صفحہ 1 از 2 12 آخریآخری
نتائج کی نمائش 1 تا: 10 از: 11

موضوع: قضائے حاجت اور استنجاء کرنے کے طریقے

  1. #1
    ناظم
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,307
    شکریہ
    0
    50 پیغامات میں 68 اظہار تشکر

    قضائے حاجت اور استنجاء کرنے کے طریقے


    [size=x-large]قضائے حاجت اور استنجاء کرنے کے طریقے[/size]

    [size=large]بسم اللہ الرحمٰن الرحیم محترم قارئین کرام اسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکۃ امابعد اس سے پہلے آپ نے غسل کے طریقے کے متعلق پڑھا ۔ یہ بھی اسی سلسلے کا دوسرا مضمون ہے ۔ یہ بنیادی چیزیں ہیں جن سے بہت سے بھائی اوربہنیں ناواقف ہوتے ہیں ۔ مگر اس کے باررے میں شرم کی وجہ سے پوچھنے سے کتراتے رہتے ہیں ۔ اسی نظریہ کے پیش نظر یہ سلسلہ شروع کرنے کا خیال آیا ۔ آئندہ یہ مضامین توحید اور پھر عمل کے بارے میں بھی لکھے جائیں گے۔ انشاء اللہ اب آپ ملاحظہ فرمائیں گے ،،،،، قضائے حاجت اور استنجاء کرنے کے طریقے کے متعلق بیت الخلاء جانے سے پہلے انگوٹھی وغیرہ اتار دے ۔ (جس میں اللہ تعالٰی کا نام ہو) ۔ ( صححہ الترمذی و المنذری (نیل الاوطار و مرعاۃ المفاتیح) بیت الخلاء میں داخل ہونے سے پہلے یہ دعاء پڑھے :۔۔۔ بسم اللہ اعوذ باللہ من الخبث و الخبائث ۔۔۔ ترجمہ :۔۔ اللہ کے نام کے ساتھ ، اے اللہ (جن و انس کے) خبیث مردوں اور عورتوں سے میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں۔ ( رواہ العمری بسند صحیح فتح الباری) نوٹ :۔۔ بسم اللہ کے علاوہ یہ دعاء صحیح مسلم میں بھی ہے )۔ قضائے حاجت یعنی پیشاپ یا پاخانہ کرتے وقت قبلہ کی طرف نہ منہ کرے نہ پیٹھ ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)۔ اگر درمیان میں کوئی آڑ ہو تومضائقہ نہیں ۔ ( رواہ ابو داود و سندہ صحیح ۔ التعلیقات )۔ قضائے حاجت کے وقت قد مچوں پر بیٹھے۔ ( صحیح بخاری)۔ اگر جنگل میں قضائے حاجت کے لیے جائے تو دور چلا جائے ۔ ( رواہ ابو داود والنسائی و الترمذی و صححہ )۔ کسی چیز کی اوٹ میں بیٹھے ۔( صحیح مسلم)۔ جب زمین کے بالکل قریب ہو جائے تو ستر کھولے ۔ ( ابو داود و بیہقی و سندہ صحیح۔ التعلیقات )۔ جب قضائے حاجت سے فارغ ہو تو پانی سے استنجاء کرے ۔ ( صحیح بخاری وصحیح مسلم )۔ استنجاء بائیں ہاتھ سے کرے ، داہنے ہاتھ سے نہ کرے ۔ ( صحیح مسلم )۔ نہ داہنا ہاتھ شرم گاہ کو لگائے ۔( صحیح مسلم )۔ اگر ڈھیلوں سے استنجاء کرے تو طا ق عدد ڈھیلوں سے کرے۔ (صحیح بخاری وصحیح مسلم )۔ لیکن تین ڈھیلوں سے کم نہ ہوں ، گوبریا ہڈی سے استنجاء نہ کرے ۔( صحیح مسلم )۔ اور کوئلے سے بھی استنجاء نہ کرے ۔ ( ابو داود ، سندہ حسن ۔ مرعاۃ ج ۱ ص ۲۵۷ ) پیشاپ بیٹھ کر کرے ، اگر چھینٹوں سے بچ سکے تو کھڑے ہو کر پیشاپ کرنا جائز ہے ۔ ( صحیح بخاری )۔ نسائی ، سندہ صحیح ، فتح ج ۱ ص ۳۴۱ )۔ قضائے حاجت کرنے والوں کو آپس میں بات چیت نہیں کرنی چاہیے ۔( الحاکم ، سندہ صحیح ج ۱ ص۱۵۸ )۔ پیشاپ کرتے وقت سلام کا جواب نہ دے ۔( صحیح مسلم )۔ راستے میں یا ایسے سایہ دار مقام پر جہاں لوگ اٹھتے بیٹھتے ہوں قضائے حاجت نہ کرے ۔( صحیح مسلم )۔ بل میں پیشاپ نہ کرے ۔ ( احمد، ابو داود و سندہ صحیح ، نیل الاوطار ج ۱ ص ۷۴ )۔ رکے ہوئے پانی میں پیشاپ نہ کرے۔( صحیح مسلم )۔ غسل خانہ میں پیشاپ نہ کرے ۔( ابو داود و سندہ صحیح ،التعلیقات ج ۱ ص ۱۱۵ )۔ استنجے اور وضوء کا برتن علیحدہ علیحدہ رکھے ۔( ابو داود ، سندہ حسن، التعلیقات ج ۱ ص ۱۱۵۶)۔ جب بیت الخلاء سے نکلے تو یہ دعاء پڑھے :۔۔۔ غفرانک ۔۔۔۔ (اے اللہ میں ) تیری مغفرت( کا طلب گار ہوں )۔ پھر الٹے ہاتھ کو مٹی سے رگڑ کر دھوئے ۔ ( ابو داود،سندہ حسن ۔ التعلیقات ج ۱ ص ۱۱۶)۔ بہتر یہ ہے کہ ہر صلٰوۃ کے وقت مسواک کرے۔ ( صحیح بخاری و صحیح مسلم )۔ مسواک کے ساتھ صلٰوۃ کا ثواب ستر گنا ہوتا ہے ۔( رواہ بیہقی ، احمد و ابن خزیمہ ، الحاکم و الذھبی علی شرط مسلم ، بلوغ الامانی )۔ وضوء کرنے کا طریقہ وضوء کے پانی کو ڈھانک کر رکھے ۔ ( صحیح ابن خزیمہ جزء ۱ ص ۶۷ )۔ جب صبح سو کر اٹھے تو وضوء کے( پانی کے ) برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہاتھ کو تین بار دھوئے ( صحیح مسلم )۔ وضوء کرنے سے پہلے بسم اللہ کہے۔ ( النسائی و صحیح ابن خزیمہ ) ۔ نوٹ :۔۔ پوری بسم اللہ پڑھنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ پھر سیدھے ہاتھ میں ایک چلو پانی لے کر دونوں ہٓاتھوں کو پہنچوں تک خوب مل مل کر دھوئے یہاں تک کہ ہاتھ بالکل صاف ہو جائیں ، انگلیوں میں خلال بھی کرے ، اس طرح ہاتھوں کو تین مرتبہ دھوئے َ۔ ( صحیح مسلم ، بلوغ ج۲ ص ۶ سندہ صحیح ) ۔ پھر سیدھے ہاتھ میں ایک چلو پانی لے کرکچھ پانی منہ میں لے کر کلی کر دے اور باقی پانی کو ناک میں مبالغہ کے ساتھ چڑھائے۔ اگر روزہ دار ہو تو پانی چڑھانے میں مبالغہ نہ کرے ، پھر الٹے ہاتھ سے ناک سنکے، اگر مسواک نہ کی ہو تو منہ کو انگلیوں سے صاف کرے ، اس طرح تین دفعہ کرے۔ ہر مرتبہ کچھ پانی سے کلی کرے اور کچھ پانی ناک میں چڑھائے ۔ صحیح بخاری، النسائی،( صحیح ابن خزیمہ، احمد ، بلوغ الامانی ، ابو داود و بیہقی )۔ ( نوٹ :۔۔۔ کلی اور ناک میں علیحدہ علیحدہ چلو لینا ثابت نہیں ) پھر سیدھے ہاتھ میں ایک چلو پانی لے اور دونوں ہاتھوں کو ملا کر چہرہ دھوئے، آنکھوں کی کویوں کو ملے، اس طرح تین مرتبہ چہرہ دھوئے۔ ( صحیح بخاری، بلوغ الامانی، ابو داود واحمد )۔ پھر ایک چلو پانی لے کر ٹھوڑی کے نیچے ڈالے اور نیچے کی طرف سے ڈاڑھی کا تین مرتبہ خلال کرے ۔ ( الحاکم سندہ صحیح ،المستدرک ، صححہ الذھبی ،الدارقطنی و نیل )۔ پھر ایک چلو پانی لے کر سیدھے ہاتھ کو کہنی تک یا اس سے اوپر تک دھوئے، تین مرتبہ اس طرح کرے۔ ( صحیح بخاری و صحیح مسلم )۔ دونوں ہاتھوں کو خوب مل مل کر دھوئے ۔ ( حاکم سندہ صحیح و المستدرک ) ۔ پھر سیدھے ہاتھ میں ایک چلو پانی لےکر دونوں ہاتھوں کو تر کرے، پھر دونوں ہاتھوں سے پورے سر کا مسح کرے، دونوں ہاتھوں پیشانی پر رکھ کر گدی تک لے جائے اور پھر اسی طرح ہاتھوں کو واپس پیشانی تک لے آئے ۔ ( صحیح بخاری و صحیح مسلم ، رواہ احمد و ابن خزیمہ سندہ صحیح ) ۔ پھر انگشتہائے شہادت اور انگوٹھوں کو پانی سے تر کرے ، انگشتہائے شہادت کو کانوں کے سوراخ میں داخل کرے پھر انگشتہائے شہادت سے کانوں کے اندر مسح کرے اور انگوتھوں سے کانوں کے باہر مسح کرے ۔ رواہ الحاکم ، رواہ ابوداود ، نیل الاوطار ، ابن خزیمہ ، رواہ النسائی و صححہ الالبانی فی تعلیقاتہ علی المشکٰوۃ ) ۔ پھر سیدھے ہاتھ سے سیدھے پیر پر پانی ڈالے اور الٹے ہاتھ سے اس کو ٹخنوں تک یا اس سے اوپر تک خوب مل مل کر دھوئے ، الٹے ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے پیر کی انگلیوں میں خلال کرے۔ اس طرح سیدھے پیر کو تین دفعہ دھوئے، پھر الٹے پیر کو بھی اسی طرح تین دفعہ دھوئے ۔ ( صحیح بخاری و صحیح مسلم ، احمد و ابن خزیمہ ، رواہ البیہقی و ابو داود ، نیل الاوطار و بلوغ الامانی و الدارقطنی ) ۔ پھر ایک چلو پانی لے کر رومالی پر چھڑک لے ۔ ( رواہ احمد ، بلوغ الامانی و سندہ حسن التعلیقات ) ۔ پھر یہ دعاء پڑھے :۔۔ اشھد ان لا الہ الا اللہ و حدہ لا شریک لہ و اشھد ان محمد ا عبدہ ورسولہ،، ( صحیح مسلم )۔ اگر چاہے تو وضوء کے بعد تولیہ سے منہ پونچھ لے۔ ( رواہ الترمذی و صححہ احمد شاکر فی التعلیقاتہ) ] وہ فعل جن کے ہونے کے بعد دوبارہ وضوء کرنا ضروری ہو جاتا ہے ۔ یعنی نواقص وضوء :۔۔ پیشاپ کرنا ،، پاخانہ کرنا ،، ریاح کا خارج ہونا ( سورہ المائدہ ۶ ، صحیح بخاری و رواہ الترمذی و صححہ ) ۔ سونا ( نیند ) ۔۔ ( ابو داود سندہ صحیح ، التعلیقات ) ۔ اونگھنے سے وضوء نہیں ٹوٹتا ۔ ( صحیح بخاری و صحیح مسلم ) ۔ شرم گاہ کو ہاتھ لگانا ۔( الطبرانی و اسنادہ صحیح ، نیل الاوطار ، ابو داود و ترمذی صححہ البخاری )۔ اونٹ کا گوشت کھانا ۔ ( صحیح مسلم )۔ مذی کا خارج ہونا ۔ ( صحیح بخاری )۔ شلوار یا پاجامہ ٹخنوں سے نیچے لٹکانا ۔ ( ابو داود سندہ صحیح ، مرعاۃ ج ۲ ص ۲۰۹ ) ۔ وضوء کے متعلق متفرق مسائل ایک وضوء سے کئی صلا تیں پڑھی جا سکتی ہیں ۔ ( صحیح مسلم ) ۔ اگر ناخن برابر بھی کہیں خشک رہ جائے تو دوبارہ وضوء کرے ۔( صحیح مسلم ) ۔ پانی کے استعمال میں فضول خرچی نہ کرے ۔ ( رواہ احمد و ابو داود ،سندہ صحیح ، التعلیقات ) ۔ وضوء کے لیے ایک مد یعنی ۷۸۰ گرام پانی کافی ہے ۔ ( صحیح بخاری ) ۔ کوئی مرد کسی عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضوء نہ کرے ۔ ( ابو داود و الترمذی و سندہ صحیح ، التعلیقات )۔ اگر صلٰوۃ میں وضوء ٹوٹ جائے تو ناک پر ہاتھ رکھ کر جائے ، وضوء کرے اور صلٰوۃ دوہرائے ۔ (ابو داود ، مرعاۃ ، سندہ صحیح ) ۔ اگر کوئی ایسی چیز کھائے یا پیئے جس میں چکنائی ہو تو کلی کرے ۔ ( صحیح بخاری و صحیح مسلم اگر صلٰوۃ میں وہم ہو کہ ریاح آ گیا تو صلٰوۃ ادا کرتا رہے جب تک آواز یا بو نہ آئے ۔ ( صحیح بخاری )۔ ایک شخص دوسرے شخص کو وضوء کرا سکتا ہے ۔َ ( صحیح بخاری )۔ ایک مخلص بھائی محمد سعید طارق کویت[hr]
    بسم اللہ الرحمٰن الرحیم دین اسلام کے ماننے والوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ پاک وصاف رہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا ارشاد گرامی طہارت ( پاکیزگی ) نصف ایمان ہے۔ اس بات کو تو سب ہی جانتے ہیں۔ پاک کیسے ہوں گے؟ دین اسلام ہمیں پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ جو کہ قرآن مجید اور صحیح احادیث میں محفوظ ہے ۔ آئیں سب سے پہلے غسل کے بارے میں دیکھتے ہیں کہ ہمارا دین اسلام ( قرآن مجید اور صحیح احادیث) اس عمل میں ہمیں کیا سکھاتا ہے ۔ بعض لوگ شرم کی وجہ سے ایسے مسائل پوچھنے سے کتراتے ہیں جبکہ یہ صحیح نہیں ہے ۔ ہمیں علم حاصل کرنے کے لیے ہر قسم کی معلومات کے متعلق پوچھنا ضروری ہے ورنہ غلطی پر غلطی ہوتی رہے گی اور گناہ لازم ہو گا ۔ یہ اس لیے غسل کے متعلق لکھا ۔ انشاء اللہ آئندہ وضوء کے بارے میں لکھوں گا۔ تاکہ شرمیلے لوگوں کی اصلاح ہو جائے ۔ غسل کن کن حالات میں کرنا چاہیئے۔ ۱ : اسلام قبول کرنے کے بعد غسل کرنا چاہیئے۔ ( صحیح ابن خزیمہ سندہ صحیح) ۔ ۲: جب مرد اور عورت کی شرمگائیں مل جائیں تو غسل فرض ہو جاتا ہے ۔ ( صحیح مسلم)۔ ۳: احتلام ہو تو بھی غسل فرض ہو جاتا ہے ۔ ( صحیح بخاری )۔ ۴: جمعہ کے دن غسل کرنا ضروری ہے ۔ ( صحیح بخاری و صحیح مسلم )۔ ۵: جو شخص میت کو نہلائے اسے غسل کرنا چاہیئے ۔ ( رواہ الترمذی، صححہ ابن حبان و ابن حزم، نیل، صححہ الا لبانی، صححہ الحاکم و الذھبی)۔ ۶: احرام باندھتے وقت غسل کرنا چاہیئے ۔ ( رواہ الحاکم و سندہ صحیح، المستدرک )۔ ۷: عورت کو اذیت ماہانہ اور نفاس کے بعد غسل کرنا فرض ہے۔ ( صحیح بخاری )۔ غسل کے متفرق مسائل حالت جنابت میں رکے ہوئے پانی میں غسل نہ کرے۔( صحیح مسلم)۔ پانی میں فضول خرچی نہ کرے ۔ ( احمد و ابو داود و ابن ماجہ و سندہ صحیح، التعلیقات )۔ غسل کے لیے تقریباً سوا صاع یعنی چار کلو گرام پانی کافی ہے ۔ ( صحیح بخاری )۔ برہنہ ہوکر پانی میں داخل نہ ہو۔ ( ابن خزیمہ، صححہ الحاکم و الذھبی۔ المستدرک)۔ نہاتے وقت پردہ کر لے ۔ ( رواہ ابو داود و النسائی و احمد و سندہ حسن۔ التعلیقات للالبانی علی المشکوٰۃ )۔ اسلام قبول کرنے کے بعد بیری( کے پتوں) اور پانی سے نہائے ۔ (ابن خزیمہ و اسناد صحیح)۔ اگر عورت کے بال مضبوطی سے گندے ہوئے ہوں تو انہیں کھولنے کی ضرورت نہیں۔ ( صحیح مسلم) ۔ مرد عورت کے اور عورت مرد کے بچے ہوئے پانی سے غسل نہ کرے۔ ( ابوداود و النسائی سندہ صحٰح ، التعلیقات )۔ مرد اپنی بیوی کے بچے ہوئے پانی سے غسل کر سکتا ہے ۔ ( صحیح مسلم )۔ فرض غسل کرنے کے بعد دوبارہ وضوء کرنے کیضرورت نہیں۔ ( رواہ الترمذی و صححہ)۔ غسل کرنے کا طریقہ حمام میں داخل ہونے کی دعاء بسم اللہ اعوذباللہ من الخبث و الخبائث ( رواہ العمری بسند صحیح ، فتح الباری جزء ۱ ) ۔ برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے ہاتھوں کو تین مرتبہ دھوئے۔ ( صحیح مسلم )۔ پھر بائیں ہاتھ سے اپنی شرم گاہ اور نجاست کو دھوئے۔ ( صحیح بخاری ) پھر بائیں ہاتھ کو زمین پر دو تین مرتبہ خوب رگڑے اور پھر اسے دھو ڈالے ۔ ( صحیح بخاری و صحیح مسلم )۔ پھر اسی طرح وضوء کرے جس طرح صلٰوۃ کے لیئے وضوء کیا جاتا ہے۔ ( صحیح بخاری )۔ یعنی تین مرتبہ کلی کرے ، تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالے، کلی اور ناک مین پانی ایک چلو سے ڈالیں ۔ ( صحیح بخاری، رواہ ابن خزیمہ سندہ حسن، رواہ احمد و روی النسائی و ابو داود و ابن حبان و بلوغ الامانی جزء ۲ فتح الباری جزء ۱ ) تین دفعہ چہرہ دھوئے اور تین دفعہ دونوں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے ۔ ( رواہ النسائی اسناد صحیح ، فتح الباری جزء ۱ )۔ پھر انگلیاں پانی سے تر کرے اور سر کے بالوں کی جڑوں میں خلال کرے ،یہاں تک کہ سر کی جلد تر ہو جانے کا یقین ہو جائے پھر سر پر تین مرتبہ پانی بہائے ۔ ( صحیح بخاری ) پھر باقی تمام بدن پر پانی بہائے ۔ پہلے دائیں طرف پھر بائیں طرف ۔ ( صحیح بخاری ) پھر دونوں پیر ( پاوں) دھوئے انگلیوں کے خلال کے ساتھ ۔ ( صحیح بخاری[/size]

    [size=x-large] ناراضگی ظاہر کرنا دل میں برائی رکھنے سے بہتر ہے[/size]

  2. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,138
    شکریہ
    2,101
    1,212 پیغامات میں 1,584 اظہار تشکر

    RE:قضائے حاجت اور استنجاء کرنے کے طریقے

    ماشاء اللہ
    ......... شکریہ اس اچھی شئیرنگ کا

  3. #3
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,861
    شکریہ
    949
    877 پیغامات میں 1,102 اظہار تشکر

    RE: قضائے حاجت اور استنجاء کرنے کے طریقے

    تھینکس فار شیئرنگ

  4. #4
    معاون
    تاريخ شموليت
    Dec 2010
    پيغامات
    33
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    RE: قضائے حاجت اور استنجاء کرنے کے طریقے

    جزاک اللہ بہترین

  5. #5
    مبتدی
    تاريخ شموليت
    Mar 2011
    پيغامات
    18
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    RE: قضائے حاجت اور استنجاء کرنے کے طریقے

    جزاک اللہ
    بہت اچھی پوسٹ ہے.........

  6. #6
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Dec 2010
    مقام
    کراچی
    پيغامات
    393
    شکریہ
    65
    55 پیغامات میں 107 اظہار تشکر

    RE: قضائے حاجت اور استنجاء کرنے کے طریقے

    [size=x-large]جزاک اللہ خیراً۔
    آپ کا مضمون پڑھا، مضمون اچھا ہے ، لیکن بندہ اپنی کم علمی کا اعتراف کرتے ہوئے کچھ اشکالات کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانے کی جسارت کررہا ہے۔ اُمید ہے کہ اس کی طرف توجہ فرمائیں گے۔
    آپ کے مضمون میں ایک جگہ یہ لکھا ہے کہ وہ چیزں یا اُمور جن کے کرنے کے بعد وضو کو دہرانا چاہیے ان میں سے ایک آپ نے یہ لکھا ہے کہ شرم گاہ کو ہاتھ لگانے کے بعد دوبارہ وضو کرنا چاہیے حالاں کہ میں نے کہیں یہ نہیں سنا یا پڑھا کہ شرم گاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، اسی طرح آپ نے فرمایا کہ اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کو دہرانا چاہیے یہ بات بھی میرے علم میں نہیں، ساتھ ہی آپ نے لکھا ہے کہ شلوار یا پاجامہ ٹخنوں سے نیچے لٹکانا، وغیرہ ان اُمور کی طرف متوجہ کرنا مقصود ہے۔ جبکہ میرے ناقص علم کے مطابق میں نے کہیں پر یہ نہیں پڑھا کہ مندرجہ بالا اُمور نواقض وضو میں شامل ہیں اور ان کے کرنے کے بعد وضو دہرانے کی کوئی ضرورت ہے۔۔۔
    اُمید ہے کہ اس معاملہ کی طرف توجہ فرمائیں گے۔۔
    جزاک اللہ خیراً
    [/size]

  7. #7
    ناظم
    تاريخ شموليت
    Feb 2011
    پيغامات
    3,081
    شکریہ
    21
    91 پیغامات میں 134 اظہار تشکر

    RE: قضائے حاجت اور استنجاء کرنے کے طریقے

    شرم گاہ کو ہاتھ لگانے کے بعد دوبارہ وضو کرنا چاہیے حالاں کہ میں نے کہیں یہ نہیں سنا یا پڑھا کہ شرم گاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، اسی طرح آپ نے فرمایا کہ اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کو دہرانا چاہیے یہ بات بھی میرے علم میں نہیں، ساتھ ہی آپ نے لکھا ہے کہ شلوار یا پاجامہ ٹخنوں سے نیچے لٹکانا، وغیرہ ان اُمور کی طرف متوجہ کرنا مقصود ہے۔ جبکہ میرے ناقص علم کے مطابق میں نے کہیں پر یہ نہیں پڑھا کہ مندرجہ بالا اُمور نواقض وضو میں شامل ہیں اور ان کے کرنے کے بعد وضو دہرانے کی کوئی ضرورت ہے۔۔۔
    ہوسکے توآحادیثوں کے حوالاجات لکھہ دیں مجھے خود بھی اس حوالے سے معلومات درکارہیں.

  8. #8
    ناظم
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,307
    شکریہ
    0
    50 پیغامات میں 68 اظہار تشکر

    RE: قضائے حاجت اور استنجاء کرنے کے طریقے

    سرحدی بھای آپ نے جو کہا بلکل صحیح کہا اس لیے اگر ایسی کوی بات ہے مجھ سے کہیں بھول ہوی ہے آپ کا شکریہ آپ نے بتایا باقی سب ساتھیو کا بھی بھت بھت شکریہ جو میرا حوصلہ بڑھاتے ہیں باقی ماشااللہ بےباک بھای ہم سے زیادھ مطالعہ رکھتے ہیں ان سے گزارش ہے اگر ایسی کوی بات ہو تو اس کو درست کر دیا کریں شکریہ.

    [size=x-large] ناراضگی ظاہر کرنا دل میں برائی رکھنے سے بہتر ہے[/size]

  9. #9
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,138
    شکریہ
    2,101
    1,212 پیغامات میں 1,584 اظہار تشکر

    RE: قضائے حاجت اور استنجاء کرنے کے طریقے

    شرم گاہ کو ہاتھ لگانے کے بعد دوبارہ وضو کرنا چاہیے حالاں کہ میں نے کہیں یہ نہیں سنا یا پڑھا کہ شرم گاہ کو ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، اسی طرح آپ نے فرمایا کہ اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد وضو کو دہرانا چاہیے یہ بات بھی میرے علم میں نہیں، ساتھ ہی آپ نے لکھا ہے کہ شلوار یا پاجامہ ٹخنوں سے نیچے لٹکانا، وغیرہ ان اُمور کی طرف متوجہ کرنا مقصود ہے۔ جبکہ میرے ناقص علم کے مطابق میں نے کہیں پر یہ نہیں پڑھا کہ مندرجہ بالا اُمور نواقض وضو میں شامل ہیں اور ان کے کرنے کے بعد وضو دہرانے کی کوئی ضرورت ہے۔۔۔
    ..............................
    ا:میرے مطالعہ میں یہ بات آئی ہے کہ شرم گاہ کو ھاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا ، یہ سوال مخلتف ادوار میں میں فقہاء سے پوچھا گیا ، تو انہوں نے اسے آپ کے جسم کا حصہ قرار دیا ،اور جس طرح جسم کے باقی حصوں کو ھاتھ لگانے سے وضو نہیں ٹوٹتا ، اسی طرح یہاں بھی نہیں ٹوٹتا ،ان اعضاء کو نجس نہیں کہا گیا ،
    2: اونٹ کا گوشت کھانے سے پیٹ سے بہت زیادہ ریاح کا اخراج ہوتا ہے ، اونٹ کے گوشت میں طبعی طور پر بہت زیادہ گرمی پائی جاتی ہے ، توعموما ایسا امکان رہتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ وضو ٹوٹ چکا ہو ،اس لیے اس طرف توجہ دلائی گئی ہے ،اگر آپ متاکد ہیں کہ آپ کا وضو نہین ٹوٹا تو پھر کوئی حرج نہیں ،
    3: شلوار اور پاجامہ ٹخنوں سے نیچے کے بارے ممانعت فرمائی ، اس کا وضو کے ساتھ کوئی تعلق نہیں .نہ نواقص وضو میں یہ شمار ہوتے ہیں ،
    ..........

  10. #10
    ناظم
    تاريخ شموليت
    Feb 2011
    پيغامات
    3,081
    شکریہ
    21
    91 پیغامات میں 134 اظہار تشکر

    RE: قضائے حاجت اور استنجاء کرنے کے طریقے

    بے باک بھائی ان مفیدمعلومات کے لیے بہت بہت شکریہ.

صفحہ 1 از 2 12 آخریآخری

متشابہہ موضوعات

  1. اُس نے آہستہ سے جب پُکارا مجھے
    By تانیہ in forum متفرق شاعری
    جوابات: 3
    آخری پيغام: 06-29-2014, 12:12 AM
  2. دین پر استقامت
    By گلاب خان in forum متفرق موضوعات
    جوابات: 0
    آخری پيغام: 08-05-2012, 04:56 PM
  3. استقبالِ رمضان
    By زوہا in forum متفرق موضوعات
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 07-21-2012, 01:02 PM
  4. چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ
    By تانیہ in forum متفرق شاعری
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 04-03-2012, 09:53 AM
  5. صراطِ مستقیم
    By وحید احمد ریاض in forum قرآن کریم
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 08-27-2011, 03:11 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University