[align=center] درج ذیل تحریر عالم اسلام کی معروف دینی درسگاہ ندوۃ العلماء (ہندوستان) کے ماہنامہ تعمیر حیات کے اداریہ سے لی گئی ہے۔ اس وقت بحیثیت مسلمان قوم کے جو زوال، پستی اور ذلت کی حالت سے دوچار ہے اس کی وجوہات کو ڈھونڈنا اور پھر اس کے حل کے لیے تدابیر اختیار کرنا بہت ضروری ہے۔ اس اداریہ میں اس طرف نشاندہی کرکے اس کے حل کے لیے ایک راہ بتادی گئی ہے۔ مجھے یہ مضمون بہت اچھا لگا اور اسی وجہ سے اصلاح معاشرہ اور مسلمانوں کو جگانے کے لیے اس کو ٹائپ کرکے آپ دوستوں کی خدمت میں پیش کردیا ہے۔ اُمید ہے کہ اصلاح معاشرہ اور اصلاح نفس کے لیے یہ ایک اچھی تحریر ثابت ہوگی۔[/align]

[size=xx-large][align=center]کارزارِ حیات میں ایک مومن کا کردار[/align][/size]

[align=left]شمس الحق ندوی[/align]

[size=x-large]موجودہ غیر معمولی حالات و حوادث صاف بتلارہےہیں کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے اس موجودہ طرزِ زندگی سے جس مں دعوت کی روح ، دین کے لیے جدو جہد، آخرت کی فکر اور ایمانی زندگی کی کیفیات نہ ہوں، ہر گز راضی نہیں، بدلتے ہوئے حالات اور ہواؤں کے رُخ بتارہے ہیں کہ قدرت مسلمانوں کو جھنجھوڑ رہی ہے اور مختلف قسم کے اشارات اور خطرے کی علامات ان کی تنبیہ و عبرت کا سامان فراہم کررہے ہیں اور خطرے کا سائرن بجارہے ہیں کہ اگر تم اپنا کھویا ہوا مقام پھر سے نہیں حاصل کرتے اور دنیا کی دوسری قوموں کے ساتھ بہنے والے دھارے سے اپنے کو الگ نہیں کرتے، اپنی کھوئی ہوئی قدروں کو پھر سے زندہ و جاوید نہیں بناتے تو دنیا کی کوئی طاقت تمہاری حفاظت نہیں کرسکتی، اپنے منصب و مقام سے نیچے اُتر کر دوسری قوموں کی صف میں کھڑے ہوکر نہ فرض منصبی ادا کرسکتے ہو اور نہ ہی اپنے تشخص و امتیاز کو باقی رکھ سکتے ہو۔
مسلمانوں کی عام آبادی کا طرزِ زندگی دنیاوی انہماک اور خود فراموشی سخت تشویشناک ہے ، زندگی کا یہ طرزِ کہ سوائے مادی ضروریات کی تکمیل اور اپنی شکم پری اور اپنے بچوں کی پرورش یا حصول جاہ و دولت کے زندگی کا کوئی بلند مقصد نہ ہو اور زندگی ایمان و احتساب سے یکسر خالی، اور اعلاءِ کلمۃ اللہ کے جذبہ سے عاری ہو، اس میں دینی شعائر و احکامات پر عمل پیرا ہونے اور خدا سے اپنا تعلق استوار کرنے کا کوئی احساس و شعور نہ ہو، اس کو اپنے اندر ایمان کی حلاوت و چاشنی پیدا کرنے کا شوق و ولولہ نہ ہو ، اپنے بچوں کی اسلامی تعلیم و تربیت کی کوئی فکر نہ ہو، مسلمان بستیوں میں اذان ہوتی ہو لیکن مسجدیں نمازیوں سے خالی رہتی ہوں، اخوت اسلامی اور خیر کے کاموں میں تعاون کی روح مردہ ہوچکی ہو، غرض یہ کہ جس مقصد کے لیے مسلمانوں کی بعثت ہوئی (کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ أخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ، تَأمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ) [آل عمران /۱۱۰] (مومنو! جتنی امتیں (یعنی قومیں ) لوگوں مںد پیدا ہوئیں تم ان سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے روکتے ہو) اس کو امت کا بڑا طبقہ فراموش کرچکا ہو بلکہ اس کا خوش حال اور روشن خیال طبقہ امت کی اس ذمہ داری اور مقصد کا مذاق اُڑاتا ہو، الا ماشاء اللہ تو پھر امت مسلمہ کی حفاظت کی کوئی ضمانت نہیں، مسلم قوم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا معاملہ دیگر اقوام عالم سے بالکل مختلف ہے ، ان کی معمولی چوک اور تساہلی پر تنبیہ ہوتی ہے چہ جائیکہ یہ اُمت غفلت ہی کو اپنا شعار بنالے، اور جب مال اور دنیا کی حد سے بڑھی ہوئی طلب و محبت میں دیگر اقوامِ عالم کی شریک و سہیم بن جائے۔
غزوۂ حنین میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں صر ف اس تصور و خیال پر تنبیہ ہوئی تھی اور مسلمان شکست کھاگئے تھے کہ اس وقت ہم بہت بڑی تعداد میں ہیں، ہم بڑی آسانی کے ساتھ اپنے دشمن کو شکست دے سکتے ہیں، ہم نے تو ان پر اس وقت فتح حاصل کی تھی جب ہم بہت تھوڑے سے تھے۔
مسجدوں کا مسلمان نمازیوں سے خالی ہونا اور سینما ہالوں کاان سے رونق پانا، مسلمانوں کے خوش حال طبقہ کا اپنے پڑوسی فقراء و مساکین ، یتیموں اور بیواؤں بلکہ عزیزوں اور قرابت داروں کے فقروفاقہ اور اضطرار و اضطراب سے متاثر نہ ہونا اور صرف اپنے ذاتی معاملات اور اپنی دلچسپی کے دائرہ میں دولت کا بے دریغ خرچ اور روپیہ کا پانی کی طرح بہانا خدا کے غضب کو بھڑکانے والا طرزِ عمل ہے اور اسی طرزِ عمل کے نتیجہ میں وہ واقعات پیش آتے ہیں جن کو سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور جن سے جنگل کے درندے اور بھیڑئیے بھی شرماتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر دعوت کا فریضۃ عائد کیا ہے، لہٰذا مسلمان جب بھی اپنے اس فرض سے غفلت برتیں گے اور اپنے اصل مقام سے نیچے اُتریں گے ، اور دنیا طلبی اور خود غرضی کو اپنا پیشہ بنائیں گے تو لازماً نظامِ عالم درہم برہم ہوجائے گا اور وہ کچھ ہوگا جو قیاس و گمان میں آنے والا نہیں ، بے شک اللہ تعالیٰ نے اس اُمت کی نصرف و مدد کا وعدہ فرمایا ہے اور اللہ کا وعدہ یقیناً حق ہے، مگر پختہ یقین اور یقین کامل اس کی اولین شرط ہے۔
’’ وَلَا تَھِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُوْمِنِیْنَ ‘‘[آل عمران/ ۱۳۹] (اور دیکھو بے دل نہ ہونا اور نہ کسی طرح کا غم کرنا اگر تم مومن (صادق) ہو تو تم ہی غالب رہو گے) ۔ نیز فرمایا گیا ہے:
’’ نَحْنُ اَوْلِیَاءُ کُمْ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَ فِی الْآخِرَۃِ ‘‘ (ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے دوست تھے اور آخرت میں بھی تمہارے رفیق ہیں)۔
جس کا ناصر و مددگار خود خالق کائات ہو، کیا کوئی اس کا بال بیکا کرسکتا ہے؟ یاد کیجیے! سامنے سمندر ہے پیچھے فرعون اور اس کا لشکر ، بنی اسرائیل چکی کے ان دو پاٹوں کے درمیان ہیں، اس عالم کائنات میں جو نظام جاری ہے، اس کی رو سے کوئی کہہ سکتا ہے کہ بنی اسرائیل خطرہ سے بچ کر نکل سکیں گے، مگر ہوا کیا؟موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے اضطراب و پریشانی کو دیکھ کر ایمان و اعتماد کے لہجہ میں فرمایا:
’’ کَلَّا اِنَّ مَعِی رَبِّیْ سَیَھْدِیْن ‘‘ (تم ہلاک ہوجاؤ گے یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کیوں کہ میرے ساتھ میرا خدا ہے، مجھے راستہ دے گا)۔
بنی اسرائیل دریا پار ہوتے ہیں، اور فرعون مع اپنے لشکر کے غرقِ دریا ہوجاتا ہے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم غارِ ثور میں ہیں، کفار قریش آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں غار کے دہانے پر آجاتے ہیں، حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پریشان ہیں کہ اگر کسی نے بھی اپنے قدم سے نیچے دیکھا تو ہم پکڑے جائیں گے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جاں نثار کی گھبراہٹ دیکھ کر فرمایا:
’’ ما ظَنُّکَ بِاثْنَیْنِ اللّٰہُ ثَالِثھُمَا ‘‘ (ابوبکر! ان دو کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا ساتھی خدا ہے)۔
مسلمانوں کے کرنے کا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ وہ اپناجائزہ لیں کہ کن روگوں اور بیماریوں کے باعث وہ موجودہ حالت کو پہونچے ہیں، اور اس جائزہ کے بعد اپنی اصلاح کی کوشش اور انابت و رجوع کی کیفیت پیدا کریں، اللہ تعالیٰ سے دوبارہ اپنے تعلق کو مستحکم و مضبوط کریں۔ کیا دنیا کی کوئی عقل یہ تسلیم کرسکی ہے کہ کسی جانور کا لمہر بن جانے اور اس کے معدہ میں اُتر جانے کے بعد بھی کوئی زندہ رہ سکتا ہے؟ مگر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع و انابت کی کیفیت نے یہ بھی کردکھایا۔ حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کا لقمہ بن جاتے ہیں اور یہ تنبیہ خداوندی تھی پھر جب ان کو اپنی لغزش کا احسا ہوتا ہے اور متوجہ اِلی اللہ ہوکر عرض کرتے ہیں : ’’ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ ‘‘ (تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک اور بے شک میں قصور ہوں)۔ جوں ہی رجوع و انابت کی یہ کیفیت پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا بندہ اللہ کو پکارتا ہے، خدا کی مدد آموجود ہوتی ہے، آپ علیہ السلام مچھلی کے پیٹ سے آزاد ہوکر صحیح و سلامت دوبارہ زمین پر آجاتے ہیں۔
مسلمانوں کے سب سے بڑے دشمن خود ان کے گناہ ہیں ، حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے اپنے سپہ سالار منصور بن غالب کو محاذ جنگ پر روانہ کرتے ہوئے یہ نصیحت فرمائی تھی:
’’ تم کو خواہ کیسے ہی حالات سے دوچار ہونا پڑے، ہر حال میں خدا کا خوف و لحاظ رکھنا کہ تقویٰ بہترین سامان اور بہت کار گر چال ہے ، خوف خدا سے بڑھ کر کوئی طاقت نہیں، دشمن سے زیادہ اس بات سے ڈرو کہ خود سے یا تمہارے فوجیوں سے کوئی گناہ سرزد ہوجائے، گناہ دشمن سے بھی زیادہ ڈرنے کی چیز ہے، دشمنوں کے مقابلہ میں ہماری مدد اس لیے ہوتی ہے کہ وہ گنہگار ہیں، اگر یہ بات نہ ہوتی تو ہم ان کے مقابلے میں ٹِک نہیں سکتے تھے، اس لیے کہ نہ ہماری تعداد اتنی بڑی ہے اور نہ تیاری ہی ان کی جیسی ہے، اگر ہم گناہ میں اپنے دشمن کے برابر ہوگئے تو مادی طاقت میں وہ ہم سے بہت فائق ہیں، اطاعت شعاری اور گناہوں سے پرہیز کی بنا پر نصرتِ خداوندی کا استحقاق نہ حاصل ہوا تو اپنی طاقت سے ہم ان پر کبھی غالب نہیں آسکتے، تم، لوگوں کی عداوت سے زیادہ اپنے گناہوں سے ڈرو، اپنی قدرت و طاقت سے زیادہ اپنے گناہوں سے بچنے اور حفاظت کا اہتمام کرو، تم یہ ہرگز نہ سوچو کہ ہمارا دشمن ہم سے بُرا اور خدا کا باغی ہے، اس لیے اس کو ہم پر تسلط و غلبہ نہیں ہوسکتا چاہے ہم گناہ کریں، بہت سی قوموں پر ان کے گناہوں کے سبب ان پر بدترین لوگ مسلط کردیے گئے ، تم جس طرح دشمن کے مقابلے میں خدا سے مدد طلب کرتے ہو، اپنے نفس کے مقابلے میں بھی خدا کی مدد کے طالب بنو۔’’
ایک مرتبہ بابر اپنے وطن سے دور بیس ہزار فو ج کے ساتھ محصور تھا، رسد اور مزید کمک پہونچنے کا کوئ امکان نہ تھا، اور دشمن کے دو لاکھ لشکر جرار سے مقابلہ تھا، اس وقت بابر نے توبہ و استغفار کیا، شراب نوشی ارو دیگر تمام منکرات و خلاف شرع باتوں سے خالصۃً لوجہ اللہ توبہ کی اور دعاء و مناجات کے بعد میدان جنگ میں اُترا اور فتح مبین حاصل ہوئی۔
اپنے ان خیالات کے اظہار کے بعد ہم قارئین کرام کو ترک اسباب اور ظاہری وسائل اور ذرائع سے آنکھ بند کرنے کی دعوت نہیں دیتے، بلکہ پورے یقین و اعتماد کے ساتھ یہ کہنا چاہتے ہیں اور تاریخ اسلام اس کی شاہد ہے کہ احکام خداوندی کی پابندی، اس کی طرف رجوع و انابت کو اَوّلیت حاصل ہے اور ان سے غفلت برتنے کے بعد اسباب و قوت بے فائدہ اور بے معنی ہیں، فَھَلْ مِن مُّدَّکِر۔
[/size]