تاریخ: 24 دسمبر 2012
از طرف: سید انور محمود

[size=xx-large]مینڈک اور سانپ کی کہانی[/size]
[align=justify]ایک تالاب میں بہت سارئے مینڈک رہتے تھے، مینڈک بہت پرامن وسکون سے تالاب میں رہ رہے تھے مگر ان میں کچھ شرپسند مینڈک بھی تھے جن کا مقصد تالاب کےپرسکون ماحول کو برباد کرنا تھا، مگر وہ ایسا کر نہیں پارہے تھے۔ ایک دن تالاب سے باہرجب وہ جمع ہوکراپنی شرپسندی کے بارے میں سوچ رہے تھے تو ان میں سے بڑے شرپسند مینڈک نے تجویز دی کہ اگر ہم سانپ سے دوستی کرلیں اور تالاب کے ان مینڈکوں کے بارئے بتاتے رہیں تو سانپ انہیں کھاتا رہے گااور وہ کمزور پڑتے رہنگے اسطرح ہمارا کام ہوجایگا۔ وہ سانپ سے دوستی کے بعد اسکو مینڈکوں بارئے میں بتاتے رہے کہ آج کونسا مینڈک کہاں ملے گااور سانپ کو اسکی خوراک ملتی رہی، سانپ بھی خوش تھا اور شرپسند مینڈک بھی، مگر کچھ عرصہ بعد مینڈکوں کو اس سازش کا پتہ چل گیا اور انہوں نے اپنی حفاظت کا انتظام کرلیا، مگر اس عرصے میں سانپ مینڈکوں کو کھانے کاعادی ہوچکا تھا- ایک روز جب سانپ نے اپنے شکار کے بارئے میں پوچھا تو شرپسند مینڈک نے اسکو بتایا کہ اب تالاب کےمینڈک ہماری سازش سے آگاہ ہوچکے ہیں لہذا انہوں نے اپنی حفاظت کا انتظام کرلیا ہے اور وہ پہلے سے زیادہ متحد ہوگے ہیں۔ یہ سنتے ہی سانپ کو غصہ آگیا اور اس نے اس شرپسند مینڈک کو کھانے کے لیے اپنے منہ میں دبا لیا، شرپسندمینڈک نے پوچھا میں تو تیرا دوست ہوں پھرمجھ کو کیوں کھا رہا ہے، سانپ نے جواب دیا سانپ کسی کا دوست نہیں ہوتا اور شرپسندمینڈک کو کھاگیا۔

پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کےصف اول کے رہنما اور صوبہ خیبر پختون خوا ہ کےسینئر صوبائی وزیر بشیراحمد بلور سمیت نو افراد خود کش حملے میں شہید ہوگئے ہیں۔ دہشت گرد تحریک طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے بشیر احمد بلور نے اس بات کو اپنی اولین ذمہ داری بنا رکھا تھا کہ پشاور یا صوبے کے کسی دوسرے شہر میں دہشت گردی کا واقعہ پیش آتا تو وہ جائے وقوعہ پر پہنچ جاتے اور ذرائع ابلاغ سے بات کرنے میں عوام کو حوصلہ دینے کی بات کرتے اوردہشت گرد طالبان کےحملوں کی شدید الفاظ میں مزمت کرتے تھے۔ وہ جس طرح ہر جگہ اور میڈیا میں کھل کر دہشت گردطالبان کی مخالفت کرتے تھے اس وجہ سےطالبان دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر بہت پہلے سے موجود تھے۔ ۔ بشیر احمد بلور پر اس سے پہلے بھی دو مرتبہ قاتلانہ حملے ہوچکے ہیں جبکہ صوبائی وزیر میاں افتخار حسین کے اکلوتے بیٹے بھی دہشت گرد طالبان حملے میں شہید ہوئے تھے۔عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان سینیٹر زاہد کا کہنا ہے کہ بشیر احمد بلور کی شہادت سے ان کے حوصلے پست نہیں ہونگے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اسفندیار ولی خان نے ان کی ہلاکت کو محض اپنی پارٹی نہیں بلکہ تمام لبرل قوتوں اور پورے ملک کا نقصان قرار دیا۔ اے این پی کے دیگر رہنماؤں کی طرح اسفندیار پر بھی خودکش حملے ہوچکے ہیں۔

اوپر کی کہانی کو اگر آپ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پس منظر میں دیکھیں تو سانپ سے مراد دہشت گرد طالبان ہیں اور شرپسند مینڈکوں سے مراد دہشت گرد طالبان کے ہمدرد ہیں ۔ ملالہ کے اوپر حملے میں قاضی حسین احمد کو دہشت گرد طالبان کا نام لینے میں تکلیف ہورہی تھی مگر کیا بشیر احمد بلورکی شہادت پر بھی انہیں اور انکی جماعت کو دہشت گرد طالبان کا نام لینے میں تکلیف ہورہی ہے۔ قاضی صاحب لاکھ کہیں ان پر ہونے والا خودکش حملہ امریکہ نے کروایا تھا مگر قاضی صاحب خود جانتے ہیں کہ سانپ سے دوستی اور اپنی قوم سے بےوفائی انہوں نے ہی کی ہے۔

[/align]