نتائج کی نمائش 1 تا: 2 از: 2

موضوع: شق الپاکستان ۔پاکستان کا ٹکرے ہونا ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان

  1. #1
    معاون
    تاريخ شموليت
    Jan 2012
    پيغامات
    75
    شکریہ
    1
    1 پیغام میں 1 اظہار تشکر

    شق الپاکستان ۔پاکستان کا ٹکرے ہونا ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان

    [align=center][size=xx-large]
    شق الپاکستان...سحر ہونے تک…ڈاکٹر عبدالقدیرخان
    [/size][/align]

    دنیا کی ہر قوم پر اچھے اور برے وقت پڑتے رہے ہیں اور پڑتے رہیں گے اور عموماً عوام اچھے واقعات کو تو ذوق و شوخ سے مناتے ہیں اور بُرے واقعات کو قالین یا دری کے اندر چھپا کر بھول جانا چاہتے ہیں۔ سمجھدار قومیں اچھی باتوں اور واقعات کو زورشور سے منا کر قوم کا حوصلہ بڑھاتی ہیں ان کو احساس برتری دلاتی ہیں اور ان میں خود اعتمادی پیدا کرتی ہیں اور بُرے واقعات یا حادثات کو یاد کرکے اس سے سبق حاصل کرتی ہیں اور کوشش کرتی ہیں کہ وہ غلطیاں نہ دہرائیں جن کی وجہ سے وہ بُرے حادثات کا شکار ہوئی تھیں۔ بدقسمتی سے مسلمانوں کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ حکمرانوں نے قوّت کے نشے میں اور عیش و عشرت کی مستی میں ان بُرے اور تباہ کن حادثات کو بھلا دیا جو پہلے ان کے پیشروؤں کی تباہی و بربادی کا باعث بنے تھے اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہماری بڑی بڑی طاقتور سلطنتیں تباہ ہوگئیں۔ آپ کے سامنے بنواُمیہ، خلافت عباسیہ، سلطنت خوارزم شاہ، منگولوں کی سلطنت، مغلوں کی سلطنت، سلطنت عثمانیہ کا زوال، اسپین میں مسلمانوں کا زوال جیسی مثالیں موجود ہیں۔ یہ تو مسلمان حکومتوں کے زوال کی مثالیں ہیں خود عیسائی حکومتیں بھی انہیں حادثات کا شکار رہی ہیں۔ ہٹلر نے نپولین کی روس پر تباہ کن مہم اور اس کی تباہی کو نظر انداز کرکے دوسری جنگ عظیم میں روس پر حملہ کردیا اور اپنی تباہی کا بیج بو دیا۔ اگر ہٹلر روس پر حملہ نہ کرتا تو جنگ کے مختلف نتائج نکل سکتے تھے اور ممکن ہے کہ انگلستان جلد ہی کھنڈرات میں تبدیل ہوگیا ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ جب کسی کو تباہ کرنا چاہتا ہے، ان کے ظلم و برُے اعمال کی وجہ سے پہلے تو ان کی عقل سلب کرلیتا ہے اور پھر تباہ کردیتا ہے۔
    ہم نے ابھی تک اپنے ملک کو پیش آنے والے تباہ کن واقعات سے کچھ نہیں سیکھا۔ ابھی ہمارے سامنے16 دسمبر1971ء کا شرمناک اور ذلت آمیز واقعہ ہے۔ لاکھوں نہیں کروڑوں افراد اس ملک کے ٹوٹنے اور اس کے اسباب سے واقف ہیں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے حکمراں اور عسکری قیادت اس ذلت آمیز واقعے کو یا تو جانتی نہیں ہے یا ارادتاً بھول گئی ہے۔ یہ اتنا بڑا سانحہ تھا، ایک ملک ٹوٹ گیا، ہزاروں افراد قتل ہوگئے، عورتوں کی عصمت لوٹی گئی، 92 ہزار فوجی قیدی بنا دیئے گئے ان کی جو بے عزتی کی گئی وہ پاکستان میں تو نہ دکھائی گئی مگر مغربی ممالک میں پوری تفصیل سے دکھائی گئی اور زندگی میں یہ پہلا موقع تھا کہ میں رودیا تھا، اتنا سنگین اور بڑا حادثہ ہوا اور کسی کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔ بھٹو صاحب نے جسٹس حمودالرحمن کی سربراہی میں ایک کمیشن بنایا جس کا مقصد ان افراد کی نشاندہی کرنا تھا جو اس ذلت آمیز حادثے کے ذمہ دار تھے۔ رپورٹ تیار ہوگئی،دو،دو، تین تین چھوٹی چھوٹی باتیں مختلف ذرائع سے اخبارات میں شائع ہوتی رہیں مگر بھٹو صاحب میں اتنی جرأت نہ ہوئی کہ اس کمیشن کی رپورٹ شائع کرا دیتے اور عوام کو تمام واقعات سے آگاہی حاصل ہوجاتی۔ تقریباً 30 سال بعد یہ رپورٹ ہندوستان میں شائع ہوئی اور اس کو ہمارے اخبارات نے شائع کیا۔ جسٹس حمودالرحمن نے جن لوگوں کو اس سانحے کا مجرم قرار دیا تھا ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔یحییٰ خان کو قومی پرچم میں توپوں کی سلامی کے ساتھ دفن کیا گیا اور باقی ذمہ دار لوگ بھی اعلیٰ عہدوں پر تعینات کئے گئے اور زندگی کے مزے لوٹتے رہے۔ رپورٹ میں چند ان سورماؤں کی بھی پول کھولی گئی تھی جو بعد میں سینہ تانے ہم پر حکمرانی کرتے رہے۔
    ہمیں علم ہے کہ مارچ 1971ء میں جنرل یحییٰ خان نے جنرل ٹکاخان سے مشرقی پاکستان میں آرمی ایکشن کرایا تھا اور اپنی ہی فوج کو اپنے ہی شہریوں اور بہن بھائیوں پر بے لگام چھوڑ دیا تھا۔ انسان کی نفسیات میں شامل ہے کہ جب بھی اس کے ہاتھ میں اختیار یا قوت آتی ہے تو نرم سے نرم تاثر دینے والا شخص بھی ظلم و ستم کرنے سے گریز نہیں کرتا اور آہستہ آہستہ اس میں اضافہ کرتا جاتا ہے یہی کیفیت مشرقی پاکستان میں پیش آئی۔ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے عہدیداروں نے دل کھول کر اپنی بھڑاس نکالی اور سخت ظلم و ستم ڈھائے۔ یہ تمام چیزیں مغربی ذرائع ابلاغ پوری طرح اپنے عوام کو دکھا رہے تھے اور ان کو تفصیلات سے آگاہ کررہے تھے۔ ان واقعات کو دیکھ کر خود کو شرم آرہی تھی کہ ہم اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر اس قسم کے ذلیل کاموں میں مشغول تھے۔ تمام پاکستانی جانتے ہیں کہ مشرقی پاکستان کے باشندوں کے ساتھ مغربی پاکستان کے حکمرانوں کا غیر مساوی رویّہ تھا۔ ان کو اپنی آبادی اور تعلیم کے مطابق نمائندگی نہیں دی گئی تھی، ان کو کمتر اور کمزور سمجھا جاتا تھا۔ مغربی پاکستان کے جو افسران وہاں تعینات کئے جاتے تھے ان کا رویہ وہی تھا جو انگریز کے دور میں انگریز افسران کا ہندوستانیوں کے ساتھ ہوتا تھا۔ اس وقت یعنی جب پاکستانی فوج نے ٹکاخان کی سربراہی میں آرمی ایکشن شروع کیا تھا تو ہمارے نہایت ہی قابل احترام مرحوم حبیب جالب نے اس پر ان الفاظ میں خبردار کیا تھا:
    محبت گولیوں سے بو رہے ہو
    وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو
    گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
    یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو
    اسلامی تاریخ ایسے واقعات سے بھرپور ہے جہاں آپس کی لڑائیوں اور جنگوں نے ہمیں تباہ کردیا۔ بنو امیہ، عباسی، خوارزم شاہی، تیمور اور سلطان بایزید یلدرم کے درمیان جنگوں نے اور آخر میں عربوں اور ترکوں کی جنگ نے مسلمان حکومتوں کی جڑیں کھوکھلی کردیں، ہندوستان میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا۔ اورنگزیب کی بھائیوں کی لڑائی اور قتل و غارتگری نے حکومت کی بنیادیں ہلادیں اور اس کی موت کے بعد اتنی بڑی حکومت چند برسوں میں ٹکڑے ٹکڑے ہوگئی اور انگریزوں کے قبضہ کی راہ ہموار ہوگئی۔ پہلے بنگال میں سراج الدولہ کا خاتمہ ہوا اور پھر میسور میں ٹیپو سلطان کا خاتمہ ہوا اور دونوں زوالوں میں مسلمان ساتھیوں نے ہی کلیدی رول ادا کیا تھا۔
    اس وقت ملک میں جو خطرناک اور نازک حالات ہیں یہ پچھلے تباہ کن حالات سے مختلف نہیں جو1971ء میں مشرقی پاکستان میں تھے۔ اس وقت بھی حکمراں اور عسکری قیادت اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ وہ ملک کے دشمنوں سے نبردآزما ہیں اور جلد یا بدیر ان کو ختم کردیں گے اور ملک کو ”دہشت گردوں“ سے نجات دلا دیں گے۔ اس وقت دونوں ہی شاہ سے زیادہ وفاداری کا ثبوت دینے میں سرگرم ہیں۔ بدقسمتی سے انہوں نے اپنے ہی لوگوں کے خلاف جنگ کو جس کو ایک جاہل اور ضمیر فروش ڈکٹیٹر نے اپنے مفاد میں اپنا لیا تھا، ایک جہاد سمجھ لیا ہے۔ یہ امریکی جنگ ہے اور ہم امریکیوں سے ڈالر لے کر مرسنری فوج کا کردار ادا کر رہے ہیں اور اپنے ہی عوام کو بے دردی سے قتل کررہے ہیں۔ ہمارے حکمراں اور عسکری قیادت یہ بات نظر انداز کررہے ہیں یہ مخالفین بنگالیوں کی طرح نرم مزاج اور امن پسند نہیں ہیں، یہ لوگ پوری دنیا میں اپنی بہادری اور جنگی صلاحیتوں کی وجہ سے مشہور ہیں۔ یہ اپنے ہتھیار خود بناتے ہیں اور بہت اعلیٰ ہتھیار بناتے ہیں اور یہ یقینا ہماری قومی یکجہتی کا شیرازہ بکھیر سکتے ہیں۔ حکومت اور عسکری قیادت امریکہ کی غیرموثر معاشی اور فوجی امداد کو قبول کرکے اس جنگ میں شامل ہیں اور ہلاک ہونے واالے بے چارے عام شہری اور عام سپاہی ہیں جن کے مرنے پر چند تعریفی کلمے ادا کردیئے جاتے ہیں اور ایک حقیر سی رقم ان کے گھر والوں کو دے دی جاتی ہے۔ یہ وہ رقم ہوتی ہے جس سے تین چار مرلہ کا گھر بھی نہیں بنایا جاسکتا یا یہ رقم بنک میں رکھ کر کفایت سے گھر کا خرچ چلایا جاسکے۔
    اس وقت حالات1971ء سے بھی بدتر ہیں۔ معاشی طور پر ہم تباہ ہوچکے ہیں، ہرقسم کی سماجی بُرائی ہماری رگوں میں سرائیت کرچکی ہے۔ رشوت خوری، ملاوٹ، دھوکہ دہی، دروغ گوئی وغیرہ جیسی چیزیں اب سرکاری اور قومی پالیسی بن گئی ہیں۔
    اگر ہم نے جلد اپنے حالات ٹھیک نہ کئے تو 1971ء جیسے واقعات دور نہیں۔ جس قدرجلد ہم اس غیر ملکی ایجنڈے کو ترک کردیں اتنا ہی بہتر ہوگا۔ بنگلہ دیش کے واقعے کی صحیح عکاسی اگر محسوس کرنا چاہتے ہیں تو احمد فراز# کی نظم بنگلہ دیش (ڈھاکہ میوزیم کو دیکھ کر) پڑھ لیجئے وہ پوری قوم کے جذبات کی عکاسی ہے۔

  2. #2
    معاون
    تاريخ شموليت
    Jan 2012
    پيغامات
    75
    شکریہ
    1
    1 پیغام میں 1 اظہار تشکر

    RE: شق الپاکستان ۔پاکستان کا ٹکرے ہونا ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان

    ڈاکٹر عبدالقدیر خان

    سولہ دسمبر 1971 کے المناک اور ہماری تاریخ کے ناقابل فراموش سانحہ مشرقی پاکستان کی اہمیت کی خاطر میں پچھلے سال اسی موقع پر شائع کردہ کالم کو قارئین کی یاداشت تازہ کرنے کے لئے دوبارہ پیش کر رہا ہوں۔

    دنیا کے زیادہ تر ممالک کی تاریخ جنگوں کے واقعات اور فتوحات اور شکستوں کی کہانیوں سے بھری پڑی ہے۔ ہر قوم اپنی فتوحات پر فخر کرتی ہے مگر یہ شکست ہے جو ان کی تاریخ اور ذہنوں پر نا قابل فراموش نہایت تکلیف دہ تاثرات چھوڑ تی ہے اور ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ذلت کا داغ لگ جا تا ہے۔ بعض اوقعات لا تعداد شکستوں کے بعد ایک اچھی فتح ایک قوم کی تاریخ میں ایک سنہرا باب بن جاتی ہے۔ نپولین کی لاتعداد بڑی فتوحات کے بعد جب اس کو روس پر حملہ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تو تاریخ کا رخ بدل گیا۔ اسکے بعد بیلجیم کے مقام واٹر لُو میں ایڈمیرل نیلسن کے ہاتھوں مکمل شکست فاش ہوئی گرفتار ہوا اور سینٹ ہیلنیا نامی جزیرہ میں قید کی زندگی گزار کر فوت ہو گیا۔ اسی طرح ہٹلر کی تمام بڑی بڑی فتوحات لینن گراڈ پر شکست سے خاک میں مل گئیں، فوج کی خود اعتمادی ختم ہوگئی فیلڈ مارشل پاؤلُسن نے ہتھیار ڈال دیے اور بہت جلد ہٹلر کی فوجوں کو ہر جگہ شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اسکے نتیجہ میں روسی افواج نے برلن پر قبضہ کر لیا اور ہٹلر کو شرم و ذلت سے خود کشی کرنا پڑی ۔ نہ ہی فرانسیسی اور نہ ہی جرمن عوام اپنی تاریخ کی ان بدترین شکستوں کو بھلا سکتے ہیں اسی طرح پہلی جنگ عظیم میں اتحادیوں کی لاتعداد فتوحات پر گلی پولی کے مقام پر ترکوں سے شکست اور لاکھ کے قریب فوجیوں کی ہلاکت نے ان کی فتوحات پر صف ماتم بچھا دی اسکے برعکس انگریزوں کی لاتعداد بدترین شکستوں کے بعد جنگ عظیم دوم میں فیلڈ مارشل منٹگمری کی جرمن فیلڈ مارشل رومیل پر مصر میں العین کے مقام پر فتح نے تمام شکستوں کی ذلت کو دھو دیا اسطرح منگولوں کی لاتعداد شاندار (اور سخت ظالمانہ) فتوحات پر ترک مملوک سلطان ملک الظہیر بیبرس نے عین جالوت (اردن ) اور وان (مشرقی ترکی) کے مقامات پر تباہ کن شکستیں دے کر ذلت کی روشنائی پھیر دی۔ منگول پھر سنبھل نہ سکے۔

    بد قسمتی سے ہماری ملکی تاریخ میں کوئی بھی قابل ذکر اور قابل فخر فتح نہیں ہے ۔ ہمیں ہمیشہ شکستیں اور ذلت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ 16دسمبر 1971کی ذلت آمیز شکست اور ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ہتھیار ڈالنے کا واقعہ ہماری المناک تاریخ و شکستوں کا بدترین واقعہ ہے۔ یہ تاریخ کی ایک اور شکست تھی مگر میرے لئے ہمیشہ کے لئے نہایت دردناک یادّاشت بن گئی۔ میں جنرل امیر عبداللہ خان نیازی کا جنرل ارورا کے سامنے ہتھیار ڈالنا اور دستخط کرنا زندگی بھر نہیں بھول سکتا۔ جوں جوں 16دسمبر کا دن قریب آتا جاتا ہے میر ا دل دکھ سے بیٹھا جاتا ہے۔ بعض لوگوں کا یہ خیال کہ ہمیں ماضی کو بھول جانا چاہئے عقل و فہم کی کمی کی عکاسی کر تا ہے۔ ہمیں تاریخ سے یہ سبق حاصل کرنا چاہئے نہ کہ اس کو بھول کر وہی غلطیاں دوہرائیں اور ذلت و تباہی کا شکار ہوں۔ اکتوبر 1971ء میں میں نے اپنی ڈاکٹریٹ کی تھیسس مکمل کر لی تھی اور داخل کر چکا تھا۔ پچھلے کئی ماہ سے اپنے کام سے متعلق بین الاقوامی رسالہ جات میں ریسرچ مقالہ جات شائع کر رہاتھا ، مگر چند ماہ سے نہ دماغی سکون تھا اور نہ ہی کام میں دل لگ رہا تھا۔ مجھے ایک کتاب کی تکمیل کرنا تھی ، جو اپنے ہالینڈ کے پروفیسر ڈاکٹر ولیم برگرس کی سالگرہ پر ان کو پیش کر نا چاہتا تھا۔ میں نے دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک کے بین الاقوامی شہرت یافتہ پروفیسروں سے اس کتاب کے لئے مقالے لکھوائے تھے اور خود بھی ایک مقالہ لکھا تھا اور یہ کتاب ہالینڈ کی مشہور کمپنی نے شائع کی تھی جو ایک بڑی تقریب میں ڈیلفٹ کی ٹیکنیکل یونیورسٹی میں جس میں امریکہ ، انگلستان، فرانس ، جرمنی ، آسٹریا ، ہالینڈ وغیرہ کے پروفیسروں نے شرکت کی تھی، پروفیسر برگرس کو پیش کی گئی تھی۔

    جب مارچ 1971ء میں یحییٰ خان نے جنرل ٹکا خان سے مشرقی پاکستان میں آرمی ایکشن کر ایا تو میں نے یہی یقین کیا کہ واقعی مشرقی پاکستان والے دہشت گرد ہندوستانیوں کی مدد سے وہاں گڑ بڑ کرا رہے ہیں۔ آہستہ آہستہ جب اخبارات اور ٹی وی نے حقائق بیان کرنے شروع کئے تو دماغ الجھن میں پڑ گیا۔ میں نے کراچی میں ایوب خان کے ابتدائی دور میں فوجیوں کو دیکھا تھا اور میرے دل میں ان کے لئے بے حد عزت تھی، مگر اب جب نہتے بنگالیوں کا قتل عام دیکھا ، ہزاروں حاملہ لڑکیوں کو دیکھا اور نہایت اندو ہناک تصاویر دیکھیں کہ کتے بچوں کی لاشیں گھسیٹ رہے تھے اور ان کو کھا رہے تھے تو بے حد دکھ ہوا۔ میرے ساتھ بازو والے فلیٹ میں ڈاکٹر عبدالمجید ملا اور ان کی بیگم ڈاکٹر عائشہ قیام پذیر تھے۔ میڈیکل سائنس میں ڈاکٹریٹ کر رہے تھے، ڈھاکہ سے تھے اور ہمارے بے حد اچھے دوست تھے اور فرشتہ خصلت تھے ۔ ان کی دو بچیاں ہماری بچیوں کی ہم عمر تھیں اور بے حد اچھی دوست تھیں ۔ ہمارے تعلقات میں فرق نہیں آیا مگر جب ملتے تھے تو اندرونی طور پر یہ احساس ہو رہا تھا کہ درمیان میں خلیج پیدا ہو رہی ہے۔ لیوون یونیورسٹی کے طلباء اور اساتذہ نے پاکستان کے خلاف جب مظاہرہ کا انتظام کیا تو میں نے سمجھا بجھا کر وہ ملتوی کر دیا کہ طلباء اور اساتذہ کو سیاست میں نہیں پڑنا چاہئے ۔ اس کے بعد 16دسمبر 1971ء کا دن آیا اور مجھے اپنی آنکھوں سے وہ سیاہ ترین دن بھی دیکھنا پڑا جب جنرل امیر عبداللہ خان نیازی پلٹن میدان میں بیٹھ کر ہندوستانی جنرل اروڑا کے سامنے شکست نامے اور ہتھیار ڈالنے کے معاہدہ پر دستخط کر رہے تھے۔ میں کئی دن نہ سو سکا، بھوک مر گئی اور کئی کلو وزن کم ہو گیا اور یہی افسوس کرتا رہا کہ اللہ پاک تو نے مجھے یہ منحوس دن کیوں دکھانے کو زندہ رکھا۔ جس وقت مغربی پاکستان کی فوج نے مشرقی پاکستان میں بد نام زمانہ آرمی ایکشن شروع کیا اس وقت ہمارے انقلابی مرحوم شاعر حبیب جالب نے یہ قطعہ کہا تھا۔
    (1971کے خون آشام بنگال کے نام )

    محبت گولیوں سے بو رہے ہو
    وطن کا چہر ہ خوں سے دھو رہے ہو
    گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
    یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو

    بعد میں معتبر ذرائع سے یہ بھی پتا چلا تھا کہ فوج نے سو سے زیادہ بنگالی دانشوروں کو گرفتار کر کے ڈھاکہ کے باہر قتل کر کے اجتماعی قبر میں دفن کر دیا تھا۔ مجھے ان باتوں پر یقین نہ آتا تھا، لیکن جب پاکستان آیا اور میرے ساتھ کام کرنے والے پرانے فوجی سپاہیوں اور نچلے درجہ کے افسران سے تفصیلات کا علم ہوا تو میر ا سر شرم سے جھک گیا۔ رہی سہی کسر مشرف نے اپنی ہی فوج کو عوام کے خلاف استعمال کر کے اور لال مسجد میں معصوم بچوں کو فاسفورس بم سے جلا کر اور مار کر پوری کر دی۔

    میں 1972ء کے اوائل میں امسٹرڈم چلا گیا اور وہاں یورینیم کی افزودگی میں مہارت حاصل کی۔ مجھے پھر بھی ہر وقت 16دسمبر 1971ء یاد آ کر دکھ دیتا رہتا تھا، جب 18مئی 1974ء کو ہندوستان نے دنیا کو دھوکہ دے کر ایٹمی دھماکہ کیا او ر بھٹو صاحب کی بار بار وارننگ کو نظر انداز کیا تو مجھے یقین ہو گیا کہ اب پاکستان کا قیام و وجود بہت خطرہ میں پڑ گیا ہے اور ہندوستان ہمیں چند سالوں میں ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا۔ مگر جب اواخر 1975ء میں پاکستان آیا تو بھٹو صاحب نے درخواست کی کہ میں واپس نہ جاؤں اور رک کر ایٹم بم بناؤں ، باقی حالات کہ کس طرح سب کچھ چھوڑا، کتنی خطیر تنخواہ پر کام کیا اور کن کن مشکلات و سازشوں کا سامنا کرنا پڑا، اب ہماری تاریخ کا حصہ ہے۔ میرے رفقاء کار اور میں نے نہایت کم عرصہ میں اس ملک کو ایک ایٹمی اور میزائل قوت بنا دیا اور ملک کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنا دیا۔ میں نے اربوں ڈالر کی ٹیکنالوجی دی اور ایک پائی معاوضہ نہیں ملا ، لیکن اب موجودہ حالات میں جب غور کرتا ہوں تو اکثر یہ خیال آتا ہے کہ کیا یہ ٹھیک قدم تھا، وہ فوج جو ذلت سے ہتھیار ڈال کر 2 سال قید میں رہی ،جن کو میں نے ہندو فوجیوں سے ڈنڈے اور لاتیں کھاتے دیکھا تھا اور جو واحد طور پر میرے کام سے مستفید ہوئی اس نے اپنے محسن کے ساتھ جو سلوک کیا وہ اس ملک کی تاریخ میں ایک سیاہ ترین باب رہے گا۔ ٹیکنالوجی میری تھی، میں لایا تھااور پاکستان نے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا تھا اور ہم نے این پی ٹی اور این ایس جی (NSG)پر دستخط بھی نہیں کئے تھے، پھر بھی ایک کم ظرف ڈکٹیٹر نے مجھے ذلیل کرنے کی کوشش کی۔ ناکام رہا اور خود ذلیل ہو کر چلا گیا مگر ملک کو تباہ کر گیا۔

    احمد فراز مرحوم نے ڈھاکہ میں فوجی میوزیم دیکھ کر جن احساسات کا اظہار کیا ہے وہ ہم سب کی ترجمانی کرتے ہیں۔
    [align=center]
    [size=xx-large]( بنگلہ دیش ۔ ڈھاکہ میوزیم دیکھ کر)[/size][/align]
    [align=center]کبھی یہ شہر میرا تھا زمین میری تھی
    مرے ہی لوگ تھے میرے ہی دست و بازو تھے
    میں جس دیار میں بے یار و بے رفیق پھروں
    یہاں کے سارے صنم میرے آشنا رو تھے
    کسے خبر تھی کہ عمروں کی عاشقی کا مآل
    دل شکستہ و چشم پُر آب جیسا تھا
    کسے خبر تھی کہ اس دجلہٴ محبت میں
    ہمارا ساتھ بھی موج و حباب جیسا تھا
    خبر نہیں یہ رقابت تھی نا خداؤں کی
    کہ یہ سیاست درباں کی چال تھی کوئی
    دو نیم ٹوٹ کر ایسی ہوئی زمیں جیسے
    مری اکائی بھی خواب و خیال تھی کوئی
    یہ میوزیم تو ہے اس روز بد کا آئینہ
    جو نفرتوں کی تہوں کا حساب رکھتا ہے
    کہیں لگا ہوا انبار استخواں تو کہیں
    لہو میں ڈوبا ہوا آفتاب رکھتا ہے
    کہیں مر ے سپہ سالار کی جھکی گردن
    عدو کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا سماں
    مرے خدا میرے بینائی چھین لے مجھ سے
    میں کیسے دیکھ رہا ہوں ہزیمت یاراں
    [/align]

    ستم ظریفی یہ دیکھئے جو کام میں نے کیا جس کی وجہ سے مشرف اور اس کے ساتھی ذلت کے بجائے سر اٹھانے کے اور سیدھا چلنے کے قابل ہوئے، انہوں نے جو کچھ میرے ساتھ سلوک کیا اسے احسان فراموشی ہی کہہ سکتے ہیں ۔ اگر جناب بھٹو، غلام اسحق خان، جنرل ضیاء الحق، اور محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ اس پروگرام کو نہ چلنے دیتے اور مدد نہ کرتے اور جناب میاں نواز شریف صاحب جرات اور حب الوطنی کا مظاہرہ نہ کرتے تو ہم سب ایل کے ایڈوانی کے حکم اورخواہش کے مطابق گردنیں جھکا کر اور ادب سے اس کے سامنے مارچ کر رہے ہوتے۔ جوں جوں دسمبر آتا ہے دل سے ایک ہی دعا ایک ہی التجا نکلتی ہے۔


    یاد ماضی عذاب ہے یا رب
    چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

    ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ جو لوگ اپنی گزشتہ غلطیوں سے سبق نہیں حاصل کرتے وہ پھر وہی غلطیاں دہراتے ہیں ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے اب بھی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا ۔ ہم اب پھر اپنے عوام کا قتل عام کر رہے ہیں اور امریکیوں سے بھی یہ کام کروا رہے ہیں۔ اور ہمیں اس بات پر قطعی شرم نہیں آتی کی غیر ملک ہمارے ملک میں کھلے عام حملے کر رہا ہے اور لاتعداد بیگناہ مر د عورتوں اور بچوں کا قتل عام کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں ہمارے ملک پر کبھی اتنا برا وقت نہیں آیا ۔ہمارا بنیادی ڈھانچہ پاش پاش ہو گیا ہے۔

    بہ شکریہ روزنامہ جنگ

متشابہہ موضوعات

  1. جوابات: 0
    آخری پيغام: 01-14-2013, 11:40 PM
  2. جوابات: 0
    آخری پيغام: 11-26-2012, 11:59 AM
  3. جوابات: 1
    آخری پيغام: 08-30-2012, 11:46 AM
  4. جوابات: 2
    آخری پيغام: 04-14-2012, 12:37 PM
  5. جوابات: 3
    آخری پيغام: 12-31-2010, 10:57 AM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University