صفحہ 1 از 2 12 آخریآخری
نتائج کی نمائش 1 تا: 10 از: 16

موضوع: لیفٹینیٹ جنرل شاہد عزیز (ریٹائرڈ) کے انکشافات

  1. #1
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    لیفٹینیٹ جنرل شاہد عزیز (ریٹائرڈ) کے انکشافات

    [align=center]سب سے پہلے آپ ان پرانی دو تحریروں کا مطالعہ کر لیں جو امت اخبار میں چھپی تھیں ،اور اس کے بعد ان کی تازہ ترین کتاب [size=xx-large] یہ خاموشی کہاں تک ؟؟ [/size] کے چند حوالے دیں گے ،۔[/align]


    [align=center][/align]

    [align=center][/align]
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  2. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    ٹیکسٹ ماسٹر (04-20-2014)

  3. #2
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    لیفٹینیٹ جنرل شاہد عزیز (ریٹائرڈ) کے انکشافات

    اب آئیے ان کے تازہ ترین انکشافات ،
    روز نامہ جنگ ،29 جنوری 2013
    [align=center][size=xx-large]
    کارگل آپریشن کا علم صرف چار لوگوں کوتھا ، جنرل ریٹائرڈ شاہد عزیز
    [/size][/align]
    [align=center][/align]
    اسلام آباد…اب معلوم ہوا ہے کہ کارگِل آپریشن کا چار کو پتہ تھا، فوج کی باقی کمان لاعلم تھی، نہ مقاصد واضح تھے، نہ نتائج پر نظر رکھی گئی۔ اپنی ہی قوم سے نتائج چھپانا آپریشن کے ناکام ہونے کا ثبوت ہے۔ یہ سارے انکشافات سابق چیف آف جنرل اسٹاف ، لیفٹننٹ جنرل (ریٹائرڈ) شاہد عزیز نے کیے ہیں جو کارگل آپریشن کے وقت آئی ایس آئی کے اینالسز ونگ کے ڈائرکٹر جنرل تھے۔
    انہوں نے انکشاف کیا ہے کہکارگل کا ایڈونچر صرف چار افراد کافیصلہ تھا ،باقی آرمی کو اس سے لاعلم رکھا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ کارگل آپریشن کا علم ابتدائی طور پر صرف آرمی چیف جنرل پرویز مشرف ، چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل محمد عزیز ، فورس کمانڈناردرن ایریا کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جاوید حسن اور دسویں کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمود احمد کو علم تھا ۔انہوں نے کہاکہ جنرل مشرف پور دور میں صرف اسے بتاتے تھے جس سے وہ کام لینا ہو، باقی سب سے راز رکھا جاتاتھا ۔کارگل کا آپریشن نے پاکستان نے انیس سو ننانوے میں شروع کیاتھا جب کارگل کے مقام پر لائن آف کنٹرول پر پاکستانی فوج نے کمانڈنگ پوزیشن حاصل کرلی تھی اور اس ساری کارروائی سے لاعلم بھارتی فوج حیرت زدہ رہ گئی ، ابتدائی طور پر پاکستان کی طرف سے یہ بات سامنے آئی کہ مجاہدین نے کارگل کے محاذ پر قبضہ کیا ہواہے ، لیکن عالمی برادری کی حمایت کے ساتھ بھارتی دباوٴ کے باعث پاکستان کو اپنے کنٹرول سے دستبردار ہونا پڑا ، جبکہ اسی آپریشن کے سبب جنرل مشرف کے اسوقت کے وزیرایعظم میآں نوازشریف سے بھی اختلافات بڑھے جن کا انجام اکتوبر انیس سونناوے میں نوازشریف کی حکومت کے خاتمے پر ہوا ۔لیفٹیننٹ جنرل شاہدعزیز نے مزید انکشاف کیا کہ پاکستان آرمی نے کارگل آپریشن کی منصوبہ بندی نہیں کی تھی کیوں کہ جنرل مشرف نے کبھی بھی کارگل کو اہم آپریشن کے طور پر نہیں دیکھا ، اور صرف فورس کمانڈ ناردرن ایریاز کے کورکمانڈر اور شاید دسویں کور کا ایک سیکشن اس میں ملوث تھا ۔لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز نے کہاکہ کارگل کی کارروائی بھارتی انٹیلی جنس کے لیے ایک بہت بڑی ناکامی تھی ۔جنرل شاہد عزیز نے کارگل آپریشن کے بارے میں کہا کہ اس مہم کا تخمینہ غلط لگایا گیا تھا ، کیوں کہ اس کے مقاصد واضح نہیں تھے اور اس کے پھیلاوٴ کا صحیح طورپر جائزہ نہیں لیا گیا ۔جنرل شاہد عزیز نے کہاکہ کارگل آپریشن ناکام تھا کیوں کہ اس کے مقاصد جھپائے گئے ، اور نتائج سے اپنے ہی لوگوں اور قوم کو آگاہ نہیں کیا گیا ، اس کا نہ کوئی مقصد تھا نہ کوئی منصوبہ بندی تھی ، اور نہ ہی آج تک کوئی یہ جان سکا ہے کہ وہاں کتنے سپاہی اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ۔
    جنرل شاہد عزیز نے کہاکہ وہ ذاتی طورپر نہیں جانتے کہ اس وقت کے وزیراعظم میآں نو ازشریف کو اس آپریشن کی کس قدر معلومات دی گئی ، لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ میاں نواز شریف کے سامنے پوری صورتحال نہیں رکھی گئی ، البتہ وہ مکمل بے خبر بھی نہیں تھے، اور اس کا اندازہ انہیں تب ہوا جب ایک بریفنگ میں نوازشریف نے پوچھا کہ کشمیر کب حاصل کرکے دے رہیں ہیں ۔جنرل عزیز نے کہاکہ انہیں انڈین آرمی کی وائرلیس گفت گو پکڑنے سے اندازہ ہوا کہ بھارت کی طرف کچھ پریشانی ہے ، اوروہیں سے اندازہ ہوا کہ وہ خود بھی اس پیدا شدہ صورتحال سے پوری طرح آگاہ نہیں ۔جنرل شاہد عزیز نے کہاکہ چیف آف جنرل اسٹاف کے عہدے پر ترقی پانے کے بعد انہوں نے کارگل آپریشن پر ایک رپورٹ تیار کرنے کا حکم دیا تاکہ مالی اور انسانی نقصان اور غلطیوں کا اندازہ لگایا جاسکے ، لیکن اس پرغصے سے بھرے جنرل مشرف نے یہ کہہ کر رپورٹ کی تیاری روک دی کہ ابھی ان چیزوں کاوقت نہیں ہے ۔

  4. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    ٹیکسٹ ماسٹر (04-20-2014)

  5. #3
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    لیفٹینیٹ جنرل شاہد عزیز (ریٹائرڈ) کے انکشافات

    اخبار جنگ کے مطابق اکتوبر 2001 سے دسمبر 2003ء تک چیف آف جنرل اسٹاف کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز نے انکشاف کیا ہے کہ ایک ادارے کی حیثیت سے افواجِ پاکستان کو اس بات سے مکمل طور پر اندھیرے میں رکھا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان کیا معاملات ہو رہے ہیں، اس کے علاوہ جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) اور اعلیٰ فوجی کمانڈرز نے پاکستانی شہریوں کو امریکا کے حوالے کرنے کی سخت مخالفت کی تھی لیکن پرویز مشرف نے یہ سب اپنی مرضی کے مطابق کیا۔ شاہد عزیز نے کہا کہ اگرچہ جی ایچ کیو اور سی جی ایس کو فوج کا مرکز سمجھا جا تا ہے لیکن جی ایچ کیو ایسے زیادہ تر اقدامات سے لاعلم رہا جو مشرف نے کئے، جس میں پاکستانیوں کو امریکا کے حوالے کیا جانا بھی شامل ہے۔ اس رپورٹ کے فائل کئے جانے تک پاک فوج کا موقف معلوم کرنے کیلئے مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل سے رابطے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ سنیچر کو ریٹائر جرنیل نے دی نیوز کیساتھ بات چیت میں بتایا کہ اگرچہ پاک فوج مطلوبہ غیر ملکیوں اور مقامی افراد کو پکڑ کر تفتیش کیلئے آئی ایس آئی کے حوالے کردیتی تھی لیکن بعد میں ایسے افراد کو پاک فوج کے علم میں لائے بغیر امریکا کے حوالے کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے یہ واضح کردیا تھا کہ کسی پاکستانی کو امریکی حکام کے حوالے نہیں کیا جائیگا جبکہ مسائل پیدا کرنے والے عرب باشندوں کو ان کے متعلقہ ملک ڈی پورٹ کردیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کافی عرصے تک یہ معلوم نہ ہوسکا کہ آئی ایس آئی پاکستانی باشندوں کو امریکا کے حوالے کر رہی ہے اور جب پاک فوج کی اعلیٰ قیادت کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے اس پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مشرف نے امریکی سی آئی اے کے ساتھ مل کر آئی ایس آئی کو اس معاملے میں شامل کردیا تھا اور اس کا پاک فوج کو علم نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ مشرف نے اپنے دور میں امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں (سی آئی اے اور ایف بی آئی) کو قبائلی علاقوں میں جاسوسی کیلئے مقامی باشندوں کو ایجنٹ بھرتی کرنے کے علاوہ معلومات کے تبادلے کیلئے امریکا کے بغیر پائلٹ کے طیاروں کو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی بھی اجازت دی۔ جنرل شاہد عزیز نے اس بات کا انکشاف بھی کیا کہ جی ایچ کیو کی شدید مخالفت کے باوجود جنرل مشرف نے امریکا کو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ہی بغیر پائلٹ کے طیاروں کے پاکستانی حدود کے اندر کئے جانیوالے حملوں میں سیکڑوں افراد جن میں خواتین اور معصوم بچے بھی شامل ہیں، جاں بحق ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جنرل مشرف کے دور میں پاک فوج اور امریکا کے درمیان دہشت گردی کے خلاف جنگ پر کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا بلکہ مشرف براہِ راست امریکیوں کے ساتھ معاملات طے کر رہے تھے۔ پاک فوج میں غیر معمولی ساکھ کے حامل لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز نے انکشاف کیا کہ گیارہ ستمبر کے معاملے پر جب اعلیٰ فوجی کمانڈرز کے ساتھ مشاورت کی گئی تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ پاک فوج اس تنازع سے باہر رہے گی۔ تاہم بعد میں مشرف کی جانب سے کئے جانیوالے وعدوں کے باعث پاک فوج کو اس معاملے میں گھسیٹ لیا گیا اور بعد میں صورتحال یہ ہوگئی کہ فوج کے ایک ہاتھ کو اس بات کا پتہ ہی نہیں تھا کہ دوسرا ہاتھ کیا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف نے پاک فوج کو نہ ملنے والی حد تک اس طرح تقسیم کیا کہ سی جی ایس کو بھی ان کاموں کا علم نہیں ہوا جو آرمی چیف پاک فوج کے دوسرے شعبوں کو دیتا رہا۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں تاہم انہوں نے گزشتہ سال کے ابتدائی مہینوں میں اس وقت استعفیٰ دے دیا جب ان سے بینظیر بھٹو اور آصف زرداری کے خلاف تفتیش پر مامور نیب کا خصوصی سیل بند کرنے کیلئے کہا گیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ چونکہ سابق آرمی چیف حکومت کا حصہ بھی تھے لہٰذا پاک فوج سے ان تمام معاملات میں مشاورت نہیں کی جاتی تھی جن پر اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان اتفاق ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گیارہ ستمبر (9/11) کے بعد پاک فوج کو بتایا گیا تھا کہ امریکا پاکستان کے قبائلی علاقوں میں غیر ملکیوں (عرب، ازبک، تاجک باشندوں وغیرہ) کی موجودگی نہیں چاہتا، جب اس ایشو پر جی ایچ کیو میں بحث کی گئی تو فوج نے اس بات کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا تھا کہ مذکورہ غیر ملکیوں، جن کی اکثریت پاکستان میں سکونت اختیار کر چکی تھی، پر خاموش رہنے کیلئے دباؤ ڈالا جائے۔

  6. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    ٹیکسٹ ماسٹر (04-20-2014)

  7. #4
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    لیفٹینیٹ جنرل شاہد عزیز (ریٹائرڈ) کے انکشافات

    [align=center][size=xx-large]کارگل کا ایڈونچر فورمین شو تھا: جنرل عزیز[/size][/align]
    بشکریہ ڈان اخبار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    لیفٹیننٹ جنرل (ر) شاہد عزیز جو پاکستانی فوج کے سابق چیف آف جنرل اسٹاف بھی ہیں، سن ننانوے کے موسم گرما کے دوران ہونے والے اپنے مشاہدات سامنے لارہے ہیں۔ وہ کارگل کی جنگ کو ایک المناک حادثہ قراردیتے ہیں۔ جس کی اصل حقیقت ملٹری کے کمانڈروں سے پوشیدہ رکھی گئی۔
    یہ پہلا موقع ہے کہ ایک فوجی تنظیمی ڈھانچے میں ایک سینئر فوجی افسر نے کسی جھجک کے بغیر کارگل میں ہونے والی مضحکہ خیز شکست پر بات کی ہے۔
    جنرل شاہد عزیز کے مطابق ابتداء میں کارگل آپریشن کے بارے میں صرف چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف،چیف آف آرمی اسٹاف لفٹیننٹ جنرل محمد عزیز ، فورس کمانڈ ناردرن ایریاز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جاوید حسن اور 10 کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمد احمد کو ہی علم تھا۔
    کور کمانڈروں کی اکثریت اور پرنسپل اسٹاف آفیسرز کو اس بابت اندھیرے میں رکھا گیا تھا۔ جنرل عزیز کہتے ہیں کہ:‘‘یہاں تک کہ ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل توقیر ضیاءکو بہت بعد میں جا کر معلوم ہوسکا۔ ’’ جو اس وقت ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے آئی ایس آئی کے تجزیاتی ونگ میں خدمات انجام دے رہے تھے۔
    انہوں نے بتایا کہ جنرل مشرف اس پالیسی کے تحت کام کرتے تھے کہ جتنی ضرورت ہو اتنی معلومات فراہم کی جائے اور وہ بہت سی ضروری باتوں کو بھی متعلقہ افراد تک نہیں پہنچنے دیتے تھے۔ دوسرے لفظوں میں مشرف محض احکامات جاری کیا کرتے تھے، بجائے اس کے کہ وہ کور کمانڈروں اور دیگر اعلیٰ سطح کے فوجی افسروں سے مشورہ کریں۔
    کارگل کا آپریشن 1999ء کی گرمیوں میں شروع ہوا، جبکہ پاکستانی سپاہیوں نے لائن آف کنٹرول کی انڈین سائڈ پر دراندازی کی۔
    اس دراندازی کے ذریعے انڈیا کی سپلائی لائن کو منقطع کردیا گیا، یہ سب نئی دہلی کے لیےبہت اچانک ہوا تھا۔
    ابتدائی دنوں میں اسلام آباد نے دعویٰ کیا کہ یہ دراندازی مجاہدین کی جانب سے ہوئی ہے، لیکن وہ اس بناوٹی دعوے پر زیادہ عرصے تک قائم نہ رہ سکا۔ انڈیا کا ردّعمل اور عالمی دباؤ نے مشترکہ طور پر پاکستان پر زور ڈالا کہ وہ پاکستانی فوجیوں کو واپس بلوالے۔
    اگرچہ اس آپریشن کے بعدا س کے مضمرات کی وجہ سے جنرل مشرف اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی اپنی انتہا کو پہنچ گئی، اور اس کا نتیجہ اکتوبر کی بغاوت پر منتج ہوا، جبکہ فوج نے ایک منتخب حکومت کا تختہ اُلٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیا۔
    جنرل عزیز نے کہا‘‘اس آپریشن کی ذرا سی بھی پلاننگ نہیں کی گئی تھی۔’’
    انہوں نے مزید کہا کہ ‘‘پاکستان آرمی نے یہ آپریشن پلان نہیں کیا تھا، کیوں کہ جنرل مشرف نے کبھی کارگل کو ایک بڑے آپریشن کے طور پر نہیں دیکھا تھا۔ ’’
    ان کا کہنا تھا کہ یہ انڈین انٹیلی جنس کی بھی بہت بڑی ناکامی تھی۔ اس آپریشن کے حوالے سے مزید تفصیلات جنرل عزیز کی ایک کتاب میں موجود ہیں جو اگلے ہی ہفتے شایع ہوکر بک اسٹال پر آجائے گی۔
    ‘‘یہ نہایت غیر دانشمندانہ اقدام تھا۔’’ ان سے جب آپریشن کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘‘اس کے مقاصد واضح نہیں تھے اور اس کے نتائج و مضمرات کا درست طریقے سے اندازہ نہیں لگایا گیا تھا۔’’
    دارالحکومت سے تیس کلومیٹر کے فاصلہ پر پنڈ بیگ وال میں اپنے فارم ہاؤس کے اندر مری کی پہاڑیوں کے خوبصورت پس منظر کے ساتھ جنرل عزیز آپریشن کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہوئے ان کے مزاج میں تلخی نہیں تھی۔
    ‘‘یہ ناکام مہم تھی، کیوں کہ ہم نے اس کے مقاصد اور نتائج اپنے لوگوں اور قوم سے چھپائے۔ اس کا کوئی مقصد نہیں تھا، نہ ہی اس کی کوئی منصوبہ بندی کی گئی تھی اور آج کوئی نہیں جانتا کہ ہمارے کتنے سپاہیوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔’’
    انہوں نے بتایا کہ وہ ذاتی طور پر نہیں جانتے کہ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو اس حوالے سے کس قدر آگاہی دی گئی، لیکن وہ محسوس کرتے ہیں کہ نواز شریف ‘‘اس منظر میں پوری طرح موجود نہیں تھے۔’’
    تاہم ایک ڈسکشن کے دوران ایک جنرل کے جواب میں نوازشریف نے کہا تھا کہ ‘‘آپ ہمیں کب کشمیر دے رہے ہیں؟’’ جنرل عزیز نے کہا : ‘‘اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نواز شریف مکمل طور پر اندھیرے میں نہیں تھے۔’’
    ‘‘ایک رکاوٹ نے مجھے پریشان کردیا تھا، میں نے سوچا کہ ہم نہیں جانتے کہ ہندوستانیوں کے ساتھ کیا ہوا ہے جو وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ میں نے دو افسروں کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ کھوج لگائیں کہ آخر ہو کیا رہا ہے۔ ’’
    جنرل عزیز کو اگلے دن وائرلیس پیغام پکڑے جانے پر یقین آیا کہ انڈین کی تشویش کی وجہ یہ حقیقت تھی کہ پاکستان کی جانب سے کسی نے کارگل۔درس سیکٹر پر قبضہ کرلیا ہے، لیکن یہ واضح نہیں تھا کہ یہ مجاہدین تھے یا باقاعدہ فوجی تھے۔
    ‘‘میں نے اس سارے معاملات کے لیے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل ضیاءالدین بٹ کو پکڑا اور پوچھا کہ آخر کیا ہورہا تھا؟ ’’
    جنرل بٹ نے آخرکار بتایا کہ آرمی کارگل کے کچھ حصے پر قبضہ کرچکی ہے۔
    جنرل عزیز نے کہا یہ درست نہیں تھا۔ ان کی اپنی رائے میں، وہ اسی صورت میں مجوزہ آپریشن کے بارے میں پہلے سے کچھ کہہ سکتے تھے، جبکہ انہیں پہلے سے اس کی جُزیات فراہم کی جاتیں۔
    جنرل عزیز اور جنرل بٹ کے مابین ہونے والی اس گفتگو کے ایک دن بعد جنرل عزیز کو ایک لیٹر کے ذریعے مطلع کیا گیا کہ انہیں جی ایچ کیو میں کارگل کے حوالے سے ایک بریفنگ میں مدعو کیا گیا ہے۔
    بریفنگ
    اُس بریفنگ میں جہاں پرنسپل اسٹاف آفیسرز بھی موجود تھے، ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لفٹیننٹ جنرل توقیر ضیاء نے واضح کیا کہ نادرن لائٹ انفنٹری اور ریگولر ٹروپس دراس کارگل سیکٹر پر قبضہ کرچکے ہیں۔

    جنرل عزیز نے محسوس کیا کہ اگرچہ کہ آپریشن کے بارے میں تمام بریفنگ جنرل توقیر ضیاء نے دی ہے لیکن اس آپریشن کے ابتدائی معاملات کے حوالے سے وہ بھی کچھ نہیں جانتے تھے۔
    توقیر ضیاء کی اس بریفنگ کے ایک دن گزرنے کے بعد کارگل آپریشن کی خبر پاکستانی میڈیا میں رپورٹ ہوگئی، دلچسپ بات یہ ہے کہ انڈین میڈیا اس حوالے سے ایک دن پہلے سے اس کی خبریں دے چکا تھا۔
    اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی حکام کو اس اہم فوجی آپریشن کے بارے میں اس کے شروع ہونے کے بعد آگاہ کیا گیا، جبکہ اس وقت تک اس کی معلومات میڈیا تک پہنچ چکی تھیں۔
    بریفنگ کے دوران جنرل ضیاء نے آپریشن کے مقاصد واضح کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ انڈیا کی سیاچن کو جانے والی سپلائی لائنز کو منقطع کرنے کے لیے کیا گیا تھا، کیونکہ یہ زوجیلا پاس، سری نگر، دراس کارگل لیہہ روڈ کے قریب تھا۔
    جنرل ضیاء کا کہناتھا کہ اس آپریشن سے سیاچن کو انڈیا کی سپلائی رُک جائے گی اور بالآخر انڈیا کو سیاچن خالی کرنا پڑے گا۔ لیکن ایسا کچھ نہیں ہوسکا اور اب یہ سب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔
    جنرل عزیز کا کہنا تھا کہ ایسا اس لیے ہوا ، کیونکہ منصوبہ بندی کرنے والے ‘‘انڈیا کے ردّعمل اور مجموعی نتائج کا درست اندازہ نہیں لگاسکے ۔’’
    بریفنگ کے وقت جنرل توقیر ضیاء نے پشتو زبان میں ایک پہلے سے ریکارڈ شدہ پیغام کونشر کیے جانے کے بارے میں بتایا تھا، انہیں امید تھی کہ اسے انڈین فورسز پکڑ سکتی ہیںؕ۔
    ان کا مقصد یہ تھا کہ اس وائرلیس پیغام کو نشر کرنے سے وہ انڈیا کو بے وقوف بنا کر یہ سوچنے پر مجبور کردیں گے کہ افغان مجاہدین نے کارگل کے علاقے پر قبضہ کرلیا ہے۔
    جنرل عزیز نے کہا کہ انہوں نے اس منصوبے پر اعتراض کیا تھاکہ ‘‘یہ بہت جلد بے نقاب ہوجائے گا۔’’ انہوں نے مزید کہا کہ ایک طویل بحث کے بعد آخرکار توقیر ضیاء نے یہ تسلیم کرلیا کہ سچ کو زیادہ دیر تک چھپایا نہیں جاسکتا۔
    ماضی کے دریچوں کو کھولتے ہوئے جنرل ضیاء نے کہا کہ ‘‘اگر نادرن لائٹ انفنٹری کے جوان وہاں موجود تھے، تو بھی یہ غلط ہوسکتا تھا، اس لیے کہ تب یہی خیال کیا جاتا کہ یہ آپریشن پیراملٹری فورس کے تحت کیا کیا ہے، کیونکہ نادرن لائٹ انفنٹری (این ایل آئی) ملٹری کے ماتحت کام کرتی ہے، رینجرز کی طرح نہیں کہ جس کا سربراہ تو ملٹر ی آفیسر ہوتا ہے لیکن تیکنیکی بنیادوں پر وہ وزارت داخلہ کے ماتحت ہوتی ہے۔
    جس پر کبھی غور نہیں کیا گیا
    جنرل عزیز کے نزدیک آپریشن ختم ہوجانے سے مراد ہرگز یہ نہیں لی جائے گی کہ یہ معاملہ ختم ہوگیا ہے۔
    اس کے بعد انہیں چیف آف جنرل اسٹاف کے عہدے پر ترقی دے دی گئی، انہوں نے بتایا کہ سال 2004ء میں انہوں نے محدود سطح کی اسٹڈی کا حکم دیا تاکہ یہ دریافت کیا جاسکے کہ آخر کون سے اندازے تھے جو غلط ثابت ہوئے۔
    جوانوں اور سرمائے کا بہت بڑا نقصان تھا، انہوں نے ایک ایک بٹالین سے اس حوالے سے تفصیلات حاصل کیں۔لیکن ردّعمل انہیں فی الفور موصول ہوا۔
    تند مزاج جنرل مشرف نے انہیں طلب کیا اور پوچھا کہ اس اسٹڈی کے کیا مقاصد ہیں؟
    ‘‘میں نے انہیں بتایا کہ یہ ہماری غلطیوں اور نقصانات کی ایک پیشہ ورانہ تفصیل فراہم کرے گی۔ لیکن جنرل مشرف نے کہا فی الوقت اس طرح کی اسٹڈی کی کوئی ضرورت نہیں ہےاور انہوں نے اس کو روکنے کے احکامات جاری کردیے۔

  8. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    ٹیکسٹ ماسٹر (04-20-2014)

  9. #5
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    لیفٹینیٹ جنرل شاہد عزیز (ریٹائرڈ) کے انکشافات

    [size=xx-large][align=center]خلاصہ مضمون دیکھیئے ۔ یہ خاموشی کہاں تک؟؟؟؟[/align][/size]
    [align=center] لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز ریٹائرڈ کے اہم نکات [/align]
    اہم ترین انکشاف ،کارگل آپریشن کا علم صرف چار لوگوں کوتھا ،جنرل شاہد عزیز کے مطابق ابتداء میں کارگل آپریشن کے بارے میں صرف چیف آف آرمی اسٹاف جنرل پرویز مشرف،چیف آف آرمی اسٹاف لفٹیننٹ جنرل محمد عزیز ، فورس کمانڈ ناردرن ایریاز کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جاوید حسن اور 10 کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل محمد احمد کو ہی علم تھا۔

    تخلیص ندیم ملک ۔اسلام آباد ٹونائٹ

    1: گوادر کے راستے امریکی میرینز پاکستان میں داخل ہوئے

    2: کارگل آپریشن کے حوالے سے مجھے بے خبر رکھا گیا-۔

    3: جو پاکستانی پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیے گے فوج کو اسکا علم نہیں تھا-

    4:گوادر کے ساحل پر موجود امریکی ٹینکوں کے نشانات میں نے خود دیکھے تھے

    5:پاکستان میں دہشت گردی امریکی ایجنٹس کروا رہے ہیں-

    6: افغانستان میں امریکہ کی موجودگی کی مخالفت پر پاکستان کے لوگوں کو مارا جا رہا ہے-

    7: گوادر کی بہت سی زمینیں غبن کے ذریعے بیچ دی گئیں-

    8: سیاستدان اپنے خلاف مقدمات کو طول دیتے رہتے ہیں تا کہ فیصلہ نہ ہو پائے-

    9: دو ہزار دو میں مشرف نے جو ساسی حکومت بنائی فوج اس سے خوش نہیں تھی-

    10: مشرف نے فیصل صالح حیات سمیت سیاستدانوں کے خلاف کیسز روک دینے کو کہا تھا-

    11:سوئیس عدالت میں زرداری کے خلاف منی لانڈرنگ کا کیس ثابت ہو گیا تھا-

    12: مشرف نے سپین میں بے نظیر کے خلاف کیس کے وکلاء تبدیل کروائے-

    13: طارق عزیز نے کہا بے نظیر کے خلاف مقدمات ختم کردیے جائیں-

    14: طارق عزیز نے کہا بے نظیر کیس میں بڑی طاقتیں شامل ہیں آپ کچھہ نہیں کر سکتے-

    15: بے نظیر کے خلاف کیس میں ثبوت یو این او نے مہیا کیے تھے-

    16:منی لانڈرنگ کیس میں زرداری کے خلاف کافی ثبوت موجود ہیں-

    17: اسمبلی میں موجود شوگر ملز مالکان چینی کے بحران میں ملوث تھے-

    18:عزیز آئیل سکینڈل کی انکوائیری جنرل حامد نے جہاں تھی وہیں رکوا دی

    19:انکوائیری کے مطابق آئیل کمپنیوں نے بہت زیادہ ناجائز منافع کمایا -

    20: ڈیزل کی امپورٹ میں سالانہ نوے ارب روپے کا گھپلا ہوتا ہے-

    21: نئے انٹی کرپشن بل کے تحت لوگوں کو کرپشن کی کھلی چھٹی ہو گی-

    22: موجودہ پارلیمنٹ سے کسی بہتری کی توقع نہیں ہے-

    23: جن لوگوں پر کرپشن کے کیسز ہیں انہیں اپنے عہدے چھوڑ دینے چاہییں-

    24: نیب پر حکومت کا کنٹرول ختم ہونا چاہیے-

    25: پاکستان میں دہشت گردی بھی کرپشن کی وجہ سے ہو رہی ہے-

    26:پاکستان کے ائیر پورٹس امریکہ کو دینے کا کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا

    27:مشرف بارہ اکتوبر پہلے ہی حکومت پر قبضہ کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے

    28:مشرف نے سی آئی اے اور ایف بی آئی کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت دی-

    29:ہم نے خواتین اور بچوں تک کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا ہے

    30:میں سابقہ فوجی کی حیثیت سے شرمندہ ہوں کہ فوج نے ایسے کام کیےہیں-

    31:جیکب آباد، شمسی اور پسنی ائیر پورٹس سے امریکی ائیر فورس کی باقائدہ پروازیں ہوتی رہیں-

    32:مشرف کے سی آئی اے کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت دینے پر کچھ فوجی ناخوش تھے-

    33:اس وقت پاکستان میں بلیک واٹر کے علاوہ بہت سی اور ایجنسیاں بھی کام کر رہی ہیں-

    34:آئی ایس آئی کو کارگل کے واقع سے پہلے اس کا علم تھا-

    35:نواز شریف کو کارگل کے واقع سے پہلے اس کے بارے میں بتا دیا گیا تھا-

    36:ہم نے کارگل کے واقع میں بہت زیادہ نقصان اٹھایا

    37:نواز شریف نے کارگل بریفنگ کے بعد کہا کہ آپ ہمیں کشمیر کب دلا رہے ہیں-

    38:آج بھی بہت سے لوگ امریکہ کا ساتھ دینے کو بہترین پالیسی سمجھتے ہیں-

    39:مشرف نے کہا پاکستان پر حملے کی صورت میں کوئی اسلامی ملک ہمارا ساتھ نہیں دے گا-

    40:امریکہ نے ایک اسلامی ملک افغانستان پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے-

    41:پاکستان کی فوج امریکیوں کے ساتھ افغانیون کو مارنے میں برابر کی شریک ہے

    42:ہر مزہب پر عمل کرنے والے کو دہشت گرد قرار دے دیا گیا ہے-

    43:دہشت گردی کی جنگ کو امریکہ بھارت اور اسرائیل نے پاکستان کی جنگ بنا دیا ہے-

    44:جن لوگوں کو ڈرون حملے کر کے مارا جاتا ہے وہ بھی بے قصورہوتے ہیں

    45:فوج کے بڑے عہدیداروں میں جہاد کے جزبہ میں کمی آ چکی ہے-

    46:امریکی پیسے اور حکومت کے لالچ نے پاکستان کو امریکہ کی جنگ میں جھونک دیا ہے-

    47:جی ایچ کیو اور مون مارکیٹ جیسے حملے کرنے والے جرائم پیشہ لوگ تھے-

    48:ہم نے اللہ اور اسلام کو جائے نماز کی طرح لپیٹ کر رکھ دیا ہوا ہے-

    49:اگر امریکہ کے پیسے سے معیشت درست ہونی ہوتی تو اب تک ہو چکی ہوتی۔

    50:اگر ہماری فوج نارتھ وزیرستان گئی تو بڑی تباہی ہو گی-

    51:ہم نے امریکہ کو خدا سمجھ رکھا ہے-

    52:آج ہم اللہ اور اسلام کی بات کرنے والے کو انتہا پسند کہتے ہیں-

    53:امریکہ اپنے مفاد کے لیے میڈیا پر کروڑوں روپے خرچ کر رہا ہے-

    54:جنرل پرویز مشرف غدار نہیں تھے ان کی سوچ بہت مختلف تھی-

    55:مشرف کی سوچ سے ملک کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے-



  10. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    ٹیکسٹ ماسٹر (04-20-2014)

  11. #6
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    لیفٹینیٹ جنرل شاہد عزیز (ریٹائرڈ) کے انکشافات

    [align=center][size=xx-large]شاہد عزیز ’ناقابلِ اعتبار‘ شخص ہیں: پرویز مشرف[/size][/align]
    [align=center]وائس آف امریکا سے انٹرویو[/align]
    جنرل مشرف نے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی نیب کے کام میں دخل نہیں دیا۔ بلکہ ہمیشہ بڑے لوگوں کے خلاف ایکشن لینے کے لیے نیب کی حوصلہ افزائی کی تھی۔
    واشنگٹن — پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل شاہد عزیز کے لگائے گئے الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں ایک ’’کیریکٹر لیس ” اور ناقابل اعتبار شخص قرار دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات وائس آف امریکہ کی عائشہ تنظیم سے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران کہی۔

    سابق چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل عزیز نے الزام لگایا کہ جب وہ نیب کے سربراہ تھے تو صدر مشرف نے انہیں فیصل صالح حیات کے خلاف مقدمات نہ بنانے، بے نظیر کے خلاف مقدمات ختم کرنے اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی یا اوگرا میں اربوں کی کرپشن کے الزامات کو دبا دینے کا حکم دیا تھا۔

    جنرل عزیز نے، جو کارگل کے دور میں فوج کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے تجزیہ کرنے کے ونگ کے انچارج تھے، یہ الزام بھی لگایا ہےکہ کارگل کے دوران جنرل مشرف نے کور کمانڈرز کو بتائے بغیر ایک ایسا آپریشن کیا جس کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی تھی اور جس کے بارے میں تمام کور کمانڈروں کو علم بھی نہیں تھا۔

    ان تمام الزامات کی مزید تفصیلات جنرل عزیز نے اپنی نئی کتاب میں درج کی ہیں جو اگلے ہفتے آ رہی ہے۔

    جنرل مشرف نے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کبھی نیب کے کام میں دخل نہیں دیا۔ بلکہ ہمیشہ بڑے لوگوں کے خلاف ایکشن لینے کے لیے نیب کی حوصلہ افزائی کی تھی۔

    انہوں نے کہا کہ کارگل کا آپریشن ابتدا میں مقامی سطح کی کاروائی تھی جس کے بارے میں تمام کور کمانڈرز کو آگاہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ جب بات بڑھی تو تمام لوگوں کو آگاہ کر دیا گیا۔

    جنرل مشرف نے جنرل عزیز کے اس الزام کی بھی تردید کی ہے کہ انہوں نے کارگل کے بارے میں ایک رپورٹ کو سختی سے دبا دیا تھا۔

    اس سوال پر کہ مستقبل میں اگر فوج نے اقتدار میں آنے کی کوشش کی تو سابق صدر اس کی حمایت کریں گے یا مخالفت، جنرل مشرف کا کہنا تھا کہ وہ حالات دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔

    حال ہی میں اسلام آباد میں ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے اور مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے جنرل مشرف کا کہنا تھا کہ لوگ اس بحث میں پھنس جاتے ہیں کہ بات جمہوری ہو رہی ہے یا غیر جمہوری، جبکہ دیکھنا یہ چاہیے کہ جو بھی مطالبہ ہے وہ عوام کی بہتری میں ہے یا نہیں ۔

  12. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    ٹیکسٹ ماسٹر (04-20-2014)

  13. #7
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    لیفٹینیٹ جنرل شاہد عزیز (ریٹائرڈ) کے انکشافات

    [align=center][/align]

  14. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    ٹیکسٹ ماسٹر (05-09-2014)

  15. #8
    رکنِ خاص
    تاريخ شموليت
    Dec 2010
    مقام
    کراچی
    پيغامات
    393
    شکریہ
    65
    55 پیغامات میں 107 اظہار تشکر

    لیفٹینیٹ جنرل شاہد عزیز (ریٹائرڈ) کے انکشافات

    بس بھائی سوائے اس کے کیا کہہ سکتے ہیں کہ:
    اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔

  16. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے سرحدی کا شکریہ ادا کیا:

    ٹیکسٹ ماسٹر (04-20-2014)

  17. #9
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    لیفٹینیٹ جنرل شاہد عزیز (ریٹائرڈ) کے انکشافات

    [align=center][/align]

    [align=center][/align]

    ایکسپریس نیوز 30 جنوری 2013

  18. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل رُکن نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    ٹیکسٹ ماسٹر (04-20-2014)

  19. #10
    منتظم اعلی بےباک کا اوتار
    تاريخ شموليت
    Nov 2010
    پيغامات
    6,161
    شکریہ
    2,126
    1,234 پیغامات میں 1,606 اظہار تشکر

    لیفٹینیٹ جنرل شاہد عزیز (ریٹائرڈ) کے انکشافات

    [align=center][/align]

  20. اس مفید مراسلے کے لئے درج ذیل 2 اراکین نے بےباک کا شکریہ ادا کیا:

    شاہنواز (03-01-2014),ٹیکسٹ ماسٹر (04-20-2014)

صفحہ 1 از 2 12 آخریآخری

متشابہہ موضوعات

  1. ڈاٹ نیٹ کے لیے اردو رچ ٹیکسٹ باکس کنٹرول
    By ابن بطوطہ in forum اردو سافٹ وئیرز
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 08-20-2013, 12:04 PM
  2. جوابات: 2
    آخری پيغام: 03-05-2013, 10:17 PM
  3. جوابات: 2
    آخری پيغام: 07-19-2012, 11:37 PM
  4. جوابات: 0
    آخری پيغام: 05-12-2012, 02:18 AM
  5. موبائل ٹیکنولوجی اور انٹرنیٹ کا استعمال
    By شہزادی in forum جدید دنیا اور سائنس
    جوابات: 2
    آخری پيغام: 08-22-2011, 09:46 PM

آپ کے اختيارات بسلسلہ ترسيل پيغامات

  • آپ نئے موضوعات پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ جوابات نہیں پوسٹ کر سکتے ہیں
  • آپ اٹیچمنٹ پوسٹ نہیں کر سکتے ہیں
  • آپ اپنے پیغامات مدون نہیں کر سکتے ہیں
  •  
Cultural Forum | Study at Malaysian University