نتائج کی نمائش 1 تا: 5 از: 5

موضوع: شیرشاہ سوری

  1. #1
    رکنِ خاص سقراط کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,469
    شکریہ
    35
    149 پیغامات میں 217 اظہار تشکر

    شیرشاہ سوری

    [align=center][/align]
    شیرشاہ سوری کا اصل نام فرید خان تھا۔ 1486ع میں پیدا ہوئے جونپور میں تعلیم پائی ۔21 سال والد کی جاگیر کا انتظام چلایا پھر والئ بہار کی ملازمت کی۔ جنوبی بہار کے گورنر بنے۔ کچھ عرصہ شہنشاہ بابر کی ملازمت کی بنگال بہاراور قنوج پر قبضہ کیا مغل شہنشاہ ہمایوں کو شکست دے کر ہندوستان پر اپنی حکمرانی قائم کی۔ اپنی مملکت میں بہت سی اصلاحات نافذ کیں۔ اپنے تعمیری کاموں کی وجہ سے ہندوستان کے نپولین کہلائے سنار گاؤں سے دریائے سندھ تک ایک ہزار پانچ سو کوس لمبی جرنیلی سڑک تعمیر کروائی جو آج تک جی ٹی روڈ کے نام سے موجود ہے۔

    شہنشاہ اکبر مملکت کا انتظام چلانے میں شیرشاہ سے بڑا متاثر تھا۔ 22 مئ 1545ع میں بارود خانہ کے اچانک پھٹ جانے سے وفات پائی۔

    تاریخ دان شیر شاہ سوری کو برصغیر کی اسلامی تاریخ کا عظیم رہنما, فاتح اور مصلح مانتے ہیں۔ اردو ادب میں شیر شاہ سوری سے متعلق کئی مثالی قصے ملتے ہیں۔

    شیر شاہ سوری (1476ء تا 1545ء) ایسا فرماں روا تھا جس کی ستائش نامور مؤرخین اور عالمی مبصرین کرتے رہے ہیں۔ وہ ہندوستان کا پہلا حکمران تھا جس نے عوامی فلاح کی جانب اپنی بھرپور توجہ دی اور ایسے ایسے کارنامے انجام دیے جو تاریخ کی کتب میں سنہرے حروف میں تو لکھے ہی گئے، ان کے نقوش آج تک موجود ہیں۔

    ساڑھے پانچ سو سال قبل اس نے زرعی اصلاحات کا کام شروع کروا دیا تھا، جس کی پیروی بعد کے حکمرانوں نے کی۔ شیر شاہ نے سہسرام سے پشاور تک گرینڈ ٹرنک روڈ یعنی جرنیلی سڑک کی تعمیر کروائی تھی اور اس کے کنارے کنارے سایہ دار اور پھل دار اشجار لگوائے، سرائیں تعمیر کروائیں اور سب سے پہلا ڈاک کا نظام نافذ کیا تھا۔

    اگرچہ فرید خان سور المعروف شیر شاہ ایک معمولی جاگیردار کا بیٹا تھا۔ اس کے والد حسن خان سور کا خاندان افغانستان سے ہجرت کرکے ہندوستان آئے تھے اور وہ بابر کے معمولی جاگیردار تھے لیکن دلیر پرجوش اور جواں مرد اور اول العزم شیر شاہ نے مغل سلطنت کے بنیاد گزار بابر کے صاحبزادے ہمایوں کو ایک بار نہیں دو دو بار شکست دی۔ پہلی بار چوسہ کے میدان میں اور دوسری بار قنّوج کے میدان میں۔ اُس کے بعد ہمایوں کو برسوں دربدری کی زندگی گزارنی پڑی اس دربدری کے دور میں ہی اکبر کی پیدائش ہوئی تھی جو بعد میں تاریخ کا اکبر اعظم بنا۔

    اپنی جدوجہد سے شیر شاہ نے عظیم سلطنت قائم کی تھی۔ لیکن اس نے اپنی آخری آرام گاہ کے طور پر سہسرام کو ہی پسند کیا تھا اس لیے اپنی زندگی میں ہی کیمور کی پہاڑی پر مقبرہ تعمیر کروایا تھا جس کے چاروں جانب جھیل پھیلی ہوئی ہے۔

  2. #2
    رکنِ خاص سقراط کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,469
    شکریہ
    35
    149 پیغامات میں 217 اظہار تشکر

    RE: شیرشاہ سوری

    [align=center]اب اس مقبرے کا کیا حال ہے ملاحظہ فرمائیں[/align]

    عہد وسطی کے عظیم افغان بادشاہ شیرشاہ سوری کا مقبرہ حکومت ہند کے اعلان کے مطابق ’سرکاری حفاظت‘ میں ہے لیکن فنِ تعمیر کی یہ منفرد مثال اپنی بقاء کی سخت جنگ میں تنہا نظر آتی ہے۔

    بہار کے دارالحکومت پٹنہ سے تقریباً پونے دو سو کیلو میٹر دور شہر سہسرام میں واقع اس مقبرہ کی دیواروں میں لگے پتھر چٹخ رہے ہیں اور عمارت کے بعض حصے ٹوٹ کر گر گۓ ہیں۔

    یہاں کبوتروں اور شہد کی مکھیوں نے اپنے آشیانے بنا لۓ ہیں مقبرے کا اندرونی حصہ تاریک رہتا ہے اور یہاں مکڑیوں کے جالے پھیلے رہتے ہیں۔
    مقامی لوگ اسے پانی والا روضہ کہتے ہیں ۔

    کبھی یہاں نہر سے پانی آتا تھالیکن اب یہ بند ہے اور اس میں مورتیاں ’وسرجت’ کی جاتی ہیں۔

    اس تاریخیی مقام پر آکر یہ احساس ہوتا ہے کہ کوئی تاریخی ورثہ کیسے تاریخ کے باقیات میں شامل ہو جاتا ہے۔ سہسرام میں ایک دو اچھے ہوٹل دیکھ کر لگا کہ شاید یہ روضہ دیکھنے والوں کی سہولت کے لۓ ہوں گے مگر یہ جان کر سخت حیرت اور افسوس ہوا کہ یہ ہوٹل چاول کے تاجروں کی بدولت بھرے رہتے ہیں۔

    تاریخ کے استاد اور خدا بخش لائبریری کے ڈائرکٹر پروفیسر ڈاکٹر امتیاز احمد نے بتایا کہ یہ واحد مقبرہ ہے جو جھیل کے بیچ و بیچ ہے اور ہندوستان میں اسکے بعد کوئی ہشت محل مقبرہ نہیں بنا۔

    ہندوستان میں یہ سب سے اونچا مقبرہ تصور کیا جاتا ہے۔ کچھ ہی فاصلے پر شیرشاہ کے والد حسن خاں سورر کا مقبرہ ہے جو ’سوکھا روضہ‘ کہلاتا ہے۔

    مقبرہ کا اندرونی حصہ بالکل تاریک رہتا ہے۔ شیر شاہ کے قبر کی پہچان اس پر ڈالی گئ چادر سے کرائئ جاتی ہے۔

    حکومت ہند کے محکمہ آثار قدیمہ نے شیرشاہ کے مقبرہ کو تحفظ یافتہ قرار دیا ہے۔ اس کےاعلان کے مطابق اس عمارت کے سو میٹر کے دائرے کو ’انتہائی ممنوع‘علاقہ مانا گیا ہے اور اس کے دو سو میٹر فاصلے کو ’مقررہ علاقہ‘ قرار دیا گیا ہے۔

    اس اعلان کے مطابق سو میٹر کے دائرہ میں کسی طرح کی تعمیر ممنوع ہے۔

    سرکار کے اعلانات اپنی جگہ، حقیقت یہ ہے کہ مقبرہ کے احاطے میں ہی ایک مندر اور شادی کا منڈپ بنا دیا گیا ہے۔

    مقبرہ سے متصل بھی کئ عمارتیں تعمیر کی گئ ہیں۔ آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا، پٹنہ سرکل کی سپرینٹینڈنگ آرکیولوجسٹ ڈاکٹر ارمیلا سنت کہتی ہیں کہ حالت یہ ہے کہ اس تاریخی عمارت کے لۓ سانس لینے کی جگہ بھی نہیں بچی۔

    مندر کا معاملہ کورٹ میں ہے، اسلۓ اس موضوع پر کوئی کچھ نہیں کہنا چاہتا۔

    مکھیوں کے چھتے
    محفوظ قرار دی جانے والی تاریخی عمارت کا حال

    ہم نے جب یہ جاننا چاہا کہ روضے کے چاروں طرف کا پانی بدبودار کیوں ہے تو سہسرام کے کنزرووشن اسسٹنٹ نیرج کمار نے بتایا کہ آس پاس کے گھروں کی نالیاں اسی میں گرتی ہیں اور درگا پوجا کے دوران مورتیاں اسی میں ’وسرجت’ کی جاتی ہیں۔

    یہاں سے پانی کا آنا جانا اسلۓ بند ہے کہ محکمہ آبپاشی والوں نے اس کے راستے بند کر دئے ہیں۔ ڈاکٹر سنت کہتی ہیں کہ وہ اس بات کے لۓ کوشاں ہیں کہ نالی کا پانی اس میں نہ گرے اور نہر سے اسے تازہ پانی ملنے لگے۔

    ہم نے جب کبوتروں اور شہد کی مکھیوں کا تذکرہ کیا تو دونوں اہلکاروں نے کہا کہ وہ کبوتروں کا تو کچھ نہیں کر سکتے البتہ شہد کی مکھیوں کے چھتے کو جلد ہی ہٹا لیا جاۓگا۔

    دیواروں میں جو شگاف ہیں اس کے بارے میں ڈاکٹر سنت نے بتایا کہ جلد ہی اسکی مرمت کی جاۓگی۔

    سہسرام کے ضلع میجسٹریٹ احسان احمد سے جب یہ پوچھا گیا کہ شہر کی نالیاں روضہ کی جھیل میں کیوں گرتی ہیں تو انہوں نے بتایا کہ جلد ہی میونسپیلیٹی کے نالے بناۓ جائیں گے۔

    محکمہ آثار قدیمہ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ضلع انتظامیہ کی عدم دلچسپی کی وجہ سے مقبرہ کی حالت بد تر ہوئی ہے۔

    وہاں مورتیاں ڈبونے کی وجہ سے کافی گندگی پھیلی رہتی ہے۔ دوسری جانب ضلع میجسٹریٹ کہتے ہیں کہ سال میں ایک بار ہی ایسا ہوتا ہے۔ ’کیا اس بار اسے روکا جائے گا؟

    شیر شاہ کا مقبرہ
    مقبرے کے احاطے میں مندر

    اس سوال کے جواب میں وہ کہتے ہیں کہ ابھی تو پوجا میں بہت دیر ہے۔

    مقبرے کے اطراف میں تعمیرات کو آثار قدیمہ والے لاقانونیت کا مسلہ مانتے ہیں۔ ڈاکٹر سنت کہتی ہیں کے اس سلسلے میں متعدد بار ضلع انتظامیہ کو لکھا گیا، کمشنر سے لیکر چیف سکریٹری تک کو اطلاع دی گئی مگر کو ئی فائدہ نہ ہوا۔
    ضلع میجسٹریٹ احسان احمد اسے قانون کا مسلہ ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ اس ورثہ کی حفاظت محکمہ آثار قدیمہ کی ذمےداری ہےانتظامیہ کیا کریگی۔

    بی بی سی اردو

  3. #3
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,873
    شکریہ
    949
    881 پیغامات میں 1,108 اظہار تشکر

    RE: شیرشاہ سوری

    مرنے کے بعد بھی اپنے لیے حسین و خوبصورت مقام پہ آرام گاہ چنی ۔۔۔۔بہت خوب
    دلچسپ و معلوماتی شیئرنگ کےلئے بہت شکریہ

  4. #4
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2012
    پيغامات
    5,446
    شکریہ
    138
    96 پیغامات میں 104 اظہار تشکر

    RE: شیرشاہ سوری

    اچھی شیئرنگ کا شکریہ

  5. #5
    رکنِ خاص ابوسفیان کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Apr 2012
    پيغامات
    426
    شکریہ
    94
    14 پیغامات میں 19 اظہار تشکر

    شیرشاہ سوری




    ●▬▬▬▬๑۩۩๑▬▬▬▬▬●●▬ ▬▬๑۩۩๑▬▬▬▬▬●

    نائس شیئرنگ
    سقراط جی
    شکریہ

متشابہہ موضوعات

  1. سوالوں کی گرہ میں سوال
    By بےباک in forum قلم و کالم
    جوابات: 0
    آخری پيغام: 11-30-2012, 09:49 AM
  2. سفر سوات پاکستانی سوئٹزر لینڈ
    By شاہنواز in forum سیر و سیاحت
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 11-27-2012, 03:23 PM
  3. سورہ فاتحہ
    By گلاب خان in forum حدیث شریف
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 07-27-2012, 06:33 PM
  4. سودا ہے کوئ سر میں نہ سودائ کا ڈر ھے
    By عبادت in forum میری پسندیدہ شاعری
    جوابات: 0
    آخری پيغام: 12-21-2011, 01:46 AM
  5. منافع کا سودا
    By محمدانوش in forum سیرت سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
    جوابات: 3
    آخری پيغام: 01-26-2011, 09:23 AM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University