے پہلے قادیانی مرزا غلام احمد کو سامنے لایا گیا تھا کہ وہ جہاد کو حرام قرار دے ، اس کی پرورش کی گئی اور وہ گروہ مغربی طاقتوں نے پیدا کیا ،ان میں گوہر شاہی وغیرہ بھی شامل ہیں اب بھی ہمارے ملک میں ہمارے پڑھے لکھے طبقے کے کافی لوگ ان ہی کے خیالات سے متاثر دکھائی دیتے ہیں ، اور وہی عینک پہن کر دیکھتے ہیں ،اور ویسے ہی تبصرے کرتے ہیں ،جن پر مغرب کی مرعوبیت چھائی ہوئی ہے ،اسی قسم کے دانشور روشن خیالی کو پروان چڑھانے کے لیے تگ و دو شروع کر دیتے ہیں،
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں نے جماعت اسلامی کے کارہائے نمایاں اور اس پر الزامات دونو لکھ دیے ہیں ، کوئی بھی صاحب فراست ان بودے الزامات کو پڑھ کر ضرور ھنسے گا ،

  3. #3
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,215 پیغامات میں 1,587 اظہار تشکر

    RE: قاضی حسین احمد اور جماعت اسلامی کا اصل چہرہ

    اب رہا ملی یک جہتی پر برادر ملک ایران کا تبصرہ دیکھ لیں ، ایران کی اردو سروس نے کیا لکھا ہے،
    یہ اس لنک سے پڑھ لیں ،
    http://urdu.irib.ir/2010-06-28-08-41...-00/item/25854
    [align=center][/align]
    [size=xx-large][align=center]ملی یکجہتی کونسل، فرقہ پرستوں کے لئے حوصلہ شکن[/align][/size]
    فرقہ پرستی اور فرقہ واریت کے نام پر ہمیشہ ایک اقلیتی ٹولہ دہشت گردی اور قتل و غارتگری میں ملوث رہا ہے۔ اگرچہ مسلمانوں کے مسالک کے درمیان اختلافات سے کسی کو انکار نہیں لیکن یہ اختلافات کبھی بھی اس نوعیت کے نہیں رہے کہ کسی فرقے کے ماننے والے نے دوسرے فرقے کے خلاف انتہائی قدم اٹھایا ہو، اور جب کبھی ایسا ہوا ہے تو اس کے پیچھے مذھب نہیں بلکہ سیاسی عزائم اور حکومتوں کا ہاتھ رہا ہے۔ مختلف مسالک اور فرقوں میں بٹے ہونے کے باوجود مسلمان عوام ہر جگہ شیر و شکر کی طرح رہتے ہیں، پاکستان کو ہی لے لیجئے کہ فرقہ پرستوں کے ہاتھوں سیکڑوں شیعہ مسلمان نہایت ہی بے دردی کے ساتھ شہید کئے جاچکے ہیں، سنی اور شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے مفاہمت آمیز زندگی گذار رہے ہیں۔ عالمی سامراجی قوتوں اور ان کے مقامی ایجنٹوں کی جانب سے ان دونوں فرقوں کے درمیان دوریاں پیدا کرنے کی بہت زیادہ کوششیں کی گئیں، لیکن ان کو اس میں ذرا برابر کامیابی نہیں ملی۔ دونوں مسالک کے سنجیدہ لوگ، علما اور دانشور حضرات ہمیشہ ہی اقلیتی ٹولے سے دور رہے اور ان کے غیر اسلامی اقدامات کی کبھی بھی انہوں نے تائید و حمایت نہیں کی بلکہ اس کے برعکس ان شخصیات کی طرف سے فرقہ وارانہ ھماھنگی اور اتحاد بین المسلمین کی کوششیں کی جاتی رہیں بلا شبہ انہی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ پاکستان کو مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی ہر کوشش ناکام ہوگئی۔ اور اب ایک بار پھر ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے پاکستان کی اہم سیاسی و دینی جماعتوں نے ملک میں مختلف مسالک کے درمیان اتحاد و یکجہتی کے قیام، فرقہ واریت کے خاتمے، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عملدرآمد اور اسلامی معاشرے کے قیام کیلئے اس کونسل کی بحالی کا اعلان کیا ہے۔ ملی یکجہتی کونسل کے احیاء کا اعلان جماعت اسلامی کے زیراہتمام اتحاد امت و اسلامی یکجہتی کانفرنس کے اختتام پر مشترکہ اعلامیہ میں کیا گیا۔ جماعت اسلامی کے مرکزی جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ نے کانفرنس میں اعلامیہ پڑھ کر سنایا، جبکہ قاضی حسین احمد نے ملی یکجہتی کونسل کے اغراض و مقاصد بیان کئے۔ کانفرنس کا اعلامیہ شرکاء کانفرنس کی نمائندہ آٹھ رکنی کمیٹی نے متفقہ طور پر تیار کیا۔ کانفرنس میں سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد اور موجودہ امیر سید منور حسن سمیت علامہ ساجد نقوی، علامہ محمد امین شہیدی، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر، اور ثاقب اکبر نے شرکت کی اور اظہار خیال کیا۔ کانفرنس کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ مرکزی تنظیم سازی کیلئے قاضی حسین احمد کی سربراہی میں کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔ کمیٹی کے اراکین کا فیصلہ قاضی حسین احمد دیگر قائدین و تنظیموں سے مشاورت کے بعد کریں گے۔ قاضی حسین احمد نے کانفرنس کے دوران مختلف مواقع اور اختتام پر میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کا سفر ایم ایم اے اور دفاع پاکستان کے مراحل طے کرتا ہوا آج پھر ملی یکجہتی کونسل تک پہنچا ہے۔ یہ تمام خوش آئند مراحل دینی قیادت کے باہمی رابطوں سے ہی ممکن ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کے احیاء کا مقصد فرقہ واریت کا خاتمہ اور مسلکی اختلافات مٹانا ہے، اسلام میں کسی کلمہ گو کو کافر کہنا قابل نفرت اور غیر اسلامی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناموس رسالت ص، عظمت صحابہ، اہل بیت ع سے بغض اور مشترکات کی تکفیر کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے اور اس پر تمام مسالک کا اتفاق ہے۔ مسالک کے درمیان اختلافات فروعی ہیں، جبکہ مشترکات کثرت سے ہیں۔ ان مشترکات پر اتحاد ممکن ہے۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ فرقہ وارانہ کشیدگی اور مسالک کے اختلافات کے خاتمے اور اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر عمل درآمد کرانے کیلئے ایک تحریک چلانے کی ضرورت ہے، یہ تحریک چلانے کیلئے دینی جماعتوں کے قائدین پر مشتمل کمیٹیاں بنائی جائیں گی، یہ کمیٹیاں امت کے درمیان مشترکات پر اتحاد کیلئے تجاویز مرتب کریں گی۔ کشیدگی کے خاتمے کیلئے فسادات والے علاقوں میں مختلف مسالک کے علماء کرام کے مشترکہ وفود بھجوائے جائیں گے۔ ایک کمیٹی خطبہ جمعہ کیلئے مشترکہ نکات تیار کرے گی۔ اس موقع پر انہوں نے ملی یکجہتی کونسل کی جانب سے 23 اپریل 1995ء کو فرقہ واریت کے خاتمہ کیلئے بنائے گئے 17 نکاتی ضابطہ اخلاق کو میڈیا کے نمائندگان کو پڑھ کر سنایا۔ جے یو آئی (ف) کے حافظ حسین احمد نے کہا کہ دینی قیادت کو افغانستان میں امریکی فوجیوں کی واپسی کے بعد پیدا ہونے والے چیلنج سے نمٹنے کیلئے بھی منصوبہ بندی کرنا ہو گی۔ امریکہ افغانستان سے مار کھا کر نکل رہا ہے لیکن خطے سے نہیں جانا چاہے گا۔ اگر افغانستان سے نکلا تو بلوچستان میں ٹھکانہ بنانے کی کوشش کر ے گا۔ جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل فرقہ واریت کے خاتمے کیلئے بنائی جا رہی ہے۔ جمعیت اہل حدیث کے سربراہ ابتسام الہی ظہیر نے دینی جماعتوں کے اتحاد کیلئے قاضی حسین احمد کی کوششوں کی توصیف اور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ دینی قوتوں کو سکیولر جماعتوں اور اشخاص کے مقابلے میں دینی جماعتوں اور قائدین کی حمایت کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں مخالف مسالک کے ماننے والوں کو کافر قرار دینے کے خلاف فتوؤں کے خلاف فتوے جاری ہونے چاہیں۔ واضح رہے کہ اس کانفرنس میں سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کے کسی فرد کو دعوت نہیں دی گئی تھی، اجلاس بلانے سے قبل جب قاضی حسین احمد نے تمام تنظیموں کو دعوت دینے کا آغاز کیا تھا تو اس وقت شیعہ علماء کونسل کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی اور مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی نے قاضی حسین احمد پر واضح کیا تھا کہ وہ اس صورت میں کانفرنس میں شریک ہونگے کہ سپاہ صحابہ اور تکفیری گروہوں کو دعوت نہ دی جائے، جو ملک میں تفرقے اور انتشار کا باعث ہیں اور شیعہ کو کافر سمجھتے ہوئے فتوے جاری کرتے ہیں۔ اس پر قاضی حسین احمد نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ان میں سے کوئی بھی ایسا شخص شریک نہیں گا۔ اس کانفرنس نے ثابت کر دیا کہ ملک میں کوئی بھی مذہبی جماعت انتہا پسند گروہ کو اپنے ساتھ بٹھانے کیلئے تیار نہیں ہے۔ ملی یکجہتی کونسل کی بحالی کے لئے بلائے گئے اس اجلاس میں، مولانا فضل ارحمن اور مولانا سمیع الحق نے باضابطہ دعوت دئیے جانے باوجود شرکت نہیں کی کہ جس کی ان دونوں لیڈروں کی طرف سے کوئی معقول وجہ بیان نہیں کی گئی ہے۔ بہرحال توقع کی جارہی کہ ملی یکجہتی کونسل کی بحالی کا اعلان، مفاہمت اور بھائی چارے پر یقین رکھنے والی جماعتوں کے لئے حوصلہ افزائی کا باعث ہوگا جبکہ اقلیتی فرقہ پرست ٹولے پر سخت گراں گذرے گا۔

  4. #4
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,215 پیغامات میں 1,587 اظہار تشکر

    RE: قاضی حسین احمد اور جماعت اسلامی کا اصل چہرہ

    محترم عرفان صدیقی صاحب کا کالم بھی پڑھیے ،
    [align=center]محترم قاضی صاحب۔ مکرر عرض ہے!…..نقش خیال…عرفان صدیقی[/align]

    رمضان المبارک… رحمتوں‘ برکتوں‘ شفقتوں‘ مہربانیوں اور بخششوں کا مہینہ ‘ امیر المومنین سید نا علی المرتضیٰ کا یوم شہادت ‘ اور ایسی قتل وغارت گری۔ کم سے کم میری سمجھ سے ماوریٰ ہے کہ ہمیں کیا ہوگیا ہے۔ ہم کہ محسن انسانیت ‘ رحمتہ للعالمین کے امتی ہیں‘ ہم کہ آپ پر درود و سلام کی سوغاتیں بھیج کر روح و قلب کی آسودگی چاہتے ہیں ‘ ہم کہ قرآن و حدیث کی منور تعلیمات کو سرمایہ ایمان سمجھتے ہیں ‘ ہم کہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے کو اپنی خوش بختی خیال کرتے ہیں ‘ ہم کہ ہر آن الله تعالیٰ سے اپنی اور اپنے اہل وعیال کی خیریت چاہتے ہیں‘ ہم کہ دنیا میں فوز و فلاح او رآخرت میں مغفرت کے آرزومند ہوتے ہیں‘ ہمیں یکایک کیا ہوجاتا ہے کہ سب کچھ پس پشت ڈال کر انسانی قتل پرآمادہ ہوجاتے ہیں۔ ہم اپنے دین کا یہ عظیم سبق بھی بھول جاتے ہیں کہ ایک انسان (چاہے وہ کوئی بھی ہو) کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے؟۔
    یہ سلسلہ برس ہا برس سے جاری ہے اور ہم مداوا نہیں کرپارہے۔ کسی فرقے‘ کسی مسلک کی شخصیات محفوظ ہیں نہ ان کے اجتماعات نہ اُن کی عبادت گاہیں۔ کیسی کیسی ہستیاں اس آگ میں بھسم ہوگئیں۔ کیسے کیسے لو گ ہم سے چھین لئے گئے۔ ہر عہد کی حکو متیں بے بس نظر آئیں۔ نہ سب کچھ تلپٹ کردینے والے فوجی حکمران اسے روک پائے نہ عوام میں گہری جڑیں رکھنے والے جمہوری بندوبست۔ کبھی کبھی تو اس کی دھمک سے دماغ چٹخنے لگتا ہے کہ ایسا کیوں ہے؟ ہم ایک قوم کی حیثیت سے اس قتل و غارتگری کو نکیل کیوں نہیں ڈال پارہے؟۔ دوسروں کی جانیں لینے کے لئے اپنے آپ کو باروود سے اڑا دینے کا جنون کیسے تخلیق پاتا ہے؟ ہم مل بیٹھ کر اس مرض کہن کے تمام پہلوؤں کا جائزہ کیوں نہیں لے پارہے؟ وہ اقدامات کیوں نہیں کرپارہے جو متشددانہ سوچ کو تحمل‘ برداشت اور برد باری میں بدل دیں؟۔
    آج ایک بار پھر مجھے شدت سے احساس ہورہا ہے کہ کم از کم اس مرض کے حوالے سے اولین ذمہ داری علمائے کرام پر عائد ہوتی ہے۔ وہ معاملے کی نزاکت کا احساس کرتے ہوئے اپنی مسجدوں‘ اپنے مدرسوں‘ اپنے حجروں اور اپنی خانقاہوں سے نکلیں۔مسلک ‘ فرقے اور مکتب فکر کی دیواریں گراکے‘ اسلام کے وسیع دالان میں ایک جرگہ بٹھائیں۔ اپنے دلوں کو ہر نوع کی کدورت سے پاک کرکے ایسا لائحہ عمل تجویز کریں جو اس جوئے خوں کو لگام ڈال سکے۔یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ ایسی ہر واردات کسی دوسرے مسلک کے کھاتے میں پڑجاتی ہے چاہے وہ اس کا ذمہ دار ہونہ ہو۔ یوں اسلام کے جمیل چہرے پہ بھی داغ پڑتے ہیں‘ علمائے کرام کی قبائیں اور عبائیں بھی تار تار ہوتی ہیں اور دینی مدارس بھی زد میں آتے ہیں۔ میں سازش کی کہانیوں پر زیادہ یقین نہیں رکھتا لیکن ابھی دو دن قبل ”وکی لیکس“ کی طرف سے جاری کردہ خفیہ امریکی دستاویزات سے منکشف ہوا ہے کہ خود امریکہ ہمارے ہاں دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہے۔ ہمارے بہت سے بدخواہ کہیں لسانی‘ کہیں نسلی‘ کہیں فرقہ وارانہ آگ بھڑکاکر ہمیں کمزور کرنے میں لگے ہیں۔ لیکن اس کی آڑ میں ہمیں اس حقیقت کو پس پشت نہیں ڈال دینا چاہئے کہ خود ہمارے ہاں بھی بارود خانے موجود ہیں اور اسلام کے نام پر دوسروں کا لہو بہانے کی سوچ پوری طرح سرگرم عمل ہے۔
    علمائے کرام کے ہاں احساس فکر مندی یقینا ہوگا کیوں کہ اصل نقصان انہی کی ولایت کو پہنچ رہا ہے۔ انفرادی طور پر اُن سے بات ہو تو یوں لگتا ہے جیسے اُن کا دل سوز درد مندی سے پگھل جانے کو ہے۔ وہ ایسی ہر واردات کی مذمت بھی کرتے ہیں اور گہرے رنج و غم کا اظہار بھی۔ لیکن پھراگلی موج خوں تک خاموشی چھا جاتی ہے۔
    اس بات کو اب ڈیڑھ عشرے سے زیادہ کا وقت ہوچلا جب باہمی قتل و غارت گری اور فرقہ وارانہ منافرت کے مسئلے کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے علمائے کرام سرجوڑ کر بیٹھے تھے۔تمام مسالک کے سرکردہ راہنماؤں نے ملی یکجہتی کونسل کے نام سے ایک تنظیم قائم کی جس کا بنیادی مقصد فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور باہمی خیر سگالی تھا۔ دیوبندی‘ سنی‘ شیعہ اور اہل حدیث مسالک سے تعلق رکھنے والے علماء پر مشتمل اس نمائندہ کونسل کے پہلے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی تھے۔ا س کونسل نے سارے ملک کے دورے کئے ‘ علماء ایک دوسرے کے مدارس میں گئے ۔ ایک دوسرے کی تقریبات میں شرکت کی۔ اس تاثر کو شعوری طو رپر زائل کیا کہ وہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ اکابر کے اس طرز عمل نے نچلی سطح پر بھی انتہائی خوشگوار اثرات مرتب کئے۔پوری قوم نے علماء کی اس کاوش کو سراہا اور تحسین کی ۔ اس کونسل کی تشکیل میں حکومت پاکستان نے بھی اہم کردار ادا کیا اور ایران کی طرف سے بھی بھر پور تعاون سامنے آیا۔ کونسل عمومی طور پر فضا میں پھیلی کدورت کو کم کرنے میں خاصی کامیاب رہی لیکن وہ ایسے اقدامات کی دیر پا منصوبہ بندی نہ کرسکی جو منافرت کے سرچشموں کا کلی طو رپر خاتمہ کردیتے۔ مثال کے طور پر ایسی کتب کی نشاندہی جو نفرت انگیز مواد رکھتی ہیں‘ مختلف مسالک کے مدارس کے نصاب تعلیم میں ہم آہنگی لانا‘ اساتذہ اور طلبہ کا باہمی تبادلہ‘ ایسے لٹریچر کی تیاری جو دوریاں کم کرسکے اور ملی یکجہتی کونسل کے زعماء کی طرف سے خطبات جمعہ کے لئے راہنما نکات وغیرہ۔ اس کے باوجود اس تجربے کے مفید اور محسوس کئے جانے والے اثرات مرتب ہوئے۔ دسمبر 2003ء میں مولانا نورانی کے انتقال کے بعد قاضی حسین احمد نے کونسل کی راہنمائی سنبھالی ۔ قاضی صاحب اتحاد بین المسلمین کے زبردست داعی او رپرجوش مبلغ ہیں۔ انہوں نے پورے عزم کے ساتھ مشن جاری رکھنے کی کوشش کی لیکن اب صورت حال میں ایک جوہری تبدیلی آچکی ہے۔ہوا یہ کہ نائن الیون کے بعد پاکستان میں امریکہ کے خلاف جذبات کا ایک ابال اٹھا۔ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو ملک سے باہر تھے۔ قیادت کا خلا بھی تھا اور مذہبی جو ش وجذبہ کی اٹھان بھی۔ علمائے کرام کو ایک سنہری امکان کی جھلک دکھائی دی۔ انہوں نے متحدہ مجلس عمل کے نام سے ایک نیا سیاسی انتخابی اتحاد قائم کرلیا۔ جماعت اسلامی‘ جمعیت العلمائے اسلام (ف) ‘ جمعیت العلمائے اسلام (س)‘ جمعیت العلمائے پاکستان(نورانی) ‘ جمعیت اہل حدیث(ساجد میر) اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ ( ساجد نقوی) ‘ ایم ایم اے کا حصہ بن گئے۔ یہی جماعتیں ملی یکجہتی کونسل کے اجزائے ترکیبی بھی تھیں۔ انتخابی سیاست نے علمائے کرام کو ایک نئی راہ پر ڈال دیا او رملی یکجہتی کونسل راستوں کی دھول ہوگئی۔ ایم ایم اے پانچ برس صوبہ پختون خواہ کی حکمران رہی۔ مرکز میں اُسے توانا اپوزیشن کا درجہ حاصل تھا لیکن ملی یکجہتی کونسل کے اہداف و مقاصد اُس کی ترجیحات میں راہ نہ پاسکے۔
    میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا اور آج بارد گر کہہ رہا ہوں کہ ملی یکجہتی کونسل کو پھر سے زندہ ومتحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ اور یہ کام قاضی حسین احمد جیسا مرقلندر کرسکتا ہے۔کیا ہی اچھا ہو کہ وہ جماعت اسلامی کی عملی سیاست سے کنارہ کش رہتے ہوئے اپنی ساری توانائیاں اس کارخیر کے لئے مخصوص کردیں الله نے انہیں بے پناہ صلاحیتیں بھی بخشی ہیں استعداد کار بھی اور جذبہ اخلاص بھی۔
    جماعت کی سیاست کو محترم منور حسن اور ایم ایم اے کے احیاء کو مولانا فضل الرحمن پر چھوڑتے ہوئے وہ ملی یکجہتی کونسل کا پرچم اٹھا کر نکلیں اور آگے بڑھ کر اس تند ہوتی ہوئی موج خوں کا راستہ روکیں۔ ضروری نہیں کہ ہر شخض سیاست ہی کا ہو کے رہ جائے۔کرنے کے اور کام بھی ہیں اور یہ کام تو ایسا ہے جو قاضی صاحب جیسا کوئی مرد کار ہی کرسکتا ہے۔

    نقش خیال کا لنک دیکھیے
    نقش خیال ۔ عرفان صدیقی ،
    یہ الفاظ بغیر تبصرے کیے لکھ دیے تاکہ سند رہے ،

  5. #5
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,215 پیغامات میں 1,587 اظہار تشکر

    RE: قاضی حسین احمد اور جماعت اسلامی کا اصل چہرہ

    ملی یکجہتی کونسل کا نیا عزم
    کالم | November 18, 2012
    مظفر اعجاز
    جب افہام و تفہیم اور رواداری کا خاتمہ ہوجائے تو پھر یہ فرقہ ورانہ قتل و غارت گری میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ اختلاف انتشار میں اور گفتگو اشتعال میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ پاکستانی قوم بار بار اس تکلیف دہ عمل سے گزر رہی ہے۔ اس کا بنیادی سبب اللہ کے دین اور اس کے احکامات سے روگردانی ہے اور اس کے نتیجے میں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں انگریز کے ایجنٹ حکمران بن گئے ۔ انہوں نے ملک بھر میں جو شکل بنائی ہے وہ یہ ہے کہ پاکستان کو پڑھا لکھا پاکستان اور نہ جانے روشن خیال اور آپ کا پاکستان بتانے کی کوشش کی جارہی ہے اور دوسری طرف مغرب اور امریکا اپنے تمام اداروں کے ساتھ ان کی مدد کررہا ہے۔ پاکستان کے مسلمانوں کے فرقوں کا جمعہ بازار بنایا جارہا ہے اور خفیہ ہاتھ قتل عام میں مصروف ہے ایک دن ایک فرقہ کے لوگ قتل ہورہے ہیں اور دوسرے دوسروں کے، جس کے نتیجے میں نفرت کی فضا پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی جارتی ہے۔ ایسے پاکستان میں کوئی فرقہ وارانہ اور مذہبی ہم آہنگی کی بات کرے اتحاد امت کی بات کرے اور وسیع کینوس پر یہ بات کی جائے تو پھر اسے وقت کا حسین ہی کہا جا سکتاہے۔ یہ حقیقت بھی ہے کہ اس وقت پاکستان میں وقت کے ایک نہیں دو دو حسین اتحاد امت کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ملی یکجہتی کو نسل کے پلیٹ فارم سے قاضی حسین احمد اور حافظ حسین احمد نے اسلام آباد میں اتحادامت پر عالمی کانفرنس کا اہتمام کیا، اس کانفرس کا مقصد ایجنڈا یا پروگرام ایک عام سی بات تھی لیکن اس عام سی بات کو عملی جامہ پہنانا اس کے لیے عملاً کام کرنا ایک نہایت مشکل مرحلہ یعنی اپنی فکر اپنے ملک اپنے لوگوں کو دیے گئے سبق اور ان کی تربیت سے یو ٹرن لینا ہے اور اس یو ٹرن کا کوئی فائدہ اس دنیا میں ملے یا نہ ملے برکات ضرور ملیں گی لیکن چشم فلک اور انسانی آنکھوں نے وہ عجیب منظر کا نشر مکرر دیکھا پہلے بھی یکجہتی کا یہ مظاہرہ ملی یکجہتی کونسل کے نام سے ہوا تھا اس مرتبہ بھی یہی ہوا لیکن اس مرتبہ مختلف انداز اور منظم انداز میں یہ کام ہورہا ہے یہ بات تو ملی یکجہتی کونسل میںشامل ہر جماعت کہتی رہتی ہے کہ امت مسلمہ کے مختلف مکاتب فکر کے درمیان ہم آہنگی کا فروغ کب جائے گا اور باہمی تنازعات کا حل کرنے کے لیے مصالحت کی جائے گی۔ اسلامی تعلیمات اوراقدام کو عام کیا جائے گا لیکن اس جانب منظم انداز میں پیش رفت پہلی مرتبہ دیکھنے میں آئی۔ ملی یکجہتی کونسل کے اغراض و مقاصد بھی وہی تھے اور وہی ہیں جو پہلے تھے۔ کونسل نے 31علماء کے 22نکات کو بنیاد بنانے پر اتفاق کیا۔ دوسرا اہم نکتہ مذہب کے نام پر دہشت گردی اور قتل و غارت گری کو خلاف اسلام قرار دینا اور اس سے برأت کا اظہار کہا گیا ہے ۔جس بات سے تفرقہ پھیلتا ہے۔ ایک دوسرے کو ؟ قراردیتاہے یا واجب القتل قرار دیتا ہے۔ اس عمل کو ان غیر اسلامی اور قابل نفرت قرار دیا گیا ہے۔ تمام اکابرین ملی یکجہتی کونسل اپنے اغراض و مقاصد میں نبیﷺ آخرالزما کی توہین کے مرتکب کی سزائے موت پر اتفاق رائے کیا۔ دل آزاد تقریر و تحریر سے اجتناب شر انگیز کتابوں کی اشاعت اور پمفلٹوں کی تقسیم و تشہیر سے بھی اجتناب کیاجائے گا۔ اس قسم کے کیسٹوں سے بھی برأت کا اظہار کیا گیا بلکہ ایسی کیسٹیں چلانے والے کو قابل سزا قرار دیا گیا ہے۔ نفرت انگیز نعرے لگانے اور دیواروں، بسوں اور ٹرینوں پر بھی ایسے نعرے نہیں لکھے جائیں گے۔ تمام مسالک کے اکابرین کا احترام کیا جائے گا۔ سب کے مقدس مقامات اور عبادت گاہوں کا احترام کیا جائے گا۔اسلحہ ہمیشہ تشدد کا سبب اور اس میں استعمال ہوتا ہے جلسوں جلوسوں اورعبادت گاہوں میں اس کی نمائش سے گریز کیا جائے گا جو باتیں متنازع کا سبب بنتی ہیں ان کو افہام و تفہیم سے حل کیا جائے گا۔ اور اس پر ایک ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے ذریعہ فیصلہ کیا جائے گا۔
    اس مرتبہ ملی یکجہتی کونسل نے ان مقاصد کے حصول کے لیے 5 کمیشن تشکیل دیئے ہیں اور یہی عملی اقدام اس مرتبہ ملی یکجہتی کونسل کو ممتاز کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ سب سے پہلا کمیشن مصالحتی کمیشن ہے جو باہمی تنازعات کو گفت و شنید کے ذریعے حل کرے گا اور اس نے یہ کام شروع کردیا ہے۔ خطبات جمعہ کمیشن فرقہ ورانہ ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے مشترک بنیادی عقائد اخلاق حسنہ، مقامی اور عالمی بنیادی مسائل بھی ایک لاموقف اختیار کرنے کے لیے خطبات جمعہ کے موضوعات منتخب کرکے پورے ملک میں ایک ہی جیسی فکرکو عام کرنے کا کام کرے گا۔ہر جمعہ سے قبل متفقہ موضوع منتخب کرکے تشہیر کردی جائے گی۔ دینی مدارس ، علماء اور اسلام پسندوں کو کہا جاتا ہے وہ رواداری سے کام نہیں لیتے چنانچہ ایک علمی و تحقیقی کمیٹی مشترکات کو اجاگر کرے گا اور ان کی تشہیر کرے گا،کیونکہ مشترکات 95فیصد سے زیادہ ہیں اور اختلافی امور بہت کم۔ پاکستان جن مقصد کے لیے قائم ہوا تھا وہ نفاذ اسلام تھا اس مقصد کو حصول کیونکر ممکن ہوگا یہ کام کرنے کے لئے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے عملی نفاذ کے لیے ایک کمیشن قائم کیا گیا ہے۔ 28جلدوں پر مشتمل 9ہزار صفحات میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات شائع ہوچکی ہیں انہیںسرد خانے یا ریکارڈ روم سے باہر نکالا جائے گا۔ یہ کمیشن اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو عملی طور پر نافذ کرانے کے لیے عوامی رائے کے ذریعے حکمرانوں پر دبائو ڈالے گا۔ سب سے آخری اور اہم کمیشن تعلیمی کمیشن ہے۔ یہ کمیشن تعلیمات دینیہ کے پانچوں وفاقوں پر مشتمل ہے۔ اتحاد تنظیمات مدارس کے نمائندے اس کمیشن کا حصہ ہیں اور یہ تعلیم کے میدان میں سازشوں کا مقابلہ کرے گا اور اسکولز ، کالجز اور یونیورسٹیز میں نظام تعلیم کو اسلام کے زریں اصولوںسے ہم آہنگ کرے گا۔
    اس عظیم کام کو لے کر قاضی حسین احمد اور حافظ حسین احمد ہمہ تن مصروف اسلام آباد میں کنوینشن سینٹر میں ہونے والی اس کانفرنس میں تمام مکاتب فکر کے علماء جمع ہوئے دوہزار سے زیادہ علماء موجود تھے اتحاد امت کے حوالے سے عظیم پیش رفت ہوئی۔ محرم الحرام اس حوالے سے ٹیسٹ کیس ثابت ہوگا۔ علماء کرام نے اس حوالے سے بھی یقین دلایا کہ پہلے کی طرح واپس جاکرنفرت کی تعلیم نہیں دیں گے۔ یہی وہ غلطی ہے جو اب تک ہوتی آرہی تھی۔ اتحادامت کے لیے اجلاس میں سب اتحاد اور ہم آہنگی کی بات کرتے تھے لیکن واپس جاکر پرانا سبق دہراتے تھے۔ یہ بڑا مشکل کام ہے کہ برسہا برس ایک دوسرے کی نفی کرنے والوں کو اتحاد کا درس دینا ہوگا۔ اللہ اس کی مدد کرے

  6. #6
    رکنِ خاص سقراط کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,469
    شکریہ
    35
    149 پیغامات میں 216 اظہار تشکر

    RE: قاضی حسین احمد اور جماعت اسلامی کا اصل چہرہ

    بھئی بے باک جی آپ نے جو معلومات یہاں لگائی ہیں اس پہلے تو میں بھی اس جماعت کے بارے میں اتنا نہیں جانتا تھا ۔
    اور تبصرہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایک چیز بہت عام ہے کسی پر بھی تبصرہ کردینا بنا یہ دیکھے کہ تصویر کا دوسرا رخ بھی ہوتا ہے اگر کسی میں کوئی برائی ہے تو اچھائی بھی ہوتی ہے پاکستان میں مولوی ملاؤں کو ویسے ہی بدنام کیا جاچکا ہے اور کوئی بھی مولوی یا عالم سے کوئی بات ایسی ملے جسکا تماشہ بنایا جاسکے اس پر دن رات محنت کی جاتی ہیں رات رات بھر بیٹھ کر اس پر آرٹیکل بھی لکھے جاتے ہیں
    مگر میرا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں کیا کوئی ایسا عالم یا مولوی نہیں جسکی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے جاسکیں
    میڈیا والے یا صحافی حضرات ان کی زندگی کے بارے مین کیوں نہیں لکھتے ایک عام مولوی جو مسجد میں امامت کراتا ہے لوگوں کے بچوں کو قرآن پڑھاتا ہے کیا ان پر کبھی کچھ لکھا
    مگر یہ لوگوں کو وہ سناتے ہیں جو وہ سننا چاتیں ہیں وہ دکھاتے ہین جو دنیا دیکھنا چاہتی ہے
    چاہے وہ جھوٹ ہی کیوں نہ ہو

  7. #7
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Oct 2012
    پيغامات
    299
    شکریہ
    0
    6 پیغامات میں 6 اظہار تشکر

    RE: قاضی حسین احمد اور جماعت اسلامی کا اصل چہرہ

    سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں کیا کوئی ایسا عالم یا مولوی نہیں جسکی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملائے جاسکیں
    منسلک شدہ تصاویر منسلک شدہ تصاویر
    • فائل کی ٹائپ: jpg 103.jpg‏ (163.2 کلوبائٹ, 12 مشاہدات)

  8. #8
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Dec 2010
    مقام
    کراچی
    پيغامات
    393
    شکریہ
    65
    55 پیغامات میں 107 اظہار تشکر

    RE: قاضی حسین احمد اور جماعت اسلامی کا اصل چہرہ

    [size=x-large]جزاک اللہ بے باک بھائی!
    آپ نے بہت اچھے انداز سے اس پورے مضمون پر روشنی ڈالی اور وقت کی نزاکت، موجودہ حالات کے پیش نظر صورتحال کے حل میں مثبت انداز سے اپنے دلائل پیش کیے ہیں۔
    دورِ حاضر میں امت مسلمہ کئی حصوں میں تقسیم ہوکر رہ گئی ہے اور اپنے چھوٹے چھوٹے اختلافات کی بناء پر کمزوری، پستی اور ذلت کی ان گہرائیوں میں جا پہنچی ہے کہ اب خود بھی کوئی راہ نظر نہیں آتی۔
    محترمی! اگر موجودہ حالات میں کوئی شخص اٹھ کر امت مسلمہ کو یکجہتی، رواداری اور غیروں کے مقابلے میں صف آراء کرکے ایک قوت بنادے تو اس میں کیا برائی ہے!
    قاضی حسین احمد جماعت اسلامی کے سربراہ کی حیثیت سے اگر اب سرگرمیاں جاری نہیں رکھ سکتے تو اس کا ہر گز یہ مقصد نہیں کہ انہیں کسی تہہ خانے میں بند کرکے بٹھادیا جائے اور پاکستان کی سیاست سے باہر نکال دیا جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہر طرف ایک عام تاثر یہ پایا جانے لگا ہے کہ علمائے کرام اور دین دار لوگوں سے حد درجہ نفرت کی جارہی ہے۔ جب ایسا ہی ہے اور یہ ایک سوچھی سمجھی منظم سازش کا حصہ ہے تو پھر علمائے اور دینداروں سے گلہ نہ کیا جائے جب مادیت پرستی، عیش و عشرت کی چند روزہ زندگی کو ہی مقدم رکھا ہے تو پھر دین اسلام کے نام لیواوں سے محبت اور ان کی بات سننے کی سکت کہاں ہوگی؟ محترم! یہ کام صرف قاضی صاحب کا نہیں ہر اس محبت وطن پاکستانی کا ہے جو اپنے دل میں درد رکھتا ہو، اور اسے محسوس ہوتا ہو کہ ہماری اجتماعیت نہ ہونے کی وجہ سے آج ہم کمزور سے کمزور تر ہوتے جارہے ہیں۔ ایٹم بم، میزائل ہی تحفظ کے ضامن نہیں ہوتے، ملک اور قوم اخلاص اور محبت کے جذبے سے بنتی ہے اگر یہی نہیں تو پھر تباہی اور بربادی اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ اس لیے محترمی! خدارا کسی کے اچھے کام کی تعریف کرنے میں یقین جانیں نہ آپ کے قلم [/size]کی سیاہی ختم ہوگی اور نہ ہی انگلیاں تھکیں گی۔

  9. #9
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jan 2011
    پيغامات
    203
    شکریہ
    0
    1 پیغام میں 2 اظہار تشکر

    RE: قاضی حسین احمد اور جماعت اسلامی کا اصل چہرہ

    کیا بات ہے بے باک بھای بھت خوب بھت عمدھ میری طرف سے ایک لاکھ تالیاں

  10. #10
    رکنِ خاص سید انور محمود کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2012
    پيغامات
    754
    شکریہ
    198
    388 پیغامات میں 628 اظہار تشکر

    RE: قاضی حسین احمد اور جماعت اسلامی کا اصل چہرہ

    محترم بے باک صاحب
    اسلام علیکم
    میں نے صرف چار لاینیں لکھیں ہیں اس مضمون میں مگر وہ آپ پراسقدر بھاری ہویں کہ آپ نے چار مرتبہ جواب دے ڈالا۔ دو گذارش ہیں آپ سے، پہلی یہ کہ جب کسی پوانٹ پر بات کریں تو اسی پر بات کریں، ادھر اُودھر سے مضامین کاپی پیسٹ نہ کریں اسکی وجہ سے آپکی اپنی بات اجاگر نہیں ہوپاتی، مثال کے طور پر میں نے نہ اس مضمون میں اور نہ ہی کامران خان شو والے مضمون میں مولانا مودودی کا کہیں ذکر نہیں کیا مگر آپ اُنہیں درمیان میں لےآئے وہ بھی کسی اور کے لکھے ہوئےہوئے مضمون کے سہارئے، کیوں بھائی کیا مولانا مودودی اور مولانا آزاد پر تنقید کرنے کی وجہ سے بندہ دارہ اسلام سے خارج ہوجاتاہے؟ اب دوسری بات اگر ہم کسی کے خیالات سے اختلاف کرتے ہیں اور اپنا نقط نگاہ اس پر ظاہر کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ ہماری بات پر مکمل توجہ دے تو الفاذ کا چناوہی ہماری بات کی اہمیت اور غیر اہمیت کا زریعہ ہے، اب آپ کے اپنے الفاظ کچھ یوں ہیں " لگتا ہے آپ کو اسلامی جماعتوں سے چڑ ہو گئی ہے ،یا اسلامو فوبیا کا شکار ہیں ، یا جہاد کے نام سے آپ کو نفرت ہے ، اس لیے باقی سب حقیقتیں آپ کی آنکھ سے اوجھل ہو جاتی ہیں"، آپ ایک منٹ کے لیے سوچیے اگر یہ ہی کچھ کسی نے آپ کے بارئے میں لکھا ہو تو آپ کیسا محسوس کرینگے۔ اسلیے آپکو ایک مشورہ ہے کہ ضرور اختلاف کریں مگر اپنی بات کاپی پیسٹ اور ذاتی حملوں سے مبرا رکھیں-

    سقراط صاحب قاضی حسین احمد سیاست ہی کررہے ہیں اس لیے ہی ان پر تنقید ہورہی ہے ، مفتی تقی عثمانی پر اس لیے نہیں ہورہی کیونکہ وہ سیاست میں نہیں ہیں۔

    محمد اشرف یوسف صاحب ڈھوڈنے سے سب مل جاتا ہے بس ایک نگاہ چاہیے پھر اس ملک میں آپ کو ایک سے ایک جید عالم مل جاینگے۔

    آخر میں بےباک صاحب آپکو وہ لاکھوں تالیاں مبارک ہوں جو آپ کے جواب پربجای تو نہیں دی گیں ہیں۔
    آپ تمام دوستوں کا بہت بہت شکریہ

صفحہ 1 از 2 12 آخریآخری

متشابہہ موضوعات

  1. اللہ کی بخشش اور حضور ﷺ کی شفاعت کا حسین منظر
    By محمداشرف يوسف in forum متفرق موضوعات
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 01-27-2013, 09:57 AM
  2. امریکا میں سینڈی کا سیلاب
    By بےباک in forum آج کی خبر
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 10-31-2012, 03:27 PM
  3. نعت ۔۔ گماں سے ورا ہے مقامِ محمد ﷺ
    By ذیشان نصر in forum میری شاعری
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 05-11-2012, 06:35 AM
  4. نعت البم
    By پاکستانی in forum کار آمد ویب سائٹس
    جوابات: 3
    آخری پيغام: 12-29-2011, 11:23 AM
  5. اللہ کی بخشش اور حضور ﷺ کی شفاعت کا حسین منظر
    By گلاب خان in forum صحابہ کرام اور صحابیات
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 12-16-2010, 08:42 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University