صفحہ 1 از 11 123 ... آخریآخری
نتائج کی نمائش 1 تا: 10 از: 105

موضوع: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

  1. #1
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,867
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    [size=xx-large] السلام علیکم پیارے ساتھیو!
    کچھ دن پہلے ایک بہت پیاری کتاب صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن کے بارے میں پڑھنے کو ملی جسکی تحریر و ترتیب
    جناب مولانا سعید انصاری صاحب اور جناب مولانا عبدالسلام ندوی صاحب نے کی ہے
    یہ کتاب مستند حوالوں سے ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن، بنات طاہرات رضی اللہ تعالی عنہن اور اکابر صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن کے مفصل سوانح حیات، انکے مذہبی، علمی اور اخلاقی کارناموں کی پوری تفصیل اور صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن کی پاکیزہ و مجاہداہ زندگی کا مکمل اسوہ حسنہ ہے
    مسلمان عورتیں زمانہ کے نئے حالات سے بدل رہی ہیں انکے سامنے سعادتمند خواتین کا کوئی اسوہ موجود نہیں اسلیئے انکا راہ سے ہٹنا دو راز عقل نہیں، لیکن اگر ہماری خواتین اس کتاب کو اپنی زندگی کا نمونہ بنائیں تو انہیں معلوم ہو گا کہ دینداری، خدا ترسی، پاکیزگی، عفت اور اصلاح و تقویٰ کے ساتھ وہ دنیا کو کیونکر نباہ سکتی ہیں اور دنیا و آخرت دونوں کی نیکیوں کو اپنے آنچل میں کیسے سمیٹ سکتی ہیں،
    میں نے اس کتاب کو ہمارے بہت محترم ساتھی حافظ زوہیب احمد صاحب جو اپنی اردو کی خدمات کے لیے کسی تعارف کے محتاج نہیں کے اردو انسائیکلو پیڈیا ا کے لیے ٹائپ کیا اور میں چاہونگی کہ میں اپنے یہاں تمام موجود ساتھیوں سے بھی شیئر کروں ، امید ہے آپ سبکو بھی اس میں صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن کی زندگی کے بارے میں تمام تحاریر پڑھنے کے بعد اتنا ہی مزا آئے گا ، ہمت بندھے گی ، ایمان تازہ ہو گا اور خوشی ہو گی جیسا کہ میں اسکو پڑھنے کے بعد محسوس کرتی ہوں ۔۔۔۔
    (میں اس کتاب میں موجود تمام صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن کو ایک ایک موضوع سے اسی لڑی میں شیئر کرونگی تا کہ تمام ساتھی دلجمعی سے پڑھ سکیں اور مستفید ہوں) [/size]

  2. #2
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,867
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    RE: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    [size=xx-large][align=center]حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ[/align][/size]
    [size=xx-large]نام و نسب:۔[/size]
    خدیجہ نام، ام ہند کنیت، طاہرہ لقب، سلسلہ نسب یہ ہے۔ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی، قصی پر پہنچ کر انکا خاندان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان سے مل جاتاہے۔ والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ تھا، اور لوری بن غالب کے دوسرے بیٹے عامر کی اولاد تھیں۔
    حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے والد اپنے قبیلے میں نہایت معزز شخص تھے۔ مکہ آ کر اقامت کی، عبد الدارین ابن قصی کے جوان کے ابن عم تھے، حلیف بنے اور یہیں فاطمہ بنت زائدہ سے شادی کی، جن کے بطن سے عام الفیل سے 15 سال قبل حضرت خدیجہ اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئیں،(طبقات ابن سعدج8و)
    سنِ شعور کو پہنچیں تو اپنے پاکیزہ اخلاق کی بنا پر طاہرہ(اصابہ ج8ص60) کے لقب سے مشہور ہوئیں،
    [size=xx-large]نکاح:۔[/size]

    باپ نے ان صفات کا لحاظ رکھ کر شادی کے لیے ورقہ بن نوفل کو جو برادر زادہ اور تورات و انجیل کے بہت بڑے عالم تھے، منتخب کیا، لیکن پھر کسی وجہ سے یہ نسبت نہ ہو سکی اور ابوہالہ بن بناش تمیمی سے نکاح ہو گیا۔(استیعاب ج2ص378)
    ابوہالہ کے بعد عتیق بن عابد مخزومی کے عقد نکاح میں آئیں،
    اسی زمانہ میں حرب الفجار چھڑی، جس میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے باپ لڑائی کے لیے نکلے اور مارے گئے(طبقات ج8صفحہ9) یہ عام الفیل سے 20 سال بعد کا واقعہ ہے۔(ایضاًص81ج1ق1)
    [size=xx-large]تجارت:۔[/size]

    باپ اور شوہر کے مرنے سے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کو سخت دقت واقع ہوئی، ذریعہ معاش تجارت تھی جسکا کوئی نگران نہ تھا تاہم اپنے اعزہ کو مال تجارت دیکر بھیجتی تھیں، ایک وقت مال کی روانگی کا وقت آیا تو ابو طالب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ تمکو خدیجہ( رضی اللہ تعالی عنہ) سے جا کر ملنا چاہیے، انکا مال شام جائے گا۔ بہتر ہےکہ تم بھی ساتھ لے جاتے، میرے پاس روپیہ نہیں ورنہ میں خود تمھارے لیے سرمایہ مہیا کر دیتا۔
    رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہرت"امین" کے لقب سے تمام مکہ میں تھی اور آپکے حسن معاملت، راست بازی، صدق و دیانت اور پاکیزہ اخلاقی کا چرچا عام تھا، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کو اس گفتگو کی خبر ملی تو فورا پیغام بھیجا کہ"آپ میرا مال تجارت لیکر شام جائیں، جو معاوضہ اوروں کو دیتی ہوں آپکو اسکا مضاعف دونگی۔"آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول فرمالیا اور مالِ تجارت لیکر میسرہ(غلام خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ) کے ہمراہ بصری تشریف لے گئے، اس سال کا نفع سال ہائے گزشتہ کے نفع سے مضاعف تھا،(طبقات ج اق اص81)
    حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد نکاح میں آتی ہیں:۔
    حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کی دولت و ثروت اور شریفانہ اخلاق نے تمام قریش کو اپنا گرویدہ بنا لیاتھا، اور ہر شخص ان سے نکاح کا خواہاں تھا، لیکن کارکنان قضاوقدر کی نگاہ انتخاب کسی اور پر پڑچکی تھی، آنحضرت مال تجارت لیکر شام سے واپس آئے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ نے شادی کا پیغام بھیجا، نفیسہ بنت مینہ(یعلی بن امیہ کی ہمشیر) اس خدمت پر مقرر ہوئی،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منظور فرمایا،(ایضاً ص84) اور شادی کی تاریخ مقرر ہو گئی، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے والد اگرچہ وفات پا چکے تھے تاہم انکے چچا عمروبن اسد زندہ تھے، عرب میں عورتوں کو یہ آزادی حاصل تھی کہ شادی بیاہ کے متعلق خود گفتگو کر سکتی تھیں، اسی بناء پر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ نے چچا کے ہوتے ہوئے خود براہ راست تمام مراتب طے کئے،
    تاریخ معین پر ابوطالب اور تمام رؤسائے خاندان جن میں حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی تھے، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے مکان پر آئے، حضرت خدیجہ نے بھی اپنے خاندان کے چند بزرگوں کو جمع کیا تھا، ابوطالب نے خطبہ نکاح پڑھا۔ عمروبن اسد کے مشورہ سے 500 طلائی درہم مہر قرار پایا اور خدیجہ طاہرہ رضی اللہ تعالی عنہ حرم نبوت ہو کر ام المومنین نے شرف سے ممتاز ہوئیں، اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پچیس سال کے تھے اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کی عمر چالیس برس کی تھی۔ یہ بعثت سے پندرہ سال قبل کا واقعہ ہے،(اصابہ ج8ص60)
    [size=xx-large]اسلام:۔[/size]

    پندرہ برس کے بعد جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر ہوئے اور فرائض نبوت کو ادا کرنا چاہا تو سب سے پہلے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کو یہ پیغام سنایا وہ سننے سے پہلے مومن تھیں، کیونکہ ان سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق دعویٰ کا کوئی شخص فیصلہ نہیں کر سکتا تھا، صحیح بخاری باب بدۤالوحی میں یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ مذکور ہے اور وہ یہ ہے،
    "حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کہتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتدا رویائے صادقہ سے ہوئی آپ جو کچھ خواب میں دیکھتے تھے سپیدۂ۔۔۔۔۔ صبح کی طرح نمودار ہو جاتا تھا، اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم خلوت گزیں ہو گئے، چنانچہ کھانے پینے کا سامان لیکر غار حرا تشریف لے جاتے اور وہاں تخث یعنی عبادت کرتے تھے۔ جب سامان ہو چکتا تو پھر خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس تشریف لاتے اور پھر واپس جا کے مراقبہ میں مصروف ہوتے یہاں تک کہ ایکدن فرشتہ غیب نظر آیا کہ آپ سے کہہ رہا ہے پڑھ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں پڑھا لکھا نہیں، اس نے زور سے دبایا، پھر مجھکو چھوڑ دیا، اور کہا پڑھ تو میں نے پھر کہا کہ میں پڑھا لکھا نہیں پھر اس نے دوبارہ زور سے دبایا اور چھوڑ دیا اور کہا پڑھ پھر میں نے کہا میں پڑھا لکھا نہیں اسی طرح تیسری دفعہ دبا کر کہا کہ پڑھ اس خدا کا نام جس نے کائنات کو پیدا کیا۔ جس نے آدمی کو گوشت کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھ تیرا خدا کریم ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لائے تو جلال الہی سے لبریز تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا مجھکو کپڑا اڑھاؤ، مجھکو کپڑا اڑھاؤ، لوگوں نے کپڑا اڑھایا تو ہیبت کم ہوئی پھر حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ سے تمام واقعہ بیان کیا اور کہا"مجھکو ڈر ہے" حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم متردد نہ ہوں، خدا آپکا ساتھ نہ چھوڑے گا، کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، بےکسوں اور فقیروں کے معاون رہتے ہیں، مہمان نوازی اور مصائب میں حق کی حمایت کرتے ہیں پھر وہ آپکو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو مذہباً نصرانی تھے عبرانی زبان جانتے تھے اور عبرانی زبان میں انجیل لکھا کرتے تھے، اب وہ بوڑھے اور نابینا ہو گئے تھے۔ خدیجہ نے کہا اپنے بھتیجے(آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم) کی باتیں سنو، بولے ابن الاخ تو نے کیا دیکھا؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعہ کی کیفیت بیان کی تو کہا یہ وہی ناموس ہے جو موسی پر اترا تھا۔ کاش مجھ میں اس وقت قوت ہوتی اور زندہ رہتا جب آپکی قوم آپکو شہر بدر کرے گی، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا یہ لوگ مجھے نکال دینگے؟ ورقہ نے جواب دیا ہاں جو کچھ آپ پر نازل ہوا جب کسی پر نازل ہوتا ہے تو دنیا اسکی دشمن ہو جاتی ہے اور اگر اس وقت تک میں زندہ رہا تو تمھاری وزنی مدد کرونگا۔ اسکے بعد ورقہ کا بہت جلد انتقال ہو گیا اور وحی کچھ دنوں کے لیے رک گئی،(صحیح بخاری ج اص2، 3 )
    اس وقت تک نماز پنجگانہ فرض نہ تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نوافل پڑھا کرتے تھے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی آپکے ساتھ نوافل میں شرکت کرتی تھیں، ابن سعد کہتے ہیں(طبقات ج8ص10)
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ ایک عرصہ تک خفیہ طور پر نماز پڑھا کیئے۔
    عفیف کندی سامان خریدنے کے لیے مکہ آئے، اور حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے گھر میں فروکش ہوئے، صبح کے وقت ایکدن کعبہ کی طرف نظر تھی۔ دیکھا کہ ایک نوجوان آیا اور آسمان کی طرف قبلہ رُخ کھڑا ہو گیا۔ پھر ایک لڑکا اسکے داہنی طرف کھڑا ہوا، پھر ایک عورت دونوں کے پیچھے کھڑی ہوئی، نماز پڑھ کر یہ لوگ چلے گئے، تو عفیف نے حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے کہا کہ کوئی عظیم الشان واقعہ پیش آنے والا ہے، حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ نے جوابدیا، ہاں، پھر کہا جانتے ہو یہ نوجوان کون ہے؟ یہ میرا بھتیجا محمد ہے، یہ دوسرا بھتیجا علی ہے اور یہ محمد کی بیوی(خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ) ہے، میرے بھتیجے کا خیال ہے کہ اسکا مذہب پروردگار عالم کا مذہب ہے اور جو کچھ کرتا ہے اسکے حکم سے کرتا ہے، دنیا میں جہاں تک مجھکو علم ہے اس خیال کے صرف یہی تین شخص ہیں،(ایضاً ص 10، 11)
    عقیلی اس روایت کو ضعیف سمجھتے ہیں، لیکن ہمارے نزدیک اسکے ضعیف ہونے کی کوئی وجہ نہیں، درایت کے لحاظ سے اس میں کوئی خرابی نہیں، روایت کی حیثیت سے اسکے ثبوت کے متعدد طریق ہیں محدث ابن سعد نے اسکو نقل کیا ہے، بغوی، ابویعلی اور نسائی نے اسکو اپنی کتابوں میں جگہ دی ہے، حاکم، ابن حثیمہ، ابن مندہ اور صاحبِ غیلانیات نے اسے مقبول مانا ہے۔ اور سب سے بڑھکر یہ کہ اسکو امام بخاری نے اپنی تاریخ میں درج کیا ہے اور اسکو صحیح کہا ہے۔
    حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ نے صرف نبوت کی تصدیق ہی نہیں کی بلکہ آغاز اسلام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی معین و مددگار ثابت ہوئیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جو چند سال تک کفار مکہ اذیت دیتے ہوئے ہچکچاتے تھے۔ اس میں بڑی حد تک حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کا اثر کام کر رہا تھا، اوپرگزرچکا ہے۔ کہ آغاز نبوت میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ"مجھکو ڈر ہے" تو انہوں نے کہا"آپ متردد نہ ہوں، خدا آپکا ساتھ نہ چھوڑے گا" دعوت اسلام کے سلسلے میں جب مشرکین نے آپکو طرح طرح کی اذیتیں پہنچائیں تو ضحرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ نے آپکو تسلی اور تشفی دی، استیعاب میں ہے،(طبقات ج 2ص740)
    "آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین کی تردید یا تکذیب سے جو کچھ صدمہ پہنچتا، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آکر ختم ہو جاتا تھا کیونکہ وہ آپکی باتوں کی تصدیق کرتی تھیں اور مشرکین کے معاملہ کو آپکے سامنے ہلکا کر کے پیش کرتی تھیں،"
    سن 7 نبوی میں جب قریش نے اسلام کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ تو یہ تدبیر سوچی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپکے خاندان کو ایک گھاٹی میں محصور کیا جائے، چنانچہ ابوطالب مجبور ہو کر تمام خاندان ہاشم کے ساتھ شعب ابوطالب میں پناہ گزین ہوئے، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی ساتھ آئیں، سیرت ابن ہشام میں ہے۔(سیرت ابن ہشام ج اص192)
    "اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شعب ابوطالب میں تھیں،"
    تین سال تک بنو ہاشم نے اس حصار میں بسر کی یہ زمانہ ایسا سخت گزرا کہ طلح کے پتے کھا کھا کر رہتے تھے تاہم اس زمانہ میں بھی حجرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے اثر سے کبھی کبھی کھانا پہنچ جاتا تھا۔ چنانچہ ایک دن حکیم بن حزام نے جو حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کا بھتیجا تھا۔ تھوڑے سے گیہوں اپنے غلام کے ہاتھ حضرے خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس بھیجے، راہ میں ابوجہل نے دیکھ لیا، اتفاق سے ابوالبختری کہیں سے آ گیا، وہ اگرچہ کافر تھا، لیکن اسکو رحم آیا، ابوجہل سے کہا ایک شخص اپنی پھوپھی کو کھانے کے لیے کچھ بھیجتا ہے تو کیوں روکتا ہے،(ایضاً)
    [size=xx-large]وفات:۔
    [/size]

    حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ نکاح کے بعد 25 برس تک زندہ رہیں اور 11 رمضان سن 10 نبوی(ہجرت سے تین سال قبل(بخاری ج اص ا55)) انتقال کیا، اس وقت انکی عمر 64 سال 6 ماہ کی تھی، چنانچہ نماز جنازہ اس وقت تک مشروع نہیں ہوئی تھی۔ اسلیئے انکی لاش اسی طرح دفن کر دی گئی،
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود انکی قبر میں اترے، اور اپنی سب سے بڑی غمگسار کو داعی اجل کے سپرد کیا، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر حجون میں ہے،(طبقات ابن سعد ج8ص11) اور زیارت گاہ خلائق ہے،
    حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات سے تاریخ اسلام میں ایک جدید دور شروع ہوا۔ یہی زمانہ ہے جو اسلام کا سخت ترین زمانہ ہے۔ اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس سال کو عام الحزن(سال غم) فرمایا کرتے تھے کیونکہ انکے اٹھ جانے کے بعد قریش کو کسی شخص کا پاس نہیں رہ گیا تھا، اور وہ نہایت بےرحمی و بیباکی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ستاتے تھے، اسی زمانہ میں آپ اہل مکہ سے ناامید ہو کر طائف تشریف لے گئے۔
    [size=xx-large]اولاد:۔[/size]

    حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بہت سی اولاد ہوئی، ابوہالہ سے جو انکے پہلے شوہر تھے، دو لڑکے پیدا ہوئے، جنکے نام ہالہ و ہند تھے، دوسرے شوہر یعنی عتیق سے ایک لڑکی پیدا ہوئی، اسکا نام بھی ہند تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چھ اولادیں پیدا ہوئیں، دو صاحبزادے جو بچپن میں انتقال کر گئے اور چار صاحبزادیاں! نام حسب ذیل ہیں،(زرقانی جلد 3ص221)
    (1)حضرت قاسم رضی اللہ تعالی عنہ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے بیٹے تھے، انہی کے نام پر آپ ابو القاسم کنیت کرتے تھے، صغر سنی میں مکہ میں انتقال کیا، اس وقت پیروں چلنے لگے تھے،(2) حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے بڑی صاحبزادی تھیں، (3) حضرت عبد اللہ نے بہت کم عمر پائی، چونکہ زمانہ نبوت میں پیدا ہوئے تھے، اس لیے طیب اور طاہر کے لقب سے مشہور ہوئے(4) حضرت رقیہ (5)حضرت ام کلثوم (6)حضرت فاطمہ زہرا، اس سب میں ایک ایک سال کا چھٹاپا بڑاپا تھا، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ اپنی اولاد کو بہت چاہتی تھیں، اور
    چونکہ دنیا نے بھی ساتھ دیا یعنی صاحب ثروت تھیں، اس لیے عقبہ کی لونڈی سلمہ کو بچوں کی پرورش پر مقرر کیا تھا، وہ انکو کھلاتی و دودھ پلاتی تھیں،
    ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہما میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کو بعض خاص خصوصیتیں حاصل ہیں، وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی بیوی ہیں، وہ جب عقد نکاح میں آئیں تو انکی عمر چالیس برس کے قریب تھی، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انکی زندگی میں دوسری شادی نہیں کی، حضرت ابراہیم علیہ السلام کے سوا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام اولاد انہی سے پیدا ہوئی۔
    [size=xx-large]فضائل و مناقب:۔[/size]

    ام المومنین حضرت خدیجہ طاہرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی عظمت و فضیلت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب فرض نبوت ادا کرنا چاہا تو فضائے عالم سے ایک آواز بھی آپکی تائید میں نہ اٹھی، کوہ حرا، وادی عرفات، جبل فاران غرض تمام جزیرة العرب آپکی آواز پر پیکر تصویر بنا ہوا تھا، لیکن اس عالمگیر خاموشی میں صرف ایک آواز تھی جو فضائے مکہ میں تموج پیدا کر رہی تھی، یہ آواز حضرت خدیجہ طاہرہ رضی اللہ تعالی عنہ کے قلب مبارک سے بلند ہوئی تھی، جو اس ظلمت کدہ کفر و ضلالت میں نور الہی کا دوسرا تجلی گاہ تھا،
    حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ وہ مقدس خاتون ہیں، جنہوں نے نبوت سے پہلے بت پرستی ترک کر دی تھی، چنانچہ مسند ابن حنبل میں روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا،"بخدا میں کبھی لات و عزی کی پرستش نہ کرونگا"انہوں نے جواب دیا کہ لات کو جانے دیجیئے، عزی کو جانے دیجیئے، یعنی انکا ذکر نہ کیجیئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کو انکی ذات سے جو تقویت تھی وہ سیرت بنوی کے ایک ایک صفحہ سے نمایاں ہے، ابن ہشام میں ہے،"وہ اسلام کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی مشیر کار تھیں۔"
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے انکو جو محبت تھی، وہ اس سے ظاہر ہے کہ باوجود اس تمول اور دولت و ثروت کے جو انکو حاصل تھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت خود کرتی تھیں، چنانچہ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت جبرائیل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ برتن میں کچھ لا رہی ہیں۔ آپ انکو خدا کا اور میرا سلام پہنچا دیجیئے،(صحیح بخاری ج اص539)
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ سے سخت محبت تھی، لیکن وہ مکہ میں غلام کی حیثیت سے رہتے تھے، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ نے انکو آزاد کرایا، اور اب وہ کسی دنیاوی رئیس کے خادم ہونے کی بجائے شہنشاہ رسالت(صلی اللہ علیہ وسلم) کے غلام تھے،
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بےپناہ محبت تھی آپ نے انکی زندگی تک دوسری شادی نہیں کی، انکی وفات کے بعد آپکا معمول تھا کہ جب گھر میں کوئی جانور ذبح ہوتا تو آپ ڈھونڈ ڈھونڈ کر انکی سہیلیوں کے پاس گوشت بھجواتے تھے، حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ گو میں نے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کو نہیں دیکھا، لیکن مجھکو جس قدر ان پہ رشک آتا تھا کسی اور پر نہیں آتا تھا، جسکی وجہ یہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ انکا ذکر کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ میں نے اس پر آپکو رنجیدہ کیا، لیکن آپ نے فرمایا کہ خدا نے مجھکو انکی محبت دی ہے،(صحیح مسلم ج2ص333،)
    ایک دفعہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے انتقال کے بعد انکی بہن ہالہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے آئیں اور استیذان کے قاعدے سے اندر آنے کی اجازت مانگی، انکی آواز حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ سے ملتی تھی آپکے کانوں میں آواز پڑی تو حضرت خدیجہ یاد آ گئیں اور آپ جھجھک اٹھے، اور فرمایا"کہ ہالہ ہونگی۔" حضرت عائشہ بھی موجود تھیں انکو نہایت رشک ہوا، بولیں کہ "آپ کیا ایک بڑھیا کی یاد کیا کرتے ہیں، جو مر چکیں، اور خدا نے ان سے اچھی بیویاں آپکو دیں،" صحیح بخاری میں یہ روایت یہیں تک ہے، لیکن استیعاب میں ہے کہ اسکے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ"ہرگز نہیں جب لوگوں نے میری تکذیب کی تو انہوں نے تصدیق کی، جب لوگ کافر تھے تو وہ اسلام لائیں،
    جب میرا کوئی نہ تھا تو انہوں نے میری مدد کی، اور میری اولاد ان ہی سے ہوئی۔"
    حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے مناقب میں بہت سی حدیثیں مروی ہیں، صحیح بخاری و مسلم میں ہے،
    "عورتوں میں بہترین مریم بنت عمران ہے اور پھر عورتوں میں بہترین خدیجہ بنت خویلد ہیں"
    ایک مرتبہ حضرت جبرائیل علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، خدیجہ آئیں تو فرمایا۔
    "انکو جنت میں ایک ایسا گھر ملنے کی بشارت سنا دیجیئے جو موتی کا ہو گا اور جس میں شوروغل اور محنت و مشقت نہ ہو گی،"

  3. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2012
    پيغامات
    5,446
    شکریہ
    138
    96 پیغامات میں 104 اظہار تشکر

    RE: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    جزاک اللہ

  4. #4
    رکنِ خاص سقراط کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,469
    شکریہ
    35
    149 پیغامات میں 216 اظہار تشکر

    RE: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    سبحان اللہ تانیہ سس کمال کردیا آپ تو سبقت لے گئیں مین خود اسی قسم کی کوئی لڑی تلاش کرنے میں لگا تھا اور آپ نے یہاں لگا بھی دی اب آپ کے ہر ہر لڑی کے موتی کا انتظار رہے گا بہت خوبصورت اور الگ الگ درجے میں بانٹ کر مضمون لگایا
    آپ کا کیسے شکریہ کہوں سمجھ نہیں آتا
    اللہ آپ کو خوش رکھے آمین

  5. #5
    رکنِ خاص سقراط کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,469
    شکریہ
    35
    149 پیغامات میں 216 اظہار تشکر

    RE: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    تانیہ سس میرا خیال ہے کہ اسے آپ صحابہ کرام اور صحابیات والے سیکشن میں موو کردیں

  6. #6
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,867
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    RE: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    [size=xx-large][align=center]حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ[/align][/size]
    [size=xx-large]نام و نسب:۔[/size]
    سودہ نام تھا، قبیلہ عامر بن لوی سے تھیں، جو قریش کا ایک نامور قبیلہ تھا، سلسلہ نسب یہ ہے، سودہ بنت زمعہ بن قیس بن عبد شمس بن عبدودبن نصربن مالک بن حسل بن عامر ابن لوی، ما کا نام شموس تھا، یہ مدینہ کے خاندان بنو نجار سے تھیں، انکا پورا نام و نسب یہ ہے، سشموس بنت قیس بن زیدبن عمرو بن لبید بن فراش بن عامر بن غنم بن عدی بن النجا۔
    [size=xx-large]نکاح:۔[/size]
    سکران رضی اللہ تعالی عنہ بن عمرو سے جو انکے والس کے ابن عم تھے، شادی ہوئی،
    [size=xx-large]قبول اسلام:۔[/size]
    ابتدائے نبوت میں مشرف بہ اسلام ہوئیں، انکے ساتھ انکے شوہر بھی اسلام لائے۔ اس بنا پر انکو قدیم السلام ہونے کا شرف حاصل ہے، حبشہ کی پہلی ہجرت کے وقت تک حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ اور انکے شوہر مکہ ہی میں مقیم رہے، لیکن جب مشرکین کے ظلم و ستم کی کوئی انتہا نہ رہی اور مہاجرین کی ایک بڑی جماعت ہجرت کے لیے آمادہ ہوئی تو ان میں حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ اور انکےشوہر بھی شامل ہو گئے۔
    کئی برس حبشہ میں رہ کر مکہ کو واپس آئیں، اور سکران رضی اللہ تعالی عنہ نے کچھ دن کے بعد وفات پائی۔
    [size=xx-large]حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ حرم نبوت بنتی ہیں:۔[/size]
    حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کو تمام ازواج مطہرات میں یہ فضیلت حاصل ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد سب سے پہلے وہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد نکاح میں آئیں، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے انتقال سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نہایت پریشان و غمگین تھے، یہ حالت دیکھ کر خولہ رضی اللہ تعالی عنہ بنت حکیم (عثمان بن مظعون کی بیوی) نے عرض کی کہ آپ کو ایک مونس و رفیق کی ضرورت ہے، آپ نے فرمایا ہاں، گھر بار بال بچوں کا انتظام سب خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ

    کے متعلق تھا، آپکے ایماء سے وہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کے والد کے پاس گئیں، اور جاہلیت کے طریقہ پر اسلام کیا، انعم صباحا، پھر نکاح کا پیغام سنایا، انہوں نے کہا ہاں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) شریف کفو ہیں، لیکن سودہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی تو دریافت کرو، غرض سب مراتب طے ہو گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لے گئے اور سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کے والد نے نکاح پڑھایا، چار سو درہم مہر قرار پایا، نکاح کے بعد عبداللہ بن زمع(حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بھائی) جو اس وقت کافر تھے، آئے اور انکو یہ حال معلوم ہوا تو سر پر خاک ڈال لی کہ کیا غضب ہو گیا، چنانچہ اسلام لانے کے بعد اپنی اس حماقت و نادانی پر ہمیشہ انکو افسوس آتا تھا،(زرقانی ج3ص261)
    حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کا نکاح رمضان سن دس نبوی میں ہوا، اور چونکہ انکے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نکاح کا زمانہ قریب قریب ہے، اسلیئے مؤرخین میں اختلاف ہے کہ کس کو تقدم حاصل ہے، ابن اسحاق کی روایت ہے کہ سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کو تقدم ہے اور عبداللہ بن محمد بن عقیل حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کو مقدم سمجھتے ہیں۔(طبقات ابن سعد ج8ص36۔37۔38۔39وزرقانی ج3ص360)
    بعض روائتوں میں ہے کہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے پہلے شوہر کی زندگی میں ایک خواب دیکھا تھا، ان سے بیان کیا تو بولے کہ شائد میری موت کا زمانہ قریب ہے، اور تمھارا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو گا، چنانچہ یہ خواب حرف بہ حرف پورا ہوا،(زرقانی ج3ص260وطبقات ابن سعدج8ص38،39۔)
    [size=xx-large]عام حالات:۔[/size]
    نبوت کے تیرہویں سال جب آپ نے مدینہ منورہ میں ہجرت کی تو حضرت زیدرضی اللہ تعالی عنہ بن حارثہ کو مکہ بھیجا کہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ وغیرہ کو لیکر آئیں، چنانچہ وہ اور حضرت فاطمہ زہرارضی اللہ تعالی عنہ حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ کے ہمراہ مدینہ آئیں،
    سن دس ہجری میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا تو حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی ساتھ تھیں، چونکہ وہ بلند و بالا و فربہ اندام تھیں اور اس وجہ سے تیزی کے ساتھ چل پھر نہیں

    سکتی تھیں۔ اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی کہ اور لوگوں کے مزدلفہ سے روانہ ہونے کے قبل انکو چلا جانا چاہیے، کیونکہ انکو بھیڑ بھاڑ میں چلنے سے تکلیف ہو گی،(صحیح بخارج1ص228)
    [size=xx-large]وفات:۔[/size]
    ایک دفعہ ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہما آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھیں، انہوں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! ہم میں سے سب سے پہلے کون مرے گا، فرمایا کہ جسکا ہاتھ سب سے بڑا ہے، لوگوں نے ظاہرہ معنی سمجھے، ہاتھ ناپے گئے تو سب سے بڑا ہاتھ حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کا تھا،(طبقات ج8ص37)لیکن جب سب سے پہلے حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال ہوا۔ تو معلوم ہوا کہ ہاتھ کی بڑائی سے آپ کا مقصد سخاوت و فیاضی تھی، بہرحال واقدی نے حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کا سال وفات 54 ہجری بتایا ہے،(طبقات ابن سعدج8ص37،39) لیکن ثقات کی روایت یہ ہے کہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے اخیر زمانہ خلافت میں انتقال کیا۔(اسدالغابہ واستیعاب و خلاصہ تہذیب حالات سودہ رضی اللہ تعالی عنہ)
    حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سن 23 ہجری میں وفات پائی ہے اس لیے حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کا سال 22 ہجری ہو گا خمیس میں یہی روایت ہےاور سب س ےزیادہ صحیح ہے،(زرقانی ج3ص262) اور اسکو امام بخاری، ذہبی، جزری ابن عبدالبر اور خزرجی نے اختیار کیا ہے۔
    [size=xx-large]اولاد:۔[/size]
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی اولاد نہیں ہوئی، پہلے شوہر(حضرت سکران رضی اللہ تعالی عنہ) نے ایک لڑکا یادگار چھوڑا تھا، جسکا نام عبدالرحمن تھا، انہوں نے جنگ جلولاء (فارس) میں شہادت حاصل کی۔(زرقانی ج2ص260)
    [size=xx-large]حلیہ:۔[/size]
    ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہما میں حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ سے زیادہ کوئی بلند بالا نہ تھا، حضرت عائشہ کا قول ہے کہ جس نے انکو دیکھ لیا، اس سے وہ چھپ نہیں سکتی تھیں۔(صحیح بخاری ج3ص707) زرقانی میں ہے کہ انکا ڈیل لانبا تھا،(زرقانی ض3ص459۔)
    [size=xx-large]فضل و کمال:۔[/size]
    حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ سے صرف پانچ حدیثیں مروی ہیں، جن میں سے بخاری میں صرف ایک ہے، صحابہ رضی اللہ تعالی عنہما میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ ، ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ اور یحی بن عبدالرحمن(بن اسعد بن زرارہ) نے ان سے روایت کی ہے،
    [size=xx-large]اخلاق:۔[/size]
    حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں۔(طبقات ج8ص37)
    "سودہ کے علاوہ کسی عورت کو دیکھ کر مجھے یہ خیال نہیں ہوا کہ اسکے قالب میں میری روح ہوتی۔"
    اطاعت و فرمانبرداری میں وہ تمام ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہما سے ممتاز تھیں، آپ نے حجة الوداع کے موقع پر ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہما کو مخاطب کر کے فرمایا تھا۔ کہ میرے بعد گھر میں بیٹھنا،(زرقانی ج3ص291) چنانچہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اس حکم پر اس شدت سے عمل کیا کہ پھر کبھی حج کے لیے نہ نکلیں، فرماتی تھیں کہ میں حج و عمرہ دونوں کر چکی ہوں، اور اب خدا کے حکم کے مطابق گھر میں بیٹھونگی،(طبقات ج 8ص38)
    سخاوت و فیاضی بھی انکا ایک اور نمایاں وصف تھا، اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے سوا وہ اس وصف میں بھی سب سے ممتاز تھیں، ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے انکی خدمت میں ایک تھیلی بھیجی، لانے والے سے پوچھا، اس میں کیا ہے؟ بولا درہم، بولیں کھجور کی طرح تھیلی میں درہم بھیجے جاتے ہیں۔ یہ کہکر اسی وقت سبکو تقسیم کر دیا،(اصابہ ج 8 ص 118) وہ طائف کی کھالیں بناتی تھیں اور اس سے جو آمدنی ہوتی تھی، اسکو نہایت آزادی کے ساتھ نیک کاموں میں صرف کرتی تھیں،(ایضاً ص 65 حالات خیسہ)
    ایثار میں بھی وہ ممتاز حیثیت رکھتی تھیں، وہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ آگے پیچھے نکاح میں آئیں تھیں لیکن چونکہ انکا سن بہت زیادہ تھا۔ اس لیے جب بوڑھی ہو گئیں تو انکو سوءظن ہوا کہ شاید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم طلاق دے دیں، اور شرف صحبت سے محروم ہو جائیں، اس بنا پر انہوں نے اپنی باری حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کو دے دی اور انہوں نے خوشی سے قبول کر لی،( صحیح بخاری و مسلم(کتاب النکاح جواز ہبتہ نوبہتا لصرنتہا)
    مزاج تیز تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ انکی بےحد معترف تھیں، لیکن کہتی ہیں کہ وہ بہت جلد غصہ سے بھڑک اٹھتی تھیں، ایک مرتبہ قضائے حاجت کے لیے صحرا کو جا رہی تھیں، راستے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ مل گئے، چونکہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کا قد نمایاں تھا، انہوں نے پہچان لیا، حضرت عمر کو ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہما کا باہر نکلنا ناگوار تھا اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پردہ کی تحریک کر چکے تھے، اس لیے بولے سودہ رضی اللہ تعالی عنہ تمکو ہم نے پہچان لیا۔ حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کو سخت ناگوار ہوا۔
    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی شکایت کی، اسی واقعہ کے بعد آیتِ حجاب نازل ہوئی۔(صحیح بخاری ج1ص26)
    باایں ہمہ ظرافت اس قدر تھی کہ کبھی کبھی اس انداز سے چلتی تھیں، کہ آپ ہنس پڑتے تھے ایک مرتبہ کہنے لگیں کہ کل رات کو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تھی، آپ نے (اس قدر دیر تک) رکوع کیا کہ مجھکو نکسیر پھوٹنے کا شبہہ ہو گیا، اس لیے میں دیر تک ناک پکڑے رہی، آپ اس جملہ کو سن کر مسکرا اٹھے،(سعدج8ص37)
    دجال سے بہت ڈرتی تھیں، ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آ رہی تھیں دونوں نے مذاق کے لہجہ میں کہا تم نے کچھ سنا؟ بولیں کیا؟ کہا دجال نے خروج کیا، حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ یہ سنکر گھبرا گئیں، ایک خیمہ جس میں کچھ آدمی آگ سلگا رہے تھے، قریب تھا، فورا اسکے اندر داخل ہو گئیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہ ہنستی ہوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں، اور آپکو اس مذاق کی خبر کی، آپ تشریف لائے اور خیمہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ ابھی دجال نہیں نکلا ہے، یہ سن کر حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ باہر آئیں۔ تو مکڑی کا جالا بدن میں لگا ہوا تھا، اسکو باہر آ کر صاف کیا،(اصابہ ج8ص65)
    میرے نزدیک یہ روایت مشکوک اور سنداً ضعیف ہے۔

  7. #7
    رکنِ خاص سقراط کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,469
    شکریہ
    35
    149 پیغامات میں 216 اظہار تشکر

    RE: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    سبحان اللہ
    لڑی کا دوسرا موتی پیش کیا
    بہت اچھے معلوماتی مضمون ہیں سب سے اہم چیز یہ کہ اتنی تفصیل سے کبھی پڑھا نہیں اور آپ نے اچھا سلسلہ شروع کردیا اسی بہانے علم میں اضافہ ہورہا ہے اور شوق میں بھی
    جزاک اللہ

  8. #8
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,140
    شکریہ
    2,103
    1,217 پیغامات میں 1,589 اظہار تشکر

    RE: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    ماشاء اللہ ،
    بہت اچھا سلسلہ شروع کیا ،
    ہمیں ام المومنین رضی اللہ عنہن اور صحابیات رضی اللہ عنہن کے بارے پڑھنے کے لیے بہت ہی زبردست مجموعہ ایک ہی جگہ مل جائے گا ،
    تانیہ صاحبہ آپ کا جذبہ دیکھ دیکھ کر دل خوش ہو گیا ،

  9. #9
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Oct 2012
    پيغامات
    299
    شکریہ
    0
    6 پیغامات میں 6 اظہار تشکر

    RE: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    ماشاء اللہ ،جزاک اللہ
    بہت اچھا سلسلہ شروع کیا ،
    ہمیں ام المومنین رضی اللہ عنہن اور صحابیات رضی اللہ عنہن کے بارے پڑھنے کے لیے بہت ہی زبردست مجموعہ ایک ہی جگہ مل جائے گا ،
    تانیہ صاحبہ آپ کا جذبہ دیکھ دیکھ کر دل خوش ہو گیا ،
    منسلک شدہ تصاویر منسلک شدہ تصاویر

  10. #10
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2012
    پيغامات
    5,446
    شکریہ
    138
    96 پیغامات میں 104 اظہار تشکر

    RE: اُسوہ صحابیات ( رضی اللہ تعالی عنہن)

    جزاک اللہ

صفحہ 1 از 11 123 ... آخریآخری

متشابہہ موضوعات

  1. سول ایوی ایشن اتھارٹی کا ناکام سوفٹ ویر
    By بےباک in forum پاکستان کے مجرم
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 01-13-2013, 04:47 PM
  2. تعارفِ فقہ
    By محمداشرف يوسف in forum متفرق موضوعات
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 12-06-2012, 09:36 AM
  3. خلیفۂ سوم امیرالمؤمنین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ
    By طارق راحیل in forum صحابہ کرام اور صحابیات
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 11-05-2012, 02:58 PM
  4. جوابات: 2
    آخری پيغام: 07-02-2012, 01:49 PM
  5. جوابات: 0
    آخری پيغام: 02-08-2012, 02:41 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University