[size=xx-large][align=justify]مشکل میں پھنس جانے والے نیب کے گرو کا عروج و زوال[/align][/size]
[align=center][/align]
جنگ ۔۔ 23 جنوری 2013
اسلام آباد (احمد نورانی) کوثر اقبال ملک کون ہیں؟ نیب کے اب متنازع ڈائریکٹر جنرل ہیومن ریسورسز، جو مقتول نیب افسر کامران فیصل کے سامنے آنے والے آخری موبائل فون پیغام کے مطابق اس پر سپریم کورٹ کے خلاف پرانی تاریخ میں حلف نامہ جمع کرانے کے لئے دباؤ ڈال رہے تھے، عروج و زوال سے گزرنے والے نیب کے یہ گرو اب مشکل میں ہیں۔انہوں نے ملک کے تین بینکوں میں ایک دن بھی حاضری دیئے بغیر ترقیاں حاصل کیں اور سینئر ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ کے منصب تک جاپہنچے ۔ کوثر اقبال ملک کیڈٹ کالج پٹارو کے فارغ التحصیل ہیں یعنی پٹارین ہیں، بنیادی طورپر نیشنل بینک پاکستان کے ایک سینئر ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ تھے، انہیں نیشنل بینک کے ساتھ ساتھ نیب سے بھی برطرف کیا جاچکا ، لیکن ہمیشہ ان کی واپسی ہوتی رہی اور وہ گزشتہ 8 سالہ سے غیرقانونی طورپر نیب میں ملازمت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ خصوصاً ایسے وقت جب کوئی بینک نیب کے ہاتھوں مشکل میں رہا، وہ بینک سے بینک حرکت کرتے رہے۔ 2004 میں بحیثیت اے وی پی ایک نجی بینک کے نمائندے کے طورپر 5 سال کے لئے کوثر اقبال ملک نے ممبر فنانشل کرائمز انویسٹی گیشن ونگ کے طورپر نیب میں شمولیت اختیار کی، لیکن بعدازاں موقع سے فائدہ اٹھانے کی اپنی صلاحیت پر نیب میں رہتے ہوئے وہ بینک کے وائس پریذیڈنٹ بن گئے۔ انہوں نے فوج کی قیادت میں نیب میں اپنے اعلیٰ رابطوں کو استعمال کرتے ہوئے ریگولر کیڈر میں ڈائریکٹر جنرل فنانشل کرائمز انویسٹی گیشن ونگ کا منصب حاصل کرلیا جو گریڈ 21- کے مساوی ہے۔ اسی طریقے سے وہ ایک دن بھی کام پر گئے بغیر ایک اور نجی بینک میں سینئر وائس پریذیڈنٹ بن گئے۔ اس بینک کے نیب میں قرض نادہندگی کے کیسز زیرالتواء تھے، پھر ان ہی طریقوں سے وہ تیسرے بینک میں سینئر نائب صدر ہوگئے۔ اس بینک کے کیسز بھی نیب میں زیرالتواء تھے۔ وہ اس تیسرے بینک میں نہیں گئے اور بدستور نیب میں خدمات انجام دیتے رہے اور بالآخر نیشنل بینک میں سینئر ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ ہوگئے جب نیب کے پاس اس بینک کے بڑے مالیاتی اسکینڈلز سامنے تھے۔ وہ ایف آئی اے پرائم بینک فراڈ میں ملزم تھے۔ ایف آئی آر کے مطابق 45 لاکھ روپے کا فراڈ کیا گیا تھا۔ یہ کیس 2005 میں فنانشیل انویسٹی گیشن ونگ نیب کو منتقل کیا گیا اور بعدازاں دستاویز کی تبدیلی کے ساتھ بند کردیا گیا۔ 2010 میں اسٹیٹ بینک کی انسپکشن رپورٹ کے مطابق کوثر اقبال ملک نے اپنا اثرورسوخ بروئے کار لاتے ہوئے خود ایس ای وی پی ہونے کے باوجود پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے مکان کو انتہائی گراں کرایہ پر نیشنل بینک کو دیا۔ تاہم انہوں نے استفسار پر مکان کرایہ پر دیئے جانے کا دفاع کیا۔ان کے کئی اہم شخصیات سے تعلقات تھے جو حکمرانوں کی دوست ہیں۔ سابق ڈپٹی چیئرمین نیب سے جھڑپوں کے بعد انہیں فروری 2011 میں نیب سے ہٹا کر نیشنل بینک واپس بھیج دیا گیا۔ نیشنل بینک میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد ان کے اس وقت بینک کی اعلیٰ انتظامیہ سے اختلافات پیدا ہوگئے اور ایک ماہ کے اندر ہی انہیں برطرف کردیا گیا۔ تاہم کوثر اقبال ملک کو ایک بااثر شخصیت کی مداخلت پر بحال کردیا گیا اور انہیں وزارت پیٹرولیم و قدرتی وسائل بھیج دیا گیا، جہاں سے ان کا آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ میں تبادلہ ہوا۔ 12 دسمبر 2011 کو انہیں دوبارہ اسی پوزیشن پر لایا گیا جہاں وہ چند ماہ قبل برطرف ہوئے تھے۔ اب وہ ڈائریکٹر جنرل فنانشل کرائمز انویسٹی گیشن ونگ کے ساتھ ساتھ ڈائریکٹر آپریشنز نیب ہوں گے۔ نیب میں اپنی بحالی پر جب کوثر اقبال ملک سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے طاقتور شخصیت سے اپنے کسی تعلقات کے تاثر کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اللہ کا فضل ہے کہ وہ عزت و وقار کے ساتھ نیب میں بحال ہوئے۔ انہوں نے ان الزامات کی تردید کی کہ این آر او سے متعلق کیسوں سے نمٹنے کے لئے انہیں حکومت نیب میں لائی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مالیاتی فراڈ اور بینک مقدمات سے ان کا تعلق بنتا ہے، جبکہ اپنے ڈی جی آپریشنز بھی ہونے کے حوالے سے کوثر اقبال ملک نے کہا کہ کسی اور کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے یہ ذمہ داری بھی انہیں دی گئی۔ آخری بار جب وہ نیب میں دو اہم عہدوں پر فائز تھے تب 6 لگژری سرکاری گاڑیاں ان کے استعمال میں تھیں۔ تاہم انہوں نے اس بات کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا انہیں بدنام کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ رابطہ کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ وہ نیب میں غیرجانبدارانہ خدمات انجام دیتے ہوئے مالیاتی فراڈ پکڑنے پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں گے ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ان کی تمام جائیداد قانونی ہے، ان تمام باتوں کے باوجود کوثر اقبال ملک تقریباً ایک دہائی سے نیب کی بااثر ترین شخصیت ہیں۔ 16 جنوری کو اپنے ایک دوست کے ایس ایم ایس کے جواب میں کامران فیصل مرحوم نے بتایا تھا کہ وہ ڈی جی ہیڈکوارٹرز کے ساتھ ہیں اور ڈی جی ایچ آر ان سے کیس سے تبدیلی کے حوالے سے حلف نامہ چاہتے ہیں،انہوں نے اپنے دوست سے مشورہ مانگا تھا کہ اب وہ کیا کریں۔