نتائج کی نمائش 1 تا: 8 از: 8

موضوع: ہماری ہر بات میں جھوٹ کیوں؟

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Nov 2012
    پيغامات
    275
    شکریہ
    0
    3 پیغامات میں 5 اظہار تشکر

    ہماری ہر بات میں جھوٹ کیوں؟

    [align=center]ہماری ہر بات میں جھوٹ کیوں؟




    السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ:۔




    دنیا کا سب سے آسان کام کیا ہے ؟ “جھوٹ بولنا “


    دیکھا جائے تو آج کا انسان جھوٹ کے سہارے ہی جیتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ سچ بول کر اُس کامیابی نہیں ملے گی اور نہ فائدہ حاصل ہو گا اس لیے وہ جھوٹ بولتا ہی چلا جاتا ہے انسان 90فیصد اپنی بات جھوٹ کے ساتھ شروع کرتا ہے اور جھوٹ کے ساتھ ہی ختم کرتا ہے۔ جھوٹ بولنے کی بیماری صرف بڑوں میں نہیں بلکہ چھوٹے بچوں میں پائی جاتی ہے وہ بچے جن کو ابھی تک سچ اور جھوٹ کی پہچان تک نہیں ہوئی لیکن وہ اتنا ضرور جانتے ہیں کہ اگر وہ جھوٹ بولیں گے تو وہ بڑوں کی مار سے بچ جائیں گے اور انہیں کوئی کچھ نہ کہے گا۔

    انسان کو اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے کے لیے جھوٹ پہ جھوٹ بولتا رہتا ہے۔ جھوٹ انسان کو کہیں*کا نہیں چھوڑتا اور اللہ تعالی جھوٹوں*سے سخت نفرت کرتا ہے۔ انسان دوسروں *سے جھوٹ بول سکتا ہے یہاں تک اپنے آپ سے بھی جھوٹ بول سکتا ہے لیکن اپنے اللہ تعالی سے نہ جھوٹ بول سکتا ہے، نہ جھوٹ چھپا سکتا ہے اور نہ ہی اپنے جھوٹ کو سچا ثابت کر سکتا ہے کیونکہ وہ پروردگار سب دیکھ رہا ہے اور وہ دلوں*کے بھید خوب جانتا ہے۔ انسان یہ کیوں بھول جاتاہے کہ وہ جھوٹ بول کر دنیا کی ہر چیز سے بچ سکتا ہے مگر اپنے اللہ سے نہیں۔

    جب چھوٹے بچے کوئی غلطی کر بیٹھتے ہیں تو ماں باپ کی ڈانٹ ، غصے اور مار سے بچنےکے لیے جھوٹ بول دیتے ہیں کہ ہم نے یہ کام نہیں *کیا یا الزام کسی دوسرے پر لگا دیتےہیں یہ بچے جو ابھی دنیا میں آئے ہی ہوتے ہیں جھوٹ کا سہارا لینے لگ جاتے ہیں۔(معذرت کے ساتھ وہ مثال جو بڑے دیا کرتے تھے کہ بچے کبھی جھوٹ نہیں بولتے وہ اب غلط ثابت ہوتی جارہی ہے۔)

    بہت بار سُنا بلکہ کرتے دیکھا کہ آفس سے چھٹی کرنے کے لیے باس کے پاس جاتے ہیں* اگر چھٹی مل جائے تو ٹھیک اگر نہ ملے تو لوگ اپنے بڑوں کی موت کا بہانہ بناتے ہیں کبھی کبھی مُردہ لوگوں*کو دوبارہ مار دیتےہیں یا کبھی کبھی زندہ لوگوں*کو مار دیتے ہیں کہ ہمارا دادا/دادی فوت ہوگئے ہیں ، کبھی خالہ کا نام ، کبھی خالو ، کبھی چاچا ، کبھی تایا یہاں*تک کے ہم اپنے والدین کو بھی اس لسٹ میں شام کر لیتے ہیں کس لیے صرف ایک چھٹی کے لیے ؟ ایسے لوگوں*کو شرم آنی چاہیے اتنا بیہودہ جھوٹ بولتے تھے ایسے لوگوں سے میں ایک سوال کرتا ہوں کہ اگر ایسے لوگوں کے بچے یہی چیز دہرائیں اور اپنے والدین کو جیتے جیتے مار دیں صرف چھٹی لینے کے لیے تو ایسے لوگوں*پر کیا گزرے گی کبھی سوچا ہے یہ؟

    اسی طرح سٹوڈنٹ لائف میں جب ہمیں اسکول/کالج یا اکیڈمی سے چھٹی لینی ہوتی ہے اور ہم بہت سے رشتوں کو بیمار کرنے کا جھوٹ بولتے ہیں اگر اس بات بن جائے تو ٹھیک ورنہ ہم پیٹ درد ، سر درد ، بخار یا کسی اور بیماری کا جھوٹا بہانہ کر کے چھٹی لینے کی کوشش کرتے ہیں جس سے ہمیں باآسانی چھٹی مل جائے۔

    آج کل کی جنریشن میں آوارہ گردی بہت عام ہو گئی ہے اور گھنٹوں گھنٹوں گھر سے باہر رہتےہیں پھر گھر لیٹ پہنچنے پر جب والدین کے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ہم ہزاروں جھوٹے بہانے اور من گھرٹ کہانیاں سنانا شروع کر دیتےہیں کہ ہم تو سارا دوستوں *کے ساتھ مل کر پڑھائی کر رہے تھے، ہمارے دوست کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا جس کی وجہ سے ہم سارا دن پسپتال رہے اسی طرح کے ہزاروں*جھوٹ ہم خود سے اور اپنے بڑوں*سے بول جاتے ہیں۔

    انسان اپنا کاروبار چلانے / اپنا مال بیچنے کے لیے جھوٹی قسموں اور جھوٹی باتوں کا سہارا لیتا ہے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ سچ بول کر ان کا مال نہیں بکے گا لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جھوٹی قسمیں کھا کر مال بِک جاتا ہے مگر برکت نہیں*رہتی۔

    آج کے دور میں رہ کر اپنی غلطی مان لینا بہت بڑی بات ہوتی ہے لیکن اپنی غلطی کو تسلیم کرنے کی بجائے اپنی غلطی کو سچ کرنے کے لیے ہزاروں جھوٹ بولتا رہتا ہے، اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ آج کا انسان دوسروں کو نیچا دکھانے اور دوسروں کی عزت اُچھالنے کے لیے کس بھی حد سے گزرنے سے گریز نہیں کرتا چاہے اس کے لیے اُسے کتنا ہی جھوٹ کیوں نہ بولنا پڑے۔

    اگر ہم اپنے ایک دن کا موازنہ کریں تو ہمیں اندازہ ہو جائے گا کہ ہم ایک دن کتنے جھوٹ بول جاتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالی جھوٹوں سے نفرت کرتا ہے پھر بھی ہم نڈر ہو کر جھوٹ پہ جھوٹ بولتے جاتے ہیں آخر کیوں؟ کبھی یہ سوچا ہے ہم نے؟

    نماز پڑھنے کا جھوٹ، روزہ رکھنے کا جھوٹ ، سچ بولنے کا جھوٹ ، حلال کمانے کا جھوٹ، درگزر کرنے کا جھوٹ ، چغل خوری نہ کرنے کا جھوٹ ، غیبت نہ کرنے کا جھوٹ ، چوری نہ کرنے کا جھوٹ ، زانی نہ ہونے کا جھوٹ ، مشرک نہ ہونے کا جھوٹ ، ظالم نہ ہونے کا جھوٹ ، قاتل نہ ہونے کاجھوٹ ، بیمار ہونے کا جھوٹ وغیرہ وغیرہ جھوٹ پہ جھوٹ ، جھوٹ پہ جھوٹ کیا یہی جھوٹ ہمیں روزِ حشر والے دن بچا سکے گا؟ کیا یہ جھوٹ ہمیں جہنم کی آگ سے بچا سکے گا ، کیا یہ جھوٹ ہمیں اللہ تعالی کے عذاب سے بچا سکے گا ؟ کیا یہ جھوٹ ہمیں جنت میں داخل کروا سکے گا؟

    دیکھا جائے تو ہم جھوٹ ہی جھوٹ بولتےہیں اور اس جھوٹ کو سچ کرنے کے لیے پھر جھوٹ ہی بولتےہیں لیکن کبھی ایک بار اپنے ضمیر کو ٹٹول کر یہ پوچھا ہے کہ کیا ہم اللہ سے جھوٹ بول سکتے ہیں ؟ کیا ہم جھوٹ بول کر اُس کی ذات سے نہیں بچ سکتے ہیں ؟ کیا کوئی ایسی بات ہے جو ہم اپنے رَب سے چھپا سکتے ہیں؟ نہیں ہم چاہ کر بھی اپنے رَب سے جھوٹ نہیں*بول سکیں تو پھر ساجد ہم جھوٹ بولتے کیوں ہیں؟

    تحریر : ساجد تاج[/align]

  2. #2
    منتظم اعلی
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    456
    شکریہ
    1
    11 پیغامات میں 12 اظہار تشکر

    RE: ہماری ہر بات میں جھوٹ کیوں؟

    ساجد بھائی سمجھ نہیں آرہا ہے کہ میں کیا تبصرہ کروں آپ نے تبصرہ کرنے کے لئے چھوڑا ہی نہیں ہر بات حرف آخر کی طرح لکھ ڈالا ہے ہر لفظ بذات خود ایک تبصرہ کرتا ہے
    ایک ایک لائن بہترین ہے آپ نے تو روز مرہ کی بولنے والے عام جھوٹ کے بارے میں ایسی زندگی ہر انسان کے ارد گرد موجود ہے آپ کا تجزیہ قابل تحسین ہے
    آپ کی تحریروں کا کیسے شکر ادا کروں

  3. #3
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,189
    شکریہ
    2,152
    1,249 پیغامات میں 1,624 اظہار تشکر

    RE: ہماری ہر بات میں جھوٹ کیوں؟

    انسان اپنا کاروبار چلانے / اپنا مال بیچنے کے لیے جھوٹی قسموں اور جھوٹی باتوں کا سہارا لیتا ہے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ سچ بول کر ان کا مال نہیں بکے گا لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جھوٹی قسمیں کھا کر مال بِک جاتا ہے مگر برکت نہیں*رہتی۔

    آج کے دور میں رہ کر اپنی غلطی مان لینا بہت بڑی بات ہوتی ہے لیکن اپنی غلطی کو تسلیم کرنے کی بجائے اپنی غلطی کو سچ کرنے کے لیے ہزاروں جھوٹ بولتا رہتا ہے، اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ آج کا انسان دوسروں کو نیچا دکھانے اور دوسروں کی عزت اُچھالنے کے لیے کس بھی حد سے گزرنے سے گریز نہیں کرتا چاہے اس کے لیے اُسے کتنا ہی جھوٹ کیوں نہ بولنا پڑے۔

    اگر ہم اپنے ایک دن کا موازنہ کریں تو ہمیں اندازہ ہو جائے گا کہ ہم ایک دن کتنے جھوٹ بول جاتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالی جھوٹوں سے نفرت کرتا ہے پھر بھی ہم نڈر ہو کر جھوٹ پہ جھوٹ بولتے جاتے ہیں آخر کیوں؟ کبھی یہ سوچا ہے ہم نے؟
    کتنی ہی سمجھداری سے آپ ہمیں سمجھا رہے ہیں ، جزاک اللہ ساجد تاج صاحب ،

  4. #4
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,870
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر

    RE: ہماری ہر بات میں جھوٹ کیوں؟

    زبردست ساجد تاج جی بہت خوبصور ت انداز میں لکھی گئی تحریر ۔۔۔۔بہت خوب
    ایک ایک لفظ موتی جیسا اور سچ کے بہت قریب
    جزاک اللہ

  5. #5
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jun 2012
    پيغامات
    5,446
    شکریہ
    138
    96 پیغامات میں 104 اظہار تشکر

    RE: ہماری ہر بات میں جھوٹ کیوں؟

    جزاک اللہ

  6. #6
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Dec 2010
    پيغامات
    104
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    RE: ہماری ہر بات میں جھوٹ کیوں؟

    بہت اچھے
    آپ نے سچ کہا

  7. #7
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Nov 2012
    پيغامات
    275
    شکریہ
    0
    3 پیغامات میں 5 اظہار تشکر

    ہماری ہر بات میں جھوٹ کیوں؟

    اقتباس اصل پيغام ارسال کردہ از: بےباک پيغام ديکھيے
    انسان اپنا کاروبار چلانے / اپنا مال بیچنے کے لیے جھوٹی قسموں اور جھوٹی باتوں کا سہارا لیتا ہے کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ سچ بول کر ان کا مال نہیں بکے گا لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ جھوٹی قسمیں کھا کر مال بِک جاتا ہے مگر برکت نہیں*رہتی۔

    آج کے دور میں رہ کر اپنی غلطی مان لینا بہت بڑی بات ہوتی ہے لیکن اپنی غلطی کو تسلیم کرنے کی بجائے اپنی غلطی کو سچ کرنے کے لیے ہزاروں جھوٹ بولتا رہتا ہے، اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ آج کا انسان دوسروں کو نیچا دکھانے اور دوسروں کی عزت اُچھالنے کے لیے کس بھی حد سے گزرنے سے گریز نہیں کرتا چاہے اس کے لیے اُسے کتنا ہی جھوٹ کیوں نہ بولنا پڑے۔

    اگر ہم اپنے ایک دن کا موازنہ کریں تو ہمیں اندازہ ہو جائے گا کہ ہم ایک دن کتنے جھوٹ بول جاتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالی جھوٹوں سے نفرت کرتا ہے پھر بھی ہم نڈر ہو کر جھوٹ پہ جھوٹ بولتے جاتے ہیں آخر کیوں؟ کبھی یہ سوچا ہے ہم نے؟
    کتنی ہی سمجھداری سے آپ ہمیں سمجھا رہے ہیں ، جزاک اللہ ساجد تاج صاحب ،
    شکریہ بھائی

    اقتباس اصل پيغام ارسال کردہ از: تانیہ پيغام ديکھيے
    زبردست ساجد تاج جی بہت خوبصور ت انداز میں لکھی گئی تحریر ۔۔۔۔بہت خوب
    ایک ایک لفظ موتی جیسا اور سچ کے بہت قریب
    جزاک اللہ
    اللہ تعالی اس سے بھی اچھا لکھنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ میں کسی کے لیے ہدایت کا ذریعہ بن سکوں یہی دل میں خواہش ہے میرے

    اقتباس اصل پيغام ارسال کردہ از: pervaz khan پيغام ديکھيے
    جزاک اللہ
    وایاکم

    اقتباس اصل پيغام ارسال کردہ از: فضاءسحر پيغام ديکھيے
    بہت اچھے
    آپ نے سچ کہا
    پسند کرنے کا شکریہ

  8. #8
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Nov 2012
    پيغامات
    275
    شکریہ
    0
    3 پیغامات میں 5 اظہار تشکر

    ہماری ہر بات میں جھوٹ کیوں؟

    اقتباس اصل پيغام ارسال کردہ از: admin پيغام ديکھيے
    ساجد بھائی سمجھ نہیں آرہا ہے کہ میں کیا تبصرہ کروں آپ نے تبصرہ کرنے کے لئے چھوڑا ہی نہیں ہر بات حرف آخر کی طرح لکھ ڈالا ہے ہر لفظ بذات خود ایک تبصرہ کرتا ہے
    ایک ایک لائن بہترین ہے آپ نے تو روز مرہ کی بولنے والے عام جھوٹ کے بارے میں ایسی زندگی ہر انسان کے ارد گرد موجود ہے آپ کا تجزیہ قابل تحسین ہے
    آپ کی تحریروں کا کیسے شکر ادا کروں
    حوصلہ افزائی کرنے کا شکریہ ، ماشاءاللہ آپ کی رائےپڑھ کر دل میں ایک جوش اور ولولہ پیدا ہوتا ہے کہ میں اس سے مزید اچھا لکھوں اور مجبور کر دوں سب کو پڑھنے کے لیے

متشابہہ موضوعات

  1. سب جھوٹ ہے
    By نگار in forum شعر و شاعری
    جوابات: 0
    آخری پيغام: 09-14-2012, 11:24 PM
  2. جوابات: 5
    آخری پيغام: 08-14-2012, 09:59 PM
  3. سچای زرور اور زرورجھوٹ مت بولنا
    By گلاب خان in forum متفرق موضوعات
    جوابات: 0
    آخری پيغام: 07-01-2012, 10:58 PM
  4. انسانوں میں فرق کیوں؟
    By سیما in forum قلم و کالم
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 07-18-2011, 09:56 AM
  5. نیت میں کھوٹ ہے
    By سیما in forum قلم و کالم
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 06-25-2011, 12:13 AM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University