از طرف: سید انور محمود

[size=x-large]کیا محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا سیاست میں آنے کافیصلہ درست ہے؟ (حصہ اول)[/size]
مولانہ کوثر نیازی نے اپنی کتاب "اور لاین کٹ گی " میں لکھا ہے کہ "جب وہ ذوالفقار علی بھٹو سے ملکر واپس جارہے تھے تو بھٹو نے اپنی میزپر بہت زور کا ہاتھ مارکرکہا تھا اب میں ان ہنددوں کو دیکھ لونگا"، اصل میں 1974 کےبھارت کے ایٹمی دھماکے کے بعد بھٹو نے کہا تھا کہ ہم گھاس کھاکر گذارہ کرینگے لیکن ہم بھی ایٹم بم بناینگے، اور جلدہی ان کی ملاقات ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جبکہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ کی اسناد حاصل کرنے والے ڈاکٹرقدیر خان سے ہوئی، ڈاکٹر صاحب کراچی اسٹیل مل میں نوکری کرنا چاہتے تھے لیکن جب ذوالفقار علی بھٹو نے ان سے بات چیت کی تو جلدہی یہ معلوم کرلیا کہ ڈاکٹر صاحب ایٹمی سائنس دان ہیں۔ بھٹوسے ملاقات کے بعد جب وہ واپس جارہے تھے تب بھٹو نے کہا تھا "اب میں ان ہنددوں کو دیکھ لونگا"۔

31 مئی 1976 سے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا یہ سفر 28 مئی 1998 میں پاکستان کے کامیاب ایٹمی تجربے پر ختم ہوا- یہ ایٹمی تجربہ بھارت کے ایٹمی تجربہ 11 مئی 1998کے ٹھیک 17 دن بعد کیا گیا۔ گزشتہ بیس برسوں میں پاکستان اور بھارت پانچ مرتبہ جنگ کے دہانے پر پہنچے ۔بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد تو بھارت نے 13ماہ تک اپنی ساری فوج پاکستانی سرحد پر حالت جنگ میں رکھی۔ بھارت کو علم تھا کہ پاکستان روایتی ہتھیاروں میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا مگر بھارت کو اس بات کا بھی احساس تھا کہ پاکستان اپنی جغرافیائی سلامتی کو خطرے میں دیکھ کر ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال بھی کرسکتاہے۔ یہ ایٹمی ہتھیار ہی تھے جن کی بدولت یہ خطہ جنگ کی تباہی سے محفوظ رہا۔ ڈاکٹر قدیرخان اور ان کے ساتھیوں کی محنت اور کامیابیوں کے طفیل یہ ممکن ہوا کہ آج پاکستان کی جغرافیائی سلامتی کو کوئی بیرونی خطرہ لاحق نہیں۔اسکے علاوہ محسن پاکستان نے ایٹمی میزالوں کے بھی کامیاب تجربے کیے ۔ ڈاکٹر قدیر خان نے عالمی یونیورسٹیوں میں ایک سو سے زیادہ لیکچردیئے، ان کو مختلف اوقات میں مختلف معتبر تنظیموں اور اداروں کی طرف سے 42 طلائی تمغے دیے گے، انہوں نے ایک سو اٹھاسی سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین بھی لکھے ہیں۔ انیس سو ترانوے میں کراچی یونیورسٹی نے ڈاکٹر قدیر خان کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند دی۔ کہوٹہ میں جہاں ڈاکٹر صاحب نے کام کیا پہلے اسکا نام انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز تھا مگر یکم مئی 1981 سے اسکا نام بدل کر "ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز" رکھ دیا گیا۔

2004 میں مشرف حکومت سے اختلاف کے باعث ڈاکٹر قدیر خان اپنی ذمیداریوں سے علیدہ ہوگے ، اسکے بعد انہوں نےسیچٹ sachet کے نام سے ایک این جی او بنائی جو تعلیمی اور دیگر فلاحی کاموں میں سرگرم ہے۔ کچھ عرصے بعد ڈاکٹر صاحب جن کو ادب سے بھی لگاو ہے روزنامہ جنگ میں " سحر ہونے تک" کے عنوان سے کالم لکھنے کا سلسلہ شروع کیا۔ شروع شروع میں ڈاکٹر صاحب مختلف موضع کا انتخاب کرتے رہے مگر آہستہ آہستہ ان کے کالم سیاسی رنگ اختیار کرتے گے۔ بات یہیں تک رہتی تب بھی کچھ نہ تھا، مگر کچھ عرصے پہلے خبرملی کہ ڈاکٹر صاحب تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کررہے ہیں اور اسکا وہ اعلان عمران خان کے لاہورکے جلسہٴ میں کرینگے مگر وہ وہاں نہیں گے اور تحریک انصاف کے جلسے کے بعد ان کا ایک بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے فرمایا " کچھ دوستوں نے سیاست میں گھسیٹنے کی کوشش کی لیکن میں تیرتی ہوئی مچھلی ہوں، کوزے میں بند نہیں ہونا چاہتا۔ خدا نے مجھے عزت، شہرت اور بلندی دی۔ اب یہی خواہش ہے کہ ایمان سلامت رہے "۔ اسی بات کو دہراتے ہوے ایک ٹی وی پروگرام میں ڈاکٹر صاحب نےفرمایا ” مجھے دوستوں نے سیاست کے میدان میں گھسیٹنے اور اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کی۔ تحریک انصاف کے لوگوں نے بھی کئی مرتبہ رابطہ کیا لیکن میں ایک آزاد شہری اور سیدھا سادہ انسان ہوں۔ میں ان چکرں میں نہیں پڑنا چاہتا“۔ سیاست ایک ایسا نشہ ہے کہ جو بھی اسکا شکار ہوجائے وہ پھر اسکو چھوڑتا نہیں، ڈاکٹر صاحب جو بھٹو سے مشرف تک ہر حکومت کے قریب رہے ہیں اسلیے سیاست کا نشہ وہ بھی کربیٹھے اور اپنی نئی سیاسی جماعت تحریکِ تحفظ پاکستان بنائی ہے اور جس کی رجسٹریشن 17 جولائی 2012 کو الیکشن کمیشن آف پاکستان میں کروا دی گئی ہے اور اب الیکشن کمیشن سے میزائل کانشان مانگاہے۔ تحریکِ تحفظ پاکستان کے سیکریٹری جنرل خورشید زمان نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان ، ملک کی حالت بدلنے کیلئے سیاست میں آئے ہیں اور وہ آخری امید ہیں جبکہ باقی تمام سیاسی جماعتیں ناکام ہوچکی ہیں۔ خورشید زمان کے مطابق ڈاکٹر صاحب کو ابھی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ خود الیکشن میں کھڑے ہوں گے یا مہم کے زریعے پارٹی کی رہنمائی کریں گے۔

محترم ڈاکٹر صاحب! ہم پاکستانی جو اسوقت بٹی ہوئی قوم ہیں، ہم جولسانی ، مذہبی، علاقائی تعصب کا بھرپور شاہکار ہیں مگر اس کے باوجود ہم آپ کے حوالے سے اس بات پر متفق ہیں کہ آپ محسن پاکستان ہیں۔ ہم آپ کو اسلامی دنیا کے پہلے ایٹم بم کے خالق اور ہیرو کے طور پر جانتے ہیں- ہمیں یہ بتانے کی بھی ضرورت نہیں کہ ہمارے دل میں آپ کا کیا مقام ہے۔ بھارت کے ایٹمی قوت بن جانے کے بعد اگر پاکستان ایٹمی صلاحیت سے محروم رہ جاتا تو آج پاکستان کی قومی سلامتی بہت بڑے خطرات سے دو چار ہوتی۔ جوہری صلاحیت کی بناہ پر پاکستان کا ایٹمی پروگرام آپ کے نام سے جوڑا گیا ہے۔ ہمیں 4فروری 2004 کا وہ دن اچھی طرح یاد ہے جب آپ کو ٹی وی پر لاکر آپ کو ایک ناکردہ گناہ کے اعتراف پر مجبور کیا گیا، آپ کو زیر حراست رکھنا، آپ کو ایک موذی مرض لاحق ہونے کی تکلیف دہ خبر، آپ کے خلاف بہودہ الزامات، یہ سب کچھ آپکے چاہنے والے پاکستانیوں کے لئے باعث اذیت تھا۔ آپ اُن چُنے ہوئے لوگوں میں سے ایک ہیں جس سے پورا پاکستان پیار کرتا ہے اور آپ کےلیےاس سے بڑا انعام کیا ہوگا کہ اللہ تعالی نے سارے مسلمانوں کے دلوں میں آپ کی محبت ڈال دی ۔ پاکستانیوں نے آپ سے بے پناہ محبت کی ہے، اتنی بے پناہ کہ یہ محبت عقیدت کی حدوں کو چھونے لگی۔ لیکن اب آپ نے بھی ہم جو بٹی ہوئی قوم ہیں جو ایک بات پر متفق ہیں کہ آپ محسن پاکستان ہیں اسکو بانٹ دیا، آپکے سیاست میں آنے کی وجہ سے ہمارا محسن پاکستان بٹ جائے گا- آپ وہ شخصیت ہیں جسے کافی اعزازات ملے لیکن آپ کا اصل اعزازات وہ بوسے ہیں جو لوگوں نے آپ کے ماتھے اور آپ کے ہاتھوں پہ ثبت کئے۔ پھولوں کے وہ ان گنت گلدستے ہیں جو لوگوں نے آپکی بیماری پر ایک ہسپتال کے باہر رکھے اور وہ دعائیں ہیں جو ساری پاکستانی قوم نے آپ کے لئے مانگیں۔ ایسی چاہتیں اور محبتیں ہر کسی کو نہیں ملتیں۔ سیاست ہرگز گناہ نہیں لیکن پاکستان میں ایک قومی ہیرو کے طور پرجاننے والے شخص کے لئے سیاست کا میدان اس لئے ٹھیک نہیں کہ پاکستانی سیاست ایک ایسی دنیا ہے جہاں لوگوں کی پگڑی اچھالنا ایک عام بات ہے- اس میدان کے لوگ بڑے بے رحم، بڑے بے لحاظ اور منہ پھٹ ہیں، اس میدان میں وہ وہ اوچھے وار کیے جاتے ہیں شاید جس کاآپ کو تصور بھی نہ ہو، یہاں نہ عورت کا لحاظ ہے ، نہ کسی کے مرتبے کا۔

محترم ڈاکٹر صاحب! یہا ں مادرملت محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف 1964 میں جب وہ ایوب خان کے خلاف صدارتی الیکشن میں حصہ لے رہی تھی وہ گندی زبان استمال ہوئی جو ناقابل بیان ہے، محترمہ رانا لیاقت علی خان کو پاکستان کی قومی اسمبلی میں جماعت اسلامی نے ہندنی کا خطاب دیا۔ 1970 کے الیکشن کے دوران بھٹو کو جماعت اسلامی کے حامی علما نے کافر قرار دیا، جواب میں بھٹو کے حامی علما نے مولانہ مودودی کو کافر قرار دے دیا۔ بھٹونے اصغرخان اور نور خان کوآلو کا خطاب دیا اور میاں ممتاز دولتانہ کو چوہا کہا، جبکہ چوہدری ظہور الہائی کوبھینس چور اور فٹ کانسٹبل کے خطاب ملے۔ الیکشن کے نتایج کے دوسرے دن پیپلز پارٹی کے اخبار نے اپنے صفہ اول پرموددی ٹھاہ، نصراللہ ٹھاہ، دولتانہ ٹھاہ کے نعروں کے ساتھ مولانہ مودودی کے چہرے کو ایک رقاصہ کے دھڑ کے ساتھ جوڑ کر اپنی جیت کا اعلان کیا۔ 4 اپریل 1979 کوبھٹو کو پھانسی ہوئی ، جماعت اسلامی کے اخبار جسارت نے اپنے ضمیمے کی ہیڈنگ لگائی "بھٹو بغیر وضو اور نماز کے پھانسی چڑھ گیا"، بے نظیر کے بارے میں بےہودہ الفاظ عام طور پر استمال کیے گے، نواز شریف کو قاضی حسین احمد نے لوہا چور کا خطاب دیا، جبکہ جدہ جانے کے بعد وہ بھگوڑے بھی کہلائے۔ پاکستان کے تین ملٹری جنرلوں ایوب خان، ضیاالحق اور مشرف کو کتے کے خطاب ملے جبکہ یحیی خان تو تھا ہی شرابی اور زانی۔ موجودہ دور میں زرداری کو ان گنت ناموں سے نوازہ جاتاہے، کرپٹ صدر تو عام بات ہے۔ وزیراعظم کو بجلی چور کا خطاب ملاہے۔ الطاف حسین کے ان گنت نام ہیں جس میں دہشت گرد زیادہ استمال ہوتا ہے،مولانہ فضل الرحمن کو ملا ڈیزل کہا جاتا ہے، حالیہ قومی اسمبلی میں عورتوں کے بارے میں وہ نازبینا الفاظ استمال ہوہے جو اشاعت کے قابل نہیں، تھوڑے عرصے پہلے ایم کیو ایم نے عمران خان کے بارے میں کراچی میں وہ بہودہ وال چاکنگ کروائی کہ خود ایم کیو ایم کے ہمدرد بھی پڑھتے ہوئے شرماتے تھے، اب سے کچھ ماہ قبل مریم نواز کے بارے میں بھی بہودہ الفاظ کا استمال کیا گیا اور حال ہی میں پاکستانی وزیر خارجہ اور بلاول کے بارے میں بہودہ پروپگنڈا کیا گیا- گلوبل ولیج کے اس دور میں نہ لیڈر اور نہ عوام میڈیا کے محتاج نہیں ہیں وہ سوشل میڈیا کا بھرپور استمال جانتے ہیں اسلیے وہ جس کے خلاف یا حمایت میں جو بات کہنا چاہتے ہیں چند سیکنڈ میں اپنی بات پوری دنیا میں پھلادیتے ہیں۔ کبھی کہا جاتا تھا کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا، موجودہ وقت میں اب سیاست کے دل میں نہ ہی وفا رہی ہے اورنہ آنکھ میں شرم۔ (جاری ہے، دیکھیے حصہ دوم)