امام اعظم ابو حنیفہؒ کا ایک واقعہ ہے کہ ایک شخص نے بھرے بازار میں امام اعظمؒ کی شان میں گستاخی کی اور گالیاں دیں، حضرت امام اعظمؒ نے غصہ کو ضبط فرمایا، اور اس کو کچھ نہیں کہا، اور گھر پر واپس آنے کے بعد ایک خوان میں کافی درہم و دینار رکھ کر اس شخص کے گھر تشریف لے گئے، دروازے پر دستک دی، یہ شخص باہر آیا تو اشرفیوں کا یہ کوان اس کے سامنے یہ کہتے ہوئے پیش فرمایا کہ آج تم نے مجھ پر بڑا احسان کیا، اپنی نیکیاں مجھے دیدیں ، میں اس احسان کے بدلہ کرنے کے لئے یہ تحفہ پیش کر رہا ہوں، امام صاحبؒ کے اس معاملہ کا اس کے قلب پر اثر ہونا ہی تھا، آئندہ کو اس بری خصلت سے ہمیشہ کے لئے تئب ہوگیا، حضرت امام صاحبؒ سے معافی مانگی، اور آپ کی خدمت اور صحبت میں علم حاصل کرنے لگا، یہاں تک کہ آپ کے شگردون میی ایک بڑے عالم کی حیثیت اختیار کرلی۔
(معارف القرآن جلد 2 صفحہ 190، سورہ ال عمران: آیت 134)