[size=xx-large]رینٹل پاور کیس: نیب کے تفتیشی افسر نے مبینہ طور پر خودکشی کرلی[/size]
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) کرائے کے بجلی گھروں میں بدعنوانی کے کیس کی تحقیقات کرنیوالے نیب کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے مبینہ طورپر خود کشی کرلی ہے ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق قومی احتساب بیورو(نیب)کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کامران فیصل رینٹل پاور کیس کی وجہ سے شدید ذہنی دباﺅ میں مبتلاتھے اور وہ جمعہ کی صبح فیڈرل لاجز نمبر ٹوکے روم نمبر ایک میں مردہ پائے گئے ۔ایکسپریس نیوز نے پولیس کے حوالے سے بتایاکہ اکتیس سالہ کامران فیصل نے پنکھے کیساتھ لٹک کر خودکشی کی ،حکام کی طرف سے وزیراعظم کی گرفتاری کے احکامات کے بعد اُن پر تفتیش کی تبدیلی کے لیے دباﺅ ڈالاجا رہا تھاکہ وہ اپنی اصل فائلیں بھی حوالے کردیں اوراُنہی کی تفتیش کی وجہ سے اعلیٰ حکام کے خلاف عدالت نے فیصلہ دیاتھا۔ جیونیوز کے نیب ذرائع کے مطابق کامران فیصل نے ڈی جی سے کہا تھاکہ اُنہیں تحقیقات سے الگ کردیاجائے لیکن اُس کی بات پر کسی نے توجہ نہیں دی ۔واضح رہے کہ کامران فیصل تفتیشی افسرحسین اصغر کی معاونت کررہے تھے اور گذشتہ روز بھی سپریم کورٹ میں پیش بھی ہوئے ،وہ کچھ عرصہ قبل ایف آئی اے میں بھی تعینات رہے ۔ نیب کے ترجمان نے موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ پوسٹمارٹم کے بعد ہی موت کی وجہ معلوم ہوسکے گی ۔چیئرمین نیب فصیح بخاری نے فیڈرل لاجز کے دورہ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ افسوس ہے ، ہماراایک محنتی ساتھی ہم سے الگ ہوگیا۔کامران فیصل اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے اور اُنہوں نے سوگواران میں دو بیٹے اور ایک بیٹی چھوڑی ہے ۔