صفحہ 3 از 3 اوليناولين 123
نتائج کی نمائش 21 تا: 26 از: 26

موضوع: سرکاری سطح پر شائع ہونے والی قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی۔۔۔۔۔

  1. #21
    ناظم خاص تانیہ کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    مقام
    گجرات
    پيغامات
    7,868
    شکریہ
    949
    880 پیغامات میں 1,107 اظہار تشکر
    لعنۃ اللہ علی الکذبین



  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے تانیہ کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (01-31-2014)

  3. #22
    رکنِ خاص سقراط کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,469
    شکریہ
    35
    149 پیغامات میں 217 اظہار تشکر


  4. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے سقراط کا شکریہ ادا کیا:

    بےباک (01-31-2014)

  5. #23
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    جواب: سرکاری سطح پر شائع ہونے والی قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی۔۔۔۔۔

    اس بارے ہماری کوشش سے یہ مکمل کتاب یہاں لگا دی گئی ہے ،
    https://archive.org/details/Qadiyani...omplete21Parts
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  6. #24
    مبتدی
    تاريخ شموليت
    Oct 2014
    پيغامات
    1
    شکریہ
    0
    0 پیغامات میں 0 اظہار تشکر

    جواب: سرکاری سطح پر شائع ہونے والی قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی۔۔۔۔۔

    السلام علیکم
    قادیانی کہتے ہیں کہ یہ جو کارووائی حکومت نے چھاپی ہے درست نہیں ہے۔اس ضمن میں وہ مندرجہ ذیل وجوہات بیان کرتے ہیں۔کسی صا حب کے پاس ان کے جوابات ہوں تو براہ مہربانی راہنمائی فرمائیں۔اس کے علاوہ ان صا حب نے ایک ویب سائٹ کا حوالہ بھی دیا ہے۔وہ بھی دیکھی جاسکتی ہے۔
    http://www.proceedings1974.org
    1) جماعت ِ احمدیہ کا موقف ایک محضر نامہ پر مشتمل تھا ۔دو دن کی کارروائی میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ (حضرت مرزا ناص احمد صا حب)نے یہ موقف خود پڑھ کر سنایا تھا۔اس اشاعت میں یہ محضر نامہ جو جماعتِ احمدیہ کا اصل موقف تھا شامل نہیں کیا گیاحالانکہ یہ محضرنامہ کارروائی کا اہم حصہ تھا۔ اس کے برعکس جماعت کے مخالفین نے، جن میں مفتی محمود صاحب کا نام بھی شامل ہے جو اپنے مؤقف پر مشتمل طویل تقاریر کی تھیں وہ اس اشاعت میں شامل کی گئیں۔
    2) جماعتِ احمدیہ کے موقف کے طور پر محضر نامہ کے ضمیمے کے طور پر جو مضامین اور کتابچے جمع کرائے گئے تھے وہ اس اشاعت میں شامل نہیں کئے گئے اور جو ضمیمے مخالفین نے جمع کرائے تھے وہ اس اشاعت کا حصہ بنائے گئے۔
    3) بعض جگہوں کچھ نمایاں سرخیاں لگا کر خلاف ِ واقعہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔مثلاََ اس اشاعت کے صفحہ 2360اور صفحہ 2384پر جماعت ِ احمدیہ کے مخالفین کی تقاریر کے تحریری ریکارڈ میں یہ ہیڈنگ لگائی گئی ہیں'' مرزا ناصر احمد صاحب سے '' اور نیچے کچھ سوالات درج ہیں۔اور یہ تاثر پیش کیا گیا ہے کہ گویا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ سے یہ سوالات کئے گئے تھے اور آپ نے ان کا کوئی جواب نہیں دیا۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تقاریر 30/اگست 1974ء کی کارروائی کی ہیں اور اس روز حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ یا جماعتِ احمدیہ کے وفد کا کوئی ممبر وہاں پر موجود ہی نہیں تھا اور نہ ہی یہ سوالات کبھی ان تک پہنچائے گئے۔ خدا جانے یہ سوالات کس سے کئے جا رہے تھے ؟
    4) قومی اسمبلی کے قوانین میں یہ قاعدہ درج ہے کہ جب کمیٹی میں ایک گواہ کو سنا جاتا ہے
    A verbatim record of the proceedings of the committee shall, when a witness is summoned to give evidence, be kept.
    اس قاعدہ کے الفاظ بالکل واضح ہیں ۔جب ایک گواہ کمیٹی میں گواہی دے تو اس کے بیان کا حرف بحرف ریکارڈ رکھنا ضروری ہے لیکن کیا ایسا کیا گیا؟ اس اشاعت میں بعض مقامات پر جہاں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے حوالہ کے طور پر عربی عبارت پڑھی ہے وہاں اصل عبارت کی جگہ صرف '' عربی'' لکھنے پر اکتفا کی گئی ہے۔ یہ طریقہ کار قواعد کے بالکل خلاف ہے۔ اصل عبارت درج کیوں نہیں کی گئی ؟ مولوی ظفر انصاری صاحب عربی زبان سے بخوبی واقف تھے۔ کئی مولوی صاحبان کوجو اس اسمبلی کے ممبر تھے عربی دانی کا دعویٰ تھا۔ اگر یہ سب عربی عبارت سمجھنے سے عاجز تھے تو حسبِ قواعد ضروری تھا کہ جماعت کے وفد کو متعلقہ حصہ دکھا کر اصل عبارت درج کر لی جاتی ایسا کیوں نہیں کیا گیا؟ یہ گروہ اس بات سے خائف کیوں تھا کہ اس ریکارڈ کا ایک چھوٹا سا حصہ بھی جماعت ِ احمدیہ کے وفد کے کسی ممبر کو دکھایا جاتا ۔ آخر کیا خوف دامنگیر تھا؟ ہم اس کا فیصلہ پڑھنے والوں پر چھوڑتے ہیں۔
    ان وجوہات کی بنا پر اگر انصاف کی نظر سے دیکھا جائے تو اگر جماعتِ احمدیہ یا کسی بھی محقق کی طرف سے اس اشاعت کو مکمل طور پر یا جزوی طور پر مسترد کیا جائے تو یہ ان کا حق ہے۔ جب اس کارروائی کو جزوی طور پر شائع کیا گیا تو اس وقت جماعت کے احمدیہ کے وفد کے پانچوں اراکین وفات پا چکے تھے۔ اب اس اشاعت کی تصدیق کرنا ممکن نہیں رہا۔ لہٰذا اس کتاب میں جہاں یہ الفاظ استعمال کئے گئے ہیں کہ '' حضور نے فرمایا ۔۔۔۔۔۔ یا ''حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے فرمایا ۔۔۔۔۔۔ '' تو اس سے مراد صرف یہ ہے کہ اس اشاعت میں یہ لکھا ہے کہ حضور نے یہ فرمایا تھا۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کیا سچ ہے اور کیا غلط؟ لیکن جب بھی اس قسم کا مواد دنیا کے سامنے آتا ہے تو اس کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس کتاب میں ہم نے صرف یہ بیان کرنے کی کوشش کی ہے کہ جب ایک عام پڑھنے والا اس کارروائی کو پڑھ کر اصل پس منظر اور حقائق کا جائزہ لیتا ہے اور اصل حوالوں کو سامنے رکھ کر رائے قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے تو کیا ممکنہ نتائج سامنے آتے ہیں ۔ جس گروہ نے حقائق کو چھپانے کی کوشش کی ہے تو ان کے موقف کی کمزوری کی یہ کیفیت ہے وہ کسی نہ کسی رنگ میں ظاہر ہو ہی جاتی ہے۔

    مزید اس سلسلہ میں ان صا حب نے ایک کتاب کا حوالہ دیا۔میں نے جب یہ کتاب پڑھی تو میں تو اس کا جواب دینے سے قاصر رہا۔براہ مہربانی کتاب پڑھ کر راہنمائی فرما ئیں۔
    کتاب:قومی اسمبلی کی کارووائی پر تبصرہ

  7. #25
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    جواب: سرکاری سطح پر شائع ہونے والی قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی۔۔۔۔۔

    جناب ابن خالد صاحب ،آپ ماشائاللہ سلجھے ھوئے انسان ہیں ، عقل و شعور بھی لازمی عام انسان سے زیادہ ہو گا ، اس لئے
    اس ساری بحث سے بچتے ہوئے آپ سے ایک سوال :
    کیا آپ نے مرزا صاحب کی کتب کا مطالعہ کیا ہے ؟؟؟اگر نہیں پڑھیں تو پہلے ان کا مطالعہ کر لیں ،پاکستان میں یہ بحث اس کےبہت ہی بعد کی پیداوار ہے ، اصل بات ھے اس سبب کو سمجھیں ، جس کی بے حد ضرورت ہے ،

    ، کاروائی تو آپ نے پڑھ لی ، اورہم نے بھی پڑھ لی ، ہم نے سمجھ لی ، اور عمومی پاکستانیوں نے بھی پڑھ لی ،
    کیا مرزائیوں کو حق حاصل نہیں کہ وہ اپنا کیس عدالت میں لے جائیں ، اور اس کا دفاع کریں ، قادیانیوں نے قومی اسمبلی کا تفصیلی نسخہ عدالت کے حکم پر وکیل کے توسط سے اسی لئے حاصل کیا تھا ، ان کی طرف سے ابھی تک اس بارے کیس داخل نہیں کیا گیا ،
    کافی باتیں سمجھ میں نہیں آئیں تو بھی ایک سادہ سا سوال ہے کہ آپ کیا مرزا غلام احمدقادیانی کو نبی مانتے ہیں ، کیا کوئی بندہ محمد صلی اللہ کے بعد نبی ہو سکتا ہے ؟؟؟؟ اس کے بعد آپ سے بات کی جائے گی ، کیونکہ
    کاش کوئی ٹھنڈے دل سے اس کی کتب کو پڑھے جس میں مرزا قادیانی نے سب انبیاء سے افضل اپنے آپ کو لکھا ھے ،؟؟؟
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

  8. #26
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    جواب: سرکاری سطح پر شائع ہونے والی قومی اسمبلی کی مکمل کاروائی۔۔۔۔۔

    مرزائی مربی اکثر اپنا "دجل و فریب" دکھاتے ہیں اورکہتے ہیں کہ "ہم تو ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں" اور " ہم کلمہ میں محمد سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مراد لیتے ہیں " ... پیش خدمت ہے کتاب "مطالعهء قاديانيت" سے ایک اقتباس ..... یہ مرزائی ختم بنوت اور کلمہ کی ایک جھلک ..تفصیل کے لیے کتاب کا مطالعه فرمائیں ...
    مرزائی مذہب کی چند جھلکیاں
    یہاں مرزائی عقیدے کو مزید واضح کرنے کے لئے ان کی کتابوں سے چند اقتباسات بھی (اپنے دل پر پتھر رکھ کر) ملاحظہ فرمائیں تاکہ قادیانی مذہب کا اصل چہرہ نکھر کر سامنے آجائے :
    میرا نام محمد رسول اللہ
    مرزا قادیانی اپنے اوپر ہونے والی ایک (نام نہاد) وحی کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے:۔
    ’’پھر اسی کتاب میں اسی مکالمے کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینہم اس وحی الہی میں میرا نام محمد بھی رکھا گیا اور رسول بھی ‘‘۔ (ایک غلطی کا ازالہ، رخ 18صفحہ 207)
    مرزا کے یہ الفاظ کسی تشریح یا وضاحت کے محتاج نہیں ، وہ اپنے پر ہونے والی (نام نہاد) وحی کے وہی الفاظ بتا رہا ہے جو سورۃ الفتح کی آیت 29 میں حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوئے اور اس آیت میں آپ ﷺ کے بارے میں’’ محمد رسول اللہ‘‘کہا گیا ، اب کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ جب مرزائی یہ کہتے ہیں کہ ہم بھی وہی کلمہ پڑھتے ہیں جو مسلمان پڑھتے ہیں تو ظاہری طور پر الفاظ تو وہی پڑھتے ہیں جو مسلمان کہتے ہیں لیکن ان کے مذہب میں ’’محمد رسول اللہ‘‘ ایک نہیں بلکہ دو ہیں کیونکہ مرزا قادیانی کے بقول اس کا نام بھی (اس کے)خدا نے محمد رسول اللہ رکھا ہے ۔
    تمام نبیوں کے نام مجھے دیے گئے
    ’’ اور دنیا میں کوئی نبی نہیں گذرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا سو جیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے (واضح رہے کہ براہین احمدیہ مرزا قادیانی کی پہلی کتاب ہے جس کا مصنف خود مرزا قادیانی ہے پھر اس کتاب میں خدا کے فرمانے کا کیا مطلب؟ ناقل) میں آدمؑ ہوں ، میں نوحؑ ہوں میں ابراہیم ؑ ہوں ، میں اسحاق ؑہوں، میں یعقوبؑ ہوں، میں اسماعیل ؑ ہوں ، میں موسیٰ ؑ ہوں میں داودؑ ہوں،میں عیسیٰ ؑ ابن مریم ہوں ، میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں یعنی بروزی طور پر‘‘۔
    (تتمہ حقیقۃ الوحی، رخ 22صفحہ 521)
    میرے اور محمد مصطفی ﷺ کے درمیان کوئی فرق نہیں
    ’’ من فرق بیني وبین المصطفی فما عرفني وما رأی‘‘ جس نے میرے اور (محمد) مصطفی (ﷺ) کے درمیان فرق کیا اس نے نہ ہی مجھے پہچانا اور نہ مجھے دیکھا ۔
    (خطبہ الہامیہ، رخ 16 صفحہ )259)
    نبی کریم ﷺ دو بار مبعوث ہوئے
    ’’ اور جان کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کہ پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے (یعنی چھٹی صدی عیسوی میں۔ ناقل) ایسا ہی مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی۔ ناقل) کی بروزی صورت اختیار کرکے چھٹے ہزار (یعنی تیرھویں صدی ہجری۔ ناقل) کے آخر میں مبعوث ہوئے، اور یہ قرآن سے ثابت ہے اس میں انکار کی گنجائش نہیں‘‘۔
    (خطبہ الہامیہ، رخ 16 صفحہ 270)
    یہاں ہم اس بحث میں نہیں پڑتے کہ مرزا قادیانی کو یہ کس نے بتایا تھا کہ دنیا کا پانچواں ہزار کونسا ہے اور چھٹا ہزار کونسا ہے؟ نہ ہم مرزاسے یہ سوال کریں گے کہ وہ کون سا قرآن ہے جس سے یہ ثابت ہے کہ حضرت محمد ﷺ نے دوبارہ مرزا قادیانی کی بروزی صورت اختیار کرکے مبعوث ہونا تھا ، ہمارا مقصد یہ حوالہ پیش کرنے کا سر دست صرف یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ ہی سمجھتا ہے ۔ (مرزا کی قرآن وحدیث پر کی گئی کذب بیانیوں اور تحریفات پر ہم ان شاء اللہ تحریفات وکذبات مرزا کے عنوان
    میری شکل میں آنحضرت ﷺ دوبارہ دنیا میں آئے
    ’’ اس تقریر سے یہ بات بپایہء ثبوت پہنچ گئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دو بعث ہیں ، یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک بروزی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دوبارہ آنا دنیا میں وعدہ دیا گیا تھا جو مسیح موعود ومہدی معہود (یعنی مرزا قادیانی ۔ ناقل) کے ظہور سے پورا ہوا‘‘۔
    (تحفہ گولڑویہ، رخ 17 صفحہ 249)
    اور مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے، اپنے باپ کے اس دعوے کی وضاحت یوں کرتاہے :۔
    ’’ اور وہ جس نے مسیح موعود ( اس کے خیال میں مرزا قادیانی ۔ ناقل) کی بعثت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ثانی نہ جانا اس نے قرآن کو پس پشت ڈال دیا کیونکہ قرآن پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ پھر دنیا میں آئے گا…‘‘ ۔
    (کلمۃ الفصل، صفحہ 105، مصنفہ مرزا بشیر احمد بن مرزا غلام احمد قادیانی)
    اب اسم محمد ﷺ کی تجلی ظاہر کرنے کا وقت نہیں
    ’’مگر تم خوب توجہ کرکے سن لو کہ اب اسم محمد کی تجلی ظاہر کرنے کا وقت نہیں ۔ یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں ۔ کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہوچکا ۔ سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں ۔ اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہوکر میں ہوں ‘‘ ۔ (اربعین نمبر 4 ، رخ 17صفحات 445 و 446)
    میں مسیح وکلیم اور محمد واحمد مجتبی ہوں
    ’’منم مسیح زمان ومنم کلیم خدا … منم محمد واحمد کہ مجتبیٰ باشد‘‘ میں ہی مسیح زمان ہوں ، میں ہی کلیم خدا ہوں ، میں ہی محمد واحمد مجتبیٰ ہوں ۔
    (تریاق القلوب، رخ 15 صفحہ 134)
    ستم کیشی کو تیری کوئی پہنچا ہے نہ پہنچے گا … اگرچہ ہوچکے ہیں تجھ سے پہلے فتنہ گر لاکھوں
    قادیان میں محمد ﷺ
    مرزا قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر احمد ایم اے (جسے مرزائی دنیا قمر الانبیاء کے لقب سے یاد کرتی ہے) اپنے باپ کی ان تحریروں کی تشریح یوں کرتا ہے ، غور سے پڑھیے گا:۔
    ’’… کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالی نے پھر محمد صلعم اُتارا تا اپنے وعدے کو پورا کرے جو اس نے آخرین منہم لما یلحقوا بہم میں فرمایا تھا‘‘۔
    (کلمۃ الفصل ، صفحہ 105 )
    یاد رہے یہ قادیانی ڈھکوسلہ اور تحریف ہے کہ اس آیت میں کسی کے قادیان میں اتارے جانے کا وعدہ ہے یا اس آیت میں نبی کریم ﷺ کے دوبارہ ظہور کا بیان ہے ۔
    اور اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ اگر حضرت محمد ﷺ کے بعد کوئی اور نبی ہے تو اس کا کلمہ بتاؤ؟ یہی مرزا بشیر احمد یوں لکھتا ہے:۔
    ’’مسیح موعود (یعنی اس کے مطابق مرزا قادیانی ۔ ناقل) کی بعثت کے بعد محمد رسول اللہ کے مفہوم میں ایک اور رسول کی زیادتی ہوگئی ‘‘۔
    (کلمۃ الفصل، صفحہ 158)
    یعنی وہ تسلیم کرتا ہے کہ جب قادیانی لوگوں کے سامنے مسلمانوں والا کلمہ پڑھتے ہیں تو اگرچہ کلمہ کے ظاہری الفاظ وہی ہوتے ہیں لیکن ان کے نزدیک محمد رسول اللہ میں ان کا (نقلی اور جعلی) مسیح مرزا قادیانی بھی شامل ہوتا ہے۔
    مرزا قادیانی خود محمد رسول اللہ ﷺ ہے
    پھر اسی صفحے پر مرزا بشیر احمد مرزائی عقیدے کی وضاحت یوں کرتا ہے :۔
    ’’ پس مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی ۔ ناقل) خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی ‘‘۔
    (کلمۃ الفصل، صفحہ 158)
    مرزا قادیانی نبی کریم ﷺ کے پہلو بہ پہلو
    اسی پر بس نہیں بلکہ مرزا قادیانی کا یہ بیٹا اس حد تک چلا گیا کہ لکھتا ہے:۔
    ’’مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی نقلی اور جعلی مسیح ۔ ناقل) کو نبوت تب ملی جب اس نے نبوت محمدیہ کے تمام کمالات کو حاصل کرلیا اور اس قابل ہو گیا کہ ظلی نبی کہلائے ، پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم ﷺ کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا‘‘ ۔
    (کلمۃ الفصل، صفحہ 113)
    مرزا قادیانی کی روحانیت زیادہ کامل
    لیکن اسے اپنے باپ کا یہ مقام بھی پسند نہ آیا اور اس نے ایک قدم اور بڑھایا:۔
    ’’مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی نقلی اور جعلی مسیح ۔ ناقل) نبی کریم ﷺ سے الگ کوئی چیز نہیں ہے بلکہ وہی ہے اور اگر مسیح موعود (یعنی مرزا قادیانی ۔ ناقل) کا منکر کافر نہیں تو نعوذ باللہ نبی کریم کا منکر بھی کافر نہیں کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پہلی بعثت میں تو آپ کا انکار کفر ہو ، مگر دوسری بعثت میں (جو مرزائی عقیدے کے مطابق مرزا قادیانی کی صورت میں ہوئی ۔ ناقل) جس میں بقول حضرت مسیح موعود آپ کی روحانیت اقویٰ اور اکمل اور اشدّ ہے آپ کا انکار کفر نہ ہو‘‘۔
    (کلمۃ الفصل، صفحہ 147)
    لیجیے اس نے نہ صرف مرزا قادیانی کو آنحضرت ﷺ کی دوسری بعثت قرار دیا بلکہ اس کی روحانیت کو پہلی بعثت ( جو خود حضرت محمد ﷺ کی صورت میں ہوئی) سے زیادہ قوی زیادہ کامل قرار دیدیا ۔ یعنی اصل کی روحانیت سے نقل کی روحانیت زیادہ کامل ہے (نعوذ باللہ من ذلک)۔
    ’’اسمہ احمد‘‘ کی بشارت مرزا قادیانی کے بارے میں
    مرزا قادیانی کادوسرا بیٹا مرزا محمود (دوسرا قادیانی خلیفہ) تو یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا رہا کہ قرآن کریم کی سورۃ الصف کی آیت نمبر 6 میں جو یہ ذکر ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے بعد ایک ’’احمد‘‘ نامی رسول کی بعثت کی بشارت دی تھی، اس کا مصداق حضرت محمد ﷺ نہیں بلکہ وہ بشارت مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں ہے ، چنانچہ وہ کہتا ہے : ۔
    ’’اسمہ احمد کی پیش گوئی کا مصداق حضرت مسیح موعود (نقلی اور جعلی ۔ ناقل) ہیں ۔ میرا یہ عقیدہ ہے کہ یہ آیت مسیح موعود (یعنی نقلی اور جعلی مسیح مرزا قادیانی ۔ ناقل) کے متعلق ہے اور احمد آپ ہی ہیں ، لیکن اس کے خلاف کہاجاتا ہے کہ احمد نام رسول کریم ﷺ کا ہے اور آپ کے سوا کسی اور شخص کو احمد کہنا آپ کی ہتک ہے ۔ لیکن میں جہاں تک غور کرتا ہوں میرا یقین بڑھتا جاتا ہے اور میں ایمان رکھتا ہوں کہ احمد کا جو لفظ قرآن کریم میں آیا ہے وہ حضرت مسیح موعود (یعنی نقلی مسیح مرزا قادیانی ۔ ناقل) کے متعلق ہی ہے ‘‘ ۔ (انوار خلافت ، انوار العلوم جلد 3 ، صفحہ 83 وما بعد)
    قارئین محترم! یہ صرف بطور نمونہ چند مرزائی تحریریں آپ کے سامنے رکھی ہیں ، ورنہ قادیانی لٹریچر اس طرح کی دلخراش اور کفریہ عبارات سے بھرا پڑا ہے ، یقینا ایک مسلمان کا دل یہ سب پڑھ کر تڑپ تڑپ جاتا ہے کہ کیسے ایک جھوٹے اور کذاب کو صادق ومصدوق ﷺ کے ساتھ ملایا جا رہا ہے ، میں بھی اپنے اصل موضوع کی طرف واپس آتا ہوں کہیں میرے قلم کے صبر کا پیمانہ لبریز نہ ہوجائے ، کیونکہ :
    ڈرتا ہوں عدم پھر آج کہیں شعلے نہ اٹھیں بجلی نہ گرے
    بربط کی طبیعت الجھی ہے ، نغمات کی نیت ٹھیک نہیں

    مضمون مرتب (ساحل کاھلوں )
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

صفحہ 3 از 3 اوليناولين 123

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University