صفحہ 1 از 2 12 آخریآخری
نتائج کی نمائش 1 تا: 10 از: 11

موضوع: عید میلاد النبی صلى اللہ علیہ وسلم کی شرعی حیثیت

  1. #1
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Oct 2012
    پيغامات
    299
    شکریہ
    0
    6 پیغامات میں 6 اظہار تشکر

    عید میلاد النبی صلى اللہ علیہ وسلم کی شرعی حیثیت

    بسم الله الرحمن الرحيم
    اسلام کا ایک اہم تصور: اسلام ایک فطری مذہب ہے- اسکا کوئی جزبھی کسی انسان کے دماغ کی پیداوارنہیں- دین حق وحى الہى کے ذریعہ معقول اورماثورہے- اسلام میں کسی کے علم اورعقل کا دخل تو نہیں ہے- لیکن وہ انسانی دل ودماغ سے عین مطابقت رکھتا ہے- اسلام کا مقصد اورمطالبہ صرف یہی نہیں ہے کہ اس کے احکامات پرعمل کیا جائے اورممنوعات اور محرمات کوچھوڑدیا جائے بلکہ بعض مخصوص موقعوں پرکچھ نہ کرنا اورخاموش رہنا یعنى ترک عمل بھی ایک عمل ہے جسکا تعلق اتباع سنت سے ہے – یعنى ہم کوئی ایسا کام نہیں کرسکتے جس پرحضوراکرم صلى اللہ علیہ وسلم نے عمل نہ فرمایا تھا اورنہ اسکا حکم دیا تھا- اسلئے جلیل القدرصحابہ کرام یہ کہا کرتے تھے کہ مسلمان وہ کام انجام نہ دیں جودورصحابہ میں موجود نہ تھا جوکام صحابہ کرام کے زمانے میں دین نہ تھا وہ بعد کے زمانے میں بھی دین نہیں ہوسکتا – رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم اسلام کے بارے میں کوئی بات وحى کے بغیراپنی طرف سے نہیں فرماتے تھے – ارشاد الہی ہے:" اور ہم نے جوبھی رسول بھیجے اسی لئے کہ اللہ کے اذن سے اسکی اطاعت کی جائے"-(نساء:64)
    حنفى فقہ کی معروف کتابوں ہدایہ اورکنزالدقائق وغیرہ میں ہے کہ جس کام کا کرنا رسول صلى اللہ علیہ وسلم اورصحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ثابت نہ ہو-اس کام کا کرنا منع ہے اسی طرح طرح جلیل القدرعلماء سلف یہ بھی فرماتے ہیں کہ جسطرح حضورصلى اللہ علیہ وسلم کے کئے ہوئے عمل کا انجام دینا سنت ہے –اسی طرح آپ صلى اللہ علیہ وسلم کے نہ کئے ہوئے کام کا نہ کرنا بھی سنت ہے اوراہل سنت کہلانے کا مطلب بھی یہی ہے ورنہ اہل بدعت کہلائیں گے- فقہ کامعروف اورمسلمہ مسئلہ ایک یہ بھی ہے کہ جن امورکی انفرادی طورپراجازت ہے- انہیں زماں ومکاں کی قید اور شرط کے ساتھ اجتماعى طورپرانجام دینے کیلئے دلیل شرعى درکارہے – ہم اپنے طورپرکوئی انفرادی عبادت ,اجتماعى طورپرانجام نہیں دے سکتے- اسکے لئے حکم اوردورصحابہ کی عملى دلیل اورنظیردرکارہے- مثلا مصافحہ سنت ہے ,لیکن نمازفجرکے بعد نمازیوں کا اجتماعى طورپرایک دوسرے سے مصافحہ کرنا سنت سےثابت نہیں ہے- اسلئے فقہاء نے اس سے منع فرمایا ہے- اسی طرح فقہ کی معتبرکتاب "اصول سرخسی" میں ہے کہ احکام شرعى میں دلیل مثبت عمل کرنے والے کے ذمہ ہے, نہ کہ مانع پر, جو دعوى کرنے والا ہوگا- دلیل بھی اس کےذمہ ہوگی-
    سدباب ذریعہ: سب جانتے ہیں کہ اسلام میں شرک سب سے بڑی اورناقابل بخشش گمراہی ہے – اسلئے اسلام نے مسلمانوں کو شرک سے بچانے اس طرف لے جانے والے تمام راستوں اوردروازوں کوبند کردیا ہے- شرک کا قدیم اوراہم ذریعہ اللہ کے نیک اورمقرب بندوں کی عقیدت,محبت ,احترام اورتعظیم میں شرعى حدود سے تجاوزکرنا ہے- اسلام نے مسلمانوں کوشرک سے بچانے کیلئے جس طرح عقیدت میں غلو, پختہ قبوراورانکی زیارت کیلئے خصوصی سفرسے منع کیا ہے – اسی طرح پیدائش اوروفات کے دنوں میں اجتماعى, جشن عید , اورڈے منانے سے بھی روک دیا ہے –یہ کام مسلمانوں کیلئے عملاً ممکن بھی نہیں ہے- ورنہ ساری زندگی خوشی اورغم منانے میں گزرجائے گی- اسلئے کہ پیداہونے اوروفات پانے والے انبیاء اوربزرگوں کی تعداد کروڑوں میں ہے- جب ڈے منانا بالفرض جائزاورمفید کام ہے توایسی صورت میں تمام انبیاء ,شہداء, صحابہ اوربزرگوں ,ائمہ فقہ اورحدیث کا ڈے منانا,عرس کرنا لازم ہوجاتا ہے- جب رسول صلى اللہ علیہ وسلم کا یوم ولادت منایا جائے گا توتمام انسانوں کے باپ حضرت آدم اورابوالانبیاء حضرت ابراہیم کوکیسے فراموش کیا جاسکتا ہے؟ جب شیخ عبدالقادرجیلانی کا عرس منایا جاتا ہے توآپ سے لاکھوں درجہ افضل اوربرترخلفائے راشدین,عشرہ مبشرہ اورامام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اورامام بخاری رحمہما اللہ کوکیوں نہیں؟ جب کہ دین ہمیں شیخ عبدالقادرجیلانی رحمہ اللہ سے نہیں بلکہ ائمہ حدیث وفقہ کے واسطے سے ملا ہے –اسلام احادیث کے بغیرمکمل نہیں ہوتا- لیکن اہل بدعت کی یہ نامعقولیت ,فکروعمل کا عدم توازن اورافراط وتفریط ملاحظہ ہوکہ وہ امام بخاری رحمہ اللہ اورامام ابوحنیفہ رحمہ اللہ وغیرہ ائمہ حدیث اورفقہ میں کسی کی نیاز, فاتحہ اورعرس وغیرہ نہیں مناتے!"
    فیضان غوث اعظم ", کے جلسےتو بے شمارہوتے ہیں لیکن فیضان امام بخاری رحمہ اللہ کا جلسہ ایک بھی نہیں کیا جاتا اورنہ قوالیوں میں ائمہ حدیث وفقہ کا نام لیا جاتا ہے!-
    سال بہ سال انبیاء اوربزرگوں کی پیدائش پرخوشی اورموت پرغم منانا ایک فطری اورناممکن العمل بات ہے- ہاں البتہ انبیاء اوربزرگوں کی تعلیمات ,ہدایات اورنقش قدم پرچلنا ہرمسلمان کیلئے ممکن بھی ہے اورمفید بھی – قرآن وحدیث میں انبیاء اوربزرگوں کی اتباع اورپیروی کرنے کا حکم دیا گیا ہے نہ کہ انکا ڈے منانے کا حضرت عیسى علیہ السلام کی ولادت کا ذکرقرآن میں مفصل مذکورہے- حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کا قصہ قرآن مجید میں جابجا ملتا ہے- اسی طرح حضرت موسی علیہ السلام کی پیدائش کا ذکربھی موجود ہے باوجودیکہ یہ ولادتیں شاندارولادتیں ہیں اوراعجازی صورتوں اورعجائبات الہى کا مظہربھی ہیں- مگرپھربھی حضرت محمد صلى اللہ علیہ وسلم نے کسی گزشتہ نبی کے تذکرہ میلاد کیلئے کسی خاص تاریخ میں کوئی اس قسم کی محفل ہزگزمقررنہیں فرمائی- نہ جشن منایا اورنہ جلوس نکالا- نہ ہی قوالیاں کرائیں, نہ چراغاں کیا , نہ جھنڈیاں لگائیں, نہ محراب بنوائے, نہ لنگرشریف " پکائے, نہ کھانے کھائے اورنہ کھلائے پھروہ معاملہ آپ صلى اللہ علیہ وسلم نے کسی گزشتہ نبی سے اسکی شان کے خلاف سمجھ کراپنی تمام عمرمیں کیا ہو- وہ معاملہ آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی شان کے کیونکرمناسب ہوسکتا ہے؟ نہ رسول صلى اللہ علیہ وسلم نے سابق انبیاء کا یوم منایا اورنہ ہی خلفاء راشدین اورصحابہ کرام نے حضورصلى اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا جشن منایا – اس حقیقت کووہ بریلوی علماء بھی تسلیم کرتے ہیں جوجشن یا میلادالنبی صلى اللہ علیہ وسلم مناتے ہیں انکے بیانات آگے آرہے ہیں-
    امام ابوعبداللہ ابن الحاج مالکی فرماتے ہیں: "ماہ ربیع الاول کی بارہ تاریخ کوجومحفل میلاد قائم ہوتی ہے – مگراسمیں بھی لوگوں نے خرافات اورمحرمات کا اضافہ کررکھا ہے"- (المدخل) یہ 737ھ کی بات ہے موجودہ زمانے میں ان منکرات میں انتہائی اضافہ ہوچکا ہے- اورحالت بدسے بدترہوتی جارہی ہے-
    اوراب ایسا ہوچکا ہے –دنیا جانتی ہے کہ عیسائی کرسمس کے دن کیا کرتے ہیں وہ حضرت عیسى علیہ السلام کی یوم ولادت میں خوب پیتے,عیش کرتے ہیں اورنشے میں ڈرائیوننگ کرنے سے سینکڑوں انسانوں کی جان جاتی ہے- مصرکے بعض مسلمانوں نے تو عیدمیلاد کے موقع پرشراب پینا شروع کردیا ہے – ہندوپاک اوربنگلہ دیش میں پچاس سال پہلے ماہ ربیع الاول میں سیرت النبی صلى اللہ علیہ وسلم کے سادہ طورپرجلسہ اوربارہویں کی فاتحہ و نیازہوتی تھی- لیکن یہ ترقی کرتے کرتے بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ باجوں اورناچوں کے ساتھ جلوس اورمیلاد نکالے جاتے ہیں – کثرت سے روشنی کی جاتی ہے ,پٹاخے چھوڑے جاتے ہیں اورتقریبا ہرکھلی جگہ کثیرتعداد میں پکوان ہوتا ہے- ہرطرف دوردورتک قوالیاں کی ریکارڈنگ کی دھوم اورزبردست صوتی آلود گی ہوتی ہے – جبکہ رسول صلى اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا ایک مقصد بخاری کی حدیث کے مطابق آلات موسیقی کوختم کرنا تھا- لیکن یہ نام نہاد عاشقان رسول صلى اللہ علیہ وسلم مساجد میں کم ہی نظرآتے ہیں-
    علامہ ابوالحسن على بن فضل کہتے ہیں:" محفل میلاد کا احداث تو قرون ثلاثہ کے بعد ہواہے –سلف صالحین سے اسکا جواز ہرگزثابت نہیں- پس ہم پرسلف صالحین کی اقتدا لازم ہے –احداث وبدعت کی کچھ ضرورت نہیں-(جامع المسائل)
    حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" سماع کے منع ہونے کا معاملہ میلاد کے منع ہونے سے بھی مراد ہےاگربالفرض رسول اکرم صلى اللہ علیہ وسلم اسوقت دنیا میں زندہ ہوتے اوریہ مجلس واجتماع آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں منعقد ہوتی توآیا رسول صلى اللہ علیہ وسلم اس امرسے راضی ہوتے اوراس اجتماع کوپسند کرتے ؟ فقیرکا یقین ہے کہ رسول صلى اللہ علیہ وسلم ہرگزاس عمل کو پسند نہ فرماتے بلکہ انکارکرتے-" (مکتوبات : 273)
    واضح رہے کہ حضرت مجدد الف ثانی اپنے مکتوبات کے مطابق بدعت کی تقسیم حسنہ اورسیئہ کے قائل نہ تھے – اور ہربدعت کو اگرچہ کہ وہ بظاہراچھی ہو-گمراہی سمجھتے تھے جس میں جشن عید میلاد بھی بدرجہ اولى طورپرشامل ہے علماء کی یہ تحقیق ہے کہ عید میلاد النبی صلى اللہ علیہ وسلم منانے کا آغاز 604ھ میں ہوا –اس سے پہلے دورنبوی صلى اللہ علیہ وسلم دورصحابہ رضی اللہ عنہم اوردورتابعین رضی اللہ عنہم میں یہ عید نہیں منائی جاتی تھی-
    عید میلادالنبی صلى اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ایجاد: " علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ اپنی سیرت میں اورامام ابوشامہ رحمۃ اللہ نے اپنے رسالہ" الباعث على انکارالبدع والحوادث " میں فرماتے ہیں : " سب سے پہلے ملا عمربن محمد نے شروع کیا – وہ موصل کا ایک بہت مشہورصوفی تھا – امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :"اس بدعت کوسب سے پہلے اربل کے بادشاہ ابوسعید مظفرالدین کوکری نے ایجاد کیا ہے –" (حسن المقصد فی عمل أطولہ)

    عید میلاد النبی نبی صلى اللہ علیہ وسلم بدعت ہے -قائلین کا اعتراف:" روزنامہ "آواز" لندن میں مولانا محمد ظفرمحمود فراشوی مجددی بریلوی اوربرمنگھم کے صاحبزادہ فیاض الحسن قادری بریلوی کا عید میلادالنبی صلى اللہ علیہ وسلم کی شرعى حیثیت کے بارے میں طویل مضمون شائع ہوا- جسمیں وہ کہتے ہیں کہ محفل میلاد کیلئے بس اتنا ہی کافی ہے کہ کتاب وسنت میں اسکی ممانعت نہیں اورمنکرین کوممانعت کی دلیل پیش کرنی چاہئے-" (آوازلندن 6/ستمبر1933)
    وفات کے دن خوشی: رسول صلى اللہ علیہ وسلم کی تاریخ ولادت اورتاریخ وفات میں شروع سے ہی اختلاف پایاجاتا ہے- علماء اورمورخین کے ایک بڑے طبقے کے نزدیک تاریخ ولادت 9 ربیع الاول اورتاریخ وفات 12 ربیع الاول ہے-جبکہ دوسرا طبقہ تاریخ ولادت اورتاریخ وفات 12 ربیع الاول کا قائل ہے- میلاد اوروفات کی تاریخوں کے متحد ہونے کی وجہ سے نہ بارہ وفات کا غم اورنہ عید میلاد کی خوشی ہے- اس موقع پر نیت کی آڑنہیں لی جا سکتی – نیت کے سبب تاریخ وفات نہیں بدل جاتی-اسکے باوجود وہ تاریخ اوراس سے وابستہ غم وحزن باقی رہے گا- 12 ربیع الاول کوجب رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تھی تودیکھنے کی چیز یہ ہے کہ اس دن صحابہ کرام کا کیا حال تھا؟ حضرت عمررضی اللہ عنہ تو مارے غم کے ہوش کھو بیٹھے تھے- کیا اس دن کسی صحابی نے میلاد النبی کی خوشی منائی تھی ؟ پھرہم اس دن جشن یا عید کس طرح منا سکتے ہیں- جبکہ اس دن رسول صلى اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تھی!-
    پیرکی روزہ کی دلیل کا جائزہ: رسول صلى اللہ علیہ وسلم پیرکے دن روزہ رکھا کرتے تھے- کسی صحابی نے حضورصلى اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا توآپ نے فرمایا :" وہ دن میری پیدائش کا دن – اوراسی دن مجھ پرقرآن نازل ہوا-"(مسلم)-
    دلیل اور اتباع رسول کے باب میں عملى سنت کے مقابل میں قولى یا حکمی سنت زیادہ اہمیت رکھتی اوراتباع رسول کےباب میں عملی سنت کے مقابل میں قولى یا حکمی سنت زیادہ اہمیت رکھتی اوراتباع کے لئے لازمی سمجھی جاتی ہے- جبکہ رسول صلى اللہ علیہ وسلم کے بعض اعمال آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی حد تک مخصوص اورمحدود تھے اس عملى سنت سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اس روزہ کا علم صحابہ کرام کوحضورکے ازخود بتلانے سے نہیں ہوا بلکہ کسی صحابی نے اسکے بارے میں آپ صلى اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا- تواس پیرکے روزہ کی بات سامنے آئی- اس روزہ کا حکم صحابہ کرام کورسول صلى اللہ علیہ وسلم نے نہیں دیا تھا- اسلئے صحابہ کرام حضورصلى اللہ علیہ وسلم کی اتباع یا آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کی خوشی میں پیرکا روزہ نہیں رکھتے تھے-
    جب پیرکے روزہ کی سنت جاری اورعام نہ تھی توعید میلاد میں مسلمان جوخود ساختہ رسوم انجام دیتے ہیں –ان کا جواز کہاں سے لایا جائے گا؟ خاموشی سے روزہ رکھنے اورمروجہ رسومات کے ساتھ دھوم مچانے میں زمین وآسمان کا عظیم فرق پایا جاتا ہے- پیرکے روزہ کی سنت سے زیادہ جوبات بنتی ہے وہ یہ ہے کہ رسول صلى اللہ علیہ وسلم چونکہ روزہ رکھتے تھے-ہم بھی حضورکی اتباع اورپیدائش کی خوشی میں روزہ رکھ سکتے ہیں- اورچونکہ میلاد کے دن مسلمان جوکچھ کرتے ہیں وہ سنت رسول صلى اللہ علیہ وسلم اوراسوہ صحابہ سے ثابت نہیں اسلئے اس دن جلسے کرنا ,جلوس نکالنا,نعرے لگانا ,روشنی کرنا ,پٹاخے چھوڑنا ,نیازوفاتحہ کرنا ,بریانی کھانا اور رقص کرنا اورقوالی کی محفلیں جمانا- فضولیات سے پرہیزکرنا ضروری ہوجاتا ہے-
    جوچیزحدیث سے ثابت ہے – مسلمان اس پرعمل نہیں کررہے ہیں- میں نے آج تک کسی بدعتى کواس نیت سے کہ حضورپیرکے دن پیداہوئے تھے- روزہ رکھتے نہ دیکھا نہ سنا اوروہ 12 ربیع الاول کوروزہ رکھنے کے بجائے جودھوم دھام اورہڑبونگ مچاتے ہیں وہ ثابت نہیں ہے- اسلام ایک سنجیدہ دین ہے – رسول صلى اللہ علیہ وسلم کاخوشی کے ایک اور موقع پرروزہ رکھنا ثابت ہے – بخاری کی ایک حدیث کے مطابق رسول صلى اللہ علیہ وسلم عاشورہ کے دن روزہ رکھا کرتے تھے اسلئے کہ اس وقت حضرت موسى علیہ السلام نے فرعون کے مظالم سے نجات پائی تھی- رمضان کے روزوں کا تعلق بھی نزول قرآن کی خوشی اورشکرانہ سے ہے- اسلئے کہ قرآن کا نزول رمضان میں ہواتھا- اسلام میں عیدین ہیں ان خوشی کے دنوں میں اولیت اوراہمیت نمازکوحاصل ہے – لیکن موجودہ زمانے کے عید میلاد منانے والے عاشقان رسول صلى اللہ علیہ وسلم نہ اس دن نماز کا اہتمام کرتے ہیں اورنہ روزہ کا بلکہ عید میلاد میں وہ کام کرتے ہیں جن سے حضورصلى اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا- رسول صلى اللہ علیہ وسلم نے امت کوجودیا وہ قرآن ہے ناکہ گانا اورموسیقی جوقوالی کے اجزاء ہیں- قوالى کی پرشورریکارڈنگ اوراس صوتی آلودگی سے لوگوں کوتکلیف دی جاتی ہے اورنقصان پہنچایا جاتا ہے – جبکہ مسجد میں ذکرجہری اوربلند آواز سے قرآن کی تلاوت منع ہے-

    بریلوی مسلمات کے خلاف دلیل: عید میلاد کے جواز اورحمایت میں یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ دیکھئے عشق رسول صلى اللہ علیہ وسلم لازمی ہے, ایصال ثواب جائز ہے, کھانا کھلانے کے اجروثواب کا کوئی منکر نہیں اورمیلاد النبی صلى اللہ علیہ وسلم سے متعلقہ واقعات کا تذکرہ بھی ناجائزنہیں جب یہ سب چیزیں فردافردا اپنی جگہ پرجائز اورمفید ہیں توعید میلاد منانے کے سلسلے میں انکا مجموعہ ناجائزکسطرح ہوسکتا ہے ؟ اسکا جواب خود اہل بدعت کی فکروعمل اورمسلمات میں موجود ہے- مثلا اذان کی ضرورت اورفضیلت کا بھلا کون منکرہوسکتا ہے؟ لیکن اسکے باوجود عیدین میں اذان نہیں کہی جاتی- اسکا سبب کوئی مانع حدیث نہیں ہے- بلکہ یہ دور نبوی صلى اللہ علیہ وسلم میں عیدین کی نمازوں میں اذان کا نہ ہونا اسکے سنت نہ ہونے اوراذان نہ کہنے کی دلیل ہے-سورہ فاتحہ اوربسم اللہ کی فضیلت کے کیا کہنے- لیکن اہل بدعت امام کے پیچھے ان سورتوں کی تلاوت نہیں کرتے- اسکی وجہ اوردلیل بتلائی جاتی ہے- وہی دلیل عیدمیلاد النبی نہ منانے کی بھی ہے- ہم بدعت حسنہ کے طورپرنہ عیدین میں اذان کہ سکتے ہیں – نہ امام کے پیچھے سورہ فاتحہ کی تلاوت کرسکتے ہیں- اورنہ مغرب کی تین کے بجائے چاررکعتیں اداکرسکتے ہیں – اسی طرح چونکہ صحابہ کرام نے جشن میلاد نہیں منایا تھا – اسلئے صحابہ کرام کی اتباع میں ہمارے لئے یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ ہم بھی عید میلاد نہ منائیں- ورنہ ہم عشق رسول کے معاملے میں صحابہ کرام سے آگے بڑھ جائیں گے جوکہ ایک ناممکن بات ہے!
    نعمت رسالت صلى اللہ علیہ وسلم اورخوشی: عیدمیلاد النبی صلى اللہ علیہ وسلم کے جواز میں یہ دلیل بھی دی جاتی ہے کہ رسول صلى اللہ علیہ وسلم کی ولادت اوربعثت مسلمانوں کے حق میں ایک بہت بڑی نعمت ہے- جسکے شکرانہ اورخوشی میں ہمیں اس دن جشن منانا چاہئے-
    جس بات کا علم اوراحساس اہل بدعت اوربریلوی علماء کوہوا ہے صحابہ کرام نعوذباللہ اتنے ناشکرے ,غبی اورکند ذہن نہ تھے کہ وہ اس نکتہ کوپا نہ سکیں یقیناً صحابہ کرام کواس نعمت عظمہ کا احساس اورشعور ہم سے پہلے بدرجہ اولى تھا- لیکن اسکے باوجود انہوں نے جشن نہیں منایا- جب کہ وہ بڑی دھوم دھام اور اہتمام کے ساتھ جشن مناسکتے اوراونٹوں کا جلوس نکال سکتے تھے-
    اس سلسلہ کی ایک اوراہم بات یہ ہے کہ کوئی پچاس سال سے مسلمان عید یا جشن میلاد النبی مناتے آرہے ہیں جو ربیع الاول کے پورے مہینے میں جاری رہتا ہے- آج سے سو سال بعد جب کوئی مورخ ان جشنوں کوضبط تحریرمیں لائے گا تووہ متعلقہ تفصیلات کوبھی کسی تاویل اورموشگافی کے بغیراپنی تاریخ میں درج کرے گا –اگرصحابہ کرام ہرسال میلاد کا جشن مناتے تویہ کوئی ڈھکی چھپی ,غیراہم بات نہ ہوتی اوراسکا تذکرہ احادیث, آثارصحابہ اورتاریخ اسلام سے متعلقہ مشہورکتابوں میں واضح طورپرکیا جاتا –
    اوراہل بدعت کو اس سلسلہ میں کسی گوشے کے غیراہم واقعہ سے استنباط کرنے اورزبردستی میلاد کا جوازثابت کرنے کی نوبت نہ آتی –
    بلکہ قدیم اسلامی کتب میں میلاد سے متعلق صحابہ کرام کی سرگرمیوں کا ذکرخیراسی طرح موجودہوتا-جس طرح ہجرت, صلح حدیبیہ,جنگ بدرواحد اورفتح مکہ کے واقعات تاریخ کی کتابوں میں درج ہیں-
    رہنمائے دکن کے مضمون پرتبصرہ:
    ہم اپنے موقف کومزید واضح اورمدلل کرنے کیلئے رہنمائے دکن میں شائع شدہ ایک مضمون "عیدمیلاد اورامت" پریہاں تبصرہ کرتے ہین جو 23 فروری 2009 کے شمارہ میں شائع ہواتھا-
    مضمون کی پیشانی پر"محدث ابن جوزی" کانام اس اندازسے لکھا گیا ہےکہ قارئین انہیں اس مضمون کا خالق سمجھیں جبکہ اس مضمون میں عید میلاد کے جواز اورتائید میں تقریبا تیرہ علماء کے بیانات نقل کئے گئے ہیں-جن میں سے ایک ابن جوزی بھی ہیں- اس مضمون میں مضمون نگاریا مرتب کا نام نہیں ہے- اورایک دھوکہ اس مضمون میں جودیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ عید میلاد کے حق میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے بھی دو بیانات توڑمروڑکرنقل کئے گئے ہیں- اس کے باوجود عیدمیلاد کے جواز میں یہ مضمون اپنی تردید آپ ہے- اورقائلین جواز اسکے بعض بیانات کے مطابق بری طرح شریعت کی گرفت میں آتے اورتوہین صحابہ کے مرتکب قرارپاتے ہیں کہ حضرات صحابہ کرام کا دل عشق رسول صلى اللہ علیہ وسلم سے خالى تھا- اسلئے انہوں نے عید میلاد نہیں منائی!
    اس مضمون میں امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کا درج ذیل بیان نقل کیا گیا ہے – جو قائلین کی نہیں بلکہ مانعین کے لئے مفید مطلب ہے- امام جلال الدین سیوطى رحمہ اللہ لکھتے ہیں:" میرے لئے میلاد کیلئے اجتماع ,تلاوت قرآن, حضورصلى اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے مختلف واقعات اورولادت پرظاہرہونے والی علامات کا تذکرہ ان بدعات حسنہ میں سے ہے جن پرثواب مرتب ہوتا ہے- کیونکہ اسمیں آپ کی تعظیم ومحبت اورآپ کی آمد پرخوشی کا اظہارہے-"(رہنمائےدکن 23فروری 2009)-
    اس بیان میں امام جلال الدین سیوطی نے عیدمیلاد کوبدعت حسنہ قراردیا ہے- جبکہ اسکی تائید کی کوکھ سے اسکی زبردست تردید جنم پاتی ہے- عید میلاد کوبدعت حسنہ قراردینا اس بات کوثابت کرتا ہے کہ عیدمیلاد منانے کا طریقہ دورصحابہ میں نہ تھا – یہ ایک بعد کی نئی چیزہے- جبکہ دورصحابہ میں عیدمیلاد منانے کے تمام علل اسباب اورمحرکات یعنى عشق وتعظیم اورمحبت رسول اورآپ کی آمدپرخوشی کا اظہاراورتلاوت قرآن,ایصال ثواب اورغریبوں کو کھانا کھلانا وغیرہ یہ سب چیزیں موجودتھیں اوراس کام میں کوئی امرمانع بھی نہ تھا- اسکے باوجود صحابہ کرام کا عید میلاد نہ منانا جس بات کی غمازی کرتا ہے – وہ زیادہ محتاج وضاحت نہیں! کیا اسکا علم صحابہ کو نہ تھا لیکن بعد کے مسلمانوں کو یہ علم ہوا- اورصحابہ کرام میں عشق رسول کی نعوذباللہ کمی تھی اوربعد کے لوگوں میں زیادتی آگئی؟ صحابہ کرام نے عید میلاد کیوں نہیں منائی تھی؟ یہ بات قابل غوراورہدایت کا بہت بڑاذریعہ بنتی ہے-
    ہم امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ کی بات پرعمل کریں یا اسوہ صحابہ کی اتباع کریں جنہوں نے میلاد النبی نہیں منائی تھی- جب یہ عید منانے والے عاشقان رسول ہیں توصحابہ کرام جو عید نہیں مناتے تھے کیا وہ نعوذباللہ شاتم رسول صلى اللہ علیہ وسلم تھے؟-
    دلیل استنباطی نہیں,نص قطعى چاہئے: رہنمائے دکن کے زیرتبصرہ مضمون کا ایک بیان حافظ ابوزرعہ العراقی کا بھی ہے- وہ فرماتے ہیں:" محفل میلاد کے بارے میں سوال کیا گیا کہ یہ مستحب ہے یا مکروہ؟ کیا اسکے بارے میں کوئی نص ہے یا کسی ایسے شخص نے کی ہے جسکی اقتداء کی جائے- آپ نے فرمایا کھانا کھلانا وغیرہ تو ہروقت مستحب ہے- اورپھرکیا ہی مقام ہوگا- جب اسکے ساتھ ربیع الاول میں آپ کے نورکے ظہورکی خوشی شامل ہوجاتی ہے- مجھے تویہ معلوم نہیں کہ اسلاف میں سے کسی نے کیا لیکن اسکے پہلے نہ ہونے سے اسکا مکروہ ہونا لازم نہیں آتا- کیونکہ بہت سے کام اسلاف میں سے نہ ہونے کے باوجود مستحب بلکہ بعض واجب ہوتے ہیں"- (حوالہ بالا)
    اس بیان سے بھی واضح طورپریہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ صحابہ کرام اورتابعین عظام نے عید میلاد یا جشن میلاد نہیں منایا تھا- جب کہ جس عید یا جشن کوعشق رسول کا مظہربتلایا جاتا ہے وہ عشق اورمحبت رسول صلى اللہ علیہ وسلم ,صحابہ وتابعین میں ہم سے بہت زیادہ موجود تھا- لیکن اسکے باوجود انھوں نے رسول صلى اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی بطورجشن اورعید نہیں منائی جب کہ وہ کھانا کھلانےکو مستحب ہم سے پہلے اورہم سے زیادہ جانتے تھے-
    اوروہ اس موقع پراونٹوں کا جلوس بھی نکال سکتے تھے –لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا جس سے ہمیں رہنمائی ملتی ہے – ہمیں جماعت صحابہ کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے نہ کہ بعد کے علماء ومشائخ سوء کی پیروی کا یہاں یہ دلیل غلط اورغیرمتعلق ہے کہ بہت سے کام اسلاف میں سے نہ ہونے کے باوجود مستحب بلکہ بعض واجب ہوتے ہیں"-
    اسکا اطلاق عیدمیلاد النبی پرنہیں ہوسکتا- جب کہ عیدمیلاد کا داعیہ اورتمام اسباب دورصحابہ میں پوری طرح موجود تھے اوراس سلسلہ میں کوئی امرمانع بھی نہ تھا- اسکےباوجود صحابہ کرام کا عید میلاد نہ منانے کا واقعہ قائلین کےحق میں نہیں بلکہ مانعین اورمخالفین کے حق میں قوی اورناقابل تردید دلیل شرعی کی حیثیت رکھتا ہے – یہ بات نہیں کی جاسکتی کہ صحابہ کرام عید میلاد منائیں یا نہ منائیں – ہم توضرورمنائیں گے-
    اس فضیلت سے صحابہ کرام واقف تھے: اس مضمون میں ملاعلى قاری کا بھی ایک بیان بطوردلیل پیش کیا گیا ہے جویہ ہے:" تمام ممالک کے علماء اورمشائخ محفل میلاد اوراسکے اجتماع کی اس قدرتعظیم کرتے ہیں کہ کوئی ایک بھی اسکی شرکت سے انکارنہیں کرتا- ان کی شرکت سے مقصد اس مبارک محفل کی برکات کا حصول ہوتا "- (حوالہ بالا)
    کیا صحابہ کرام اس آخرالذکرعید میلاد کے جواز, فضائل اوربرکات سے واقف نہ تھے؟ اگران کومعلوم تھا توپھروہ اس عظیم کام سے کیوں محروم رہے ؟کیا ان میں رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم کی محبت اورتعظیم کی کمی تھی؟ اس بیان کا آغاز ممالک اورعلماء اورمشائخ کی دلیل سے کیا گیا ہے- اگراسکا آغازیوں ہوتا کہ مکہ اورمدینہ میں صحابہ کرام میلاد اوراسکے اجتماع کی تعظیم کرتے تےتھے توکوئی بات ہوتی – صحابہ کرام کا قول وعمل شرعی دلیل اورحجت کی حیثیت رکہتا ہے- جبکہ بعد کے علماء اورمشائخ کا عمل معیارحق اوردلیل شرعی کی حیثیت نہیں رکھتا- ہمارے لئے یہی کا فی ہے کہ صحابہ کرام عید میلاد نہیں مناتے تھے-
    یہ بھی شرعی دلیل نہیں: رہنمائے دکن کے اس مضمون میں میلاد النبی صلى اللہ علیہ وسلم کی حمایت میں شیخ عبد الحق محدث دہلوی کا درد ذیل بیان بھی نقل کیا گیا ہے جس سے جشن میلاد کی تائید نہیں بلکہ الٹی تردید ہوتی ہے :" آپ صلى اللہ علیہ وسلم کی ولادت با سعادت کے مہینہ میں محفل میلاد کا انعقاد تمام عالم اسلام کا ہمیشہ سے معمول رہا ہے – اسکی راتوں میں صدقہ خوشی کا اظہاراوراس موقع پرخصوصا آپ کی ولادت پرظاہرہونے والے واقعات کا تذکرہ مسلمانوں کا خصوصی معمول ہے"-(حوالہ بالا)
    اس سلسلہ میں اگربطوردلیل قرآن کی ایک آیت کوئی حدیث یا صحابہ کرام کا عمل ہوتا تو وہ ضرورپیش کیا جاتا- یہ نہیں لکھا جاتا کہ محفل میلاد کا انعقاد تمام عالم اسلام کا ہمیشہ سے معمول رہا ہے- یہاں ہمیشہ کی بات بھی غلط اورخلاف واقعہ ہے- ہمیشہ سے نہیں بلکہ چھٹی صدی عیسوی کے بعد سے کہئے – اگرکسی بھی ملک کے مسلمان کبھی عید میلاد نہ مناتے لیکن اسکے جوازمیں کوئی حدیث یا اثرہوتا تو یہ عید مشروع اورقابل عمل عبادت ہوتی- اورعید میلاد منانے والے ایک مردہ سنت کوزندہ کرنے والے قرارپاتے-
    امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:" جوشخص اسلام میں بدعت ایجاد کرتا ہے اوراسکو کارثواب سمجھتا ہے توگویا وہ یہ دعوى کرتا ہے کہ رسول صلى اللہ علیہ وسلم نے (معاذاللہ) تبلیغ رسالت میں خیانت کی کہ لوگوں کو پوری بات نہیں بتلائی- کیونکہ اللہ تعالى فرماتا ہے:" آج کے دن میں نے تمہارے لئے دین مکمل کردیا اورتم پراپنی نعمت پوری کردی"- (الاعتصام للشاطبی:ج:1)
    مختصریہ کہ جشن میلاد النبی کی کوئی شرعى حیثیت نہیں ہے- نہ رسول نےاسکی طرف اشارہ کیا ہے اورنہ صحابہ کرام نے اسکو منایا اورنہ ائمہ سلف نے اسکوجائز کہا – چنانچہ میلاد النبی کے تعلق سے کوئی بھی کام کرنا شرعا درست نہیں ہے-
    *******************

  2. #2
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Oct 2012
    پيغامات
    299
    شکریہ
    0
    6 پیغامات میں 6 اظہار تشکر

    جشن میلاد النبی کی حیثیت

    الحمد للہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علی نبینا محمد و آلہ و اصحابہ اجمعین، و بعد سب تعریفات اللہ رب العالمین کے لیے ہیں، اور ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل اور ان کے سب صحابہ کرام پر درود و سلم کے بعد کتاب و سنت میں اللہ تعالیٰ کی شریعت اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع و پیروی اور دین اسلام میں بدعات ایجاد کرنے سے باز رہنے کے بارہ جو کچھ وارد ہے وہ کسی پر مخفی نہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے ’کہہ دیجئے اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو پھر میری ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کی پیروی و اتباع کرو، اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگے گا، اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا‘( آل عمران 13)۔ اور ایک مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے ’جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف نازل ہوا ہے اس کی اتباع اور پیروی کرو اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر من گھڑت سرپرستوں کی اتباع و پیروی مت کرو، تم لوگ بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو(الاعراف3)، اور ایک مقام پر فرمان باری تعالیٰ کچھ اس طرح ہے ’اور یہ کہ یہ دین میرا راستہ ہے جو مستقیم ہے، سو اسی کی پیروی کرو، اور اسی پر چلو، اس کے علاوہ دوسرے راستوں کی پیروی مت کرو، وہ تمہیں اللہ کے راستہ سے جدا کر دیں گے(الانعام351)۔ حدیث شریف میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ’بلا شبہ سب سے سچی بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے، اور سب سے بہتر ہدایت و راہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہے، اور سب سے برے امور اس دین میں بدعات کی ایجاد ہے‘ اور ایک دوسری حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’جس نے بھی ہمارے اس دین میں کوئی ایسا کام ایجاد کیا جو اس میں سے نہیں تو وہ کام مردود ہے‘ ( صحیح بخاری حدیث نمبر ( 7962 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 8171) اور مسلم شریف میں روایت میں ہے کہ ’جس نے بھی کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں تو وہ عمل مردود ہے‘ ۔ لوگوں نے جو بدعات آج ایجاد کر لی ہیں ان میں ربیع الاول کے مہینہ میں میلاد النبی کا جشن بھی ہے ( جسے جشن آمد رسول بھی کہا جانے لگا ہے ) اور یہ جشن کئی اقسام و انواع میں منایا جاتا ہے۔کچھ لوگ تو اسے صرف اجتماع تک محدود رکھتے ہیں ( یعنی وہ اس دن جمع ہو کر ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا قصہ پڑھتے ہیں، یا پھر اس میں اسی مناسبت سے تقاریر ہوتی اور قصیدے پڑھے جاتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کھانے تیار کرتے اور مٹھائی وغیرہ تقسیم کرتے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو یہ جشن مساجد میں مناتے ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنے گھروں میں مناتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو اس جشن کو مذکورہ بالا اشیاء تک ہی محدود نہیں رکھتے، بلکہ وہ اس اجتماع کو حرام کاموں پر مشتمل کر دیتے ہیں جس میں مرد و زن کا اختلاط، اور رقص و سرور اور موسیقی کی محفلیں سجائی جاتی ہیں، اور شرکیہ اعمال بھی کیے جاتے ہیں، مثل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے استغاثہ اور مدد طلب کرنا، اور انہیں پکارنا، اور دشمنوں پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد مانگنا، وغیرہ اعمال شامل ہوتے ہیں جشن میلاد النبی کی جتنی بھی انواع و اقسام ہیں، اور اسے منانے والوں کے مقاصد چاہیں جتنے بھی مختلف ہوں، بلا شک و شبہ یہ سب کچھ حرام اور بدعت اور دین اسلام میں ایک نئی ایجاد ہے، جو فاطمی شیعوں نے دین اسلام اور مسلمانوں کے فساد کے لیے پہلے تینوں افضل دور گزر جانے کے بعد ایجاد کی۔ اسے سب سے پہلے منانے والا اور ظاہر کرنے والا شخص اربل کا بادشاہ ملک مظفر ابو سعید کوکپوری تھا، جس نے سب سے پہلے جشن میلاد النبی چھٹی صدی کے آخر اور ساتویں صدی کے اوائل میں منایا، جیسا کہ مورخوں مثل ابن خلکان وغیرہ نے ذکر کیا ہے اور ابو شامہ کا کہنا ہے کہ موصل میں اس جشن کو منانے والا سب سے پہل شخص شیخ عمر بن محمد ملا ہے جو کہ مشہور صلحاء میں سے تھا، اور صاحب اربل وغیرہ نے بھی اسی کی اقتدا کی حافظ ابن کثیر رحمۃ اللہ تعالیٰ "البدایۃ والھایۃ" میں ابو سعید کوکپوری کے حالت زندگی میں کہتے ہیں اور یہ شخص ربیع الول میں میلاد شریف منایا کرتا تھا، اور اس کا جشن بہت پر جوش طریقہ سے مناتا تھا انہوں نے یہاں تک کہا کہ بسط کا کہنا ہے کہ ملک مظفر کے کسی ایک جشن میلاد النبی کے دسترخوان میں حاضر ہونے والے ایک شخص نے بیان کیا کہ اس دستر خوان ( یعنی جشن میلاد النبی کے کھانے ) میں پانچ ہزار بھنے ہوئے بکرے، اور دس ہزار مرغیاں، اور ایک لاکھ پیالیاں، اور حلوے کے تیس تھال پکتے تھے اور پھر یہاں تک کہا کہ اور صوفیاء کے لیے ظہر سے فجر تک محفل سماع کا انتظام کرتا اور اس میں خود بھی ان کے ساتھ رقص کرتا اور ناچتا تھا ( دیکھیں البدایۃ والنھایۃ ( 31 / 731)

    اور " وفیات العیان " میں ابن خلکان کہتے ہیں اور جب صفر کا شروع ہوتا تو وہ ان قبوں کو بیش قیمت اشیاء سے مزین کرتے، اور ہر قبہ میں مختلف قسم کے گروپ بیٹھ جاتے، ایک گروپ گانے والوں کا، اور ایک گروپ کھیل تماشہ کرنے والوں کا، ان قبوں میں سے کوئی بھی قبہ خالی نہ رہنے دیتے، بلکہ اس میں انہوں نے گروپ ترتیب دیے ہوتے تھے اور اس دوران لوگوں کے کام کاج بند ہوتے، اور صرف ان قبوں اور خیموں میں جا کر گھومتے پھرنے کے علاوہ کوئی اور کام نہ کرتے اس کے بعد وہ یہاں تک کہتے ہیں اور جب جشن میلاد میں ایک یا دو روز باقی رہتے تو اونٹ، گائے، اور بکریاں وغیرہ کی بہت زیادہ تعداد باہر نکالتے جن کا وصف بیان سے باہر ہے، اور جتنے ڈھول، اور گانے بجانے، اور کھیل تماشے کے آلت اس کے پاس تھے وہ سب ان کے ساتھ ل کر انہیں میدان میں لے آتے اس کے بعد یہ کہتے ہیں اور جب میلاد کی رات ہوتی تو قلعہ میں نماز مغرب کے بعد محفل سماع منعقد کرتا ( دیکھیں وفیات العیان لبن خلکان 3 / 472 )۔
    جشن میلاد النبی کی ابتداء اور بدعت کا ایجاد اس طرح ہوا، یہ بہت دیر بعد پیدا ہوئی اور اس کے ساتھ لہو لعب اور کھیل تماشہ اور مال و دولت اور قیمتی اوقات کا ضیاع مل کر ایسی بدعت سامنے آئی جس کی اللہ تعالیٰ نے کوئی دلیل نازل نہیں فرمائی اور مسلمان شخص کو تو چاہیے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا احیاء کرے اور جتنی بھی بدعات ہیں انہیں ختم کرے، اور کسی بھی کام کو اس وقت تک سرانجام نہ دے جب تک اسے اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا حکم معلوم نہ ہو۔

    جشن میلاد النبی صلی ال علیہ وسلم کا حکم

    جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کئی ایک وجوہات کی بنا پر ممنوع اور مردود ہے اول کیونکہ یہ نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں سے ہے، اور نہ ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء راشدین کی سنت ہے اور جو اس طرح کا کام ہو یعنی نہ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہو اور نہ ہی خلفاء راشدہ کی سنت تو وہ بدعت اور ممنوع ہے اس لیے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے میری اور میرے خلفاء راشدین مہدیین کی سنت پر عمل پیرا رہو، کیونکہ ہر نیا کام " "بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی و ضلالت ہے اسے احمد ( 4 / 621 ) اور ترمذی نے حدیث نمبر ( 6762 ) میں روایت کیا ہے میلاد کا جشن منانا بدعت اور دین میں نیا کام ہے جو فاطمی شیعہ حضرات نے مسلمانوں کے دین کو خراب کرنے اور اس میں فساد مچانے کے لیے پہلے تین افضل ادوار گزر جانے کے بعد ایجاد کیا، اور جو کوئی بھی اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ایسا کام کرے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ تو خود کیا اور نہ ہی اس کے کرنے کا حکم دیا ہو، اور نہ ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفاء راشدین نے کیا ہو، تو اس کے کرنے کا نتیجہ یہ نکلتا اور اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ تہمت لگتی ہے کہ ( نعوذ باللہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دین اسلام کو لوگوں کے لیے بیان نہیں کیا، اور ایسا فعل کرنے سے اللہ تعالیٰ کے مندرجہ ذیل فرمان کی تکذیب بھی لازم آتی ہے۔
    فرمان باری تعالیٰ ہے ’ آج کے دن میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو مکمل کر دیا ہے‘( المائدۃ 3) کیونکہ وہ اس زیادہ کام کو دین میں شامل سمجھتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہم تک نہیں پہنچایا۔ دوم جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانے میں نصاریٰ ( عیسائیوں ) کے ساتھ مشابہت ہے، کیونکہ وہ بھی عیسیٰ علیہ السلام کی میلاد کا جشن مناتے ہیں، اور عیسائیوں سے مشابہت کرنا بہت شدید حرام ہے۔ حدیث شریف میں بھی کفار کے ساتھ مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا گیا اور ان کی مخالفت کا حکم دیا گیا ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا "جس نے بھی کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کی تو وہ انہی میں سے ہے " ( مسند احمد ( 2 / 05 ) سنن ابو داود ( 4 / 413 اور ایک روایت میں ہے "مشرکوں کی مخالفت کرو " ( صحیح مسلم شریف حدیث ( 1 / 222 ) حدیث نمبر ( 952 اور خاص کر ان کے دینی شعائر اور علامات میں تو مخالف ضرور ہونی چاہیے سوم جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا بدعت اور عیسائیوں کے ساتھ مشابہت تو ہے ہی، اور یہ دونوں کام حرام بھی ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ اسی طرح یہ غلو اور ان کی تعظیم میں مبالغہ کا وسیلہ بھی ہے، حتی کہ یہ راہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے استغاثہ اور مدد طلب کرنے اور مانگنے کی طرف بھی لے جاتا ہے، اور شرکیہ قصیدے اور اشعار وغیرہ بنانے کا باعث بھی ہے، جس طرح قصیدہ بردہ وغیرہ بنائے گئے حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ان کی مدح اور تعریف کرنے میں غلو کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ’میری تعریف میں اس طرح غلو اور مبالغہ نہ کرو جس طرح نصاریٰ نے عیسی بن مریم علیہ السلام کی تعریف میں غلو سے کام لیا، میں تو صرف اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں، لہذا تم ( مجھے ) اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول کہا کرو‘ ( صحیح بخاری ( 4 / 241 ) حدیث نمبر ( 5443 )، دیکھیں فتح الباری ( 6 / 155 یعنی تم میری مدح اور تعریف و تعظیم میں اس طرح غلو اور مبالغہ نہ کرو جس طرح عیسائیوں نے عیسی علیہ السلام کی مدح اور تعظیم میں مبالغہ اور غلو سے کام لیا، حتی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ ان کی عبادت کرنا شروع کر دی، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسا کرنے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ’اے اہل کتاب تم اپنے دین میں غلو سے کام نہ لو، اور نہ ہی اللہ تعالیٰ پر حق کے علاوہ کوئی اور بات کرو، مسیح عیسی بن مریم علیہ السلام تو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے رسول اور اس کے کلمہ ہیں، جسے اس نے مریم کی جانب ڈال دیا، اور وہ اس کی جانب سے روح ہیں‘( النساء 171) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خدشہ کے پیش نظر ہمیں اس غلو سے روکا اور منع کیا تھا کہ کہیں ہمیں بھی وہی کچھ نہ پہنچ جائے جو انہیں پہنچا تھا، اسی کے متعلق بیان کرتے ہوئے فرمایا ’تم غلو اور مبالغہ کرنے سے بچو، کیونکہ تم سے پہلے لوگ بھی غلو اور مبالغہ کرنے کی بنا پر ہلاک ہو گئے تھے‘ سنن نسائی شریف ( 5 / 862 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالیٰ نے صحیح سنن نسائی حدیث نمبر ( 3682 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے چہارم جشن میلاد کی بدعت کا احیاء اور اسے منانے سے کئی دوسری بدعات منانے اور ایجاد کرنے کا دروازہ بھی کھل جائے گا، اوراس کی بنا پر سنتوں سے بے رخی اور احتراز ہو گا، اسی لیے آپ دیکھیں کہ بدعتی لوگ بدعات تو بڑی دھوم دھام اور شوق سے مناتے ہیں، لیکن جب سنتوں کی باری آتی ہے تو اس میں سستی اور کاہلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان سے بغض اور ناراضگی کرتے ہیں، اور سنت پر عمل کرنے والوں سے بغض اور کینہ و عداوت رکھتے ہیں، حتی کہ ان بدعتی لوگوں کا سارا اور مکمل دین صرف یہی میلادیں اور جشن ہی بن گئے ہیں، اور پھر وہ فرقوں اور گروہوں میں بٹ چکے ہیں اور ہر گروہ اپنے ائمہ کرام کے عرس اور میلادیں منانے کا اہتمام کرتا پھرتا ہے، مثل شیخ بدوی کا عرس اور میلاد، اور ابن عربی کا میلاد، اور دسوقی اور شا ذلی کا میلاد، ( ہمارے یہاں بر صغیر پاک و ہند میں تو روزانہ کسی نہ کسی شخصیت کا عرس ہوتا رہتا ہے کہیں علی ھجویری گنج بخش اور کہیں اجمیر شریف اور کہیں حق باہو اور کہیں پاک پتن، الغرض روزانہ ہی عرس ہو رہے ہیں ۔ اور اسی طرح وہ ایک میلاد اور عرس سے فارغ ہوتے ہیں تو دوسرے میلاد میں مشغول ہو جاتے ہیں اور ان اور اس کے علاوہ دوسرے فوت شدگان کے ساتھ اس غلو کا نتیجہ یہ نکل کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر انہیں پکارنا شروع کر دیا گیا اور ان سے مرادیں پوری کروائی جانے لگی ہیں، اور ان کے متعلق ان لوگوں کا یہ عقیدہ اور نظریہ بن چکا ہے کہ یہ فوت شدگان نفع و نقصان کے مالک ہیں، اور نفع دیتے اور نقصان پہنچاتے ہیں، حتی کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دین سے نکل کر اہل جاہلیت کے دین کی طرف جا نکلے ہیں، جن کے متعلق اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ان کی عبادت کرتے ہیں جو نہ تو انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی نفع دے سکتے ہیں، اور وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ( مردے اور بت ) اللہ تعالیٰ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں‘( یونس 81) اور ایک مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے ’اور جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسروں کو اپنا ولی بنا رکھا ہے، اور کہتے ہیں کہ ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ یہ بزرگ اللہ تعالیٰ کے قرب تک ہماری رسائی کرا دیں‘ ( الزمر 3)
    جشن میلاد منانے والوں کے شبہ کا مناقشہ اس بدعت کو منانے کو جائز سمجھنے والوں کا ایک شبہ ہے جو مکڑی کے جالے سے بھی کمزور ہے، ذیل میں اس شبہ کا ازالہ کیا جاتا ہے ان بدعتیوں کا دعوی ہے کہ
    1۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و تکریم کے لیے منایا جاتا ہے
    اس کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم تو یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے ہوئے ان کے فرمانے پر عمل پیرا ہوا جائے، اور جس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے اس سے اجتناب کیا جائے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی جائے بدعات و خرافات پر عمل کرنا، اور معاصی و گناہ کے کام کرنے میں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم نہیں، اور جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا بھی اسی مذموم قبیل سے ہے کیونکہ یہ معصیت و نافرمانی ہے، اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے زیادہ تعظیم اور عزت کرنے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے جیسا کہ عروۃ بن مسعود نے قریش کو کہا تھا میری قوم کے لوگو! اللہ تعالیٰ کی قسم میں بادشاہوں کے پاس بھی گیا ہوں اور قیصر ) و کسری اور نجاشی سے بھی مل ہوں، اللہ کی قسم میں نے کسی بھی بادشاہ کے ساتھیوں کواس کی اتنی عزت کرتے ہوئے نہیں دیکھا جتنی عزت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کرتے ہیں، اللہ کی قسم اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھوکتے ہیں، تو وہ تھوک بھی صحابہ میں سے کسی ایک کے ہاتھ پر گرتی ہے، اور وہ تھوک اپنے چہرے اور جسم پر مل لیتا ہے، اور جب وہ انہیں کسی کام کا حکم دیتے ہیں تو ان کے حکم پر فورا عمل کرتے ہیں، اور جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم وضوء کرتے ہیں تو اس کے ساتھی وضوء کے پانی پر ایک دوسرے سے جھگڑتے ہیں، اور جب اس کے سامنے بات کرتے ہیں تو اپنی آواز پست رکھتے ہیں، اور اس کی تعظیم کرتے ہوئے اسے تیز نظروں سے دیکھتے تک بھی نہیں صحیح بخاری شریف ( 3 / 871 ) حدیث نمبر ( 72 13 ) اور ( 2372 )، اور فتح الباری ( 5 / 883)۔ اس تعظیم کے باوجود انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم پیدائش کو جشن اور عید میلاد کا دن نہیں بنایا، اگر ایسا کرنا مشروع اور جائز ہوتا تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کبھی بھی اس کو ترک نہ کرتے۔

    دوسرے ملکوں میں جشن

    2۔ یہ دلیل دینا کہ بہت سے ملکوں کے لوگ یہ جشن مناتے ہیں -

    اس کے جواب میں ہم صرف اتنا کہیں گے کہ حجت اور دلیل تو وہی ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو عمومی طور پر بدعات کی ایجاد اور اس پر عمل کرنے کی نہی ثابت ہے، اور یہ جشن بھی اس میں شامل ہوتا ہے جب لوگوں کا عمل کتاب و سنت کی دلیل کے مخالف ہو تو وہ عمل حجت اور دلیل نہیں بن سکتا چاہے اس پر عمل کرنے والوں کی تعداد کتنی بھی زیادہ کیوں نہ ہو فرمان باری تعالیٰ ہے ’اگر آپ زمین میں اکثر لوگوں کی اطاعت کرنے لگ جائیں تو وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے گمراہ کر دیں گے‘(الانعام ( 116) اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ الحمد للہ ہر دور میں بدعت کو ختم کرنے اور اسے مٹانے اور اس کے باطل کو بیان کرنے والے لوگ موجود رہے ہیں، لہذا حق واضح ہو جانے کے بعد کچھ لوگوں کا اس بدعت پر عمل کرتے رہنا کوئی حجت اور دلیل نہیں بن جاتی۔ اس جشن میلاد کا انکار کرنے والوں میں شیخ السلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالیٰ شامل ہیں جنہوں نے اپنی معروف کتاب" اقتضاء الصراط المستقیم" میں اور امام شاطبی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب" العتصام" میں اور ابن الحاج نے " المدخل" میں اور شیخ تاج الدین علی بن عمر اللخمی نے تو اس کے متعلق ایک مستقل کتاب تالیف کی ہے، اور شیخ محمد بشیر السھوانی ھندی نے اپنی کتاب " صیانۃ النسان" میں اور سید محمد رشید رضا نے بھی ایک مستقل رسالہ لکھا ہے، اور شیخ محمد بن ابراہیم آل شیخ نے بھی اس موضوع کے متعلق ایک مستقل رسالہ لکھا ہے، اور جناب فضیلۃ الشیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ تعالیٰ اور ان کے علاوہ کئی ایک نے بھی اس بدعت کے بارہ میں بہت کچھ لکھا اور اس کا بطلان کیا ہے، اور آج تک اس کے متعلق لکھا جا رہا ہے، بلکہ ہر برس اس بدعت منانے کے ایام میں اخبارات اور میگزینوں اور رسائل و مجلات میں کئی کئی صفحات لکھے جاتے ہیں۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد

    3۔ جشن میلاد منانے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد کا احیاء ہوتا ہے
    اس کے جواب میں ہم یہ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد تو ہر مسلمان شخص کے ساتھ تجدید ہوتی رہتی ہے اور مسلمان شخص تو اس سے ہر وقت مرتبط رہتا ہے، جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اذان میں آتا ہے یا پھر اقامت میں یا تقاریر اور خطبوں میں، اور وضوء کرنے اور نماز کی ادائیگی کے بعد جب کلمہ پڑھا جاتا ہے، اور نماز میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتے وقت بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد ہوتی ہے اور جب بھی مسلمان شخص کوئی صالح اور واجب و فرض یا پھر مستحب عمل کرتا ہے، جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروع کیا ہے، تو اس عمل سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد تازہ ہوتی ہے، اور عمل کرنے والے کی طرح اس کا اجر بھی ان تک پہنچتا ہے تو اس طرح مسلمان شخص تو ہر وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد تازہ کرتا رہتا ہے، اور پوری عمر میں دن اور رات کو اس سے مربوط رکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے مشروع کیا ہے، نہ کہ صرف جشن میلاد منانے کے ایام میں ہی ، اور پھر جبکہ یہ جشن میلاد یا جشن آمد رسول منانا بدعت اور ناجائز ہے تو پھر یہ چیز تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہمیں دور کرتی ہے نہ کہ نزدیک اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بری ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بدعتی جشن کی کوئی ضرورت نہیں وہ اس سے بے پرواہ ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعظیم کے لیے وہ کام مشروع کیے ہیں جن میں ان کی عزت و توقیر ہوتی ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل فرمان باری تعالیٰ میں ہے ’اور ہم نے آپ کا ذکر بلند کر دیا(الشرح 4) تو جب بھی اذان ہو یا اقامت یا خطبہ اس میں جب اللہ تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے تو اس کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر لازمی ہوتا ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و تعظیم اور ان کی عزت و تکریم اور توقیر کی تجدید کے لیے اور ان کی اتباع و پیروی کرنے پر ابھارنے کے لیے کافی ہے اور پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید فرقان حمید میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کو احسان قرار نہیں دیا۔ بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کو احسان اور انعام قرار دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ’یقیناً اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر احسان اور انعام کیا جب ان میں سے ہی ایک رسول ان میں مبعوث کیا‘(آل عمران 461) اور ایک مقام پر اس طرح ارشاد فرمایا ’اللہ وہی ہے جس نے امیوں میں ان میں سے ہی ایک رسول مبعوث کیا‘(الجمعۃ2)

    جشن منانے کی ایجاد

    4۔ اور بعض اوقات وہ یہ بھی کہتے ہیں میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جشن منانے کی ایجاد تو ایک عادل اور عالم بادشاہ نے کی تھی اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا تھا۔
    اس کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ بدعت قابل قبول نہیں۔ چاہے وہ کسی سے بھی سرزد ہو، اور اس کا مقصد کتنا بھی اچھا اور بہتر ہی کیوں نہ ہو، اچھے اور بہتر مقصد سے کوئی برائی کرنا جائز نہیں ہو جاتی، اور کسی کا عالم اور عادل ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ معصوم ہے۔

    بدعت حسنہ

    5۔ ان کا یہ کہنا کہ جشن میلاد النبی بدعت حسنہ میں شمار ہوتی ہے، کیونکہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی خبر دیتی ہے۔
    اس کا جواب یہ ہے کہ بدعت میں کوئی چیز حسن نہیں ہے بلکہ وہ سب بدعت ہی شمار ہوتی ہے، کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ’جس کسی نے بھی ہمارے اس دین میں کوئی ایسی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے‘ ( صحیح بخاری 3 / 761 ) حدیث نمبر ( 7962 ) دیکھیں فتح الباری ( 5 / 553) اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی فرمان ہے "یقیناً ہر بدعت گمراہی ہے "
    اسے امام احمد نے مسند احمد ( 4 / 621 ) اور امام ترمذی نے جامع ترمذی حدیث نمبر ( 6762 ) میں روایت کیا ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سب بدعتوں پر گمراہی کا حکم صادر کر دیا ہے اور یہ کہتا ہے کہ ساری بدعتیں گمراہی نہیں بلکہ کچھ بدعتیں حسنہ بھی ہیں حافظ ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ تعالیٰ شرح الربعین میں کہتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان " ہر بدعت گمراہی ہے" یہ جوامع الکلم میں سے ہے، اس سے کوئی چیز خارج نہیں، اور یہ دین کے اصولوں میں سے ایک عظیم اصول ہے، اور یہ بالکل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی قول کی طرح اور شبیہ ہے ’جس کسی نے بھی ہمارے اس دین میں ایسا کام ایجاد کر لیا جو اس میں سے نہیں تووہ عمل مردود ہے‘۔ اسے بخاری نے ( 3 / 761 ) حدیث نمبر ( 7962 ) میں روایت کیا ہے، دیکھیں فتح الباری ( ( 5 / 553) لہذا جس نے بھی کوئی ایجاد کر کے اسے دین کی جانب منسوب کر دیا، اور دین اسلام میں اس کی کوئی دلیل نہیں جس کی طرف رجوع کیا جا سکے تو وہ گمراہی اور ضلالت ہے، اور دین اس سے بری ہے دین کے ساتھ اس کا کوئی تعلق اور واسطہ نہیں، چاہے وہ اعتقادی مسائل میں ہو یا پھر اعمال میں یا ظاہری اور باطنی اقوال میں ہو( دیکھیں جامع العلوم والحکم صفحہ نمبر 332) اور ان لوگوں کے پاس بدعت حسنہ کی اور کوئی دلیل نہیں سوائے عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نماز تراویح کے متعلق قول ہی ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا نعمت البدعۃ ھذہ ) یہ طریقہ اچھا ہے اسے بخاری نے تعلیقاً بیان کیا ہے، ( دیکھیں صحیح بخاری شریف ( 2 / 252 ) حدیث نمبر ( 0102 ) دیکھیں فتح الباری ( 4 / 492)

    مصحف جمع کرنا

    6۔ جشن میلاد منانے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ کچھ ایسی نئی اشیاء ایجاد کی گئیں جن کا سلف نے انکار نہیں کیا تھا مثلاً قرآن مجید کو ایک کتاب میں جمع کرنا، اور حدیث شریف کی تحریر و تدوین۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان امور کی شریعت مطہرہ میں اصل ملتی ہے، لہذا یہ کوئی بدعت نہیں بنتے اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول " یہ طریقہ اچھا ہے" ان کی اس سے مراد لغوی بدعت تھی نہ کہ شرعی، لہذا جس کی شریعت میں اصل ملتی ہو تو اس کی طرف رجوع کیا جائے گا جب کہا جائے کہ یہ بدعت ہے تو یہ لغت کے اعتبار سے بدعت ہو گی نہ کہ شریعت کے اعتبار سے، کیونکہ شریعت میں بدعت اسے کہا جاتا ہے جس کی شریعت میں کوئی دلیل اور اصل نہ ملتی ہو جس کی طرف رجوع کیا جا سکے اور قرآن مجید کو ایک کتاب میں جمع کرنے کی شریعت میں دلیل ملتی ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید لکھنے کا حکم دیا کرتے تھے، لیکن قرآن جدا جدا اور متفرق طور پر لکھا ہوا تھا، تو صحابہ کرام نے اس کی حفاظت کے لیے ایک کتاب میں جمع کر دیا۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو چند راتیں تراویح کی نماز پڑھائی تھی، اور پھر اس ڈر اور خدشہ سے چھوڑ دی کہ کہیں ان پر فرض نہ کر دی جائے، اور صحابہ کرام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں علیحدہ علیحدہ اور متفرق طور پر ادا کرتے رہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی اسی طرح ادا کرتے رہے، یہاں تک کہ عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انہیں ایک امام کے پیچھے جمع کر دیا، جس طرح وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، اور یہ کوئی دین میں بدعت نہیں ہے اور حدیث لکھنے کی بھی شریعت میں دلیل اور اصل ملتی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ احادیث بعض صحابہ کرام کو ان کے مطالبہ پر لکھنے کا حکم دیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں احادیث عمومی طور پر اس خدشہ کے پیش نظر ممنوع تھیں کہ کہیں قرآن مجید میں وہ کچھ نہ مل جائے جو قرآن مجید کا حصہ نہیں، لہذا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو یہ ممانعت جاتی رہی، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے قبل قرآن مجید مکمل ہو گیا اور لکھ لیا گیا تھا، اور اسے احاطہ تحریر اور ضبط میں لیا جا چکا تھا۔ تو اس کے بعد مسلمانوں نے سنت کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے احادیث کی تدوین کی اور اسے لکھ لیا، اللہ تعالیٰ انہیں اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے کہ انہوں نے اپنے رب کی کتاب اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو ضائع ہونے اور کھیلنے والوں کے کھیل اور عبث کام سے محفوظ کیا۔
    اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تمہارے خیال اور گمان کے مطابق اس شکریہ کی ادائیگی میں تاخیر کیوں کی گئی، اور اسے پہلے جو افضل ادوار کہلاتے ہیں، یعنی صحابہ کرام اور تابعین عظام اور تبع تابعین کے دور میں کیوں نہ کیا گیا، حالانکہ یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت زیادہ اور شدید محبت رکھتے تھے، اور خیر و بھلائی کے کاموں اور شکر ادا کرنے میں ان کی حرص زیادہ تھی، تو کیا جشن میلاد کی بدعت ایجاد کرنے والے ان سے بھی زیادہ ہدایت یافتہ اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے والے تھے؟ حاشا و کلا ایسا نہیں ہو سکتا۔

    نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت

    6۔ بعض اوقات وہ یہ کہتے ہیں کہ جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم منانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت ظاہر کرتا ہے، اور یہ اس محبت کے مظاہر میں سے ہے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا اظہار کرنا مشروع اور جائز ہے۔
    اس کے جواب میں ہم یہ کہیں گے کہ بلا شک و شبہ ہر مسلمان شخص پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت واجب ہے، اور یہ محبت اپنی جان، مال اور اولاد اور والد اور سب لوگوں سے زیادہ ہونی چاہیے- میرے ماں باپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں - لیکن اس کا معنی یہ نہیں کہ ہم ایسی بدعات ایجاد کر لیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے مشروع بھی نہ کی ہوں۔ بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت تو یہ تقاضا کرتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کی جائے اور ان کے حکم کے سامنے سر خم تسلیم کیا جائے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے مظاہر میں سے سب عظیم ہے، کسی شاعر نے کیا ہی خوب کہا ہے
    اگر تیری محبت سچی ہوتی تو اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرتا، کیونکہ محبت کرنے والا اپنے محبوب کی اطاعت و فرمانبرداری کرتا ہے۔
    لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا تقاضا ہے کہ ان کی سنت کا احیاء کیا جائے، اور سنت رسول کو مضبوطی سے تھام کر اس پر عمل پیرا ہوا جائے، اور افعال و اقوال میں سے جو کچھ بھی سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف ہو اس سے اجتناب کرتے ہوئے اس سے بچا جائے۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ جو کام بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ہے وہ قابل مذمت بدعت اور ظاہری معصیت و گناہ کا کام ہے، اور جشن آمد رسول یا جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم وغیرہ بھی اس میں شامل ہوتا ہے، چاہے نیت کتنی بھی اچھی ہو اس سے دین اسلام میں بدعات کی ایجاد جائز نہیں ہو جاتی، کیونکہ دین اسلام دو اصولوں پر مبنی ہے اور اس کی اساس دو چیزوں پر قائم ہے اور وہ اصول اخلاص اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے ’سنو! جو بھی اپنے آپ کو اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکا دے بلا شبہ اسے اس کا رب پورا پورا بدلہ دے گا، اس پر نہ تو کوئی خوف ہو گا، اور نہ ہی غم اور اداسی(البقرۃ211) تو اللہ تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص ہے، اور احسان۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری اور سنت پر عمل کرنے کا نام ہے۔
    7۔ ان کے شبہات میں یہ بھی شامل ہے کہ وہ یہ کہتے ہیں جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احیاء اور اس جشن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پڑھنے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و پیروی پر ابھارنا ہے۔
    اس کے جواب میں ہم ان سے یہ کہیں گے کہ مسلمان شخص سے مطلوب تو یہ ہے کہ وہ سارا سال اور ساری زندگی ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کرتا رہے، اور یہ بھی مطلوب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری بھی ہر وقت اور ہر کام میں کرے اب اس کے لیے بغیر کسی دلیل کے کسی دن کی تخصیص کرنا بدعت شمار ہو گی، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے " اور ہر بدعت گمراہی ہے " اسے احمد نے ( 4 / 461 ) اور ترمذی نے حدیث نمبر ( 6762 ) میں روایت کیا ہے اور پھر بدعت کا ثمر اور نتیجہ شر اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دوری کے سوا کچھ نہیں ہوتا خلاصہ یہ ہوا کہ جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ہو یا جشن آمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کی ساری اقسام و انواع اور اشکال و صورتیں بدعت منکرہ ہیں مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اس بدعت سے بھی باز رہیں اور اس کے علاوہ دوسری بدعات سے بھی اجتناب کریں، اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا احیاء کریں اور سنت کی پیروی کرتے رہیں، اور اس بدعت کی ترویج اور اس کا دفاع کرنے والوں سے دھوکہ نہ کھائیں، کیونکہ اس قسم کے لوگ سنت کے احیاء کی بجائے بدعات کے احیاء کا زیادہ اہتمام کرتے ہیں، بلکہ اس طرح کے لوگ تو ہو سکتا ہے سنت کا بالکل اہتمام کرتے ہی نہیں لہذا جس شخص کی حالت یہ ہو جائے تو اس کی تقلید اور اقتدا کرنی اور بات ماننی جائز نہیں ہے، اگرچہ اس طرح کے لوگوں کی کثرت ہی کیوں نہ ہو، بلکہ بات تو اس کی تسلیم جائے گی اور اقتدا اس کی کرنی چاہیے جو سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرتا ہو اور سلف صالحین کے نہج اور طریقہ پر چلنے والا ہو، اگرچہ ان کی تعداد بہت قیل ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ حق کی پہچان آدمیوں کے ساتھ نہیں ہوتی، بلکہ آدمی کی پہچان حق سے ہوتی ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے ’بلاشبہ تم میں سے جو زندہ رہے گا تو وہ عنقریب بہت زیادہ اختلافات کا مشاہدہ کرے گا، لہذا تم میری اور میرے بعد ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت اور طریقہ کی پیروی اور اتباع کرنا، اسے مضبوطی سے تھامے رکھنا، اور نئے نئے کاموں سے اجتناب کرنا، کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے‘ ( دیکھیں مسند احمد ( 4 / 621 ) سنن ترمذی حدیث نمبر ( 6762) اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بتا دیا ہے کہ اختلاف کے وقت ہم کسی کی اقتدا کریں، اور اسی طرح یہ بھی بیان کیا کہ جو قول اور فعل بھی سنت کے مخالف ہو وہ بدعت ہے، اور ہر قسم کی بدعت گمراہی ہے اور جب ہم جشن میلاد النبی کو کتاب و سنت پر پیش کرتے ہیں، تو ہمیں اس کی نہ تو کوئی دلیل سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ملتی ہے اور نہ خلفاء راشدین کی سنت اور طریقہ میں، تو پھر یہ کام نئی ایجاد اور گمراہ بدعات میں سے ہے اور اس حدیث میں پائے جانے والے اصول کی دلیل کتاب اللہ میں بھی پائی جاتی ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے ’اور اگر تم کسی چیز میں اختلاف کر بیٹھو تو اسے اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹاؤ، اگر تم اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو، یہ بہت بہتر اور انجام کے اعتبار سے بہت اچھا ہے( النساء 95) اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹانا یہ ہے کہ کتاب اللہ کی طرف رجوع کیا جائے، اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹانے کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اسے سنت پر پیش کیا جائے تو اس طرح تنازعہ اور اختلاف کے وقت کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کیا جائے گا، لہذا کتاب اور سنت رسول صلی اللہ علیہ میں جشن میلاد النبی کی مشروعیت کہاں ملتی ہے، اور اس کی دلیل کہاں ہے؟ لہذا جو بھی اس فعل کا مرتکب ہو رہا ہے یا وہ اسے اچھا سمجھتا ہے اسے اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے ساتھ ساتھ دوسری بدعات سے بھی توبہ کرنی چاہیے، اور حق کا اعلان کرنے والے مومن کی شان بھی یہی ہے، لیکن جو شخص متکبر ہو اور دلیل مل جانے کے بعد اس کی مخالفت کرے اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔ اس سلسلہ میں اتنا ہی کافی ہے، اللہ تعالیٰ سے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں روز قیامت تک کتاب و سنت پر عمل کرنے اور اس پر کاربند رہنے کی توفیق بخشے، اور ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل اور ان کے صحابہ کرام پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے (دیکھیں کتاب حقوق النبی صلی اللہ علیہ وسلم بین الجلال و الخلال صفحہ نمبر 931

  3. #3
    رکنِ خاص سقراط کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    1,469
    شکریہ
    35
    149 پیغامات میں 217 اظہار تشکر

    جشن میلاد النبی کی حیثیت

    ماشا ء اللہ بھائی جان بہت خوبصورت انداز میں مدلل آپ نے حوالہ جات کے ساتھ آپ نے بارہ ربیع اول کے مہینے میں ہونے والی باتوں پر روشنی فرمائی ہے سمجھنے کے لئے کافی ہے
    لا شک و شبہ ہر مسلمان شخص پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت واجب ہے، اور یہ محبت اپنی جان، مال اور اولاد اور والد اور سب لوگوں سے زیادہ ہونی چاہیے- میرے ماں باپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں - لیکن اس کا معنی یہ نہیں کہ ہم ایسی بدعات ایجاد کر لیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے مشروع بھی نہ کی ہوں۔ بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت تو یہ تقاضا کرتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کی جائے اور ان کے حکم کے سامنے سر خم تسلیم کیا جائے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے مظاہر میں سے سب عظیم ہے، کسی شاعر نے کیا ہی خوب کہا ہے
    اگر تیری محبت سچی ہوتی تو اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرتا، کیونکہ محبت کرنے والا اپنے محبوب کی اطاعت و فرمانبرداری کرتا ہے۔
    لہذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا تقاضا ہے کہ ان کی سنت کا احیاء کیا جائے، اور سنت رسول کو مضبوطی سے تھام کر اس پر عمل پیرا ہوا جائے، اور افعال و اقوال میں سے جو کچھ بھی سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف ہو اس سے اجتناب کرتے ہوئے اس سے بچا جائے۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ جو کام بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ہے وہ قابل مذمت بدعت اور ظاہری معصیت و گناہ کا کام ہے، اور جشن آمد رسول یا جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم وغیرہ بھی اس میں شامل ہوتا ہے، چاہے نیت کتنی بھی اچھی ہو اس سے دین اسلام میں بدعات کی ایجاد جائز نہیں ہو جاتی، کیونکہ دین اسلام دو اصولوں پر مبنی ہے اور اس کی اساس دو چیزوں پر قائم ہے اور وہ اصول اخلاص اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے ’سنو! جو بھی اپنے آپ کو اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکا دے بلا شبہ اسے اس کا رب پورا پورا بدلہ دے گا، اس پر نہ تو کوئی خوف ہو گا، اور نہ ہی غم اور اداسی(البقرۃ211) تو اللہ تعالیٰ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص ہے، اور احسان۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری اور سنت پر عمل کرنے کا نام ہے۔
    جزاک اللہ

  4. #4
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Oct 2012
    پيغامات
    299
    شکریہ
    0
    6 پیغامات میں 6 اظہار تشکر

    جشن میلاد النبی کی حیثیت

    الله تعالي سمجھنے کي توفيق عطاء فرمائٕے آمین ثم آمین
    اگر ہماری محبت سچی ہوتی تو اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے ، کیونکہ محبت کرنے والا اپنے محبوب کی اطاعت و فرمانبرداری کرتا ہے

  5. #5
    رکنِ خاص نگار کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Dec 2011
    پيغامات
    5,360
    شکریہ
    663
    357 پیغامات میں 424 اظہار تشکر

    جشن میلاد النبی کی حیثیت

    اس پوسٹ کی تو جتنی بھی تعریف کی جائے کم ، بہت عمدہ اور لاجواب شیئرنگ کی ہے آپ نے ۔
    واقعی کسی بھی حدیث یا قرآن پاک میں کہیں بھی نہیں لکھا کہ آپ میلاد منائیں

    آمین
    جزاک اللہ بھائی
    اس خوبصورت شیئرنگ کے لیے آپ کا بہت بہت شکریہ

  6. #6
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jan 2011
    پيغامات
    203
    شکریہ
    0
    1 پیغام میں 2 اظہار تشکر

    جشن میلاد النبی کی حیثیت


  7. #7
    ناظم اذان کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Jan 2011
    پيغامات
    1,898
    شکریہ
    138
    108 پیغامات میں 161 اظہار تشکر

    جشن میلاد النبی کی حیثیت

    [size=x-large]زبردست شئیرینگ کرنے پر آپ کا بہت شکریہ
    محمد اشرف جی آپ نے بہت اچھا مضمون لکھا بہت اچھا لگا
    اس سے بھی زیادہ اچھا رائے دینے والوں کا لگا
    ماشاءاللہ سب ہی متفق ہے آپ کے مضمون پر
    اور سب نے آپ کے مضمون کو بہت اہمیت دی ہے
    اللہ تعالی بدعت کرنے والوکو سمجھنے کی توفيق عطاء فرمائے آمین ثم آمین
    جزاک اللہ ہمیشہ لکھتے رہیئے
    آپ سب کا بہت شکریہ
    [/size]

  8. #8
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jan 2011
    پيغامات
    203
    شکریہ
    0
    1 پیغام میں 2 اظہار تشکر

    عید میلاد النبی صلى اللہ علیہ وسلم کی شرعی حیثیت

    شکریہ اشرف بھای اللہ آپ کو جزاے خیر دے ہمیشہ سچ بات کرنے کہنے کی توفیق دے ہم سب کو آمین

  9. #9
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Jan 2011
    پيغامات
    203
    شکریہ
    0
    1 پیغام میں 2 اظہار تشکر

    جشن میلاد النبی کی حیثیت

    شکریہ ازان بھای شکریہ نگار بھای اللہ ہم سب کو دین کو سمجھنے کی اس پر چلنے کی توفیق دے آمین شکریہ اشرف بھای اتنے پیارے انداز میں مکمل دلایل کے ساتھ سمجھانے کا بھت بھت شکریہ

  10. #10
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,171
    شکریہ
    2,134
    1,241 پیغامات میں 1,615 اظہار تشکر

    عید میلاد النبی صلى اللہ علیہ وسلم کی شرعی حیثیت

    [align=center][/align]
    ہم کو کمال حاصل ہے غم سے خوشیاں نچوڑ لیتے ہیں ۔
    اردو منظر ٰ معیاری بات چیت

صفحہ 1 از 2 12 آخریآخری

متشابہہ موضوعات

  1. اہل اسلام کوجشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم مبارک ہو
    By تانیہ in forum دعائیہ کلمات/تہنیتی پیغامات
    جوابات: 5
    آخری پيغام: 01-31-2013, 09:03 PM
  2. وسیلہ کی شرعی حیثیت
    By اقبال ابن اقبال in forum متفرق موضوعات
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 12-28-2012, 02:04 PM
  3. جوابات: 0
    آخری پيغام: 05-12-2012, 02:18 AM
  4. عید میلاد النبی صلى الله عليه وسلم اور حقائق
    By محمدمعروف in forum متفرق موضوعات
    جوابات: 4
    آخری پيغام: 01-30-2012, 01:15 AM
  5. جوابات: 3
    آخری پيغام: 10-12-2011, 11:45 AM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University