نتائج کی نمائش 1 تا: 3 از: 3

موضوع: آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمیشہ سچ بولتے تھے

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Oct 2012
    پيغامات
    299
    شکریہ
    0
    6 پیغامات میں 6 اظہار تشکر

    آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمیشہ سچ بولتے تھے

    3: آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمیشہ سچ بولتے تھے


    رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ سچ بولتے تھے اور جھوٹ کے پاس بھی کبھی نہ پھٹکتے تھے۔ آپ کی زبانِ مبارک سے کبھی کوئی غلط بات سننے میں نہیں آئی یہاں تک کہ مذاق میں بھی کوئی جھوٹی بات آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی زبان سے نہیں نکلتی تھی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے دشمنوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) پر طرح طرح کے الزامات لگائے مگر آپ کو جھوٹا کہنے کی ہمت نہ کر سکے۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ ابو جہل آپ کا کتنا بڑا دشمن تھا۔ وہ بھی کہا کرتا تھا:
    "محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ! میں تم کو جھوٹا نہیں کہہ سکتا کیوں کہ تم نے کبھی جھوٹ بولا ہی نہیں ، البتہ جو باتیں تم کہتے ہو ان کو میں ٹھیک نہیں سمجھتا۔"

    یاد کیجئے اُس واقعہ کو جب حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے کوہِ صفا پر چڑھ کر قریش والوں سے یہ سوال کیا تھا:
    "اگر میں کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر آ رہا ہے تو کیا تم یقین کرو گے؟"
    سب نے ایک زبان ہوکر جو جواب دیا تھا وہ آپ کے صادق القول ہونے کی دلیل ہے۔
    بولے " ہاں! ہم ضرور یقین کریں گے کیوں کہ تم کو ہمیشہ سے ہم نے سچ ہی بولتے دیکھا ہے۔

    جانِ حیات ہے ترے اخلاق کی جھلک
    خود زندگی ہے موت کا ساماں ترے بغیر
    (ماہرالقادری)

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے محمداشرف يوسف کا شکریہ ادا کیا:

    سیما (06-12-2013)

  3. #2
    ناظم سیما کا اوتار
    تاريخ شموليت
    May 2011
    پيغامات
    2,514
    شکریہ
    409
    125 پیغامات میں 159 اظہار تشکر

    جواب: آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمیشہ سچ بولتے تھے

    جزاک اللہ
    اورابھی زمانے ہم لوگ تو ہر بات می جھوٹ بولتے ہیں :((


  4. #3
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Dec 2010
    مقام
    کراچی
    پيغامات
    393
    شکریہ
    65
    55 پیغامات میں 107 اظہار تشکر

    جواب: آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ہمیشہ سچ بولتے تھے

    بے شک ہم نے یہ فرمان بھی سنا ہے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بول سکتا۔
    یعنی اسلام جھوٹ اور فریب سے انسان کو دور رکھتا ہے۔ آج کل کے دور میں واقعی اس بات کی ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ اپنے روز مرہ کے معاملات میں سچائی سے کام لیا جائے اور جھوٹ ، فریب بازی سے اپنے کو روکا جائے۔
    اس کے ساتھ محمد اشرف یوسف صاحب کی خدمت اقدس میں عرض ہے کہ میرے محترم!
    ادب انسان کو بلندی پر لے جاتا ہے اور خدا نخواستہ بے ادبی پر پکڑ شدید ہوجاتی ہے۔
    اس لیے جب بھی سرکارِ دو عالم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ آئے تو اس وقت زبان کی شائشتگی اور انتہائی ادب کا خیال رکھا جائے۔
    مضمون پر اعتراض بالکل نہیں کرسکتا البتہ پہلی لائن میں میں جو آپ نے تحریر فرمایا کہ:
    رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ سچ بولتے تھے اور جھوٹ کے پاس بھی کبھی نہ پھٹکتے تھے۔
    اس میں لفظ ’’پھٹکنا‘‘ بہت عجیب لگا۔
    محترم انتہائی ادب کا خیال رکھا کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے۔


    -------------------------
    اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
    ہم نے تو دل جلاکے سرِ راہ رکھ دیا
    ---------------------

  5. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے سرحدی کا شکریہ ادا کیا:

    تانیہ (07-04-2013)

متشابہہ موضوعات

  1. جوابات: 0
    آخری پيغام: 07-04-2012, 10:43 PM
  2. پھول تھے رنگ تھے لمحوں کی صباحت ہم تھے
    By تانیہ in forum متفرق شاعری
    جوابات: 1
    آخری پيغام: 04-02-2012, 09:39 AM
  3. جوابات: 5
    آخری پيغام: 08-29-2011, 01:41 PM
  4. جوابات: 0
    آخری پيغام: 02-09-2011, 01:13 AM
  5. جوابات: 2
    آخری پيغام: 01-31-2011, 06:56 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University